1
0
Saturday 8 Jun 2019 23:29

علامہ عباس کمیلی کون تھے؟

علامہ عباس کمیلی کون تھے؟
رپورٹ: ایس ایم عابدی

 معروف عالم دین اور جعفریہ الائنس پاکستان کے سربراہ سابق سینیٹر علامہ عباس کمیلی طویل علالت کے بعد 77 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔ وہ گذشتہ کئی ماہ سے کراچی کے نجی اسپتال میں زیر علاج تھے۔ علامہ عباس کمیلی کے انتقال پر مختلف سیاسی و مذہبی اور سماجی شخصیات نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کے انتقال کو اتحاد بین المسلمین کے لئے ایک بڑا نقصان قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ علامہ عباس کمیلی کا خلاء کبھی پر نہیں ہوسکے گا۔ تفصیلات کے مطابق علامہ عباس کمیلی گذشتہ چار ماہ سے فاطمیہ اسپتال میں زیر علاج تھے۔ وہ ہفتہ کو طویل علالت کے بعد تقریباً 77 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔ گذشتہ روز طبیعت زیادہ خراب ہونے کے باعث انہیں اسپتال پہنچایا گیا تھا، جہاں وہ ایک روز بعد انتقال کرگئے، ان کی عمر 77 برس تھی اور وہ معروف عالم دین کے طور پر بھی جانے جاتے تھے۔ علامہ عباس کمیلی سولجر بازار کے رہائشی تھے، ان کے تین بیٹے اور ایک بیٹی ہے جبکہ 2014ء میں ان کے ایک بیٹے علامہ علی اکبر کمیلی کو دہشت گردوں نے ٹارگٹ کلنگ میں شہید کر دیا تھا۔

علامہ عباس کمیلی معروف بزنس مین غلام حسین جیٹھا بائی گوکل (جیٹھا بائی گوکل شیپنگ لائن کے مالک) کے صاحبزادے تھے۔ علامہ عباس کمیلی 15 دسمبر 1942ء کو پیدا ہوئے تھے اور وہ فرسٹ کلاس کرکٹ بھی کھیلتے رہے ہیں۔ جعفریہ الائنس پاکستان کے جنرل سیکرٹری سید شبر رضا نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ممتاز عالم دین اور جعفریہ الائنس کے بانی سربراہ علامہ عباس کمیلی قائداعظم محمد علی جناح کے پڑوسی تھے۔ وہ 1942ء میں کراچی کے علاقے کھارادر میں واقع قائداعظم کے گھر وزیر مینشن کے سامنے والے گھر میں پیدا ہوئے جبکہ وہ قائداعظم کے رشتے داروں میں سے ایک تھے، بعدازاں انہوں علامہ رشید ترابی سے دست فیض حاصل کیا۔ علامہ عباس کمیلی جعفریہ الائنس پاکستان کے بانی و صدر تھے، انہوں نے اتحاد بین المسلمین کے لئے جدوجہد کی، اس کے ساتھ ساتھ وہ فلسطین فاؤنڈیشن کے بانی سرپرست اراکین بھی رہے۔

سال 2001ء میں انہوں نے شیعہ ٹارگٹ کلنگ کے خلاف تحریک لبیک یاحسین موومنٹ کا آغاز کیا، اس ضمن میں انہوں نے اپنی گرفتاری بھی دی۔ سید شبر رضا نے مزید بتایا کہ علامہ صاحب ہمشیہ کہتے تھے کہ پاکستان کو قائداعظم کے اصولوں پر قائم رہنا چاہیئے، انتشار کو ختم اور اسلام دشمنوں سے ہوشیار رہنا چاہیئے۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف فورم اگینسٹ ان ٹولرنس اینڈ ٹیررسٹ ہیٹر (فیتھ) کی بنیاد رکھی، جس میں تمام مسالک سمیت مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والی شخصیات شامل تھیں۔ علامہ عباس کمیلی ایک عرصہ تک متحدہ قومی موومنٹ کے  ٹکٹ پر مارچ 2003ء سے 2009ء تک سینیٹر بھی رہے۔ علامہ عباس کمیلی فلسطین فاونڈیشن پاکستان کے سرپرست اعلیٰ بھی تھے اور ان کا شمار اپنے حلقے کی ممتاز شخصیات میں ہوتا تھا۔ علامہ عباس کمیلی کی اتحاد بین المسلیمن کی خدمات کو ہمیشہ سراہا گیا ہے۔ علامہ عباس کمیلی ملکی معاملات میں پیش پیش رہتے تھے۔ انہوں نے سوگوران میں 2 بیٹے اور ایک بیٹی کو چھوڑا ہے۔

علامہ عباس کمیلی کے انتقال پر زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے حلقوں نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، گورنر سندھ محمد عمران اسماعیل، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، رکن قومی اسمبلی امین الحق، مسلم لیگ (ن) کے رہنما اسد عثمانی، امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن، اسد اللہ بھٹو، وزیر بلدیات سندھ سعید غنی، پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفیٰ کمال، پی ایس پی کے صدر انیس قائم خانی، سربراہ تنظیم (ایم کیو ایم پاکستان) بحالی کمیٹی ڈاکٹر فاروق ستار، مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری سمیت مختلف سیاسی و مذہبی اور سماجی شخصیات نے ان کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کے انتقال کو ایک بڑا خلاء قرار دیا ہے اور کہا کہ علامہ عباس کمیلی ہمیشہ اتحاد بین المسلین کے لئے سرگرم عمل رہے، ہمیشہ فلسطین و کشمیر کے مظلوموں کے لئے آواز اٹھائی، ان کی سیاسی و سماجی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
خبر کا کوڈ : 798470
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

China
اللہ تعالیٰ کمیلی صاحب کو آئمہ معصومین ع کے جوار رحمت میں جگہ عنایت فرمائے۔
منتخب