1
0
Sunday 4 Aug 2019 07:56

بھینسوں کی لڑائی اور مینڈک

بھینسوں کی لڑائی اور مینڈک
اداریہ
یمن کے مجاہدین گذشتہ باون ماہ سے سعودی جارحیت کا دلیرانہ مقابلہ کر رہے ہیں۔ سعودی عرب کو امریکہ، اسرائیل، برطانیہ، فرانس سمیت سوڈان اور متحدہ عرب امارات وغیرہ کی مدد و حمایت حاصل ہے۔ اس صورتحال میں سعودی اتحاد کے مقابلے میں مظلوم یمنیوں بالخصوص انصاراللہ کے مجاہدین کی جرات و استقامت تاریخ ساز ہے۔ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ سعودی اتحاد نے یمن کا انفراسٹرکچر تباہ و برباد کر دیا ہے اور لاکھوں بچے، خواتین، بوڑھے اور مریض جاں بحق یا زخمی ہوگئے ہیں، لیکن میدان جنگ میں یمنی مجاہدین کا پلہ بھاری ہے۔ دنیا کے ہر گوشے میں موجود حریت پسند اور تعصبات سے لاتعلق رہ کر سوچنے والے اذہان مظلوم یمنی عوام کے ساتھ ہیں اور سعودی اتحاد کو جارح سمجھتے ہیں۔ سعودی عرب جس معرکے کو چند ہفتوں میں ختم کرنے پر یقین رکھتا تھا، اب وہ یمن اس کے لیے ایسی دلدل میں تبدیل ہوگیا ہے، جس سے سعودی عرب سمیت متحدہ عرب امارات اور سوڈان وغیرہ کا صحیح و سالم باہر آنا آسان نظر نہیں آرہا ہے۔

سوڈانی حکومت نے سعودی عرب کے کہنے پر اپنے کرائے کے فوجی یمن جنگ کے لیے فراہم کیے تھے۔ یمنی مجاہدین کے ہاتھوں سوڈانی فوجیوں کی پے در پے ہلاکتیں اور سوڈان میں آنے والی حالیہ تبدیلیاں آپس میں قریبی تعلق اور رابطہ رکھتیں ہیں۔ دوسری طرف متحدہ عرب امارات نے یمن سے اپنی فورسز واپس بلانے کی جو باتیں کی ہیں، وہ بھی یمنی عوام کی استقامت و مزاحمت کا نتیجہ ہیں اور اس کے یمن کی جنگ پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ گذشتہ چند دنوں میں یمنی مجاہدین نے سعودی عرب کے اندر دمام اور یمن کے شہر عدن میں سعودی نواز کرائے کے فوجیوں پر جو تابڑ توڑ حملے کیے ہیں، ان سے سعودی عرب اور ان کے اتحادیوں کی نیندیں حرام ہوچکی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یمن کی فوج نے گذشتہ روز نئے میزائلوں کی رونمائی کرکے خطے میں امریکی اتحادیوں کو ایک نئے چیلنچ سے دوچار کر دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ خلیج فارس مین سلامتی کے نام پر امریکہ کے نئے منصوبے کی غیر معمولی ناکامی نے خطے میں طاقت کے توازن کو تبدیل کر دیا ہے۔

امریکہ نے خطے کے ممالک سمیت جاپان، جرمنی وغیرہ کو سمندری تحفظ کے ایک نئے معاہدے میں شامل ہونے کی دعوت دی تھی، لیکن جاپان نے صاف انکار کر دیا اور ایران اور جاپان کے روایتی تعلقات کو سامنے لا کر امریکہ کو مایوس کرتے ہوئے کہا ہے کہ جاپان کے ایران سے تاریخی روایتی تعلقات ہیں، لہذا اسے خلیج فارس میں اپنے تیل کی بحفاظت ترسیل کے لیے کسی جنگی بیڑے کو خلیج فارس میں بھیجنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ جرمنی نے بھی امریکی پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے فرانس کی پالیسی اپنانے پر تاکید کی، جس سے امریکی وزارت خارجہ نے جرمنی کو ساس بہو والے ایسے طعنے دیئے، جو سفارتی آداب کے بھی منافی ہیں۔ نیول سکیورٹی کے نام پر امریکی پیشکش کو صرف برطانیہ نے قبول کیا ہے، کیونکہ وہ بھی خلیج فارس اور آزاد سمندری علاقوں میں امریکی اشاروں پر ایران کا حریف بن کر سامنے آچکا ہے۔ امریکہ کی اس عالمی تنہائی میں سعودی عرب سب سے زیادہ پریشان ہے، کیونکہ اس کی مثال بھینسوں کی لڑائی میں مینڈک جیسی ہوچکی ہے۔ آل سعود نے اب بھی ہوش کے ناخن نہ لیے اور امریکہ اور اسرائیل کے اشاروں پر چلتے رہے تو ان کا انجام قذافی اور شاہ ایران سے بھی بدتر ہوگا۔
خبر کا کوڈ : 808796
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

Iran, Islamic Republic of
excelent islamtimes
منتخب