6
0
Tuesday 20 Jun 2017 11:52

جھوٹی مہم کا جواب اصل حقائق کیساتھ

جھوٹی مہم کا جواب اصل حقائق کیساتھ
تحریر: حیدر عباس نقوی

کہا جاتا ہے کہ جھوٹ تمام گناہوں کی ماں ہے اور قرآن کے مطابق جھوٹے پہ خدا کی لعنت ہوتی ہے۔ لہذا خیال رکھنا چاہیے کہ کہی ہم کسی کو خوش کرنے کے چکر میں یا پھر کریڈٹ لینے کے لئے جھوٹ بول کر خدا کی لعنت کے مستحق قرار نہ پائیں اور کوشش کریں کہ اپنی گفتگو میں جھوٹ کا استعمال نہ کریں، کیونکہ یہ کریڈٹ جو آپکو دنیا میں اس جھوٹ کے ذریعے ملے گا، یہ عارضی ہوگا اور آخرت میں آپکو دوزخ کی آگ میں خوب جلائے گا۔ دوسری بات جب کوئی فرد تجزیہ کرے تو ضروری ہے کہ غیر جانبداری کے ساتھ تجزیہ کرے، وگرنہ تجزیہ میں جھوٹ کے ساتھ تعصب کا عنصر بھی شامل ہو جائے گا۔ ایک اور اہم بات جب آپ تجزیہ کریں تو درست حقائق اور اعداد و شمار کے ذریعے اپنی بات میں وزن پیدا کیجیے۔ خیر بات کرنا چاہ رہا تھا، اسلام آباد میں ہونے والی مشترکہ القدس ریلی کے حوالے سے کچھ حقائق کی تو سوچا پہلے ایک برادر جنہوں نے اس پورے معاملے پر ایک جھوٹ پہ مبنی تحریر لکھی ہے، انکو آزادانہ تجزیہ کرنے کے کچھ اصول بتاؤ۔ انکی یہ تحریر مکمل طور پہ جھوٹ کا پلندہ، کسی کو خوش کرنے کے لئے اور کریڈٹ لینے کی ناکام کوشش ہے۔ جس میں انہوں نے حقائق کو بھی مسخ کیا اور اعداد و شمار کا تو زذکر تک نہیں کیا۔
"چھڈ جھوٹ بھرم دی بستی نوں"

الفاظ کے گورکھ دھندے میں حقائق کو اپنی مرضی کی تاویل دینا اور اپنی مرضی کے نتائج اخذ کرنا ایک نفسیاتی عارضہ ہے، ماہرین نفسیات اس عارضہ کو "کنفرمیٹری بائس" کے نام سے جانتے ہیں۔ اسی طرح کی ایک مثال یوم القدس کے حوالے سے ایک مخبوط الحواس فرد نے کالم لکھ کر دی کہ جس میں فرزندان امام خمینی اور وارثان تحریک القدس پر کیچڑ اچھالنے کی مذموم کوشش کی۔ کہا جاتا ہے کہ جھوٹ کے کوئی پاؤ نہیں ہوتے اور آسمان پہ تھوکا منہ پہ آتا ہے۔ ذہنی طور پہ ناپختہ یہ موصوف اپنے آپ کو ایک طلباء تنظیم کا ڈوثرنل صدر بتاتے ہیں کہ جس کے اندر طلباء کی تعداد چند درجن سے زیادہ نہیں اور راولپنڈی کے کسے تعلیمی ادارے میں انکا اسٹرکچر بھی موجود نہیں۔ جیسے یہ تنظیم ہوائی ہے، اسی طرح اس فاطر العقل شخص کی باتیں اور تجزیہ بھی ہوائی ہے۔ عقیدت کی سیاہ پٹیاں باندھے ہوئے، شخصیت پرستی کے گڑھے میں گرے ہوئے اور تعصب کی چار دیواری میں محبوس اس نوجوان اور قوم کی خدمت میں چند حقائق پیش کروں گا۔

پاکستان میں آئی ایس او کو یہ افتخار حاصل ہے کہ جب امام راحل نے مستضعفین فلسطین کی حمایت کے لئے یوم القدس منانے کا اعلان کیا تو انہی جوانوں نے پاکستان میں یوم القدس کی ریلیاں منعقد کی اور آج بھی اسی جوش و جذبہ سے ان ریلیوں کا انعقاد کرتے آرہے ہیں، اہم بات یہ کہ اس تحریک کے لئے آئی ایس او کے جوانوں نے اپنا خون دیا، چاہے وہ کوئٹہ کی سرزمین پہ ہو یا کراچی کی سرزمین پہ۔ اسلام آباد میں ان جوانوں نے یوم القدس کا آغاز 1985ء میں کیا اور آج بھی اسلام آباد کی مرکزی ریلی کے منتظم ہیں۔ پچھلے سالوں میں کس نے کوششیں کی کہ ریلی کو ایک کیا جائے، اس پہ اگلے مرحلے میں بات کروں گا، اس سال ملی یکجہتی کونسل کا اجلاس ہوا، جس میں ملی یکجہتی کونسل کے عہدیداروں سمیت تمام رکن جماعتوں نے شرکت کی۔ میٹنگ میں علامہ عارف واحدی، علامہ راجہ ناصر عباس جعفری، علامہ امین شہیدی، لیاقت بلوچ، ثاقب اکبر اور دیگر قائدین موجود تھے۔ میٹنگ میں طے پایا کہ اس سال القدس کی ریلی اکٹھی نکالی جائے گی اور اس حوالے سے کوآرڈینیٹر کی ذمہ داری محترم ثاقب اکبر صاحب کو سونپی گئی۔

اس سلسلے کی پہلی میٹنگ کچھ روز بعد ملی یکجہتی کونسل کے آفس میں رکھی گئی۔ جس میں ساری جماعتوں نے شرکت کی، سوائے شیعہ علماء کونسل (اسلامی تحریک) کے۔ اس میٹنگ میں ابتدائی امور پہ بات چیت کی گئی، جس میں ریلی کا نام ڈسکس کیا گیا، ایک نام آئی ایس او کے برادران کی طرف سے تحریک آزادی القدس پیش کیا گیا، جو کہ میٹنگ میں تسلیم کیا گیا اور طے ہوا کہ ریلی اسی نام سے ہوگی۔ پرچم صرف القدس کے ہونگے۔ شرکائے میٹنگ نے کہا کہ ریلی کو جب ایک کرنے کی بات ہو رہی ہے تو اس میٹنگ میں شیعہ علماء کونسل کا کوئی نمائندہ نہیں ہے، دعوت دینے کے باوجود وہ تشریف نہیں لائے، انکو ضرور آن بورڈ لیا جائے، جس پہ ثاقب اکبر صاحب نے ذمہ داری لی کہ وہ علامہ ساجد نقوی سے ملاقات کریں گے، تاکہ وحدت کے حوالے سے اس کوشش کو کامیاب کیا جاسکے۔ میٹنگ میں روٹ کے حوالے سے طے کیا گیا کہ روٹ امام بارگاہ جی سکس ٹو سے سعودی پاک ٹاور تک ہوگا، جس کی اجازت کی ذمہ داری جماعت اسلامی کو سونپی گئی۔

پہلی میٹنگ کے بعد ثاقب نقوی صاحب نے علامہ عارف واحدی کی موجودگی میں علامہ ساجد نقوی صاحب سے ملاقات کی اور اس کے بعد دونوں شخصیات نے راجہ صاحب سے ملاقات کی اور یہ طے پایا کہ ریلی مشترکہ طور پر نکالی جائے گی۔ اسی سلسلہ میں میٹنگ ملی یکجہتی کونسل کے دفتر میں منعقد ہوئی، دوسری میٹنگ 7 مئی کو وحدت مسلمین کے دفتر میں یوم القدس کے حتمی انتظامات کے لئے تھی، اس اجلاس میں سابقہ میٹنگ کا جائزہ بھی لیا گیا۔ دوسرے اجلاس میں ثاقب نقوی صاحب نے بتایا کہ اسلامی تحریک، آئی ایس او پاکستان۔ مجلس وحدت مسلمین، تحریک اہل حرم اگرچہ یوم القدس کی انفرادی ریلیوں کا انعقاد کرتے آئے ہیں، مگر امسال تمام تنظیمیں ملی یکجہتی کونسل کے زیراہتمام ریلی کا انعقاد کرنے جا رہی ہیں، اسلئے جناب لیاقت بلوچ صاحب نے زبیر فاروق امیر جماعت اسلامی اسلام آباد کو خط دیا ہے کہ وہ اسلام آباد انتطامیہ کو پہنچائیں کہ ملی یکجہتی کونسل کے زیر اہتمام تمام ملی تنظیمیں یوم القدس کا انعقاد کرنے جا رہی ہیں، اس کا پرمٹ روٹ لیا جائے، جو کہ جی سکس امامبارگاہ سے پولی کلینک چوک تک پہنچے گا اور وہاں سے سعودی پاک ٹاور پر ختم ہوگا۔ یہ جملے ملی یکجتی کونسل منٹس میں موجود ہیں۔

اس سے یہ ثابت ہوتی ہے کہ موصوف برادر نے جو بات کی ہے کہ آئی ایس او کے حوالے سے روٹ بارے جو بات کی، یہ ایک بے بنیاد بات تھی، ملی یکجہتی کونسل کی میٹنگ کے منٹس شائع کر دیئے جائیں گے۔ اس کے بعد پمفلٹ اور بینر کے لئے میٹنگ بلائی گئی، جس میں ثاقب نقوی صاحب موجود تھے اور طے پایا کہ علامہ اقبال اور قائد اعظم کے فرمودات کو بھی تحریری مواد میں شامل کیا جائے گا۔ سکیورٹی کے حوالے ڈویژنل صدر آئی ایس او راولپنڈی نے ذمہ داری لی، جبکہ میڈیا کی ذمہ داری تمام تنظیموں نے لی، جبکہ پریس کانفرنس بھی تمام تنظیموں کی طرف سے کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ برادر موصوف نے دوسری میٹنگ میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ آئی ایس او پاکستان کے کارکنان اس ریلی کے انتظامات سے پیچھے ہٹ گئے ہیں، وغیرہ کہ ہمارا نام نہیں تو یہ ان کی بے بنیاد باتیں ہیں، جبکہ آئی ایس او تمام امور میں شامل ہے، یہ فقط جھوٹا پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے۔

دوسری میٹنگ کے بعد اعلٰی سطح کی تیسری میٹنگ میاں اسلم کے گھر پر منعقد کی گئی، آئی ایس او کے چار کارکنان، لیاقت بلوچ، میاں اسلم نائب امیر جماعت اسلامی، علامہ عارف واحدی اور ثاقب اکبر صاحب موجود تھے اور طے پایا کہ ریلی ملی یکجہتی کونسل کے زیراہتمام ہوگی اور طے پایا کہ کوئی بھی تنظیم اپنا جھنڈا نہیں لائے گی یا ایسا مواد جس میں تنظیم کا نام ہو، جس پر آئی ایس او سمیت تمام تنظیموں نے اتفاق کیا، روٹ کے حوالے سے اسلامی تحریک کا کہنا تھا کہ روٹ آبپارہ کا ہونا چاہئے اور اس پہ بضد رہے اور یہ بھی کہا پہلے والا روٹ ڈرائنگ روم میں طے پایا، جس پر جواب دیا گیا کہ جب روٹ طے پایا تھا تو اس وقت آپ کی تعداد زیادہ تھی، اسلئے اعتراض کا بہتر وقت وہ تھا، لیاقت بلوچ صاحب نے جو روٹ بتایا تو آئی ایس او نے اتفاق کیا۔ بعد ازاں علامہ عارف واحدی نے بتایا کہ مجھ پر نیچے والے لوگ شک کر رہے ہیں کہ آپ نے مشترکہ ریلی کرنے کیلئے پیسے لئے ہیں۔ لیاقت بلوچ نے ایک لیٹر جاری کیا، امسال ریلی اکٹھی نہیں ہوسکتی، اس کی ایک وجہ اسلامی تحریک کا روٹ کے معاملہ پر بضد ہو جانا ہے کہ ہمارا بتایا ہوا روٹ ہی ہونا چاہئے۔
خبر کا کوڈ : 647551
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

Iran, Islamic Republic of
اچھی تحریر ہے۔ البتہ جواب دینے میں نرم زبان استعمال کی جائے اور بالکل ٹکراو کی صورت میں کالم نگاری نہیں ہونی چاہیے۔ اپنے دلائل اور شواہد ضرور پیش کریں لیکن غیر جذباتی انداز میں۔ اللہ تعالٰی ہم سب پر رحم فرمائے اور ہمیں یوم القدس کو سمجھنے کی توفیق عطا کرے۔
Iran, Islamic Republic of
صرف جذباتی هی نهین بلکه بد تمیزی بهی هی اور یه ان کا همیشه کا کام
Iran, Islamic Republic of
اصل تحریر تو شائع هوئی نهین جواب دیا گیا؟!!!!!
Iran, Islamic Republic of
اسلائم ٹائم ملت کے درمیان غلط فهمیاں پیدا کرنا بند کرے، اس تحریر میں صرف انتشار ہے اور ایک طلبه تنظیم جو تیس سال سے مسلسل نظام ولایت فقیه سے تمسک اور پیروی کا ادعا کرتی ہے اور جبکه عمل میں نماینده ولی فقیه کے خلاف پروپگنڈہ میں مصروف ہے اور یه کالم بهی اسی کا تسلسل ہے۔ لذا مزید انتشار سے بچا جائے اور اگر اس جوابی تحریر کو دینا هی ہے تو پہلے اصل تحریر کو بهی دیا جائے، تاکه قاری حقیقت سمجه سکے اور انصاف کا تقاضا پورا بهی پورا هو۔
Iran, Islamic Republic of
اگرخود یه طلبه تنظیم کسی شخص کی اندهی تقلید کرے اور ملت میں انتشار پهیلائے تو یه اچها کام، لیکن اگر دوسری طلبه تنظیم علماء، قیادت اور نماینده ولی فقیه کی پیروی کرے تو اسے گالیاں۔؟!! جب سے قیادت کو چهوڑا اب خود اس تنظیم کی صورتحال ملکی سطح پر کیا ہے، سب کے سامنے ہے، لذا هوش کے ناخن لیں۔
Pakistan
بس بھی کر دو مولوی صاحب۔ علماء ہی مجلس وحدت مسلمین، تحریک بیداری امت مصطفٰی سمیت بہت سے پلیٹ فارم چلا رہے ہیں۔ ان سے جاکر الجھو۔ جاکے اپنے دستور میں پہلے ولی فقیہ کی پیروی کی شق تو شامل کرو، آئی ایس او اور مجلس وحدت کی طرح۔ بعد میں یہاں ڈرامے کرنا۔ قیادت کے مقابلے پر علامہ شاہد نقوی، علامہ فاضل موسوی اور علامہ عابد حسینی نے قیادت کی جو کہ خود مشہور و معروف علمائے کرام ہیں۔ علماء کے اختلافات کو بھی آئِی ایس او کے کھاتے میں ڈال کر تاریخ مسخ نہ کرو۔ اس تنظیم کی صورتحال جیسی بھی ہے، آپ لوگوں سے بہتر ہی ہے۔ ملت میں انتشار پھیلانے کا الزام لگنا ہے تو اس میدان میں مولوی صاحبان خود کفیل ہیں۔ پہلے مولوی حضرات خود ہی کسی ایک تنظیم و تحریک کے پلیٹ فارم پر متفق و متحد ہو جائِیں، بعد میں ہوش کے ناخن کی بات کریں، آپ لوگوں کے مقابلے میں یہ نوجوان طلباء نہ کل تھے نہ آج۔ جو آپکی قیادت و تنظیم کے ہوتے ہوئے الگ پلیٹ فارم بنا چکے ہیں، انکے نام لے کر جھگڑے کیا کرو۔