0
Monday 24 Oct 2011 17:01

ایران عراق سے امریکی فوج کے انخلاء کا فائدہ اٹھا سکتا ہے،امریکی اخبار ،افغان امریکا اسٹرٹیجک معاہدہ خطے کی سلامتی کیلئے شدید خطرہ ہے، ایران

ایران عراق سے امریکی فوج کے انخلاء کا فائدہ اٹھا سکتا ہے،امریکی اخبار ،افغان امریکا اسٹرٹیجک معاہدہ خطے کی سلامتی کیلئے شدید خطرہ ہے، ایران
واشنگٹن:اسلام ٹائمز۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے عراق سے امریکی فوج کی واپسی پر انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس صورتحال کا ایران بھرپور فائدہ اٹھا سکتا ہے اور تہران وہاں پر موجود اپنی ملیشیا کی مدد جاری رکھے گا، جس کی وجہ سے نسلی کردوں اور عراقی حکومت کی فورسز کے درمیان تناؤ موجود رہے گا۔ اپنی ایک رپورٹ میں اخبار لکھتا ہے کہ وہائٹ ہاوٴس کی یہ بات درست ہو سکتی ہے کہ نوری المالکی کی حکومت اور اس کی مسلح افواج امریکی فوجیوں اور ان کی تربیت کے بغیر بھی اپنا کام چلا سکتی ہیں، مگر ایسے میں جبکہ ایران کے ساتھ امریکہ کی خطے میں ایک سرد جنگ جاری ہے، یہ ایران کے لیے میدان کھلا چھوڑ دینے کے مترادف ہے۔
 اخبار نے عراق میں طویل جنگ کے خاتمے کے اعلان اور اس کے بعد کے حالات کو اپنے اداریے کا موضوع بنایا ہے۔ اخبار لکھتا ہے عراق میں جنگ صحیح معنوں میں صرف امریکی فوجیوں کے لیے ختم ہو گی، کیونکہ عراقی باغی، جن میں القاعدہ بھی شامل ہے، ملک کی نازک جمہوریت کیخلاف جنگ جاری رکھیں گے۔ اخبار کے خیال میں ایران اپنی ملیشیا کی مدد جاری رکھے گا، ہزاروں نجی کنٹریکٹر امریکی سفارت کاروں اور تنصیبات کی حفاظت پر مامور رہیں گے اور شمالی عراق میں جہاں ترکی نے مسلح حملے کا آغاز کر دیا ہے، نسلی کردوں اور عراقی حکومت کی فورسز کے درمیان تناوٴ موجود رہے گا۔ لیکن دوسری جانب اگرچہ عراق کے لیڈروں کی اکثریت امریکی فوجیوں کی عراق میں موجودگی برقرار رکھنا چاہتی ہے مگر حکومت میں شامل ایران نواز پارٹی کے سامنے عراقی وزیراعظم مالکی کو گھٹنے ٹیکنے پڑے اور ایک ایسا سمجھوتہ کرنا پڑا، جس کے تحت عراق میں امریکی تربیتی فورسز کے لیے وہ قانونی استثنٰی دینے سے انکار کر دیا گیا، جو پنٹاگون دنیا کے دیگر ممالک میں حاصل کرنے پر مصر رہتا ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ صدر اوباما نے اِسی وجہ سے عراق سے تمام امریکی فوجی واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔
ادھر ایران نے امریکا کے افغانستان کے ساتھ اسٹریٹجک معاہدے کو خطے کے امن و سلامتی کیلئے ایک شدید خطرہ قرار دیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے افغان امور کے شعبے کے ڈائریکٹر محسن پاک انین نے کہا ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد سے امریکا جب بھی کسی خطے میں داخل ہوا ہے وہاں سے آسانی سے نہیں نکلتا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ امریکہ کے اسٹریٹجک معاہدے میں یہ بات شامل ہے کہ امریکا افغانستان میں اپنے مستقبل اڈے بنا سکے گا اور اس طرح امریکا کیلئے افغانستان میں اپنی مستقل موجودگی یقینی بنا کر خطے میں اپنے مقاصد کو آگے بڑھانے کی راہ ہموار ہو گی۔
خبر کا کوڈ : 108877
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب