1
0
Friday 9 Aug 2019 14:01

کشمیر کی تازہ صورتحال، پاکستان اور عالمی برادری

کشمیر کی تازہ صورتحال، پاکستان اور عالمی برادری
تحریر: طاہر یاسین طاہر

جنگیں تباہی کے سوا کچھ نہیں لاتی ہیں، جنھیں جنگ کرنے کا بہت شوق ہے، وہ جنگوں کی تاریخ پڑھ لیں، جنگ کوئی نہیں چاہتا، لیکن کشمیر کے مسئلے پر اگر، مگر، چونکہ، چنانچہ اور اپوزیشن کی غیر سنجیدگی بھی ہماری اجتماعی سیاسی دانش کا زوال ہے۔ توقع تھی کہ وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکہ کے بعد بہترین اور اچھی خبریں سننے کو ملیں گی، لیکن جونہی امریکی صدر ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کی، بھارت نے جواباً انتہائی قدم اٹھایا اور مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی۔ بھارتی صدر رام ناتھ کووِند نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آئین کے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے بل پر دستخط کر دیئے۔ خیال رہے کہ خصوصی آرٹیکل ختم کرنے کے بعد مقبوضہ کشمیر اب ریاست نہیں بلکہ وفاقی اکائی کہلائے گا، جس کی قانون ساز اسمبلی ہوگی۔ مودی سرکار نے مقبوضہ وادی کو 2 حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے وادی جموں و کشمیر کو لداخ سے الگ کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے، لداخ کو وفاق کے زیر انتظام علاقہ قرار دیا جائے گا، جہاں کوئی اسمبلی نہیں ہوگی۔ آرٹیکل 370 کو ختم کرکے وہاں کانسٹی ٹیوشن آرڈر 2019ء کا خصوصی آرٹیکل نافذ کر دیا گیا ہے، جس کے تحت اب بھارتی حکومت مقبوضہ وادی کو وفاق کے زیر انتظام کرنے سمیت وہاں پر بھارتی قوانین کا نفاذ بھی کرسکے گی۔

 راجیا سبھا میں قائد حزب اختلاف غلام نبی آزاد کا کہنا تھا کہ بی جے پی نے آج آئین کا قتل کر دیا، ہم اس کی مخالفت کرتے ہیں اور آئین کی حفاظت کے لیے اپنی جان کی بازی لگا دیں گے۔ یاد رہے کہ بھارتی پارلیمنٹ میں ایک جانب حکومت کے اس اعلان کے حوالے سے بحث ہو رہی تھی تو دوسری طرف بھارتی میڈیا کی رپورٹس میں کہا گیا کہ بھارتی حکومت، مقبوضہ کشمیر میں مزید 8 ہزار فوجی بھیج رہی ہے۔ بھارتی حکومت گذشتہ ہفتے 35 ہزار اضافی فوجی مقبوضہ وادی بھیج چکی ہے۔ بھارتی حکومت کے آرٹیکل 370 ختم کرنے کے اعلان کے بعد مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ آج کا دن بھارت کی جمہوریت کا سیاہ ترین دن ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کی قیادت کی جانب سے 1947ء میں دو قومی نظریئے کو رد کرنا اور بھارت کے ساتھ الحاق کا فیصلہ آج غلط ثابت ہوا، بھارتی حکومت کی جانب سے آرٹیکل 370 کو یک طرفہ طور پر ختم کرنا غیر قانونی اور غیر آئینی ہے، جس سے بھارت، جموں و کشمیر میں قابض قوت بن جائے گا۔

واضح رہے کہ آرٹیکل 370 کے تحت ریاست جموں و کشمیر کو خصوصی اور منفرد مقام حاصل ہے اور آرٹیکل ریاست کو آئین بنانے اور اسے برقرار رکھنے کی آزادی دیتا ہے۔ اس خصوصی دفعہ کے تحت دفاعی، مالیات، خارجہ امور وغیرہ کو چھوڑ کر کسی اور معاملے میں وفاقی حکومت، مرکزی پارلیمان اور ریاستی حکومت کی توثیق و منظوری کے بغیر بھارتی قوانین کا نفاذ ریاست جموں و کشمیر میں نہیں کرسکتی۔ بھارتی آئین کے آرٹیکل 360 کے تحت وفاقی حکومت کسی بھی ریاست یا پورے ملک میں مالیاتی ایمرجنسی نافذ کرسکتی ہے، تاہم آرٹیکل 370 کے تحت بھارتی حکومت کو جموں و کشمیر میں اس اقدام کی اجازت نہیں تھی۔ مقبوضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والا آرٹیکل 35 'اے، اسی آرٹیکل کا حصہ ہے، جو ریاست کی قانون ساز اسمبلی کو ریاست کے مستقل شہریوں کے خصوصی حقوق اور استحقاق کی تعریف کے اختیارات دیتا ہے۔

بھارت کی جانب سے اس فیصلے کے بعد پاکستان میں ایک نئی بحث نے جنم لیا اور خاندانی جمہوریتوں کے رکھوالوں نے پارلیمان میں موثر تقاریر کرنے کے بجائے ایک دوسرے پر لعن طعن کی۔ یہاں تک کہا گیا کہ عمران خان ٹرمپ کے ہاتھوں کشمیر کا سودا کر آئے ہیں، جبکہ کسی نے سوشل میڈیا پر کہا کہ اپنی بیٹی کی شادی میں مودی کو اپنے گھر ذاتی مہمان بنانے والے بھی آج وزیراعظم کو غدار کہہ رہے ہیں۔ گذشتہ سے پیوستہ روز مریم نواز کی نیب کیس میں گرفتاری پر عجیب تماشے دیکھنے کو ملے، یہاں تک کہا گیا کہ "عجلت میں مریم نواز کی گرفتاری" کشمیر ایشو سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔ کوئی بندہء خدا ان دو حرفی دانشوروں سے پوچھے کہ بھلا مریم نواز کی گرفتاری اور کشمیر کے ایشو میں باہم ربط کیا ہے؟ مریم کو ملکی قانون کے تحت گرفتار کیا گیا، جبکہ کشمیر کا ایشو ایک تسلیم شدہ عالمی تنازعہ ہے، جس کے حوالے سے اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں۔ کشمیر ایشو سے توجہ ہٹی ہوتی تو پاک فوج کا یہ بیان نہ آتا کہ "بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں شرانگیزی سے دور رہے، ورنہ بھرپور جواب دیں گے۔"

یہ بھی ریکارڈ کا حصہ ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے خطے کی موجودہ صورت حال کے تناظر میں پاکستان اور بھارت سے کہا ہے کہ تمام فریقین کوئی بھی ایسا قدم اٹھانے سے باز رہیں، جس سے جموں اور کشمیر کی حیثیت متاثر ہو۔ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے  اسے "دہشت گردی اور علیحدگی پسندوں" سے آزاد کر دیا۔ ہندی زبان میں براہ راست قوم سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 370 اور 35 اے کی منسوخی کے نتیجے میں جموں و کشمیر اور لداخ میں ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوگا، جس کی مثال ماضی میں نہیں ملے گی، جبکہ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ دنیا منتظر ہے کہ مقبوضہ کشمیر سے کرفیو اٹھے گا تو کیا ہوگا، کیا عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں ممکنہ نسل کشی کا راستہ روکنے میں "اخلاقی قوت" کا مظاہرہ کرے گی، جبکہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ "مقبوضہ کشمیر سے متعلق بھارتی اقدامات کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل جانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ 28 ممالک کو کشمیر کے حوالے سے تشویش اور قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلے سے بھی آگاہ کر دیا ہے۔"

میری رائے میں کشمیر کا ایشو عسکری پریکٹس سے حل ہونے کے بجائے ڈیڑھ ارب سے زائد انسانوں کی جان لے لے گا۔ پاکستان اور بھارت دونوں نیوکلیئیر طاقتیں ہیں، لیکن بھارتی وزیراعظم اپنی نسل پرستانہ اور مسلم کشی نفسیات کے زیر اثر خطے کو ہی نہیں پوری دنیا کو جنگ کی طرف ہانک لائے ہیں۔ اصل میں افغانستان سے امریکی فوجوں کا انخلا، جو ابھی عشروں تک ممکن نہیں، اس حوالے سے ہونے والے مذاکرات اور پاکستان کو مشرقی و مغربی دونوں بارڈرز پر مصروف رکھنے کے لیے بھارت نے نہایت جارحانہ سفارتی چال چلی ہے، پاکستان کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ جوابی طور پر بھارتی مظالم کے خلاف جارحانہ مگر مدلل سفارتی مہم چلائے اور دنیا کو قائل کرے کہ بھارت کشمیریوں کی نسل کشی میں تیزی لا رہا ہے۔ وہ پرائیویٹ جہادی، میری دانست میں جن کی وجہ سے کشمیر کا مسئلہ سیاسی سے زیادہ عسکری بن گیا اور بھارت کو پاکستان کے خلاف دراندازی جیسے الزامات لگانے کا موقع ملا، ان پرائیویٹ جہادیوں کو اب ان کے گھروں تک محدود کر دیا جائے۔ ملک کی حفاظت کرنے کے لیے فوج موجود ہے اور ہر پاکستانی پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑا ہے، لیکن اصل مسئلہ پارلیمان میں دکھائی جانے والی غیر سنجیدگی ہے، جس کے باعث کشمیریوں کا نقصان اور بھارت کا فائدہ ہو رہا ہے۔

بھارت مقبوضہ کشمیر میں آج سے نہیں کئی عشروں سے مظالم ڈھا رہا ہے۔ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے لیے ختم کیا گیا آرٹیکل 370 کیا ہے؟؟ مجھ سمیت بیشتر لکھاریوں کو اس کی الف ب کا بھی علم نہیں، ہم سب بس اتنا جانتے ہیں جتنا عالمی میڈیا میں اس کے بارے شائع ہوا ہے۔ لیکن سب نے یک ہی رٹ لگائی ہوئی ہے کہ پاکستان بھارت پر چڑھ دوڑے، "غزوہ ہند" کا وقت آگیا، جبکہ موجودہ صورتحال میں بھارت نے پاکستان کی نسبت بہتر اور جارحانہ سفارت کاری کی ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ عشروں کشمیر کمیٹی کے سربراہ رہنے والے مولانا فضل الرحمان سے بھی سختی سے پوچھا جائے کہ انھوں نے عالمی فورم پر کشمیر کا مقدمہ کس طرح؟ اور کیسے لڑا؟؟ انتہائی سنجیدہ علاقائی مسئلے، جس کے ساتھ اربوں انسانوں کی زندگیوں کا سوال ہے؟ اسے ہنسی مذاق اور ایک دوسرے پر طنز و تشنیع سے نہیں ٹالا جا سکتا۔ جنگ کوئی بھی نہیں چاہتا، کم از کم میں تو نہیں چاہتا کہ جنگ ہو۔ اس مسئلے کا حل البتہ سفارتی محاذ سے ہی نکلے گا۔ جنگ ہوئی تو اس کی تباہی کے اثرات کا تصور بھی ان "جہادیوں" کے لیے ممکن نہیں، جو ابھی سے ہی قربانی کی کھالوں کی بکنگ گھر گھر جا کر کروا رہے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 809749
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

روءف صابر
Pakistan
میری رائے میں یہ مسئلہ صرف اور صرف طاقت کے ذریعے حل ہوسکتا ہے۔ مذاکرات تو 70 سالوں سے ہو رہے ہیں۔۔ دنیا صرف طاقت کی زبان سمجھتی ہے اور طاقتور کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے۔ انصاف، اصول، قانون نام کی چیزیں صرف کتابوں کی حد تک ہوتی ہیں۔ جہاد کی مخالفت کرنے والے تو مسلمان ہی نہیں ہوسکتے، ان کی بات پر کس طرح اعتماد کیا جاسکتا ہے۔ زیر نظر مضمون میں کوئی قابل ذکر بات نہیں سوائے، سفارتکاری پر زور دینے کے۔ ہم نے پارلیمنٹ کا اجلاس دیکھا، کارروائی سنی۔ یہ ممبران پارلیمنٹ سنجیدہ ہی نہیں کسی معاملہ پر، سوائے اپنی ذات کے تحفظ کے۔۔ حکومت سے بھی خیر کی کوئی توقع نہیں۔۔۔ جہاد ہی راستہ ہے کامیابی و ناکامی جنھوں میں پہلے سے طے نہیں ہوتی جو بڑھ کے تھام لے جان اسی کا ہے۔
منتخب