0
Tuesday 25 Feb 2014 17:05

عرب حکمران اور شام سے تکفیری دہشت گرد عناصر کی واپسی کا ڈراونا خواب

عرب حکمران اور شام سے تکفیری دہشت گرد عناصر کی واپسی کا ڈراونا خواب
اسلام ٹائمز- شام کا بحران تین سال پر مشتمل بھرپور مسلح جھڑپوں اور جنگ کے بعد ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور آہستہ آہستہ اس کے پس پردہ حقیقی عوامل کھل کر سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ اس مدت کے دوران شام میں برسراقتدار صدر بشار اسد کی حکومت کو گرانے کے تقریبا تمام ممکنہ ہتھکنڈے استعمال کئے جا چکے ہیں۔ عرب اور مغربی دنیا کی جانب سے شروع کی گئی اس بھرپور جنگ کا ماحصل جیسا کہ پہلے سے توقع کی جا رہی تھی، سوائے لگام گسیختہ شدت پسندی کے کچھ اور نہیں نکلا ہے۔

شام میں حکومت مخالف دہشت گرد گروہوں کے درمیان انتہائی شدید اختلافات رونما ہو چکے ہیں اور اس وقت شام سے متعلق خبریں ان دہشت گرد گروہوں کی آپس میں وحشیانہ اور خونخوار جھڑپوں سے بھری پڑی ہیں جن کے نتیجے میں اب تک ہزاروں کی تعداد میں دہشت گرد ہلاک ہو چکے ہیں۔ سیاسی میدان میں بھی شام کے حکومت مخالف گروہوں کے درمیان شدید سیاسی اختلافات پائے جاتے ہیں جن کی وجہ سے وہ ایک واحد موقف اختیار کرنے میں بری طرح ناکامی کا شکار ہوئے ہیں۔ یہ امر مغربی دنیا کی جانب سے ان کی حمایت پر بھی منفی اثرات پڑنے کا باعث بنا ہے۔

دوسری طرف شام کی فوج کی جانب سے مسلسل کامیابیوں کا حصول اور پیش روی اور ملک کے اسٹریٹجک حصوں پر کنٹرول حاصل کرنے سے شامی فوج کا پلہ بھاری دکھائی دیتا ہے۔ یہ تمام عوامل مل کر سلفی دہشت گرد گروہوں کے درمیان شدید مایوسی پیدا ہونے کا باعث بنے ہیں۔ اس وقت اکثر تکفیری دہشت گرد عناصر یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ شائد شام کی سرزمین وہ جہادی سرزمین نہیں تھی جس کا چرچا وہابی اور سلفی مفتیوں کی زبانی ان تک پہنچا تھا۔ شام کے حکومت مخالف تکفیری دہشت گرد عناصر کی جانب سے انسانیت سے گرے ہوئے اقدامات جیسے حیوانوں کی مانند انسانوں کا سر کاٹنا اور "جہاد النکاح" کی صورت میں اخلاق سے گری ہوئی حرکتوں اور بین الاقوامی دباو کے باعث حتی بعض سلفی اور وہابی علماء بھی ان تکفیری دہشت گرد گروہوں سے اظہار بیزاری کرنے پر مجبور ہو گئے۔ یہ ہزاروں سلفی دہشت گرد عناصر جو جہاد کی آرزو میں شام آئے تھے اپنے ابتدائی مقاصد کے حصول میں ناکامی اور حکومت مخالف دہشت گرد گروہوں کے درمیان طاقت کی جنگ کا مشاہدہ کرنے کے بعد بری طرح مایوسی کا شکار ہو چکے ہیں اور اب اپنے اپنے ملک واپسی کی تیاریوں میں ہیں۔ لیکن یہ افراد اب وہ سابقہ افراد نہیں رہے۔

شام میں جہاد کے نام پر سلفی تکفیری گروہوں کا اجتماع اور تین سال کی خونریز جنگ اور لڑائی کے بعد اپنے اپنے ملک ان کی واپسی انسان کے ذہن میں افغانستان کی یاد تازہ کر دیتا ہے جب وہاں سابق سوویت یونین کے خلاف جہاد کی غرض سے سلفی عناصر پوری دنیا سے امڈ آئے۔ ان سلفی گروہوں نے جو جہاد کی غرض سے افغانستان آئے تھے سوویت یونین سے مقابلے کیلئے بڑے پیمانے پر مغربی امداد بھی حاصل کی لیکن افغانستان سے سوویت یونین کی فورسز نکل جانے کے بعد یہی سلفی عناصر خطے میں دہشت گردی اور شدت پسندے کے ایک عظیم سرچشمے میں تبدیل ہو گئے۔

اب شام کا بحران بھی اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے اور ماضی کی طرح اب بھی خطے میں بڑے پیمانے پر نت نئے سلفی دہشت گرد گروہوں کی پیدائش اور شدت پسندی میں بے پناہ اضافے کا خطرہ شدت سے محسوس کیا جا رہا ہے۔ اس خطرے کا احساس سب سے زیادہ مغربی انٹیلی جنس اداروں نے کیا ہے جو کئی سالوں سے شام میں موجود مغربی تکفیری دہشت گردوں کو کنٹرول کرنے کے بارے میں سوچنے میں مصروف ہیں۔ اس وقت ان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ جب یہ تکفیری دہشت گرد مغربی شہری ہونے کے ناطے اپنے وطن واپس لوٹیں گے تو ان سے درپیش خطرات کا مقابلہ کیسے کیا جائے۔ البتہ دیر سے ہی سہی لیکن خطے کی عرب ریاستیں بھی اب اس خطرے کا احساس کر چکی ہیں اور اس وقت سعودی عرب اور ترکی نے اپنے ملک میں ان دہشت گرد عناصر کے داخلے کو روکنے کی غرض سے مخصوص حکمت عملی اختیار کر رکھی ہے۔ یہ وہی خطرہ ہے جس کے بارے میں ایران شام میں جاری بحران کے آغاز سے ہی بارہا عرب ممالک کو خبردار کرتا آیا ہے۔
اب آئیے شام میں حکومت مخالف تکفیری دہشت گرد گروہوں کی مدد کرنے والے ممالک پر ایک نظر ڈالتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اس وقت وہ اس خطرے سے نمٹنے کیلئے کس قسم کے اقدامات انجام دینے میں مصروف ہیں۔

سعودی عرب:
سعودی عرب کی جانب سے شام میں سرگرم حکومت مخالف تکفیری دہشت گروہوں کی حمایت اور ان کی مالی اور فوجی امداد کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ شام میں قطر کی جانب سے مداخلت میں کمی آنے کے بعد سعودی عرب نے اپنے اقدامات مزید تیز کر دیئے ہیں۔ دوسری طرف دنیا بھر سے سلفی دہشت گرد عناصر کا شام کی جانب رخ کرنے میں سعودی وہابی مفتیوں کے فتووں نے بھی انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔

لیکن سعودی عرب نے تقریبا دو ہفتے سے ملک میں دہشت گردی سے مقابلے پر مبنی قانون جاری کر رکھا ہے جس کی بنیاد پر ہر وہ سعودی شہری جو جہاد کے بہانے کسی دوسرے ملک کا رخ کرے گا اسے کم از کم ۵ سال قید کی سزا بھگتنا پڑے گی۔ دوسری طرف عالمی تکفیری دہشت گرد تنظیم "القاعدہ" نے سعودی حکومت کو کافر قرار دے کر اس کے خلاف جہاد کو واجب قرار دے دیا ہے۔ لہذا اس موجودہ صورتحال کی روشنی میں اس وقت سعودی حکمران شام میں سرگرم سعودی دہشت گرد عناصر کی عنقریب وطن واپسی سے متعلق شدید پریشان دکھائی دیتے ہیں۔ سعودی عرب کی ایک اور بڑی پریشانی اردن کے راستے ان تکفیری دہشت گردوں کا ملک میں داخلہ ہے۔

