0
Friday 18 Jan 2013 00:43
امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن ولایت کا چراغ اور دروازہ ہے

شیعہ نسل کشی بیرونی ایجنڈا ہے، دشمن شخصیات کو قتل کرسکتا ہے نظریات کو نہیں، اطہر عمران

شیعہ نسل کشی بیرونی ایجنڈا ہے، دشمن شخصیات کو قتل کرسکتا ہے نظریات کو نہیں، اطہر عمران
امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی صدر اطہر عمران طاہر کا تعلق جنوبی پنجاب کے ضلع لیہ سے ہے۔ اس وقت آپ پریسٹن یونیورسٹی لاہور میں ایم بی اے کے طالب علم ہیں۔ باقاعدہ تنظیمی سفر کا آغاز زرعی یونیورسٹی فیصل آباد سے کیا۔ تنظیم میں یونٹ ڈپٹی جنرل سیکرٹری، یونٹ نائب صدر، یونٹ صدر زرعی یونیورسٹی، مرکزی ڈپٹی جنرل سیکرٹری، مرکزی سیکرٹری تعلیم کی ذمہ داریاں ادا کیں اور آج کل مرکزی مسؤلیت پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ "اسلام ٹائمز" نے اطہر عمران طاہر سے تنظیمی ترجیحات، ملکی صورتحال اور اسلامی تحریکوں سمیت اہم ایشوز پر انٹرویو کا اہتمام کیا ہے، جو قارئین کے پیش خدمت ہے۔ (ادارہ)

اسلام ٹائمز: پاکستان میں اسلامی تحریکیں ماضی کی نسبت فعال نظر آتی ہیں، آئی ایس او کی توسیع تنظیم اور فعالیت کے بارے میں کیا کہیں گے۔؟

اطہر عمران طاہر: یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ تنظیموں، جماعتوں، تحریکوں اور نہضتوں کے سفر میں نشیب و فراز آتے رہتے ہیں۔ پاکستان کے سفر میں بھی مختلف ادوار میں نشیب و فراز آئے ہیں۔ بہت ساری تنظیمیں اور تحریکیں جو جذباتی طور پر فعالیت دکھاتی ہیں، دیکھیں جب بھی کسی چیز کا گراف جتنی سپیڈ کے ساتھ اپ ہوگا، اس کا گراف اتنی ہی سپیڈ کے ساتھ نیچے بھی آئے گا۔ جہاں تک آئی ایس او کا سوال ہے تو امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن الحمداللہ اپنا 40 سالہ سفر طے کرچکی ہے اور مختلف ادوار میں مختلف مشکلات و چیلنجز کا بھی سامنا کیا، ان کو آپ تنظیمی آفات بھی کہہ سکتے ہیں، ان کا آئی ایس او نے جراتمندانہ سامنا کیا۔

اب جبکہ آرگنائزیشن کی موجودہ صورتحال کا سوال ہے، تو الحمداللہ کچھ سالوں کو میں آزمائش کا سال کہوں گا، اس کے باوجود آئی ایس او ان تمام امتحانات میں سرخرو ہوئی۔ آئی ایس او کے پیچھے سابقین کی ایک بڑی تعداد موجود ہے اور جب بھی آئی ایس او کو کوئی مشکل پیش آئی تو سابقین آئی ایس او، جنہوں نے اس تنظیم سے کسب فیض کیا، تو انہوں نے ہمیشہ آئی ایس او کو مختلف بحرانوں سے نکالنے میں مدد کی۔ پاکستان کے اٹھارہ ڈویژن میں آئی ایس او کا سیٹ اپ موجود ہے اور بہت ہی اطمینان کی صورتحال ہے۔ پس ہمیں بہتر سے بہتر کی جستجو میں رہنا چاہیے۔ اس نظریے کے تحت ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اب بھی بہت بڑا گراؤنڈ خالی ہے اور لوگوں کی بہت سی امیدیں آئی ایس او کے ساتھ وابستہ ہیں۔ بہت کام ہمارے
اسلاف نے کئے، لیکن اس کا کچھ حصہ باقی ہے جو ہمیں کرنا ہے۔ پروردگار عالم کی نصرت و تائید سے ہم پرامید ہیں کہ انشاءاللہ پاکستان کو ترقیوں کی منزل تک پہنچائیں گے۔

اسلام ٹائمز: آئی ایس او پاکستان یوتھ میں کس حد تک اور کس طرح بیداری پیدا کر رہی ہے۔؟
اطہر عمران طاہر: میرے ناقص تجزئیے کے مطابق عرض کروں کہ تمام اقوام میں سنجیدہ، باشعور اور باصلاحیت قوم اہل تشیع ہے، اگر ہم مزید وضاحت کریں تو خود اہل تشیع کے اندر بھی خواص افراد ہیں جو ملکی، قومی، سیاسی اور دیگر امور میں ماہر بھی اور اہل نظر بھی۔ انہی افراد پر مشتمل ایک نظام آئی ایس او بھی ہے اور الحمداللہ میں بھی اسی نظام کا حصہ ہوں اور یہ میرے لیے انتہائی خوش قسمتی کا مقام ہے۔ جہاں تک جوانوں کی بیداری کا تعلق ہے تو رہبر معظم سید علی خامنہ ای فرماتے ہیں کہ ابن زیاد کے لشکر میں زیادہ تعداد فاسق و فاجر لوگوں کی نہیں تھی بلکہ وہ بظاہر دیندار تھے، یعنی نماز و روزہ کے پابند تھے۔ لیکن اس کے باوجود ان میں صرف ایک کمی تھی اور وہ کمی صرف بصیرت کی تھی۔ ان سے فہم و ادراک اور سمجھنے سوچنے کی صلاحیت سلب ہوچکی تھی۔

میں خود یہ سمجھتا ہوں کہ کسی بھی نظام کے اندر تحلیل و تجزیئے کی صلاحیت ختم ہو جائے یا معاملہ فہمی اور معاملہ شناسی ختم ہو جائے تو وہ نظام ناکارہ ہو جاتا ہے۔ پس یہی وجہ ہے کہ آئی ایس او آج 40 سال گزرنے کے باوجود بھی اپنی اسی دیانتداری اور جذبے کے تحت چل رہی ہے۔ جس طرح روز اول سے اس کا جذبہ تھا۔ آج کا دور پرآشوب ہے اور جوانوں کی بیداری کے حوالے سے بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔ آئی ایس او نے طلباء میں شعور اجاگر کرنے کے لیے ہمیشہ ایک رول ماڈل کا کردار ادا کیا ہے۔ اہل تشیع میں اگر ملی شعور پیدا ہوا تو اس میں آئی ایس او کا بہت بڑا کردار ہے۔ آئی ایس او ہمیشہ نوجوانوں کی فکری تربیت کرتی رہی اور ان کے نظریئے کو مضبوط کرنے میں اپنا کردار ادا کرتی رہی ہے۔

اسلام ٹائمز: قائد شہید علامہ عارف حسین الحسینی (رح) کے دور کے نوجوانوں کی نسبت آج کے نوجوانوں میں معنویت ماند پڑتی دکھائی دے رہی، تربیتی حوالے سے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں۔؟
اطہر عمران طاہر: اللہ تعالٰی اپنی لاریب کتاب قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ ہم نے تمہاری قومیں بنائیں تاکہ تم پہچانے جاسکو اور تم میں سے بہترین وہ ہے جو باتقویٰ ہے۔ تقویٰ کسی بھی اسلامی نہضت کے لیے بنیادی
ضرورت ہے۔ تقویٰ اور خلوص اسلامی نہضت کے ستون ہیں۔ اگر ان دونوں میں سے ایک بھی ختم ہوجائے تو وہ نہضت زندہ نہیں رہ سکتی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آئی ایس او کے ابتدائی عرصے میں نوجوانوں میں جذبہ اور تقویٰ بہت زیادہ تھا اور آج کے دور میں یہ چیزیں کم دکھائی دیتی ہیں۔ علامہ عارف حسین الحسینی (رح) شہید کے دور میں مشکلات بھی بہت زیادہ تھیں لیکن اس وقت جوانوں کی تربیت کے لیے مربی بھی نہایت قابل انسان تھے۔ حضرت امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ "مجھ سے پہلی حکومتیں اس لیے چلتی رہیں اور فتوحات بھی ہوئیں کہ ان کا مشیر میں خود تھا اور میری بدقسمتی یہی ہے کہ میرے مشیر تم جیسے لوگ ہیں"۔ 

علامہ عارف حسین الحسینی (رح) شہید جنہوں نے امام خمینی (رح) سے کسب فیض کیا تھا، جب شہید قائد آئی ایس او کی تربیت کرتے تھے، اس وقت جوانوں میں بہت زیادہ تبدیلی آئی، لیکن اس کے بعد بہت سے نشیب و فراز آئے۔ آئی ایس او جب اس الہیٰ چھتری سے محروم ہوئی اور خود سے لوگوں نے اپنا وظیفہ مقرر کرتے ہوئے کافی جدوجہد کے بعد آئی ایس او کے مربیان کی شکل میں کچھ افراد سامنے آئے اور عملی خدمات سرانجام دیں۔ ان مربیان کی خدمات اس نازک دور میں قابل تحسین ہیں کہ جنہوں نے سب کچھ چھوڑ کر یہ ذمہ داری انجام دی۔ اس وقت ہمارا معاشرہ ثقافتی یلغار کا شکار ہے اور ہم خود بھی اسی معاشرے میں شامل ہیں۔ پہلے زمانے میں میڈیا اور ثقافتی یلغار اس انداز میں نہیں تھی جیسے کہ آج کے دور میں میڈیا کی جنگ چھڑی ہوئی ہے۔ آج گھر گھر میں استعمار گھس چکا ہے اور اپنے تمام اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے۔

ڈاکٹر محمد علی نقوی شہید فرمایا کرتے تھے کہ ہر شخص یہ صلاحیت رکھتا ہے کہ اگر وہ دیانتداری کے ساتھ اپنی ذمہ داری سرانجام دے تو معاشرہ تمام برائیوں سے پاک ہوسکتا ہے۔ آئی ایس او الحمد اللہ خدا کی مدد و نصرت سے نوجوانوں کی بھرپور انداز میں تربیت کرتی رہی ہے اور کر رہی ہے۔ آپ دیکھتے ہیں جہاں بھی لوگ قومیات کے لئے فعال ہیں، انہوں نے آئی ایس او سے کسب فیض حاصل کیا ہے۔ جو آج بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہیں اور قومی درد رکھتے ہیں ان میں آئی ایس او کی حرارت موجود ہے۔ آئی ایس او سے بڑی بڑی جماعتوں نے جنم لیا۔ آئی ایس او جوانوں کی نظریاتی، روحانی، معنوی تربیت گاہ ہے اور انسان کو کارآمد بنانے کے لئے اہم ذریعہ ہے۔ آئی ایس او ولایت کا چراغ اور
دروازہ ہے، جس سے معاشرے میں نظام ولایت کی روشی پھیل رہی ہے۔ آئی ایس او نے بہت سے چراغ روشن کئے ہیں، جس سے معاشرہ روشنی لے رہا ہے۔

اسلام ٹائمز: آئی ایس او  پاکستان میں نظام ولایت فقیہ کی ترویج کے حوالے سے کیا اقدامات کر رہی ہے۔؟

اطہر عمران طاہر: شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی (رح) اور ڈاکٹر محمد علی نقوی شہید (رح) نے پاکستان میں نظام ولایت فقیہ کے حوالے سے جو کردار ادا کیا، وہ لائق تحسین ہے اور آج تک اس کی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے شمع سے شمع روشن کرنے والا کام سرانجام دیا۔ اگر آج پاکستان میں نظام ولایت فقیہ سے وابستہ افراد نظر آتے ہیں تو وہ اوائل انقلاب سے لے کر انقلاب کے پھیلنے پھولنے تک اور آج تک تو اس میں بنیادی کردار انہی شخصیات کا ہے۔ امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن ایک ایسا نظام ہے کہ جو ایک خاص نظریئے کے گرد گھومتا ہے، جو شخصیات پرست نہیں ہے۔ شہید قائد کی آئی ایس او سے وابستگی بھی نظریاتی وابستگی تھی۔ اس لیے میں کہتا ہوں کہ دشمن اگر یہ سمجھتا ہے کہ شخصیات کو قتل کرکے اس نظام کو ختم کر دے گا تو یہ اس کی پست سوچ ہے۔ بدن کی موت سے کردار مر نہیں سکتا۔ ان شخصیات کے جانے کے بعد ان کی فکر اور نظریہ کو مزید تقویت ملی ہے۔ ان کے خون کے ہر قطرے سے ایک انقلابی جوان سامنے آیا ہے۔

جیسے پہلے میں نے عرض کیا کہ آئی ایس او ولایت کا درواز ہے تو وہ بات کوئی صرف سلوگن نہیں بلکہ یہ طے شدہ بات ہے کہ اگر یہ نظریہ نوجوانوں تک حق و صداقت سے پہنچ گیا تو سمجھیں کہ آنے والی نسلیں سنور گئیں اور چراغ سے چراغ جلتا چلا جائے گا۔ ہماری تمام تر کوششیں اور کاوشیں نظام ولایت فقیہ کے لئے ہی ہیں، کیوں کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہی راستہ ہے جو ہمیں امام زماں (عج) تک لے جائے گا اور یہی راستہ ہے، جس پر چل کر ہم اپنا شرعی فریضہ ادا کرسکتے ہیں اور امام (عج) کے ظہور کے لئے زمینہ سازی کرسکتے ہیں۔ میں اب بھی یہ سمجھتا ہوں کہ بہت بڑا میدان خالی ہے اور بہت سے لوگ موجود ہیں، جن تک پیغام پہنچانے کی ضرورت ہے۔ یہ تب ہی ممکن ہوسکتا ہے کہ آئی ایس او پاکستان کے جوان گلی گلی، کوچہ کوچہ اور گھر گھر جائیں اور پیغام کو پورے پاکستان میں پہنچائیں اور انشاء اللہ وہ دن دور نہیں کہ اس ملک میں بھی نظام ولایت فقیہ کا علم لہرائے گا۔

اسلام ٹائمز: پاکستان میں جاری شیعہ ٹارگٹ کلنگ کے حوالے سے کیا کہیں گے۔؟
اطہر عمران
طاہر: میں صرف اتنا عرض کروں گا کہ پاکستان میں حالیہ دہشت گردی، بدامنی اور شیعہ نسل کشی کوئی لوکل ایجنڈا نہیں ہے بلکہ بیرونی ایجنڈے پر یہ سارا کام ہو رہا ہے۔ دشمن سامنے آ کر یہ کام کبھی بھی نہیں کرسکتا۔ پاکستان کے اندر مفاد پرست ٹولے بیرونی امداد اور بیرونی اشاروں پر یہ کام کر رہا ہے۔ موجودہ حالات کے ذمہ دار وہی افراد ہیں کہ جنہوں نے قوم کے مفادات پر اپنے ذاتی مفادات کو ترجیح دی۔ یہ تمام باتیں کوئی نئی نہیں ہیں اور کسی بھی باشعور شخص سے چھپی ہوئی نہیں ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم متحد ہوجائیں۔ اگر ہم نے وحدت اختیار کرلی تو ہم اپنا تحفظ کرسکتے ہیں، جس طرح سے سانحہ کوئٹہ میں جرامتمدانہ انداز سے اپنی وحدت کا مظاہرہ کیا گیا، تو آپ نے دیکھا کہ ہم سرخرو ہوئے۔ دوسری جانب حکومت پاکستان کو بھی چاہے کہ وہ سنجیدہ ہو کر ان تکفیریوں اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرے۔ ان کے ناپاک وجود کی وجہ سے ملک اور اسلام کا نام بدنام ہو رہا ہے۔

اسلام ٹائمز: آئی ایس او بطور تنظیم ملی وحدت کے حوالے سے کیا اقدامات کر رہی ہے۔؟
اطہر عمران طاہر: ماضی میں بھی ملی وحدت کے حوالے سے کوششیں کی جاتی رہی ہیں، دیکھیں کچھ کام ایسے ہوتے ہیں جو خلوص کے ساتھ ہوتے ہیں اور ذاتیات سے بڑھ کچھ کام کرنے پڑتے ہیں۔ ماضی میں اگر خلوص دل سے ملی وحدت کے حوالے سے کوششیں ہوتیں تو آج قوم وحدت کی لڑی میں پروئی ہوئی ہوتی۔ اگر ایسی کوئی کوشش کی جاتی ہے تو اس میں جو بنیادی لازمہ ہے وہ خلوص ہے۔ ذاتیات سے گزر کر کچھ کرنے والے کام ہیں۔ کسی کے پاس بھی کوئی ایسا فارمولا نہیں ہے اور نہ ہی کسی کے پاس کوئی جادو کی چھڑی ہے کہ ایک ہی مرتبہ سب میں اتحاد ہوجائے گا۔ انسان کے اعضاء و جوارح سے آثار جھلکنے چاہیں۔ وحدت کی عملی صورتیں میں ان کے بنیادی مقدمات فراہم ہونے چاہیے۔ وہ بنیادی مظاہرات سامنے آنے چاہیں، تب ہی کسی بڑی کوشش کی طرف سفر کیا جاسکتا ہے۔

آئی ایس او پاکستان ہر قومی معاملے میں ایک واضح موقف اور نظر رکھتی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ آئی ایس او کبھی بھی کسی سے پیچھے نظر نہیں آئے گی۔ آئی ایس او میدان عمل میں واضح طور پر اپنا کردار ادا کر رہی ہے اور ہمیشہ کرتی رہے گی۔ کوئی بھی سلوگن دے سکتا ہے کہ میں قوم کو متحد کرنا چاہتا ہوں، اور ایسے میسجز کے ذریعے روزانہ کئی لوگ قوم کو متحد کر رہے ہوتے ہیں۔ لیکن وہ قوم کو متحد نہیں
کر پائے۔ کبھی خالی نعرے، سلوگنز اور میسجز سے قومیں متحد نہیں ہوتیں بلکہ خلوص دل سے کام کرنے کی ضرروت ہے۔ آئی ایس او کے صالح جوانوں میں یہ درد شدت سے پایا جاتا ہے کہ قوم متحد ہو۔ لہذا جب بھی خلوص کی ہلکی سی بھی جھلک نظر آئی تو آئی ایس پاکستان اس قوت کی دست بازو بن کر قوم کو وحدت کی لڑی میں پروئے گی، اور یہ صالح جوان اس میدان میں صف اول میں نظر آئیں گے۔

اسلام ٹائمز: انتخابات بہت قریب ہیں، یوتھ کو اس میں کیا عملی کردار ادا کرنا چاہیے۔؟
اطہر عمران طاہر: آئی ایس او پاکستان ایک نظریاتی تنظیم ہونے کی وجہ سے کسی پر اندھا اعتبار نہیں کرسکتی۔ انسان کو چاہیے کہ کنویں میں گرنے سے پہلے ہی قدم پھونک پھونک کر رکھے۔ انسان کو چھلانگ لگانے سے پہلے سوچنا چاہیے کیونکہ جب انسان چھلانگ لگا لیتا ہے تو پھر انجام اس کے بس میں نہیں رہتا۔ بہایا ہوا پانی کبھی دوبارہ واپس نہیں آتا۔ کمان سے نکلا ہوا تیر کبھی واپس نہیں آتا۔ لہٰذا تیر کو پھینکنے سے پہلے ہی نشانہ صحیح سمت میں لگانا چاہیے۔ جس طرح سانپ باہر سے بڑا خوبصورت لگتا ہے، بالکل اسی طرح یہ سیاسی پارٹیاں بھی اسی طرح بڑی چمکدار نظر آتی ہیں لیکن پتہ تب لگتا ہے کہ جب انسان ڈسا جاتا ہے۔ ہمیں شعوری طور پر سفر کرنا ہے اور ہمیں ایسی کسی غلطی کا ارتکاب بھی نہیں کرنا چاہے۔

جوان کسی بھی معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہوتے ہیں اور شیعہ یوتھ ایک باشعور طبقہ ہے، لہذا انہیں چاہے کہ وہ پاکستان میں اپنا کلیدی کردار ادا کرنے کے لئے شعوری سطح پر ادارک کرتے ہوئے الیکشن میں کرادار ادا کریں۔ یوتھ کو چاہے کہ وہ ان طاغوتی سیاسی پارٹیوں کے آلہ کار نہ بنیں اور اپنی مقدس جوانیوں کو ان کے جھوٹے عزائم کی نظر نہ کریں۔ ان کو یہ سوچنا چاہے کہ ملت جعفریہ اور پاکستان کن مشکلات کا شکار ہے۔ ان چیزوں کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کو ایسی پارلیمنٹ دیں جو ملک و قوم کو ان مشکلات سے نکال سکے۔ ایسا نہ ہو کہ عجلت میں ہم کوئی ایسا فیصلہ کرلیں کہ جس پر ہم پانچ سال کوستے رہیں۔ آخر میں یہی کہوں گا کہ نوجوان اپنی جوانی کی قدر کریں اور ان کو مقدس امور کے لئے صرف کریں۔ یاد خدا سے دلوں کو منور کریں اور رہبر کے سچے سپاہی بننے کے لئے اپنی معرفت کے درجات کو بلند کریں، اور خود کو کارآمد انسان بن کر معاشرے کی فلاح و بہبود کے لئے کام کریں۔ خدا ہم سب کا اللہ حامی و ناصر ہو۔
خبر کا کوڈ : 231946
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش