1
0
Friday 3 Dec 2021 01:16

بزرگ عالم دین علامہ سید عابد الحسینی کا خصوصی انٹرویو

بزرگ عالم دین علامہ سید عابد الحسینی کا خصوصی انٹرویو
علامہ سید عابد حسین الحسینی کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ وہ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ اور اسکے بعد تحریک جعفریہ پاکستان میں صوبائی صدر اور مرکزی سینیئر نائب صدر کے عہدوں پر فائز رہنے کے علاوہ ایک طویل مدت تک تحریک کی سپریم کونسل اور آئی ایس او کی مجلس نظارت کے رکن بھی رہے۔ 1997ء میں پاکستان کے ایوان بالا (سینیٹ) کے رکن منتخب ہوئے، جبکہ آج کل علاقائی سطح پر تین مدارس دینیہ کی نظارت کے علاوہ تحریک حسینی کے سرپرست اعلٰی کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز نے مختلف موضوعات پر انکے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو کا اہتمام کیا ہے، جسے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: سب سے پہلے یہ بتایئے گا کہ کرم میں وقفہ وقفہ سے زمینوں کے مسائل کیوجہ سے لڑائی جھگڑے ہوتے آرہے ہیں، اسکا تدارک کیسے ممکن ہے۔؟
علامہ سید عابد حسین الحسینی:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ ہم پہلے بھی بارہا یہ کہہ چکے ہیں کہ ان مسائل کو جب حکومت حل کرنا چاہے گی تو یہ ہو جائیں گے، یہ کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے، جب حکومت کی نیت ہوگی تو یہ مسئلہ چند دنوں میں ہی مستقل بنیاد پر حل ہو جائے گا۔ جو جس کا حق ہے، اسے ملنا چاہیئے، اسلام تو کسی کی زمین کے معمولی سے ٹکڑے پر بھی قبضہ کی اجازت نہیں دیتا، اب تک کئی لوگ ان مسائل کیوجہ سے مارے جا چکے ہیں، یہ سلسلہ اب ختم ہونا چاہیئے، لیکن کرنا یہ حکومت کو ہے۔ 

اسلام ٹائمز: کرم ایک سرحدی علاقہ ہے، سرحد کے اس پار داعش کچھ عرصہ کے دوران کافی متحرک ہوئی ہے، کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس دہشتگرد تنظیم کے فتنہ سے پاکستان کے سرحدی علاقوں کو کوئی خطرہ ہے۔؟
علامہ سید عابد حسین الحسینی:
افغانستان میں تو داعش نے شیعوں کا خون بہایا ہے، انہوں نے عراق اور شام میں بھی یہی کیا، داعش امریکہ کی پیداوار ہے، جہاں جہاں امریکہ کے مفادات ہونگے، داعش وہاں استعمال ہوگی۔ امریکہ نے ہر دور میں اپنے مفادات کیلئے دہشتگرد پالے ہیں، جب سے یہ شیطان بزرگ افغانستان سے گیا ہے، وہاں ان ظالموں (داعش) نے لوگوں کا قتل عام شروع کر دیا، یہ داعش والے اگر کافروں کے دشمن ہیں تو امریکہ اور اسرائیل جا کر دھماکے کیوں نہیں کرتے۔؟ پاکستان کو بھی داعش سے خطرہ ہے، حکومت کا فرض ہے کہ وہ بارڈر کو محفوظ بنائے۔

اسلام ٹائمز: علامہ صاحب حکومت تحریک طالبان پاکستان جیسی دہشتگرد تنظیم کیساتھ مذاکرات اور اسکے دہشتگردوں کو معافی دینے کی بات کر رہی ہے، اس حوالے سے آپ کیا موقف رکھتے ہیں۔؟
علامہ سید عابد حسین الحسینی:
حکومت کو کس نے اختیار دیا ہے کہ قاتلوں کو معاف کر دے۔؟ اگر وزیراعظم صاحب کے کسی قریبی رشتہ دار کو انہوں نے قتل کیا ہے تو وہ صرف اس کی بات کرسکتے ہیں۔ ان ظالموں نے تو ہزاروں لوگوں کو قتل کیا، لوگوں نے قربانیاں دی ہیں، حکومت کیسے ان دہشتگردوں کو معاف کرسکتی ہے۔؟ طالبان تو انسان نہیں شیطان ہیں، ان سے مذاکرات کا مطلب شیطان سے مذاکرات ہے۔ ہم نے تو ان کی درندگی کو قریب سے دیکھا ہے، اگر طوری قوم وسائل نہ ہونے کے باوجود طالبان کو شکست دے سکتی ہے تو حکومت کے پاس تو پورے ملک کے وسائل، اسلحہ پیسہ سب کچھ ہے، پھر یہ کیوں ان سے ڈرتے ہیں۔؟

اسلام ٹائمز: حکومت کا ایک جانب کالعدم جماعتوں کیساتھ نرم رویہ، دوسری جانب لاپتہ شیعہ افراد، پرامن احتجاج کرتے انکے خانوادوں پر تشدد، امن کا پیغام دینے والی عزاداری کیخلاف ایف آئی آرز، یہ دہرا معیار کس جانب اشارہ کرتا ہے۔؟
علامہ سید عابد حسین الحسینی:
یہ تعصب اور سازشوں کا تسلسل ہے، یہ صرف اس حکومت کی روش نہیں بلکہ سابقہ حکومتوں نے بھی اسی طرح شیعوں کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی۔ اگر پاکستان میں فرقہ کی بنیاد پر کسی کو قتل کیا گیا ہے تو سب سے بڑی تعداد شیعوں کی ہے، شیعوں کیخلاف ہی یہاں لشکر بنائے گئے، جنہوں نے شیعوں کو چن چن کر قتل کیا۔ شیعوں کی آبادیوں پر لشکر کشیاں ہوئیں، اس سب کو حکمرانوں کی پشت پناہی حاصل رہی ہے۔ آپ کرم کی مثال لے لیں، کیا آپ کو معلوم نہیں کہ جب یہاں محاصرہ رہا اور جنگ ہوئی تو کس نے ان ظالموں کی کمک کی۔ اب انہوں نے دہشتگردوں کے سامنے اپنی بے بسی کا اظہار کرکے اپنی اصلیت دکھا دی ہے کہ جو ان کیساتھ ڈنڈے کی زبان میں بات کرے، اس کے سامنے یہ سر جھکا دیتے ہیں اور جو پرامن رہے، اسکو اور دباتے ہیں۔

اسلام ٹائمز: پاکستان میں شیعہ کوئی اقلیت نہیں، مختلف حکومتوں میں، ریاستی اداروں سمیت مختلف فورمز پر شیعہ نمائندگی موجود ہے، اسکے علاوہ قومی سطح پر شیعہ تنظیمیں بھی موجود ہیں، پھر ایک مخصوص طبقہ کیساتھ ریاست کے ایسے رویئے کی وجہ کیا ہے۔؟
علامہ سید عابد حسین الحسینی:
 یہ مقامی کیساتھ ساتھ عالمی مسئلہ ہے، دنیا میں صرف شیعہ ہی ہیں جو شیطان بزرگ امریکہ اور اسرائیل کیخلاف عملی طور پر میدان میں ہیں، وہ ایران کی صورت میں، وہ حزب اللہ کی صورت میں، حشد الشعبی والے ہوں، یمن کے انصار اللہ کے جوان ہوں، یہ شیطان بزرگ اور اس کے حواریوں کو شکست دے رہے ہیں، اسی وجہ سے شیطان بزرگ کے یہ غلام اپنے اپنے ملکوں میں شیعوں کو تنگ کرتے ہیں۔ پاکستان میں بھی اسی وجہ سے شیعوں کیساتھ حکومت یہ رویہ رکھتی ہے کہ وہ امریکہ اور سعودی عرب کیوجہ سے مجبور ہوتی ہے، ہمارے حکمران ان کے سامنے بے بس ہو جاتے ہیں، ان کے مطالبات مانتے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 966635
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

sardar
Pakistan
good job
منتخب
ہماری پیشکش