ترکی:
ترکی کی حکومت نے شام میں بحران کے آغاز سے ہی حکومت مخالف عناصر کی بڑھ چڑھ کر حمایت کی ہے۔ اس بحران کے آغاز میں ترک حکومت نے صوبہ ہاتای جہاں علوی فرقہ سے تعلق رکھنے والے افراد کی اکثریت ہے، کو رسمی طور پر سیرین فری آرمی کے اختیار میں دے دیا تاکہ وہ وہاں اپنا اڈہ بنا کر شام میں انجام پانے والی فوجی بغاوت کی ہدایت کر سکیں۔ جیسے جیسے شام کا بحران آگے بڑھتا گیا ترکی کے وزیراعظم رجب طیب اردگان نے شام میں اپنی مداخلت کو بھی شدت بخش دی۔ ترک حکومت کی جانب سے سلفی شدت پسند عناصر کی حمایت میں اس حد تک شدت آ گئی کہ انسانی حقوق کا بین الاقوامی ادارہ "ہیومن رائٹس واچ" رسمی طور پر ترک حکومت کو یہ وارننگ دینے پر مجبور ہو گیا کہ وہ شام کے ساتھ اپنے بارڈر پر دہشت گرد عناصر کی نقل و حرکت پر نظر رکھتے ہوئے اسے کنٹرول کرنے کی کوشش کرے۔

ترکی شام میں تکفیری دہشت گرد عناصر کی حمایت کے ذریعے بعض ایسے سیاسی اہداف کو حاصل کرنے کی کوشش کر رہا تھا جن کے تفصیلی ذکر کیلئے ایک الگ کالم کی ضرورت ہے۔ اب تین سال گزرنے کے بعد جب ترک حکومت کو یقین ہو گیا کہ وہ اپنے مطلوبہ اہداف کو حاصل نہیں کر سکتی تو وہ شام سے متعلق اپنی پالیسیوں میں تبدیلی کرنے پر مجبور ہو گئی جس کا ایک نمونہ حال ہی میں ترک وزیراعظم جناب رجب طیب اردگان کا دورہ ایران ہے۔ اپنی پالیسی میں تبدیلی کے بعد ترکی نے شام سے تکفیری دہشت گرد عناصر کو اپنی حدود میں داخل ہونے سے روکنے کیلئے وسیع پیمانے پر حفاظتی اقدامات شروع کر دیئے ہیں۔ اس وقت ترکی کی سرحد پر واقعی شام کے صوبہ الرقہ پر تکفیری دہشت گرد گروہ "داعش" یا اسلامک اسٹیٹ آف عراق اینڈ سیریا کا کنٹرول ہے۔ ۲۲ جنوری کے دن داعش نے رسمی طور پر ترکی کو دھمکی دی ہے کہ وہ انقرہ، استنبول اور دوسرے شہروں میں دہشت گردانہ بم حملے کرے گا جس کی وجہ سے ترک حکومت نے پورے ملک میں ایمرجنسی نافذ کر رکھی ہے۔ اسی طرح ۲۹ جنوری کو ترکی کے لڑاکا طیاروں نے شام کی سرزمین پر واقع داعش کے بعض اڈوں کو اپنے ہوائی حملوں کا نشانہ بھی بنایا۔ یاد رہے ترکی اور شام کے درمیان تقریبا ۹۰۰ کلومیٹر لمبا مشترکہ سرحدی علاقہ ہے جہاں سے دہشت گرد تکفیری عناصر کی جانب سے ترکی میں داخل ہونے کا خطرہ محسوس کیا جا رہا ہے۔

اردن:
اردن کے معروف سلفی دہشت گرد کمانڈر محمد الشلبی جو "ابوسیاف" کے لقب سے پہچانا جاتا ہے نے ستمبر ۲۰۱۳ء میں اعلان کیا تھا کہ شام میں سرگرم اردن کے سلفی دہشت گرد عناصر جو النصرہ فرنٹ اور اسلامک اسٹیٹ آف عراق اینڈ سیریا کے ساتھ مل کر شدت پسندانہ کاروائیاں کرنے میں مصروف ہیں کی تعداد ۱ ہزار تک ہو چکی ہے۔ دوسری طرف اردن کی حکومت نے ان سلفی دہشت گرد عناصر کی ممکنہ وطن واپسی پر اپنی شدید پریشانی کا اظہار کیا ہے۔ اردن کے اعلی سطحی سیاسی ذرائع نے خبردار کیا ہے کہ شام سلفی اور تکفیری دہشت گرد عناصر کے گڑھ میں تبدیل ہو چکا ہے۔ نومبر ۲۰۱۳ء میں اردن کے انٹیلی جنس اداروں اور سیکورٹی فورسز نے ایسے ۱۱ سلفی دہشت گرد افراد کو گرفتار کیا جنہوں نے شام میں ایک دہشت گرد گروہ تشکیل دے رکھا تھا اور اردن میں کئی بڑے تجارتی مراکز اور اسی طرح عمان میں بعض غیرملکی سفارتخانوں پر دہشت گردانہ حملوں کا منصوبہ بنا رکھا تھا۔ دوسری طرف اردن پر سعودی عرب کی جانب سے بھی اپنے سرحدی علاقوں پر کنٹرول سخت کرنے کیلئے اچھا خاصا دباو پایا جاتا ہے تاکہ تکفیری دہشت گرد عناصر اردن کے ذریعے سعودی عرب میں داخل نہ ہونے پائیں۔

کویت:
گذشتہ چند ہفتوں کے دوران کویت کے حساس اداروں نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ شام سے تکفیری دہشت گرد عناصر خاص طور پر داعش سے وابستہ دہشت گردوں کی کویت آمد کا خطرہ پایا جاتا ہے۔ دوسری طرف کویت کے رکن پارلیمنٹ جناب صالح عاشور نے بھی حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ شام میں موجود تقریبا ۲۰ ہزار تکفیری دہشت گرد موجودہ حالات کے پیش نظر کویت آنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ صرف کویت ہی اس خطرے سے روبرو نہیں بلکہ خلیج فارس کے اردگرد موجود تمام عرب ریاستیں کسی نہ کسی طرح ایکدوسرے سے منسلک ہیں۔ کویت کے ایک مفتی جناب شافعی العجمی اس بارے میں کہتے ہیں:
"داعش کی جانب سے جہنمی منصوبوں اور خودکش حملوں کا خطرہ صرف کویت تک ہی محدود نہیں بلکہ خلیج فارس کی تمام عرب ریاستیں اس کی لپیٹ میں ہیں"۔

شام میں صدر بشار اسد کی حکومت کے خلاف سرگرم تکفیری سلفی دہشت گرد عناصر کی واپسی کا خطرہ صرف مذکورہ بالا ممالک تک ہی محدود نہیں۔ مثال کے طور پر اس وقت تقریبا ۱۵ ہزار سے زیادہ چچن سلفی دہشت گرد شام میں موجود ہیں جو شام میں بحران کے خاتمے کے بعد حتما اپنے ملک واپس جائیں گے۔ اس کے علاوہ لیبیا، تیونس اور مصر کے ہزاروں تکفیری دہشت گرد شام میں دہشت گردی اور شدت پسندی کی پریکٹس کرنے میں مصروف ہیں۔ یہ دہشت گرد شمالی افریقہ کو بھی جنگ کی آگ میں دھکیلنے کی تیاریاں کر رہے ہیں جیسا کہ لبنان اس وقت دہشت گردانہ بم حملوں کی لپیٹ میں آ ہی چکا ہے۔

وہ احتجاج جو شام میں سیاسی اصلاحات کے نعرے سے شروع ہوا تھا ایک ایسی خونریز جنگ میں تبدیل کر دیا گیا ہے جو اب تک ۱ لاکھ سے زیادہ انسانوں کی جان لے چکی ہے۔ شام میں دہشت گرد گروہوں کی حمایت کرنے والے ممالک افغانستان کی جنگ اور اس کے نتیجے میں معرض وجود میں آنے والے دہشت گرد گروہوں کو بھول گئے تھے اور اب نہ صرف خود اس مصیبت میں گرفتار ہو چکے ہیں بلکہ پورے خطے کو دہشت گردی کی لعنت کا شکار کر چکے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 354762
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب