1
0
Tuesday 13 Aug 2013 15:05

پاک بھارت کشیدگی، محرکات و مقاصد

پاک بھارت کشیدگی، محرکات و مقاصد
تحریر: ثاقب اکبر 

پاک بھارت موجودہ کشیدگی کا آغاز 6 اگست 2013ء کو بھارت کی جانب سے پاکستان پر بھارتی فوج کی ایک چوکی پر دراندازی کے الزام سے ہوا۔ بھارت کے مطابق پاکستانی فوج نے بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں دراندازی کرکے پانچ بھارتی فوجیوں کو ہلاک کر دیا۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھارتی فوج کے اس دعوے کو رد کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ الزامات بے بنیاد ہیں۔ علاو ہ ازیں پاکستان کے وزیر داخلہ نے کہا کہ یہ الزامات مضحکہ خیز ہیں، کیونکہ ایل او سی پر بھارت نے جس طرح کی حفاظتی دیواریں کھڑی کی ہیں، اس کے بعد یہ دعویٰ کہ پاکستانی فوج کئی کلو میٹر اندر گھس گئی ناقابل قبول ہے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ پاکستان 2003ء میں کیے گئے جنگ بندی کے معاہدے کی پاسداری کرتا ہے۔
 
اس الزام کے بعد بھارت کی طرف سے کشمیر اور سیالکوٹ کے محاذوں پر مسلسل بلااشتعال فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوگیا اور تادم تحریر (13اگست) یہ سلسلہ مختلف سیکٹرز میں جاری ہے۔ فائرنگ کے علاوہ بھارت کی طرف سے پراپیگنڈا کا محاذ بھی پوری طرح سے سرگرم ہے۔ بھارتی میڈیا نے طوفان سر پر اٹھا رکھا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان چلنے والی دوستی بس سروس کو بھی دہلی اور پھر امرتسر میں کانگریس کے یوتھ ونگ کے سینکڑوں افراد نے گھیر لیا اور مسافروں کو خوفزدہ کیا۔ یہ بس پہلے ہی خوف اور تشویشناک حالات کی وجہ سے مالی لحاظ سے خسارے میں چل رہی ہے، کیونکہ مسافر اپنے آپ کو اس میں محفوظ نہیں سمجھتے۔ علاوہ ازیں عید کے روز دہلی میں پاکستان کے ہائی کمیشن پر مظاہرین نے دھاوا بول دیا اور اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کی، جسے پولیس نے روکا۔ تازہ ترین واقعات میں دہلی اور ممبئی میں پی آئی اے کے دفاتر کو بھی نقصان پہنچانے کی کوششیں کی گئی ہیں۔
 
پاکستان کے دفتر خارجہ نے ان مسائل پر اپنی تشویش سے آگاہ کرنے کے لیے پاکستان میں بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو اب تک دو مرتبہ طلب کرکے اپنے نقطۂ نظر سے آگاہ کیا ہے۔ بھارتی فوج کی طرف سے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی پر احتجاج بھی کیا گیا ہے۔ دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن پر مظاہرین کے حملے کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ اس کی حفاظت بھارت کی ذمہ داری ہے۔ دوستی بس کو تحفظ فراہم کرنے کے حوالے سے بھی بھارت کو اس کی ذمے داری یاد دلائی گئی ہے۔
مبصرین اس سوال کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں کہ اچانک پاک بھارت کشیدگی میں اضافے کی وجوہات کیا ہیں، اس کے محرکات کیا ہے اور اس سے کون سی قوتیں کیا مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہیں۔
 
اس سے پہلے کہ ہم ان سوالات کا نسبتاً تفصیل سے جائزہ لیں، یہ جاننا ضروری ہے کہ پاکستان اور بھارت کی حکومتوں کے مابین نومبر 2003ء میں ایک معاہدہ طے پایا تھا، جس کے مطابق دونوں ملکوں کی افواج کو پابند کیا گیا تھا کہ وہ 740 کلو میٹر طویل اور 34 کلو میٹر چوڑی لائن آف کنٹرول پر ایک دوسرے پر فائرنگ نہیں کریں گے۔ دونوں ملکوں کے ڈی جی ملٹری آپریشنز کے مابین ہاٹ لائن بھی قائم ہے، جس کے مطابق اگر کوئی واقعہ پیش آجائے تو فوراً رابطہ کرکے معاملے کو حل کیا جانا معاہدے کا حصہ ہے۔ اس سلسلے میں 6 اگست کو مبینہ طور پر ہونے والے واقعے کے کئی روز بعد تک اس ہاٹ لائن پر بھارت کی طرف سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔ کسی فوجی یا سیاسی کارروائی سے پہلے اگر واقعاً کوئی مسئلہ پیش آیا تھا تو بھارت کی فوجی قیادت کو ہاٹ لائن کا راستہ اختیار کرنا چاہیے تھا۔ علاوہ ازیں گذشتہ دس برس کے دوران یہ کوئی پہلا معاملہ نہیں تھا بلکہ دونوں طرف سے ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام ایک معمول کی بات ہے۔
 
رواں برس میں بھارتی الزامات کے مطابق 6 اگست کو پاکستان کی طرف سے انسٹھویں خلاف ورزی کی گئی۔ ایسی ہی خلاف ورزیوں کے بہت سے الزامات پاکستان کی طرف سے بھی بھارتی فوج پر عائد کیے جاتے رہے ہیں اور 6 اگست کے بعد بھی پاکستانی دفتر خارجہ اور فوج کے ترجمان کے مطابق بھارتی فوج نے مختلف سیکٹرز پر بلااشتعال کئی مرتبہ فائرنگ کی ہے، جس سے بہت سے پاکستانی شہری زخمی ہوئے ہیں اور مال مویشی ہلاک ہوئے ہیں، لیکن بھارت کی طرف سے 6 اگست کے معاملے کو جس انداز سے اٹھایا گیا ہے یہ یقینی طور پر غیر معمولی ہے۔
پاکستان نے بھارت کی جانب سے دوستی بس کو روکے جانے اور پاکستانی ہائی کمیشن کے سامنے احتجاج کو منظم قرار دیا ہے۔ گویا پاکستان کے نزدیک احتجاج کی یہ شکل ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان اعزاز چوہدری کا کہنا ہے کہ سیز فائر کے باوجود بھارت کی جانب سے فائرنگ کا سلسلہ تشویش ناک ہے۔

بی بی سی کے ایک رپورٹر کے مطابق یہ بات قابل ذکر ہے کہ لائن آف کنٹرول پر بھارتی علاقے میں اکثر اوقات بھارتی فوج مسلح دراندازوں کو جھڑپوں میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کرتی ہے، لیکن علیحدگی پسندوں کے ساتھ ساتھ ہندو نواز سیاست دان بھی ایسی جھڑپوں پر شبہ ظاہر کرتے ہیں۔ رپورٹر نے اس امر کی بھی نشاندہی کی ہے کہ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ بھارتی فوج اعزازات اور نقد انعامات کے لیے کنٹرول لائن پر فرضی جھڑپوں میں معصوم لوگوں کو ہلاک کرتی ہے۔ بی بی سی کے رپورٹر کا مزید کہنا ہے کہ کشمیر کے مژھیل علاقے میں جب فوج نے تین پاکستانی مسلح عسکریت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تو سرکاری تفتیش کے بعد ثابت ہوا کہ وہ معصوم مزدور تھے۔ اس واقعے کے خلاف تین سال تک یہاں احتجاجی تحریک جاری رہی۔ 
راقم کی رائے میں اعزازات اور نقد انعامات کے حصول کے لیے فائرنگ کے واقعات اگرچہ اپنے مقام پر ایک حقیقت رکھتے ہیں، لیکن موجودہ صورتحال ان مقاصد سے وسیع تر اہداف کی غمازی کرتی ہے، کیونکہ اس میں جس درجے اور جس سطح کا ردعمل سامنے آیا ہے، وہ عام حالات سے بہت مختلف ہے۔ اس سلسلے میں خاص طور پر بھارتی فوج کے سربراہ کا بیان قابل توجہ ہے۔
 
12 اگست کو روزنامہ نوائے وقت نے ایک بھارتی اخبار کے حوالے سے خبر دی کہ بھارتی آرمی چیف جنرل بکرم سنگھ نے حکومت کی ایماء پر لائن آف کنٹرول پر جاری کشیدگی کو مزید بڑھانے کے لیے بھارتی کمانڈرز کو حکم دیا ہے کہ وہ پاکستانی فوج کی جانب سے کسی بھی خلاف ورزی اور فائرنگ کا سخت جواب دیں۔ انھوں نے کہا کہ سرحدی کمانڈرز کی جانب سے فائرنگ کا جواب نہ دینے پر افسوس ہے۔ بھارتی اخبار کی رپورٹ کے مطابق بھارتی آرمی چیف جنرل بکرم سنگھ نے جموں کے قریب نگروثہ میں 16 کور کے ہیڈ کوارٹر کا دورہ کیا اور اس دوران انھوں نے علاقے میں تعینات اعلٰی کمانڈر کو سخت سرزنش کرتے ہوئے پاکستانی فوج کے خلاف بڑی مزاحمتی جوابی کارروائی نہ کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ بھارتی اخبار کے مطابق بکرم سنگھ نے سینئر کمانڈروں سے پوچھا کہ سرحد پر کشیدگی والے علاقے میں مقامی کمانڈروں نے پاکستانی چیک پوسٹوں پر بھاری توپ خانے اور مارٹر گولے فائر کرنے کا حکم کیوں نہیں دیا۔
 
آرمی چیف نے سرحد پر تعینات مقامی فوجی کمانڈروں کو حکم دیا کہ وہ پاکستانی فوج کو سخت جواب دیں اور اشتعال انگیزی کی صورت میں کسی قسم کی نرمی نہ برتی جائے اور اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے۔ دوسری جانب بھارتی فوج کے اعلٰی عہدیدار نے کہا کہ پاکستانی فوج کی جانب سے مبینہ اشتعال انگیزی کی صورت میں سخت جواب دینے کے احکامات میں کوئی ابہام نہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ آرمی چیف نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں تعینات فوجی کمانڈروں سے پوچھا کہ انھیں کس نے بھاری توپ خانے اور مارٹر گولے فائر کرنے سے روکا ہے۔ عہدیدار کے مطابق ان کے جارحانہ کارروائی کے احکامات واضح تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جنرل بکرم سنگھ کے جارحانہ حکم کے بعد سرحدوں پر فائرنگ کے واقعات اور کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ 

ہماری رائے میں موجودہ پاک بھارت کشیدگی کو عالمی صورت حال سے الگ کرکے نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ دنیا کے موجودہ سرمایہ داری نظام کا ایک بڑا سہارا عالمی سطح پر مختلف خطوں میں تناؤ اور کشیدگی کو برقرار رکھ کر اسلحہ سازی کی صنعت کو فروغ دیتے رہنا ہے۔ اس سلسلے میں مختلف ملکوں میں سیاسی اور فوجی قیادتیں بھی اپنا حصہ بقدر جثہ وصول کرتی ہیں۔ بھارت کی سیاسی قیادت اور فوجی جنتا کے بڑوں کو اس عالمی پروگرام سے باہر فرض نہیں کیا جاسکتا۔ قبل ازیں بھارت کئی برس تک پارلیمنٹ اور بعدازاں ممبئی حملہ کیس کو کشیدگی کی فضا برقرار رکھنے کے لیے استعمال کرتا رہا ہے، لیکن حال ہی میں ایک بھارتی افسر نے اس ساری صورت حال کو بھارتی سپریم کورٹ میں یہ کہہ کر تبدیل کر دیا کہ پارلیمنٹ پر اور ممبئی حملہ کا تمام تر منصوبہ خود بھارتی حکومت کا تیار کردہ تھا، جس کا مقصد دہشت گردی کے خلاف ایسی قانون سازی تھا جو عام حالات میں نہیں کی جاسکتی تھی۔ 

اس مذکورہ بھارتی افسر جو بھارتی وزارت داخلہ کا انڈر سیکرٹری رہا ہے، نے یہ بات اپنے ایک حلفیہ بیان میں کہی ہے جو اس نے سپریم کورٹ میں ممبئی حملہ کیس کے حوالے سے جمع کروایا ہے۔ اس افسر کا نام آر وی ایس مانی ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایسے قوانین کے نتیجے میں فوج کے زیادہ استعمال اور اسلحے کی زیادہ کھپت کے امکانات بڑھ جاتے ہیں اور یہ بات ہمارے نقطۂ نظر کی تائید کرتی ہے کہ موجودہ پاک بھارت کشیدگی درحقیقت اسلحہ بیچنے والوں اور اپنے ہاتھوں میں کشیدگی اور دہشت گردی کے عنوان سے زیادہ سے زیادہ اختیارات رکھنے کے خواہش مندوں کے مقاصد کو پورا کرتی ہے۔
 
اس سلسلے میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں حکومت کی تبدیلی کے بعد نئے وزیراعظم نواز شریف نے بھارت کے ساتھ دوستی کے لیے جس طرح سے ہاتھ بڑھایا تھا اور ہدایات جاری کی تھیں کہ دونوں ملکوں کے مابین کشیدگی ختم کرنے اور امن کے قیام کے لیے پہلے سے موجودہ دو طرفہ فوجی و سیاسی چینل استعمال کیے جائیں، اس سے دونوں ملکوں کے مابین معمول کے تعلقات کی بنیاد پڑتی دکھائی دیتی تھی۔ یقینی طور پر بھارت میں ایسی قوتیں بہت مؤثر ہیں، جن کے نزدیک معمول کے تعلقات سے ان کے مفادات پر زد پڑتی ہے۔
 
موجودہ تناؤ کے حوالے سے پاک انڈیا پیپلز سارک کے پاکستانی اور بھارتی راہنماؤں نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس سلسلے میں پاکستانی راہنما کرامت علی کا کہنا ہے کہ بھارت میں سیاسی جماعتوں اور میڈیا کی جانب سے انتہائی جذباتی ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف پاک انڈیا پیپلز سارک کے بھارتی راہنما سمیر گپتا کا کہنا ہے کہ وہ امن کے لیے لوگوں سے بات چیت کرتے ہیں اور آہستہ آہستہ لوگوں کی سوچ بدلتے ہیں، لیکن جب بھی کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آتا ہے تو دونوں طرف میڈیا اس کو اچھالتا ہے اور یہ میڈیا ساری محبت ضائع کر دیتا ہے۔ یعنی جو اقدامات تین سال میں اٹھائے جاتے ہیں وہ تین روز میں ضائع ہو جاتے ہیں۔ سمیر گپتا کے مطابق اگر کسی کو دشمن بنایا جائے تو میڈیا پر اس بات کو بیچنا آسان ہوجاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ انڈیا میں پاکستان کو خطرہ بنا کر فروخت کرنا بہت آسان ہے۔ ایسے دھڑا دھڑ خبریں بکتی ہیں اور ٹی وی چینلز کی ریٹنگ بڑھ جاتی ہے۔
 
پاکستان کے حوالے سے ایک اور بات بھی استعماری طاقتوں اور بھارت کے مابین مشترک ہے۔ ان کے مشترکہ ایجنڈا کے مطابق پاکستان کو ایٹمی صلاحیت سے محروم کرنا ہے۔ اگر حالات پرامن ہو جائیں تو ان کے پاس یہ بہانہ نہیں رہتا کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے دہشت گردوں کے ہاتھ لگنے کا اندیشہ ہے۔ پاکستان کو ایک انتہا پسند ریاست ظاہر کرنا بھی اسی مشترکہ ایجنڈے میں شامل ہے۔ یہ مقصد پاک بھارت حالات معمول پر لانے سے حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ایک کے بعد دوسرا بہانہ تلاش کیا جائے، جس سے پاکستان پر کوئی نہ کوئی الزام لگایا جاسکے۔ پاک بھارت گذشتہ تعلقات کی تاریخ اس نقطۂ نظر کی بھی تائید کرتی ہے۔
 
بھارت پاکستان کے خلاف نہ فقط ماضی میں جارحیت کا ارتکاب کرچکا ہے، بلکہ اس کی کوشش رہی ہے کہ کشمیر کا بنیادی مسئلہ زیر بحث نہ آئے۔ بھارت نے پاکستان کے خلاف آبی جارحیت کا سلسلہ بھی شروع کر رکھا ہے۔ سیاچین کا مسئلہ بھی پاک بھارت تعلقات کے معمول پر آنے میں رکاوٹ بنا ہوا ہے، جبکہ بھارت یہ چاہتا ہے کہ جب بھی گفتگو کا موقع آئے تو ایسے معاملات کو پس پشت ڈال کر روز مرہ کے معاملات پر بات کی جائے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ روز مرہ کے موضوعات پیدا کیے جاتے رہیں۔ پاکستان کے موجودہ وزیراعظم نے بات چیت کے لیے راستے کھولنے اور چینلز استعمال کرنے پر جو زور دیا ہے، اس کے بعد بھارت کے سازشی عناصر کے لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ اپنا کردار ادا کریں، تاکہ جب دو طرف مذاکرات کی میز پر بیٹھیں تو بات نئے سرے سے اعتماد بحال کرنے کے لیے اقدامات پر آکر ختم ہو جائے اور اصل معاملات وہیں کے وہیں رہ جائیں۔
خبر کا کوڈ : 291969
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ماشاءاللہ ہمیشہ کی طرح بہت عمدہ
جناب ایک سوال ہے
بان کی مون نے اپنے دورہ پاکستان سے پہلے ایک انٹرویو میں کہا تھا کے میں پاک اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر کے حل و فصل کے لیے فرد ثالث بنے پاکستان جا رہا ہوں۔ کیا ہم یہ کہہ سکتیں ہیں کے بھارت نے جان بوجھ کر اس مسئلہ کے اوپر کو بات نہ ہونے کے لئے الزامات اور انٹرنشنل قوانین کے خلاف ورزی کا سلسلے اختیار کیا ہے؟
منتخب
ہماری پیشکش