0
Tuesday 4 Aug 2009 13:04

ایرانی صدر ڈاکٹر محمود احمدی نژاد کے عہدے کی توثیق

ایرانی صدر ڈاکٹر محمود احمدی نژاد کے عہدے کی توثیق
رہبر انقلاب اسلامی ایران حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے ایک پر وقار تقریب میں ڈاکٹر احمدی نژاد کے عہدہ صدارت کی توثیق کر دی۔اطلاعات کے مطابق اس تقریب میں اعلی سول اور فوجی حکام کے علاوہ پارلیمانی نمائندے بھی شریک تھے۔ ڈاکٹر محمود احمدی نژاد بدھ کے روز پارلیمنٹ میں اپنے دوسرے عہدہ صدارت کا باضابطہ حلف اٹھائیں گے ۔12 جون کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے ڈھائی کروڑ سے زیادہ ووٹ لے کر اپنے حریفوں کو مات دیدی تھی، ان کے مد مقابل سب سے زیادہ ووٹ سابق وزیر اعظم میرحسین موسوی نے حاصل کئے میر حسین موسوی نے انتخابات کا ابتدائی نتیجہ آنے سے قبل ہی اپنی جیت کا اعلان کر دیا اور ڈاکٹر محمود احمدی نژاد کے مقابلے میں اپنی شکست تسلیم نہیں کی اور انتخابات میں دہاندلی کا الزام لگا کر انتخابات کو باطل قرار دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع کر دیا جس سے فائدہ اٹھا کر موقع پرستوں نے دارالحکومت تہران میں بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کے افسوسناک واقعات کو جنم دیا۔ اس دوران پہلے مرحلے میں مغربی میڈیا خصوصا" امریکہ اور یورپ سے فارسی زبان میں چلنے والے سٹلائیٹ ٹی وی چینلوں اور دوسرے مرحلے میں امریکہ اور اس کے اتحادی ملکوں کے سربراہوں نے ایران کے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت کرتے ہوئے ایسا ماحول بنانے کی کوشش کی جس کا بنیادی مقصد پورے ایران کو افراتفری اور ہنگاموں کی آگ میں جھونک دینا تھا۔ تاہم ملت ایران اور اسلامی انقلاب کی حقیقی طاقت سے عدم آشنائی اور لاعلمی کی بنا پر انکا یہ منصوبہ بری طرح سے ناکام ہو گیا ، وسطی ایشیا کی بعض ریاستوں میں رنگین انقلاب کے تجربے سے فائدہ اٹھا کر دراصل وہ ایران میں بھی ایسا ہی کرنا چاہتے تھے تاہم جیسا کہ عرض کیا گیا ملت ایران کے سوچ اور مزاج سے ان کی ناواقفیت نے ان کے اس منصوبے کو ابتدائی مرحلے میں ہی ناکام بنا دیا بہرحال انتخابی عمل میں ہارنے والے فریق کو صدمہ ہوتا ہی ہے، لیکن اتنے بڑے عہدے کے لئے انتخابات میں ہارنے والے شخص کو ہر قسم کے نتیجے کے لئے تیار رہنا چاہئے اور ہارنے کی صورت میں نہایت بردباری اور خندہ پیشانی سے اپنی شکست کو تسلیم کر لینا چاہئے ۔میر حسین موسوی کے قریبی افراد اور بعض مبصرین کا یہ کہنا ہے کہ میر حسین موسوی کو اپنی جیت کا اتنا زیادہ پختہ یقین تھا کہ ابھی بعض پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹنگ ختم بھی نہیں ہوئی تھی کہ انہوں نے اپنے صدر ہونے کا اعلان کر دیا اور ان کے حامیوں نے انہیں مبارکباد کے پیغامات دے ڈالے، لہذا اپنی اس خفت کو مٹانے کے لئے انہوں نے پہلے تو انتخابات میں دھاندلی کی بات کی اور جب ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے لئے الیکشن کمیشن نے اپنی آمادگی کا اعلان کیا تو وہ اس بات پر اڑ گئے کہ الیکشن کے نتائج کو سرے سے منسوخ کیا جائے ۔ظاہر ہے کہ ان کا یہ مطالبہ بالکل غیر معقول تھا جسے کوئی بھی تسلیم نہیں کر سکتا تھا۔ اسلامی جمہوریۂ ایران کے انتخابی طریقہ کار پر ایک معمولی سی نظر ڈال کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ دہاندلی تو بہت دور کی بات ہے بے ضابطگی کا شائبہ بھی بہت ہی کم ہے اور اگر کسی پولنگ اسٹیشن یا انتخابی حلقے میں بے ضابطگی ہو بھی جائے تو اسکا صدارتی الیکشن کے نتیجہ پر کوئی اثر نہیں پڑ سکتا لہذا مخالفین کے خدشات اور الزامات کو دور کرنے کے لئے دس فیصد ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی گئی اور شورائے نگہبان کی طرف سے انتخابی نتائج کی صحت کا اعلان کر دیا گیا۔حالیہ صدارتی انتخابات میں پورے ملک میں چھیالیس ہزار پولنگ اسٹیشن قائم کئے گئے تھے۔ جہاں وزارت داخلہ ، شورائے نگہبان کے افسران اور معتمدین کے علاوہ صدارتی امیدواروں کے نمائندے تعینات کئے گئے تھے جو پورے انتخابی عمل کی مسلسل اور کڑی نگرانی کرتے رہے ۔ ایران میں انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا طریقہ کار بھی ایسا ہے کہ دھاندلی کا امکان بالکل معدوم اور غیر مؤثر ہو جاتا ہے ۔یعنی ہر ووٹر جب پولنگ اسٹیشن پر ووٹ ڈالنے کے لئے آتا ہے تو اس کا شناختی کارڈ چیک کیا جاتا ہے اور اس پر مخصوص مہر لگائی جاتی ہے۔ انتخابات کی نگرانی پر مامور افسران کے علاوہ انتخابی امیدوار کا نمائندہ اس کی تائید کرتا ہے اور پھر اسے بیلٹ پیپر دیا جاتا ہے بیلٹ پیپر دینے سے قبل اس کی رسید پر ووٹر کا اندراج ہوتا اور اس پر اس کی شہادت والی انگلی کا نشان لیا جاتا ہے یہ مراحل طے کرنے کے بعد ووٹر بیلٹ پیپر پر اپنے ہاتھ سے اپنے پسند کے امیدوار کا نام لکھتا ہے اور پھر بیلٹ بکس میں ڈالتا ہے ۔ ایک اور بات جو ایران کےانتخابات کے حوالے سے قابل ذکر ہے وہ یہ ہے کہ یہاں انتخابی حلقے نہیں ہوتے لہذا ہر ایرانی شہری کہ جس کے پاس اس کا شناختی کارڈ موجود ہو ملک کے کسی بھی حصّے میں جاکر اپنا ووٹ کاسٹ کر سکتا ہے۔بہرحال جیسا کہ عرض کیا گیا صدر احمدی نژاد اپنے حریف میر حسین موسوی پر ایک کروڑ دس لاکھ ووٹوں کی برتری سے آئندہ چار سال کے لئے دوبارہ صدر منتخب ہو گئے ہیں اور ایک پر وقار تقریب میں انہوں نے رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای سے عہدہ صدارت کی توثیق کئے جانے کے بعد اپنے خطاب میں کہا: دسویں صدارتی انتخابات میں عوام نے دوبارہ انقلاب اسلامی کے اصولوں کو ووٹ دیا ہے اور انشاء اللہ ایران کا مستبقل روش ہے ۔ صدر جناب محمود احمدی نژاد نے  نئي حکومت کی خارجہ پالیسیوں کے بارے میں کہا کہ عالمی سیاست میں فعال کردار ادا کرنا ایران کا قومی فریضہ ہے ، انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر پوری طاقت کےساتھ کردار ادا کرنے سے ہی ایران کی ترقی ممکن ہو سکے گي اور اگر ایران ترقی نہ کرے تو عالمی سیاست پر اثر انداز نہیں ہو سکے گا۔صدر جناب احمدی نژاد نے کہا کہ اب وہ زمانہ گذر چکا ہے کہ کچھ سامراجی ممالک قوموں کو ڈکٹیشن دیا کرتے تھے۔ صدر جناب احمدی نژاد نے ایران کے داخلی امور میں بعض حکومتوں کی مداخلت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم ان مداخلت کرنے والی حکومتوں سے کہتے ہیں کہ تم نے دسویں صدارتی انتخابات کے موقع پر اور اس کے بعد ایرانی قوم پر ظلم کیا ہے اور اپنی مالی اور سیاسی توانائي سے غلط استفادہ کیا ہے ۔ صدر جناب محمود احمدی نژاد نے ان طاقتوں سے کہا کہ تم دنیا میں الھی تعلیمات سے منسلک عوامی جمہوریت کو نمونہ عمل بننے روکنا چاہتے ہو اور اپنی مداخلتوں سے سرمایہ داری کے زوال سے عالمی رائے عامہ کی توجہ ہٹانا چاہتے ہو ،اسی وجہ سے تم نے ایران کی قوم کی توہین کی ہے ۔ صدر جناب احمدی نژاد نے مغربی حکومتون سے کہا کہ تم نے غلط معلومات کی بنیاد پرفیصلہ کیا ہے اور ہم تمہیں نصحیت کرتے ہیں کہ عدل و انصاف کی راہ پر گامزن ہو جاو اور دوسروں کے امور میں مداخلت نہ کرو ۔ انہوں نے کہا کہ اب عدل و انصاف کا سورج طلوع ہو چکا ہے اور دنیا پر حکومت عدل قائم ہو کر رہے گي۔ واضح رہے کہ اس تقریب میں ماضی کے برخلاف تشخیص مصلحت نظام کونسل کے سربراہ آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی ، سابق صدر سید محمد خاتمی، ہارنے والے دو صدارتی امیدوار مہدی کروبی اور میر حسین موسوی شریک نہیں ہوئے جبکہ تیسرے صدارتی امیدوار محسن رضائی اپنے معتمدین کے ساتھ تقریب میں موجود تھے ۔ بہرحال صدر احمدی نژاد کو آئندہ چار سالوں میں متعدد اندرونی اور بیرونی چیلنجوں کا سامنا ہے جن سے وہ کیسے نمٹتے ہیں اس کے لئے ابھی انتظار کرنا ہوگا۔

خبر کا کوڈ : 9217
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب