0
Wednesday 13 Aug 2014 13:39

عراق میں داعش کے ٹھکانوں پر امریکی ہوائی حملوں کے ممکنہ نتائج

عراق میں داعش کے ٹھکانوں پر امریکی ہوائی حملوں کے ممکنہ نتائج
تحریر: علی اکبری

امریکی حکومت نے عراق میں سرگرم تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کے بارے میں اپنی پالیسی پر نظرثانی کرتے ہوئے عراق کے مختلف حصوں میں اس کے ٹھکانوں کو ہوائی حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ ان ہوائی حملوں کے بارے میں مختلف قسم کی آراء سامنے آ رہی ہیں۔ بعض سیاسی حلقے امریکہ کی جانب سے عراق میں داعش کے ٹھکانوں پر ہوائی حملوں کو امریکہ کی اسٹریٹجی قرار نہیں دیتے بلکہ انہیں صرف رائے عامہ کو دھوکہ دینے کیلئے امریکہ کی جانب سے ایک ہتھکنڈے کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ یہ بات ہرگز قابل قبول نہیں کہ امریکہ نے داعش کے خلاف یہ ہوائی حملے ان کی جانب سے ملک کی عیسائی اقلیت کو دہشت گردانہ اقدامات کا نشانہ بنانے پر انجام دیئے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تکفیری دہشت گرد گروہ داعش نے موصل پر قبضے کے آغاز سے ہی مسیحی برادری کو بھی اپنے دہشت گردانہ اقدامات کا نشانہ بنانا شروع کر ڈالا تھا، لیکن امریکہ کی جانب سے کسی قسم کا ردعمل ظاہر نہیں ہوا تھا۔ لہذا موصل پر داعش کے قبضے سے لے کر اب تک جب امریکہ نے اس تکفیری دہشت گرد گروہ کو اپنے ہوائی حملوں کا نشانہ بنایا ہے، کی تاخیر کا کیا جواز پیش کیا جاسکتا ہے۔؟

اسی طرح بعض دوسرے حلقوں کا خیال ہے کہ تکفیری دہشت گرد گروہ امارت اسلامی یا داعش کے خلاف امریکہ کے حالیہ ہوائی حملے درحقیقت ایک طرح کی وارننگ ہے۔ امریکہ داعش کو یہ بتانا چاہتا ہے کہ وہ اپنے پاوں چادر سے باہر نہ پھیلائے اور انہیں حدود میں رہے جس کی اسے امریکہ اور مغربی طاقتوں کی جانب سے اجازت دی گئی ہے۔ امریکہ کی جانب سے اب تک اس تکفیری دہشت گرد گروہ کی حمایت کی بنیادی وجہ اس کی جانب سے مکمل طور پر امریکہ کی اطاعت اور مغربی طاقتوں کی جانب سے دیئے گئے روڈمیپ کے مطابق عمل کرنا ہے۔ اس روڈمیپ کا اہم ترین حصہ خطے میں اسلامی مزاحمتی بلاک کو کمزور کرنے اور ہلال شیعی کا مقابلہ کرنے پر مشتمل ہے۔ تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کو جان لینا چاہئے کہ اگر وہ اپنے مغربی آقاوں کی جانب سے رسم شدہ حدود کو پھلانگنے کی کوشش کرے گا تو اسے اس کی سخت سزا دی جائے گی۔ عراق کے شمالی حصے میں امریکی مفادات کو خطرے سے دوچار کرنا ایسا اقدام نہیں جسے امریکہ آسانی سے نظرانداز کرسکتا ہے۔

امریکہ کی جانب سے تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کی تشکیل پر مبنی اخبار کے شائع ہونے، شام، عراق اور لبنان آرمی اور حزب اللہ لبنان کی جانب سے شدید نقصان کے متحمل ہونے اور عالمی رائے عامہ کی جانب سے شدید مخالفت کے بعد امریکہ اس نتیجے پر پہنچ چکا ہے کہ یہ تکفیری دہشت گرد گروہ اب اپنے آخری مرحلے تک آن پہنچا ہے۔ لہذا بعض سیاسی حلقوں کے مطابق امریکہ اس تکفیری گروہ کو مکمل طور پر ختم کرنے کے منصوبے بنا رہا ہے، تاکہ اس طرح ایک طرف تو عالمی رائے عامہ میں امریکہ کی جانب سے اس دہشت گرد گروہ کی حمایت سے متعلق پائے جانے والے منفی تاثر کو ختم کرسکے اور دوسری طرف ایک نجات دہندہ کے طور پر عراق میں اپنی فوجی موجودگی کا جواز فراہم کرتے ہوئے اس فوجی موجودگی کو مزید مستحکم بنا سکے۔

مذکورہ بالا تجزیات اور امریکہ کی جانب سے عراق میں تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کے خلاف انجام پانے والے اقدامات سے ہٹ کر اس امریکی اقدام کے مندرجہ ذیل اثرات ظاہر ہوسکتے ہیں:
1۔ امریکی حکام عالمی رائے عامہ کے سامنے شدید مشکلات کا شکار ہوجائیں گے اور اس سوال کا جواب نہیں دے پائیں گے کہ کس بنا پر ایک ایسے گروہ کو عراق میں کچلنے کی کوشش کی جا رہی ہے جسے شام میں ہر قسم کی مالی اور فوجی حمایت مہیا کی گئی ہے اور شام میں انہیں حریت پسند اور انقلابی قرار دیا گیا تھا۔ امریکہ اپنے اس دوغلے پن کو دور کرنے اور اس تکفیری دہشت گرد گروہ کے مقابلے میں واحد موقف اپنانے پر مجبور ہوجائے گا۔ یہ واحد موقف ماضی کی طرح اس تکفیری گروہ کی بے چون و چرا حمایت پر مبنی ہرگز نہیں ہوسکتا اور امریکہ کی جانب سے ماضی کی طرح اس گروہ کی بھرپور حمایت کئے جانے کا ناممکن ہونا ہی اس تکفیری گروہ کی نابودی کا باعث بن سکتا ہے، جبکہ دوسری طرف اس کے نتیجے میں امریکہ اور تکفیری دہشت گرد گروہ داعش آمنے سامنے بھی آسکتے ہیں۔

2۔ تکفیری دہشت گرد گروہ داعش اور اس کے بعض ایسے حامی جو اب تک امریکہ کی جانب سے مالی اور فوجی معاونت کے بدلے امریکی مفادات کی تکمیل اور تحفظ کیلئے کوشاں تھے، حالیہ امریکی اقدامات کے نتیجے میں اس سے انتقام لینے اور اس کے مفادات کو زک پہنچانے کی کوشش کریں گے، تاکہ امریکہ کو سمجھا سکیں کہ داعش کے خلاف اس کے اقدامات اس کیلئے بہت مہنگے ثابت ہوسکتے ہیں۔ ان کی کوشش ہوگی کہ وہ امریکی حکام کو اپنی نئی پالیسی پر نظرثانی کرنے پر مجبور کر دیں۔ اس مقصد کیلئے تکفیری دہشت گرد عناصر اور ان کے حامی، یورپ اور امریکہ میں دہشت گردانہ اقدامات بھی انجام دے سکتے ہیں۔ یہ ایسا خطرہ ہے جس کے بارے میں مغربی انٹیلی جنس ایجنسیز نے اسی وقت وارننگ جاری کر دی تھی جب امریکہ اور مغربی حکام اس خطرناک تکفیری دہشت گرد گروہ کی بنیاد ڈالنے جا رہے تھے، لیکن اس وقت اس پر کوئی توجہ نہیں دی گئی تھی۔

3۔ یورپ اور امریکہ میں تکفیری دہشت گرد عناصر کی جانب سے دہشت گردانہ حملے ماضی میں نائن الیون جیسی صورتحال دوبارہ پیدا کرسکتے ہیں۔ بعید نہیں کہ داعش کے خلاف حالیہ امریکی ہوائی حملوں کا مقصد بھی ایسی ہی صورتحال پیدا کرنا ہو، کیونکہ امریکہ اس وقت اندرونی سطح پر شدید مشکلات سے روبرو ہے۔ امریکی حکام آج کل ملک کے اندر 99 فیصدی تحریک اور شدید اقتصادی بحران کا شکار ہیں۔ اسی طرح اکثر مغربی ممالک کے عوام غزہ پر اسرائیل کی حالیہ فوجی جارحیت کے خلاف ہیں اور آئے دن سڑکوں پر نکل کر مظلوم فلسطینیوں کی حمایت کا اعلان کر رہے ہیں۔ اسرائیل کی غاصب صہیونیستی رژیم بھی بری طرح دلدل میں پھنس چکی ہے اور اس سے نکلنے کیلئے ایک ایسے ذریعے کی تلاش میں ہے جو رائے عامہ کی توجہ اس سے ہٹانے میں مددگار ثابت ہو۔ یہ ذریعہ یورپ اور امریکہ میں موساد کی مدد سے تکفیری دہشت گرد عناصر کی دہشت گردانہ کارروائیاں بھی ہوسکتی ہیں۔ ہمیں نہیں بھولنا چاہئے کہ گذشتہ چند دنوں میں بعض یورپی ممالک میں ایسے افراد کی سرگرمیاں دیکھی گئی ہیں جو خود کو تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کا حامی قرار دیتے ہیں۔ یہ بھی بعید نہیں کہ ان میں سے بعض سرگرمیاں مغربی انٹیلی جنس ایجنسیز کا شاخسانہ ہوں، تاکہ اگلے دنوں میں انجام پانے والے دہشت گردانہ اقدامات کا الزام داعش پر عائد کیا جاسکے۔
خبر کا کوڈ : 404562
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب