0
Thursday 9 Aug 2012 10:00

شام، دنیا پر امریکی تسلط کیلئے بڑا چیلنج

شام، دنیا پر امریکی تسلط کیلئے بڑا چیلنج
تحریر: سعداللہ زارعی
اسلام ٹائمز- معروف ویب سائٹ اکٹیوسٹ پوسٹ پر ایک مقالہ شائع ہوا ہے جسکا عنوان ہے "اگر امریکہ شام میں شکست کھاتا ہے تو دنیا پر اپنے تسلط سے ہاتھ دھو بیٹھے گا"۔ یہ مقالہ معروف امریکی تجزیہ کارٹنی کارٹالوچی نے تحریر کیا ہے۔ مصنف نے اس مقالے میں شام میں صدر بشار اسد کی حکومت کو سرنگون کرنے کیلئے امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ پانچ سالہ منصوبے کو فاش کیا ہے۔ البتہ اس سے قبل بھی مغربی محققین کی جانب سے ایسے دسیوں مقالات سامنے آئے ہیں جن میں دمشق کے خلاف دہشت گردوں کو مسلح کرنے اور انکی حمایت کرنے کے پشت پردہ امریکہ اور اسکے مغربی اور خطے کے اتحادیوں کے حقیقی اہداف و مقاصد کو بیان کیا گیا ہے۔
کارٹالوچی اپنے اس مقالے میں لکھتا ہے کہ شام میں صدر بشار اسد کی حکومت کو سرنگون کرنے کا منصوبہ حزب اللہ لبنان کے ساتھ 33 روزہ جنگ میں اسرائیل کی ذلت آمیز شکست کے بعد سامنے آیا۔ اگرچہ اسرائیل کی غاصب صہیونیستی رژیم نے اس جنگ میں اپنے تمامتر زمینی، ہوائی اور سمندری فوجی وسائل کو بروئے کار لایا اور امریکہ، فرانس، برطانیہ، سعودی عرب وغیرہ سے بھی ہر قسم کے جنگی جرائم انجام دینے کی کھلی چھٹی حاصل کی اور اپنی ساٹھ سالہ تاریخ کی طولانی ترین جنگ بھی لڑی لیکن آخرکار مکمل شکست سے دوچار ہوا اور درحقیقت مستقبل کے بارے میں پوری طرح ناامیدی کا شکار ہو گیا۔
33 روزہ جنگ ختم ہونے کے تین ماہ بعد ونوگراڈ کی سرکردگی میں ایک 80 رکنی تحقیقاتی کمیشن تشکیل پایا جس میں اعلی سطحی فوجی، سکیورٹی، سیاسی اور عدالتی اہلکار شامل تھے۔ اس کمیشن نے 9 ماہ بعد 33 روزہ جنگ میں حزب اللہ لبنان کے مقابلے میں اسرائیل کی شکست کے اسباب کے بارے میں ایک مکمل اور مستند رپورٹ پیش کی۔ اسکے بعد جنوری 2008ء میں اس کمیشن کی فائنل رپورٹ سامنے آئی جس میں اسکی ابتدائی رپورٹ کی صحت اور درستی کی تائید کی گئی۔
اس فائنل رپورٹ کے نتیجے میں اسرائیل کے تمام عالیرتبہ فوجی، سکیورٹی اور سیاسی عہدیداروں نے استعفی دے دیا۔ اس رپورٹ میں اسرائیل کی شکست میں کارفرما بیرونی عوامل کے بارے میں ایک بنیادی نکتہ یہ تھا:
"شام نے 1996ء میں لبنان سے اسرائیل کی پہلی عقب نشینی سے لے کر 2006ء میں حزب اللہ لبنان کے ساتھ 33 روزہ جنگ میں اسرائیل کی ذلت آمیز شکست تک حزب اللہ لبنان کو اسلحہ اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے اور شام کی اس مدد کے بغیر 2000ء میں لبنان سے اسرائیل کی مکمل عقب نشینی اور 2006ء میں حزب اللہ لبنان کے مقابلے میں اسرائیل کی شکست امکان پذیر نہ تھی"۔
کارٹالوچی نے اپنے اس مقالے میں فاش کیا ہے کہ ونوگراڈ تحقیقاتی کمیشن کی جانب سے یہ رپورٹ سامنے آنے کے بعد امریکی اور اسرائیلی حکام نے شام میں صدر بشار اسد کی حکومت کی سرنگونی کو اپنی پہلی ترجیح قرار دے دی۔ انکی جانب سے تیار کئے گئے نئے منصوبے کے تحت طے پایا کہ شام میں صدر بشار اسد کی حکومت کی سرنگونی کے بعد حزب اللہ لبنان کے خلاف نئی جنگ کا آغاز کیا جائے تاکہ ایک طرف تو 2000ء اور 2006ء میں ہونے والی شکستوں کا ازالہ ہو جائے اور دوسری طرف ایران پر فوجی حملے کا مقدمہ بھی فراہم ہو جائے۔ لیکن اس منصوبے کے فوری اجراء کا امکان موجود نہ تھا لہذا جیسے ہی عرب دنیا میں اسلامی بیداری کی لہر معرض وجود میں آئی انہوں نے فرصت کو غنیمت جانا اور اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانا شروع کر دیا۔
معروف امریکی تجزیہ کار کارٹالوچی نے اپنے اس مقالے میں اس سے بھی زیادہ اہم نکتے کی جانب اشارہ کیا ہے اور لکھتا ہے:
"عرب اسپرنگ کا آغاز اگرچہ شام پر دباو ڈالنے کیلئے مناسب تھا لیکن یہ انقلابات بذات خود امریکہ اور اسرائیل کیلئے 2006ء میں حزب اللہ لبنان کے مقابلے میں شکست سے زیادہ بڑا چیلنج بن کر سامنے آئے۔ مصر میں صدر حسنی مبارک کی سرنگونی نے خطے کا توازن مکمل طور پر مغرب کے نقصان میں تبدیل کر دیا جبکہ اس صورتحال کو کنٹرول کرنا نہ امریکہ کے بس کی بات تھی اور نہ ہی یورپی ممالک سے کچھ بن پڑا کیونکہ مصری عوام دسیوں سالوں سے اس دن کا انتظار کر رہے تھے۔
لہذا امریکہ نے اپنی تمامتر توانائیاں شام پر متمرکز کر دیں تاکہ اس طرح شاید اتنی ساری چیزیں کھو دینے کے بعد کچھ حاصل کر پائے کیونکہ دوسری صورت میں نہ فقط مشرق وسطی پر اپنا تسلط ہاتھ سے دھو بیٹھتا بلکہ دنیا بھر میں اسکا پورا استعماری ڈھانچہ نابودی کے خطرے سے دوچار ہو جاتا
تھا"۔
یہ شام میں موجودہ مغربی تنازعے کی حقیقی ترین تصویر ہے جو بہت سے شواہد و مدارک پر استوار ہے۔ شام کے بحران اور وہاں پر گذشتہ 16 ماہ کے دوران امریکہ کی مسلسل ناکامی کے بارے میں کچھ مزید اہم نکات درج ذیل ہیں:
1. شام کے بارے میں چند ہفتوں کے دوران امریکہ کی سربراہی میں کئی اجلاس برگزار ہو چکے ہیں۔ کم مدت میں اتنی زیادہ میٹنگز کا برگزار کرنا ایک طرف تو مغرب کیلئے شام میں صدر بشار اسد کی حکومت کی سرنگونی کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے اور دوسرے طرف اس ھدف کے حصول میں انکی عاجزی اور ناتوانی کا واضح ثبوت ہے۔ جنیوا کے اجلاس میں کوشش یہ تھی کہ شام میں صدر بشار اسد کی سرنگونی پر سب فریق متفق ہو جائیں اور چونکہ اس اجلاس میں اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے پانچوں مستقل اراکین بھی شامل تھے لہذا کوشش کی جا رہی تھی کہ شام کے خلاف فوجی کاروائی کا زمینہ بھی فراہم ہو جائے لیکن روس اور چین نے اسکی شدید مخالفت کا اظہار کر دیا۔
قاہرہ میں برگزار ہونے والے اجلاس کا مقصد یہ تھا کہ صدر بشار اسد کے ان مخالفین کو جو شام کے خلاف فوجی کاروائی کے حق میں نہیں امریکہ سے وابستہ مسلح گروہوں کی حمایت پر راضی کیا جائے تاکہ شام کی حکومت کے خلاف ایک مشترکہ فرنٹ معرض وجود میں لایا جائے۔ لیکن نہ فقط یہ مقصد حاصل نہ ہوا بلکہ خود مسلح گروپس کے درمیان بھی اختلافات ابھر کر سامنے آ گئے۔
پیرس میں منعقدہ اجلاس میں بھی امریکہ کی بھرپور کوشش یہ تھی کہ ایسا ظاہر کیا جائے کہ روس، چین، ایران اور کم از کم 100 دوسرے ممالک کی مخالفت کے باوجود شام کی حکومت اور عوام کے خلاف فوجی کاروائی پر عالمی اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔ اس اجلاس میں بھی دنیا کے آدھے سے زیادہ ممالک نے شرکت نہیں کی اور وہ عرب ممالک جو امریکہ اور فرانس کے اصرار اور دباو کے نتیجے میں اس اجلاس میں شریک تھے شام کے خلاف فوجی کاروائی کے حق میں نہیں تھے۔ آخرکار پیرس کانفرنس کا بیانیہ تین نکات پر مبنی تھا جن میں شام کے خلاف اقتصادی دباو میں اضافہ، شام مخالف گروہوں کی مدد اور یو این چارٹر کے ساتویں آرٹیکل کے تحت اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں شام کے خلاف قرارداد تصویب کرنا شامل تھے۔
اولا ان نکات کے بارے میں اجلاس میں شریک ممالک کے درمیان کوئی اتفاق رائے نہیں پایا جاتا تھا، دوما یہ تمام ہتھکنڈے کوئی نئے نہیں تھے اور سوما شام کا مسئلہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے سپرد کیا گیا جہاں چین اور روس ہر قسم کی ایسی قرارداد کو ویٹو کرنے کا فیصلہ کر چکے تھے جس میں شام کے خلاف فوجی کاروائی کا ذکر کیا گیا ہو۔
لہذا پیرس اجلاس بھی امریکیوں کیلئے کسی قسم کا نتیجہ حاصل کرنے میں پوری طرح ناکامی کا شکار ہو گیا۔
2. پیرس میں منعقدہ اجلاس کے دن ہی اقوام متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل جناب کوفی عنان جو سکیورٹی کونسل اور عرب لیگ کے نمائندے اور دراصل امریکہ، برطانیہ، فرانس، سعودی عرب اور اسرائیل کی نمائندے کی حیثیت رکھتے تھے نے گارڈین کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکہ کی جانب سے شدید دباو اور اسکے منفی اثرات کی وضاحت کی۔ جناب کوفی عنان نے کہا:
"مغرب اور روس کے درمیان خوفناک رقابت شام کی خانہ جنگی کی شدت میں اضافے اور اس بدامنی کا ہمسایہ ممالک تک پھیل جانے کا باعث بنے گی"۔
کوفی عنان نے اپنے اس بیان کے ذریعے ایک طرف تو صدر بشار اسد کے خلاف انجام پانے والی تمام کاروائیوں کے بے نتیجہ ہونے کا اعلان کیا اور دوسری طرف شام کے ایسے ہمسایہ ممالک جو شام کے دہشت گرد مسلح گروہوں کی حمایت اور مدد کرنے میں مصروف ہیں کو خبردار کیا کہ موجودہ صورتحال کا تسلسل شام حکومت، امریکہ یا یورپی ممالک سے زیادہ انکے حق میں خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
جناب کوفی عنان کا یہ بیان دراصل شام کے خلاف ہر قسم کی فوجی یا کسی اور نوعیت کی بیرونی مداخلت کے بے فائدہ ہونے کا کھلا اعتراف تصور کیا جاتا ہے۔
3. امریکی وزیرخارجہ ہیلری کلنٹن کی جانب سے انتہائی شدید موقف اختیار کیا جانا اور روس کو سنگین نتائج کی دھمکی دینا اور اسی طرح مک کن کی جانب سے روس اور چین کو یہ دھمکی دینا کہ عرب اسپرنگ انکے ممالک میں منتقل کر دی جائے گی ظاہر کرتے ہیں کہ امریکہ شام کے مسئلے میں مکمل بے بسی کا شکار ہو چکا ہے۔
امریکی حکام کی جانب سے سخت موقف کا اظہار اور اسکے مقابلے میں چین اور روس کی مزاحمت اس بات کی شاہد ہے کہ "شام میں تبدیلی لانا انتہائی مشکل اور ناممکن کام ہے"۔
ایسا دکھائی دیتا ہے کہ جس قدر شام میں سیاسی تبدیلی مغربی ممالک کیلئے اسٹریٹجک اور اہم ہے اسی قدر شام میں سیاسی پائداری اور استحکام انکے مدمقابل فرنٹ کیلئے اسٹریٹجک اور اہم ہے۔
یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو بین الاقوامی سطح پر ایک بڑے مقابلے کا باعث بن سکتا ہے۔ شام کا حامی علاقائی اور بین الاقوامی اتحاد بخوبی جانتا ہے کہ امریکہ کی جانب سے دمشق میں سیاسی تبدیلی پر حد سے زیادہ زور دینا مشرقی اور مغربی بلاکس کے درمیان ایک نئی سرد جنگ شروع ہونے کا باعث بن سکتا ہے۔ لیکن ایسی صورت میں بھی شام کا مسئلہ مغرب کیلئے مزید پیچیدہ ہو جائے گا۔
4. شام میں صدر بشار اسد کی حکومت باقی رہنے کی صورت میں اسرائیل کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ ہو جائے گا۔ کیونکہ اگر یہ بات کھل کر سامنے آ جائے کہ اسرائیل کا حمایت یافتہ علاقائی اور بین الاقوامی اتحاد ایک ایسے ملک میں سیاسی تبدیلی لانے پر قادر نہیں جو زیادہ طاقتور ملک بھی تصور نہیں کیا جاتا تو اسرائیل کا وجود بری طرح خطرے سے دوچار ہو جاتا ہے۔
اسی بارے میں امریکہ کے ایک معتبر تحقیقاتی ادارے نے چند ہفتے قبل اپنی ایک تحقیقاتی رپورٹ شائع کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ 2020ء میں اسرائیل نامی کوئی ملک دنیا کے نقشے پر نظر نہیں آئے گا۔ البتہ صدر بشار اسد کی حکومت کو گرانے میں امریکہ کی ناکامی سے صرف اسرائیل کا وجود ہی خطرے میں نہیں پڑے گا بلکہ مشرق وسطی میں بھی امریکہ کی تمام پٹھو حکومتوں کو سرنگونی کے خطرے سے دوچار کر دے گا۔
5. مغرب اور شام کے خلاف برسرپیکار اسکے علاقائی کٹھ پتلی عناصر آپس میں ایک تضاد کا شکار ہو چکے ہیں۔ کیونکہ عوام میں صدر بشار اسد کی مقبولیت کے باعث وہ اس بات پر قادر نہیں کہ پرامن سیاسی طریقے سے شام میں کوئی سیاسی تبدیلی لا سکیں لہذا وہ مسلح دہشت گرد عناصر کو استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ دوسری طرف مسلح دہشت گرد عناصر کا میدان میں آنا شام حکومت کو یہ موقع فراہم کر رہا ہے کہ وہ اپنی مسلح افواج سے بھرپور استفادہ کر سکے۔ جیسا کہ ہم سال جاری کے جنوری اور جولائی کے مہینوں میں اس بات کے شاہد رہے ہیں۔
دنیا کا کوئی قانون صدر بشار اسد کو دہشت گرد عناصر کے خلاف طاقت کے استعمال کو ناجائز قرار نہیں دے سکتا۔ اسی طرح دنیا کا کوئی قانون کسی ملک میں سیاسی تبدیلی لانے کیلئے مسلح تحریک شروع کروا کر خانہ جنگی شروع کروانے یا اسکے خلاف فوجی کاروائی کرنے کو جائز اور قانونی قرار نہیں دے سکتا۔ لہذا صدر بشار اسد کی جانب سے مسلح دہشت گرد عناصر کے خلاف طاقت کا استعمال اگرچہ اس میں سینکڑوں مسلح افراد ہی حملے کی زد میں کیوں نہ آتے ہوں مکمل طور پر قانونی اور اخلاقی اقدام تصور کیا جائے گا۔ لیکن اسکے مقابلے میں امریکہ، برطانیہ، فرانس، سعودی عرب، قطر، ترکی اور اسرائیل کی جانب سے حتی ایک گولی کا شام کے مسلح دہشت گروپس کو دیا جانا مکمل طور پر غیراخلاقی اور غیرقانونی فعل گردانا جائے گا چاہے اس گولی سے صرف شام کی مسلح افواج کو نشانہ ہی کیوں نہ بنایا جائے۔ اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اخلاقی اقدامات غیراخلاقی اقدامات پر غالب آتے جائیں گے۔
6. شام مخالف اتحاد اگرچہ صدر بشار اسد کی حکومت کو سرنگون کرنے کے بارے میں متفق ہے لیکن انکی سرنگونی کے بعد شام میں حکمفرما ہونے والے نئے سیاسی نظام کے بارے میں ہر گز اتفاق رائے نہیں پایا جاتا۔ امریکہ، یورپی ممالک، اسرائیل اور سعودی عرب شام پر مسلح سکولر عناصر کی حکومت پر زور دیتے ہیں اور اخوان المسلمین اور شام کے اندرونی حکومت مخالف عناصر کو حکومت میں شامل کرنے کے شدید مخالف ہیں جبکہ قطر کی رائے یہ ہے کہ شام کی آئندہ حکومت اخوان المسلمین اور شام کے اندرونی حکومت مخالف عناصر مل کر تشکیل دیں۔ ترکی شام کی آئندہ حکومت میں حکومت مخالف کردوں کی مشارکت کو بالکل برداشت نہیں کرتا جبکہ مغربی ممالک آئندہ حکومت میں انکی مشارکت پر زور دے رہے ہیں۔
دوسرے الفاظ میں شام مخالف اتحاد میں صرف اس حد تا اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ صدر بشار اسد کی حکومت کو سرنگون ہونا چاہئے لیکن جب انکی سرنگونی کے بعد شام میں نئے سیاسی نظام کی بات آتی ہے تو ان میں شدید قسم کے اختلافات ابھر کر سامنے آنے لگتے ہیں۔ یہ ایسا مسئلہ ہے جو شام کے بعض حکومت مخالف عناصر جیسے اخوان المسلمین کو موجودہ حکومت کے ساتھ مذاکرات اور گفتگو کا راستہ اپنانے کی ترغیب دلاتا ہے۔
خبر کا کوڈ : 186070
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب