0
Wednesday 3 Oct 2012 19:19

پیوٹن کے دورے کی تنسیخ اور پاک روس تعلقات

پیوٹن کے دورے کی تنسیخ اور پاک روس تعلقات
تحریر: جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم
 
روس علاقے کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے۔ ایک کروڑ ستر لاکھ مربع کلومیٹر علاقے کے ساتھ روس دنیا کے تقریباً آٹھویں حصہ پر قابض ہے۔ روس کے علاقے میں نو ٹائم زون ہیں۔ تیل اور گیس کی دولت سے مالا مال دنیا کے اس سب سے بڑے ملک میں صرف چودہ کروڑ لوگ رہتے ہیں۔ تقریباً سارا شمالی ایشا اور مشرقی یورپ روس میں شامل ہیں۔ اس کی سرحدیں مشرق میں بحر اوقیانوس اور مغرب میں مغربی یورپ، شمال میں بحر منجمد شمالی اور جنوب میں مشرق وسطٰی سے جا ملتی ہیں۔
 
بیسویں صدی کی ساٹھ کی دہائی میں سویٹ یونین پہلا ملک تھا جس نے انسان کو خلا میں بھیجا۔ ہم نے بدقسمتی سے اُسی زمانے میں پشاور کے پاس اپنے بڈابیر کے ہوائی اڈے کو سویٹ یونین کے خلاف یو ٹو ڈرونز اُڑانے کیلئے امریکہ کے حوالے کیا اور اس طرح سویٹ یونین کی دشمنی مول لے لی۔ اس تعاون کے باوجود آج ہم امریکہ کی ڈرون جنگ کے بدترین متاثرین میں سے ہیں۔ ہینری کیسنجر نے بالکل ٹھیک کہا تھا کہ امریکہ کی دشمنی کسی بھی ملک کے لئے بُری ہے، لیکن امریکہ کی دوستی بدترین ہے۔

1991ء میں سویٹ یونین کے ٹوٹنے کے بعد روس دنیا کی نویں بڑی معیشت بن چکا ہے۔ دنیا میں گیس کی قیمتیں بڑھنے سے روس کی Gazprom سرکاری کمپنی نے صرف پچھلے سال 44 ارب کا منافع کمایا۔ ساتھ ہی امریکہ میں گیس کے ایک بہت بڑے ذخیرے کا انکشاف ہوا تو گیس کی بین الاقوامی قیمت 10 ڈالر فی یونٹ سے گر کر صرف 3 ڈالرز فی یونٹ رہ گئی۔ اس طرح روس کا منافع کوئی 25فیصدی گر گیا، ویسے بھی روس کا امریکہ کے ساتھ معاشی یا فوجی تقابل اگلے تیس، چالیس سالوں تک بھی ممکن نہیں، چونکہ امریکہ ایک مضبوط ملک ہے۔
 
امریکہ کے صدر اوباما نے کہا ہے کہ 2020ء تک امریکہ کی تیل اور گیس کی درآمد صرف 50% رہ جائے گی اور وہ اپنی 50% ضروریات میں ملک کے اندر سے پوری کریں گے۔ اس کے علاوہ چھ لاکھ امریکیوں کو گیس فیلڈز پر روزگار بھی ملے گا، لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ جدید روس ایک بین الاقوامی طاقت بننے کے خواب ضرور دیکھ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روس BRICS کا ممبر ہے۔ جس میں چین، ہندوستان، برازیل اور جنوبی افریقہ شامل ہیں۔ اس کو امریکہ کی فوجی حملے کرکے دنیا کے مختلف ممالک میں حکومتیں تبدیل کرنے والی پالیسی سے اختلاف ہے۔
 
روس امریکہ کی افغانستان اور عراق میں موجودگی اور لیبیا اور خصوصاً شام میں مداخلت پر معترض ہے۔ روس چین کے قریب سے قریب تر ہو کر اپنی طاقت بڑھانا چاہتا ہے۔ ہندوستان جنوبی ایشا میں روس کا درینہ ساتھی ہے، لیکن پاکستان کو روس اب بھی امریکہ کا طفیلی ملک سمجھتا ہے اور اَسّی کی دہائی میں امریکی تعاون سے سویٹ یونین کی افغانستان میں شکست کی ہزیمت کا پاکستان کو ہی ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔ اب جب امریکہ نے افغان جنگ لڑنے کیلئے پاکستان کی گود میں بیٹھ کر پاکستان کی داڑھی پر قینچی پھیرنی شروع کی تو ریمنڈ ڈیوس، ایبٹ آباد جارحیت اور سلالہ حملہ نے پاکستانی قیادت اور قوم کو اتنا جھنجوڑ کر رکھ دیا کہ این آر او کی کوکھ سے پیدا ہونے والی سویلین حکومت بھی روس کی طرف دیکھنے پر مجبور ہو گئی۔
 
صدر مملکت نے روس کے کئی دورے کئے۔ آرمی چیف اس وقت روس کے اہم دورے پر ہیں۔ لگ یوں رہا تھا کہ اب پاک روس تعلقات میں حائل برف کا تودہ پگلنا شروع ہو گیا ہے، لیکن روسی صدر پیوٹن کے پاکستان کے دورے کے غیر معینہ مدت کیلئے التواء کی اچانک خبر نے مختلف افواہوں کو جنم دیا ہے۔ کچھ تجریہ نگار پہلے ہی یہ سوچ رہے تھے کہ مندرجہ ذیل وجوہات کی بنا پر روس کے کسی صدر کا یہ پہلا دورہ شائد اب بھی عملی شکل اختیار نہ کر سکے۔
 
(1) پاکستان اپنے جغرافیائی محل وقوع کے حساب سے اس خطے کا بہت اہم ملک ہے، جس کو امریکہ مکمل طور پر اپنی جیب میں رکھنا چاہتا ہے۔ امریکہ اگر چین کو گوادر میں دیکھ کر ناخوش ہے تو وہ روس کو پاکستان کی وارم واٹر بندرگاہوں کے قریب کیسے برداشت کر سکتا ہے۔
 
(2) اس حقیقت کے باوجود کہ امریکہ اب ہندوستان کی سب سے بڑی ہتھیار خریدنے کی منڈی بن چکا ہے، ہندوستان اپنی بصیرت افروز سیاسی حکمتِ عملی اور اعلٰی سفارت کاری کی بدولت نہ صرف روس کے ساتھ اپنا اثر و رسوخ قائم رکھے ہوئے ہے بلکہ چین سے بھی ان کے بہتر تعلقات کی ابتداء ہو چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستانی پریس اور سیاسی قیادت پیؤٹن کے پاکستان کے دورے کی تنسیخ پر بغلیں بجا رہے ہیں۔ 

چونکہ یہ دورہ اِن کے کلیجے میں ایک خنجر کی طرح پیوست ہونے والا تھا اور انہوں نے روسی قیادت کو پسِ چلمن ضرور اس دورے سے منع کیا ہو گا۔ چونکہ ہندوستان اب بھی T90 ٹینکس، ہیلی کاپٹرز ٹیکنالوجی، نیوکلیئر سب مرین، ایئر کرافٹ کیریر، 140 ایس یو 30فائٹر جہاز اور4000 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے والے چار نیوکلیئر پاور ری ایکٹر خرید رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روس کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائے گا، جو اس کی ہندوستانی مارکیٹ پر منفی اثرات ڈال سکے۔
 
(3) امریکہ اور پاکستان میں انتخابات ہونے والے ہیں۔ اس لئے روس عجلت میں یہ دورہ کرنے کی بجائے ان انتخابات کے نتائج کے اعلانات کا انتظار کرے گا اور یہ دیکھے گا کہ آنے والی حکومتوں کا جنوب ایشاء اور خصوصاً افغانستان کی صورتِ حال پر کیا موقف ہوگا اور خصوصاً آئندہ آنے والی پاکستانی حکومت امریکی بیساکھیوں کے بغیر کھڑا ہونے کا حوصلہ بھی رکھتی ہے یا نہیں۔
 
(4) روسی صدر پیوٹن ایک ایسی چار ممالک کی کانفرنس میں شرکت کیلئے آ رہے تھے جس میں روس، افغانستان، پاکستان اور تاجکستان شامل ہیں۔ یہ بات ٹھیک ہے کہ یہ فورم خود روس نے بنایا تھا لیکن اب جب پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں سرد مہری ہے، تاجکستان کے بھی ان ممالک کے علاوہ روس سے بھی اختلافات ہیں۔ افغانستان سے متعلق امریکی پالیسی بالکل غیر واضح ہے۔ روس کو یہ یقین بھی نہیں کہ موجودہ پاکستانی قیادت اور کتنے ماہ چلے گی تو روسی صدر اِن حالات میں پاکستان آکر کیا حاصل کرے گا۔
 
(5) پاکستان اس وقت تاریخ کے نازک ترین موڑ پر کھڑا ہے۔ 2004ء سے شروع ہونے والی’’ڈرون جنگ‘‘ کے شکار ملک کی کمزور ترین سویلین حکومت اپنی بے پناہ مالی بے قاعدگیوں کرپشن، ناگفتہ بہ معاشی حالات اور امریکہ پر مکمل انحصار کی وجہ سے آزاد خارجہ پالیسی کا تصور بھی نہیں کر سکتی۔ اِن حالات میں چوٹی کے سفارت کار بھی بے بس ہو جاتے ہیں، اور بدقسمتی سے پاکستان کی سفارتی ٹیم میں اس وقت نہ تو کوئی تجربہ کار وزیر ہے نہ مشیر۔
 
پیوٹن کے دورے کا اعلان اور پھر اس کی تنسیخ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ یہ سفارتی حادثہ ہماری کمزور سفارت کاری سے ہوا۔ ہم نے روس کے صدر کے دورے کا اعلان کرنے سے پہلے اُن کے تحفظات کو کیوں دور نہ کیا؟ جو اس دورے کی تنسیخ کا سبب بنے۔ یہ بھی ذہن میں رکھا جائے کہ سفارت کاری ایک بہت ہی حساس اور نازک کھیل ہوتا ہے۔ جس کو موثر طریقے سے کھیلنے کے لئے نہایت تجربہ کار کپتان اور کھلاڑیوں کی ضرورت رہتی ہے۔
 
اس دورے کا کامیاب بنانے کیلئے ہم چین کی موثر سفارتی مدد لینے میں کیوں ناکام رہے؟ کیا ہندوستان جس کے ساتھ ہم امن کی آشا کی پینگیں بڑھا رہے ہیں اور اس کو موسٹ فیورٹ نیشن کا درجہ دے کر وسطی ایشائی ریاستوں تک رسائی بھی دینا چاہتے ہیں، سے ہم نے کوئی سفارتی رابطہ کیا کہ اگر وہ کوئی مدد نہیں کرسکتا تو کم از کم ہماری پیٹھ میں چھرا تو نہ گھونپے۔ 

ہم دعا گو ہیں کہ اللہ کرے پاکستان کے روس سمیت تمام اہم ممالک سے بہترین تعلقات قائم ہو جائیں، لیکن اس کیلئے محنت اور بہت سارا ہوم ورک درکار ہے۔ شنگھائی کواپریشن آرگنائزیشن (SCO) کا مکمل رکن بننا ہماری اہم ضرورت ہے۔ اسی طرح اکنامک کواپریشن آرگنائزیشن (ECO) کو بھی موثر بنانا ہوگا۔ اس کے علاوہ واضح اہداف بھی ہمارے ذہن میں ہونے چاہیں کہ ہم ان ممالک سے ملکی مفاد میں کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ خصوصاً تجارت، انرجی، تیل اور گیس کی تلاش، سٹیل سیکٹر اور ڈیفنس پروڈکشن کے شعبوں میں روس سے مدد لی جا سکتی ہے۔ یہ معاملات ہمیں روسی وزیر خارجہ کے سامنے بھی رکھنے چاہئیں۔
خبر کا کوڈ : 200609
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے