1
3
Thursday 6 Jun 2019 00:42

امام خامنہ ای کی قیادت و رہبری کے 30 سال

امام خامنہ ای کی قیادت و رہبری کے 30 سال
تحریر: محمد سلمان مہدی
 
یقیناً امام خمینی ؒ کی رحلت کے بعد کے تیس سال اس عظیم انقلابی، مفکر، مدبر، عالم باعمل، عارف قائد و رہبر کی جدائی کی وجہ سے غم کے تیس سال قرار دیئے جاسکتے ہیں، لیکن دوسرے زاویے سے دیکھیں تو امام خمینی ؒ کے بعد کے یہی تین عشرے امام خامنہ ای کی کامیاب قیادت و رہبری کی وجہ سے مقاومت اسلامی کے محور کی کامیاب استقامت کے تین عشرے بھی کہے جاسکتے ہیں۔ ان تیس برسوں کی طویل داستان کے چند پہلووں پر ہی سرسری نگاہ ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ یہ ناقابل یقین کامیابیوں کے تین عشرے تھے۔ آج انقلاب اسلامی کی قوت جاذبہ کا ثبوت عراق و شام و فلسطین تا لبنان بحر متوسط تک اور یہاں خلیج فارس سے خلیج عمان سے بحر اسود کے باب المندب تک بلکہ براعظم افریقہ میں نائیجیریا تک محسوس کیا جاسکتا ہے۔ امام خمینی ؒ کی زندگی میں جنگ ایران کے اندر لڑی جا رہی تھی جبکہ آج صورتحال برعکس ہے۔
 
امام خامنہ ای کی کامیاب قیادت و رہبری کے تیس برسوں میں حزب اللہ لبنان کی مسلح مقاومت کی وجہ سے جنوبی لبنان سے قابض اسرائیل کا انخلاء و پسپائی، حماس و حزب جہاد اسلامی فلسطین کی مسلح مقاومت کی وجہ سے غزہ سے قابض اسرائیل کا انخلاء، عراق کے انقلابی بیٹوں کی مسلح و سیاسی مقاومت کی وجہ سے قابض امریکی افواج کا انخلاء، تین بڑے ہی اہم واقعات ہیں۔ امریکا و جعلی ریاست اسرائیل جہاں قابض ہو جائیں تو بہت کچھ حاصل کرنے کے بعد قبضہ چھوڑتے ہیں۔ لیکن انقلاب اسلامی ایران سے متاثر مقاومت اسلامی نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔ امام خمینی ؒ کے دور میں سوائے حزب اللہ لبنان کے مقاومت اسلامی کے بلاک کی حیثیت اتنی زیادہ مستحکم نہ تھی۔ امام خامنہ ای کی قیادت و رہبری میں مقاومت اسلامی کا محور جو کہتا ہے، وہ کرکے دکھاتا ہے۔
 
تیس برس قبل کا ایران فوجی، سیاسی اور اقتصادی لحاظ سے اتنا زیادہ مستحکم نہیں تھا۔ ایران عراق جنگ کے دوران ایران ناقص اسلحہ بھی مہنگے داموں خریدنے پر مجبور تھا۔ ایران کی تیل کے علاوہ کوئی خاص کمائی برآمدات سے نہیں ہوا کرتی تھی۔ امام خمینی ؒ کے دور میں ایران پر علی الاعلان اتنی سخت پابندیاں اقوام متحدہ کی سلامتی کاؤنسل کے پانچ مستقل رکن بڑے ممالک نے متفقہ طور پر نافذ نہیں کیں تھیں۔ لیکن امام خامنہ ای کی قیادت و رہبری کے دور میں ایران نے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کاؤنسل کی سخت ترین پابندیوں کے باوجود پرامن نیوکلیئر طاقت بن کر دکھایا۔ یہ امام خامنہ ای کی کی قیادت و رہبری کا اعجاز تھا کہ شدید ترین دباؤ کو مسترد کرکے ایران نے طب، سائنسی و علمی شعبوں میں ریکارڈ پیش رفت کرکے دکھائی تو ساتھ ہی دفاعی شعبے میں بھی ناقابل شکست بن کر دکھایا اور آج ایران کے دفاعی میزائل پروگرام پر ہی دشمن کی نظر بد جمی ہوئی ہے۔
 
امام خمینی ؒ کے دور میں عربستان نبوی ﷺ، بحرین و یمن کے عرب مسلمانوں کے حالات امت اسلامی سے پوشیدہ تھے، لیکن آج ان کی مقاومت کا ڈنکا پوری دنیا میں بج رہا ہے اور ہر ڈکٹیٹر، غیر منتخب، ظالم حکمران، شاہ و شیوخ مظلوم عوام کی بیداری کی تحریکوں سے بوکھلا کر الزام عالم اسلام و انسانیت کی مخلص انقلابی قیادت و رہبری پر لگاتا نظر آتا ہے۔ امام خمینی ؒ کے دور میں بھی امریکی افواج خلیج فارس اور اس کے کنارے جزیرے نما چھوٹے چھوٹے ان ملکوں میں موجود تھیں، لیکن آج انہیں مزید افواج اور مزید جنگی بحری بیڑوں اور طیاروں کو لانا پڑ رہا ہے۔ امام خامنہ ای نے کہا کہ نہ جنگ ہوگی اور نہ مذاکرات، تو ٹرمپ سمیت پوری امریکی حکومت جو آئے دن دھمکیاں دیا کرتی تھی، اب بغیر کسی پیشگی شرط کے ایران کے ساتھ مذاکرات کے لئے تیار ہیں۔ اب جاپان کو ثالث مان کر ٹرمپ ایران بھیج رہا ہے کہ ہماری بات چیت کروا دو!
 
تیس برس قبل تک، تمام تر اختلافات و شکایات و اعتراضات کے ہوتے ہوئے بھی سعودی عرب وغیرہ او آئی سی کو ایران کے خلاف استعمال کرنے سے گریزاں تھے، لیکن آج جب مکہ مکرمہ جیسے مقدس شہر میں ایک نہیں بلکہ تین تین سربراہی اجلاس بلوا کر بھی ایران کے خلاف اپنے اتحادیوں تک کو اپنا ہمنوا بنانے میں ناکام ہوچکے ہیں۔ العربی چینل کو قطر کے وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمان الثانی نے 2 جون کو بیان دیا کہ قطر مکہ مذاکرات کے اعلان کردہ نتائج کو مسترد کرتا ہے، کیونکہ ایران کے ساتھ علاقائی سطح کی کشیدگی پر قطر سے درست طور مشاورت نہیں کی گئی۔ عراق کے صدر برہم صالح نے تو اجلاس کے دوران ہی ایران کی حمایت میں تقریر کی اور ایران کا نام لے کر الزام لگانے کی سعودی پالیسی پر آن ریکارڈ تنقید بھی کی۔

او آئی سی کی سربراہی ترکی کے پاس تھی اور مکہ سرابرہی کانفرنس کے موقع پر یہ میزبان ملک سعودی عرب کو منتقل ہونا تھی، لیکن صدر رجب طیب اردگان نے مکہ کانفرنس میں شرکت ہی نہیں کی۔ یوں ترک وزیر خارجہ نے وزرائے خارجہ کاؤنسل کے اجلاس میں سربراہی کو سعودی حکومت کے حوالے کیا۔ سعودی عرب نے سربراہی اجلاس میں ایران کے صدر کو مدعو ہی نہیں کیا، اس طرح ایران کی نمائندگی ان کے دفتر خارجہ کے نمائندے رضا نجفی نے کی۔ یہ سب کچھ کر لینے کے باوجود سعودی عرب ناکام رہا۔ حتیٰ کہ پاکستان حکومت نے بھی ایران کے خلاف فریق بننے سے انکار کر دیا۔ امام خامنہ ای نے آن ریکارڈ مظلوم کشمیریوں کے حق میں بیان دے کر نہ صرف کشمیری بلکہ پاکستانیوں کے دل بھی جیت لئے!
 
 امام خامنہ ای کی قیادت و رہبری میں فلسطین کے ایشو پر ٹھوس موقف کے ساتھ ایسے عملی اقدامات کئے کہ آج اسرائیل پہلے سے زیادہ خوفزدہ ہے۔ امریکا اسرائیل کے تحفظ کے لئے ڈیل آف دی سینچری لا رہا ہے لیکن یہ امام خامنہ ای کے موقف کا اثر ہے کہ یہ ڈیل اپنے رسمی اعلان سے پہلے ہی مرچکی ہے۔ یہ امام خامنہ ای کی جانب سے کی گئی مخالفت اور تنقید ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کی ہمت نہیں ہو پا رہی کہ اس ڈیل کے متن کو رسمی طور جاری کرسکیں۔ بحرین میں ایک ورکشاپ کے ذریعے اسرائیلی اتحادی اس ڈیل کے بعض اقتصادی فوائد بیان کرنا چاہتے ہیں، تاکہ فلسطینیوں کو لالچ دیا جاسکے۔ البتہ فلسطینیوں نے اس ڈیل کو اور بحرین کانفرنس کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔
 
ایران کو مٹانے کی بات کرنے والا امریکا کبھی عراق تو کبھی لبنان جا کر اپنے مفادات کے تحفظ کی بھیک مانگنے پر مجبور ہوچکا ہے۔ اب وہ لبنان کی حکومت کو بلیک میل کر رہا ہے کہ حزب اللہ کے اسلحے کی فیکٹری ہے، جس سے اسرائیل کو خطرہ ہے۔ یعنی امریکا اسرائیل کا وزیر خارجہ اور وزیر دفاع بن چکا ہے کہ اسرائیل کی نمائندگی کرتا نظر آرہا ہے۔ آج امام خامنہ ای کے ایران کی حیثیت یہ ہے کہ اس پورے خطے میں ایران کو مائنس کرکے کوئی مسئلہ حل نہیں کیا جاسکتا۔ حتیٰ کہ وہ ایران کو آئسولیٹ کرنے کی کوششوں میں خود آئسولیٹ ہوتے جا رہے ہیں۔ کل سعودی عرب کی بادشاہت اس طرح بے نقاب نہیں ہوئی تھی، جتنی منفور آج ہے۔ آج یہ خادم حرمین شریفین والا مقدس غلاف بھی امریکا و اسرائیل کے ان سہولت کاروں کو عربوں اور مسلمانوں کے غیظ و غضب سے بچانے میں ناکام ہوچکا ہے!!
 
امام خامنہ ای کی قیادت و رہبری کے یہ تیس سال امام خمینی کے نظریات پر عمل کا تسلسل ہیں۔ امام خامنہ ای نے امام خمینی کی تیسویں برسی پر انقلابی ایران کی کامیابی کے اصل راز کو ان الفاظ میں فاش کیا کہ امام خمینی استعماریت(سامراجیت) کے خلاف مزاحمت کی نمائندہ علامت تھے اور یہی ان کی میراث ہے، جو انقلابی ایران کو ورثے میں ملی ہے۔ انہوں نے ایران کی کامیابی کے اس راز کے ساتھ دوسرا راز بھی فاش کیا کہ ایران نے دفاعی شعبے سمیت دیگر شعبوں میں کامیابیاں حاصل کیں تو اس کی وجہ ایران کا امریکا سے دور رہنا تھا، یعنی امریکی آربٹ کا حصہ نہ ہونے کی وجہ سے ایران کامیاب ہوا ہے، اس لئے امریکا ایران سے دور رہے اور اپنے گھر کو سدھارنے پر توجہ دے، کیونکہ ایران کو معلوم ہے کہ اس نے کیا کرنا ہے۔ قصہ مختصر یہ کہ امام خامنہ ای کی قیادت و رہبری کے تیس سالوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ انہی کو زیب دیتا ہے امام خمینی ؒ کا جانشیں ہونا۔ ایرانی سچ کہتے ہیں خامنہ ای خمینی دیگر است!!!
خبر کا کوڈ : 798080
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

روزی علی
Pakistan
مدلل اور عمدہ گفتگو ہے۔
ما شاء اللہ