0
Sunday 6 Apr 2014 19:44

دہشتگرد گروہ اور آزاد عدلیہ کا امتحان

دہشتگرد گروہ اور آزاد عدلیہ کا امتحان
تحریر: ابو فجر

لاہور سے دہشت گردوں کا ایک خطرناک گروہ گرفتار ہوا ہے جس میں حاضر سروس ٹریفک وارڈن بھی شامل ہے جو اپنی ڈیوٹی کے دوران اہم شخصیات کی ریکی کرتا اور اس شخصیت کے بارے میں ٹارگٹ کلرز کو اطلاع دیتا جس سے وہ کارروائی کرتے۔ ٹریفک وارڈن کا نام عظیم ہے اور پولیس نے اسے ریلوے اسٹیشن کے قریب دو موریہ پل سے دوران ڈیوٹی ہی گرفتار کیا۔ ٹریفک وارڈن کی گرفتاری پہلے سے گرفتار دہشت گردوں کی نشاندہی عمل میں آئی۔ دہشت گردوں نے جس شخصیت کو نشانہ بنانا ہوتا ٹریفک وارڈن اسی کے روٹ پر اپنی ڈیوٹی لگوا لیتا اور اگر وہاں ڈیوٹی نہ لگتی تو دیگر ساتھیوں سے کام کا بہانہ بنا کر ہدف کی ریکی کے لئے نکل جاتا۔ سٹی ٹریفک پولیس نے بھی ٹریفک وارڈن کی انکوائری شروع کر دی ہے کہ وہ من پسند جگہ پر ڈیوٹی کیسے لگوا لیتا ہے اور کون کون اس کے دیگر ساتھی مزید ٹریفک پولیس میں موجود ہیں۔ پہلے سے گرفتار چار دہشت گردوں نے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ ان کے دیگر ساتھی بھی لاہور میں موجود ہیں اور ان کا تعلق کالعدم دہشت گرد تنظیم لشکر جھنگوی کے ساتھ ہے۔

ملزمان نے ہی اعتراف کیا کہ انہوں نے لاہور میں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بننے والی اہم شیعہ شخصیات کو نشانہ بنایا ہے۔ معروف آئی سرجن ڈاکٹر سید علی حیدر کو ان کے گیارہ سالہ بیٹے مرتضیٰ سمیت ایف سی کالج کے قریب ظہور الٰہی روڈ پر اسی گروہ نے نشانہ بنایا۔ ان دہشت گردوں نے یہ بھی اعتراف کیا ہے کہ معروف شیعہ وکیل شاکر علی رضوی کو بھی انہوں نے ہی قتل کیا تھا جبکہ شاکر علی رضوی کی شہادت کے موقع پر وزیرقانون پنجاب رانا ثناءاللہ (جو مبینہ طور پر پنجاب حکومت سے زیادہ دہشت گردوں کے ترجمان ہیں) نے کہا تھا کہ شاکر علی رضوی ذاتی دشمنی پر قتل ہوئے ہیں۔ وزیر قانون نے اس شہادت کو ذاتی دشمنی کے کھاتے میں ڈالنے کی حتی المقدور کوشش کی تھی لیکن دہشت گردوں کے حالیہ انکشافات نے وزیر قانون کی اصلیت بےنقاب کر دی ہے۔ گرفتار ہونے والے ان دہشت گردوں نے یہ بھی اعتراف کیا ہے کہ ان کا اگلا ہدف ممتاز شیعہ رہنما اور وزیراعلیٰ پنجاب کے مشیر برائے مذہبی امور حیدر علی مرزا، سی سی پی او لاہور چوہدری محمد شفیق گجر اور ایس پی سی آئی اے عمر ورک تھے۔ دہشت گردوں کے دباؤ کے پیش نظر ہی عمر ورک اس وقت چھٹی لے کر جا چکے ہیں جبکہ سی سی پی او کی سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔

دہشت گردوں کے اس گروہ کی نشاندہی پر اب تک 9 دہشت گرد گرفتار ہو چکے ہیں جنہوں نے لاہور میں اہم شخصیات کا ٹارگٹ کیا ہے۔ غیر مصدقہ اطلاعات ہیں کہ کالعدم سپاہ صحابہ پنجاب کے سربراہ مولانا شمس معاویہ کو بھی انہی دہشت گردوں نے نشانہ بنایا ہے کیوں کہ جس روز شمس معاویہ قتل ہوا اس دن بتی چوک میں اسی وارڈن کی ڈیوٹی تھی۔ تاہم پولیس اس پہلو پر بھی تفتیش کر رہی ہے کہ سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے باہمی اختلافات کے باعث شمس معاویہ کو انہی نے ہی قتل کیا ہے۔ ان دہشت گردوں سے بھارتی خفیہ ایجنسی را کے ساتھ بھی تعلقات کے شواہد ملے ہیں جن کے مطابق یہ دہشت گرد را سے بھاری رقوم لیتے تھے اور اس کے عوض پاکستان میں بدامنی کی وارداتیں کرتے تھے۔ پنجاب حکومت نے صوبے میں دہشت گردوں کے  100 سے زائد ٹھکانوں کے خلاف آپریشن کا فیصلہ بھی کیا ہے اور اس آپریشن میں پولیس کے ساتھ ساتھ خفیہ ادارے بھی شریک ہوں گے اور اس آپریشن کو خفیہ رکھا جائے گا۔ اس آپریشن کا انکشاف اسی وزیر قانون رانا ثناءاللہ نے خود کیا ہے جو کل تک کہتے آ رہے تھے کہ پنجاب میں دہشت گردوں کے کوئی ٹھکانے نہیں، جبکہ غیرجانبدار حلقے اس وقت بھی راجن پور، ڈیرہ غازی خان، تونسہ شریف اور نواح میں دہشت گردوں کے مراکز کی نشاندہی کرتے رہے ہیں۔

اب جب دہشت گردی کی آگ کی تپش خود وزیر قانون تک پہنچی ہے تو انہیں احساس ہوا ہے کہ دہشت گردوں کے ٹھکانے ہیں جن کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پنجاب حکومت کے دوہرے معیار کی وجہ سے ہی پاکستان ایک بلند پایہ آئی سرجن سے محروم ہوا، ایک معروف وکیل سے ہاتھ دھو بیٹھا اور علامہ ناصر عباس آف ملتان جیسے محب اہل بیت اور شعلہ بیاں مقرر سے محروم ہو گیا۔ دہشت گردوں کو گرفتار کر کے لاہور پولیس نے اپنا فرض ادا کر دیا ہے اب گیند عدلیہ کے کورٹ میں آ گئی ہے۔ اب عدلیہ کی ذمہ داری شروع ہوتی ہے کہ وہ ان دہشت گردوں کا ٹرائل کتنی مدت میں کرتی ہے اور کب انہیں تختہ دار پر لٹکاتی ہے۔ پاکستان کے عوام کی نظریں اب عدلیہ پر لگی ہیں، دیکھنا یہ ہے کہ ملک کی آزاد عدلیہ کس حد تک اپنی آزادی کا مظاہرہ کرتی ہے۔
خبر کا کوڈ : 369788
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب