0
Friday 15 Mar 2013 22:39

خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی مقبولیت

خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی مقبولیت
تحریر: رشید احمد صدیقی
 
پاکستان تحریک انصاف نے دس مارچ کو خیبر پختونخوا کی سطح پر موٹروے چوک پشاور میں طاقت کا مظاہرہ کیا۔ اگر اس جلسہ عام کو مقبولیت کا پیمانہ مان لیا جائے تو اب تک ہونے والے جائزے اور اندازے مکمل طور پر غلط ثابت ہوں گے۔ کچھ عرصہ سے یہ مقام جلسوں کے لیے مختص ہے۔ دسمبر میں جماعت اسلامی نے یہاں جلسہ کیا۔ پھر جمعیت علمائے اسلام کا جلسہ ہوا اور اب پاکستان تحریک انصاف کا۔ اس پورے میدان میں زیادہ سے زیادہ کرسیاں آٹھ ہزار کی تعداد میں آتی ہیں۔ پورا میدان کچھا کچ بھر دیا جائے تو 25 ہزار افراد اس میں سما جاتے ہیں۔ اب تک کوئی بھی اس کو نہیں بھر سکا ہے۔ جس جلسہ کو لاکھوں کا کہا جاتا ہے وہ مشکل سے 30 ہزار کا ہوتا ہے۔ جو 30 ہزار لوگ جمع کر لیتے ہیں ان کو یہ حق دے دیا جاتا ہے کہ وہ لاکھوں کا دعویٰ کریں۔ حالیہ تین جلسوں میں جماعت کا جلسہ اگر 15 یا 16 ہزار کا تھا تو جے یو آئی کا بمشکل 12 ہزار کا تھا۔ اس لیے کہ اس میں میدان پورا نہیں بھرا تھا اور اسٹیج و جلسہ کے درمیاں بہت بڑا خلا رکھا گیا تھا، شائد یہ سکیورٹی کے نقطہ نظر سے تھا۔

تحریک انصاف کے جلسہ میں کرسیاں چار ہزار سے زیادہ نہ تھیں، ان میں بھی چالیس فی صد سے زیادہ خالی تھیں۔ میدان میں چلنے پھرنے والوں کی تعداد کرسیوں پر بیٹھے لوگوں سے تین گنا شمار کیا جائے تو نو تا دس ہزار حاضری تھی۔ موجودہ حالات میں اس کو کم حاضری نہیں کہا جاسکتا، لیکن منتظمین نے جتنی کرسیوں کا انتظام کیا تھا، اس حساب سے جلسہ کو بھرپور نہیں کہا جاسکتا۔ اور لاہور و کراچی کے جلسوں سے موازنہ کیا جائے تو خیبر پختونخوا میں عمران خان لوگوں کی اتنی بڑی تعداد کو متاثر نہیں کرسکے ہیں جتنا ان کا دعویٰ ہے۔ عمران خان کا موقف ڈھکا چھپا نہیں۔ وہ میرٹ کی بات کرتے ہیں، انصاف ان کا منشور ہے اور کرپشن کے خلاف بیداری ان کا نعرہ ہے۔ وہ جمود توڑنے کے علمبردار ہیں۔ امریکہ اور اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت ان کا نعرہ ہے۔ ایڈجسٹمنٹ کا دور دورہ ہے۔
 
اس میں عمران خان کے نعرے اور مزاج جماعت اسلامی کے کافی قریب لگتے ہیں اور شنید یہی ہے کہ ایڈجسٹمنٹ کے حوالے سے سب سے زیادہ روابط اور قربت ان دو جماعتوں ہی کے درمیان موجود ہیں۔ لیکن حیرت انگیز طور پر جماعت اسلامی کے لوگوں نے عمران خان کے اس جلسہ کا موازنہ اپنے 18 دسمبر کے جلسہ سے کرنا شروع کر دیا ہے اور سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ جماعت اسلامی والوں نے اس جلسہ کو ناکام ثابت کرنے کی کوشش کی ہے، حالانکہ عمران خان نے اب تک کسی بھی جلسہ اور تقریر میں جماعت کے خلاف کوئی بات نہیں کی ہے اور ان سے کافی متاثر اور قریب نظر آئے ہیں۔ ان کی توپوں کا رخ ہمیشہ شریف برادران اور مولانا فضل الرحمان کی طرف رہا ہے۔ اس گھن گرج میں وہ پی پی پی کو کس قدر نظر انداز کر جاتے ہیں اور اے این پی کو تو زیادہ خاطر میں لاتے نہیں۔ جماعت کے لوگوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر ان کی اتنی مخالفت کی کوئی توجہ سمجھ میں نہیں آرہی ہے۔ 

نسبتاً ناکام جلسہ کے بعد شائد تحریک انصاف کی ترجیحات میں کوئی تبدیلی آجائے۔ مقبولیت حاصل کرنے کے بعد عمران خان کے ساتھ مقبول عام سیاست کرنے والے لوگ شامل ہوگئے، جن کے بارے میں عام خیال یہ تھا کہ یہ سٹیٹس کو (جمود) والے لوگ ہیں اور عمران کے ساتھ نہیں چل سکیں گے۔ خیبر پختونخوا میں کچھ لوگ تو واپس بھی چلے گئے۔ عمران کے کچھ دیرینہ ساتھی یہ شکایت کرتے ہیں کہ وہ مروجہ سیاست کو نہیں سمجھتے اور کسی کا مشورہ بھی نہیں مانتے۔ جب پارٹی مقبولیت کی انتہاء پر تھی۔ نئے لوگ دھڑا دھڑ آرہے تھے۔ عمران خان نے اچانک پارٹی کے اندر انتخابات کی بات کرکے اپنے کارکنوں اور لیڈروں کو جماعت کو وسعت دینے کے بجائے ایک طرح کے غیر ضروری کام پر لگا دیا۔ جو لیڈر پارٹی کے لیے دن رات کام کر رہے تھے، وہ اپنے عہدے کے لیے کام میں لگ گئے اور کم از کم تین مہینے انھوں نے ضائع کر دیئے۔ اس دوران کچھ اہم لیڈر واپس بھی چلے گئے۔ جلسہ کی ناکامی کی ایک وجہ بھی یہ تھی کہ تین ماہ تک پارٹی کا رابطہ عوام اپنے الیکشن کی وجہ سے معطل رہا اور جب پارٹی فارغ ہوئی تو محض دس دن کی تیاری کے ساتھ اتنا بڑا جلسہ کرنے کی کوشش کی جو کامیاب نہ ہو سکی۔ دعوے میڈیا میں جو بھی کئے جائیں، جلسہ میں شریک لوگوں کو معلوم ہے کہ اس سے ان کا مورال کتنا گر گیا ہے۔ 

پارٹی الیکش بھی خاصا دلچسپ رہا۔ جب سے عمران خان سیاست میں آئے ہیں، خیبر پختونخوا میں اسد قیصر (اب منتخب صوبائی صدر) اور شوکت یوسفزئی (اب منتخب جنرل سیکرٹری) ان کے ساتھ رہے ہیں۔ مقبولیت کی موجودہ لہر میں پرویز خٹک بھی آگئے۔ صدارت کے لیے تین مضبوط امیدوار پرویز خٹک، شوکت یوسفزئی اورا سد قیصر تھے۔ جب مہم آخر تک جا پہنچی تو شوکت یوسفزئی پرویز خٹک کے ساتھ ا تحاد کرکے خود جنرل سیکرٹری کے امیدوار بن گئے۔ اس سے مقابلہ یک طرفہ ہوگیا۔ دو مضبوط امیدواروں کے درمیان اتحاد کے بعد ایسا لگ رہا تھا کہ مقابلہ اب ضابطہ کی کارروائی کی تکمیل کی حد تک ہوگا۔ لیکن جب انتخابات ہوگئے تو پرویز خٹک کے ساتھ جنرل سیکرٹری کے امیدوار شوکت ییوسفزئی 82 اور اسد قیصر 72 ووٹ لے کر جنرل سیکرٹری اور صدر منتخب ہوگئے۔ اتحاد کے بعد شوکت اور پرویز خٹک کے ووٹ ایک جیسے ہونے چاہیے تھے لیکن نتیجہ الٹا نکلا۔ شوکت اور اسد قیصر کے ووٹوں میں تقریباً یکسانیت رہی۔ اتحادی جنرل سیکرٹری کے امیدوار سے پرویز خٹک کو 30 کم ووٹ ملے۔ اس پر مبصرین کو خاصی حیرت ہوئی۔
 
یہ بھی محسوس کیا گیا کہ بظاہر شوکت یوسفزئی اور پرویز خٹک کے اتحاد کو بالواسطہ انتخابات میں منتخب ووٹروں نے قبول نہ کیا اور پارٹی کے دیرینہ لیڈروں اسد قیصر اور شوکت یوسفزئی کو ووٹ دیئے جو ایک طرح کا نظریاتی فیصلہ تھا۔ پرویز خٹک کی پریشانی سمجھ میں آنے والی تھی کہ ان کے اتحادی کو ان سے اتنے زیادہ ووٹ کیوں ملے۔ بہرحال اب انھوں نے ناراضگی ختم کر دی ہے اور نومنتخب صدر اسد قیصر کو ظہرانہ دے کر مفاہمت کا اعلان کر دیا ہے۔ عام طور پر عمران خان کو لوگ آمرانہ ذہنیت رکھنے والا ہٹ دھرم لیڈر سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کا سیاسی اور روز مرہ زندگی میں انداز کرکٹ ٹیم کے کپتان کی طرح ہے۔ پارٹی انتخابات بھی ان کا اسی طرح کا فیصلہ تھا۔ لیکن انتخابات کا انعقاد بہرحال مثالی رہا۔ تمام اضلاع میں انتخابات کا ہونا اور مقابلہ ہونا اور دھڑا بندی کا شکار نہ ہونا، یہ ایسی کامیابی ہے جو جماعت اسلامی کے علاوہ صرف تحریک انصاف میں نظر آئی۔ 

انتخابات سر پر ہیں۔ تحریک انصاف کے ساتھ صوبہ بھر میں نسبتاً محفوظ سیٹ پرویز خٹک کی نوشہرہ والی ہے۔ لیکن ماضی میں پی پی پی اور شیرپائو گروپ کی حمایت کے ساتھ اپنی جوڑ توڑ کی مہارت کو استعمال کرتے ہوئے وہ یہ نشست جیتے تھے۔ اس بار پرانے حمایتی ان کے ساتھ نہیں ہوں گے۔ چنانچہ کافی مشکل میں اپنے آپ کو محسوس کریں گے۔ شوکت یوسفزئی آبائی حلقہ شانگلہ سے قسمت آزمائی کر رہے ہیں۔ وہاں ان کا سکہ بند قسم کے لوگوں سے مقابلہ ہے۔ وہ خود پشاور میں میں مصروف زندگی گزار رہے ہیں، چنانچہ ان کی نشست کو محفوظ نہیں کہا جاسکتا۔ اسد قیصر صوابی سے انتخاب لڑیں گے۔ ان کے لیے واحد امید یہ ہوسکتی ہے کہ جماعت اسلامی ان کے لیے یہ نشست چھوڑ دے۔ ان تینوں نشستوں کے علاوہ تحریک انصاف کے ساتھ عمران خان کی صورت میں ایک سیٹ ہوسکتی ہے کہ وہ قومی اسمبلی کے لیے پشاور کے کسی حلقہ سے کھڑے ہو جائیں۔
 
ممکنہ طور پر این اے ون کا نام لیا جا رہا ہے۔ جائزوں میں عمران خان کی مقبولیت کی بات کی جاتی ہے، لیکن ووٹ عمران کو نہیں امیدوراوں کو ملیں گے اور وہ ان کے پاس ابھی تک نہیں ہیں۔ رابطہ عوام اور مقبولیت سے فائدہ اٹھانے کا وقت انھوں نے پارٹی انتخابات میں ضائع کیا۔ وہ ایک منظم جماعت کی طرح مہم چلانا چاہتے ہیں۔ منظم کارکن ہفتہ دس دن میں ان کے پاس کہاں سے آئیں گے۔ ان کے پاس بھیڑ چال آئی تھی۔ وہ منظم انتخابی مہم چلانے والے لوگ نہیں۔ وہ واپس ہی جانا چاہیں گے، جب گرم فضا دیکھیں گے۔ عمران خان کو پارٹی منظم کرنے کے لیے کافی وقت درکار ہے اور وقت ان کے پاس نہیں، انتخابات سر پر ہیں۔
خبر کا کوڈ : 246834
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب