0
Wednesday 18 Jan 2012 19:11

حکیم اللہ محسود ابھی زندہ ہے ہلاک نہیں ہوا،ذرائع کا دعویٰ

حکیم اللہ محسود ابھی زندہ ہے ہلاک نہیں ہوا،ذرائع کا دعویٰ
اسلام ٹائمز:کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کی 12 جنوری کو شمالی وزیرستان میں ڈرون حملے میں ہلاکت کی خبر کی تصدیق ابھی تک معمہ بنی ہوئی ہے تاہم شمالی وزیرستان اور کالعدم جہادی تنظیموں کے ذرائع کی غالت اکثریت نے حکیم اللہ محسود کے زندہ ہونے کا بتایا ہے۔ امریکہ، وزارت داخلہ، پاک فوج اور طالبان ترجمان میں سے کسی نے بھی حکیم اللہ محسود کی ہلاکت یا عدم ہلاکت کا آن ریکارڈ دعویٰ نہیں کیا۔ ’’اسلام ٹائمز‘‘ نے طالبان سے متعلق متعدد ذرائع سے معلومات حاصل کیں تو ایک ذریعے نے بتایا کہ وہ اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ حکیم اللہ محسود دسمبر 2011ء کے پہلے ہفتے تک دتہ خیل کے علاقہ میں موجود تھا اور انہوں نے اپنے ایک ساتھی کے ذریعے اپنا پیغام میران شاہ بازار میں موجود عسکری رہنما کو بھجوایا تھا۔ 

ذرائع نے بتایا کہ طالبان کے حکیم اللہ محسود گروپ کے پرسکون ہونے سے تو یہی لگتا ہے کہ وہ زندہ ہے، اگر حکیم اللہ محسود ہلاک ہو گیا ہوتا تو اس کے ردعمل میں طالبان کوئی نہ کوئی کارروائی ضرور کرتے۔ ایک سوال کے جواب میں ان ذرائع کا کہنا تھا کہ حکیم اللہ محسود کی ہلاکت ہوئی ہوتی تو اس کی معلومات کو کچھ عرصہ تک چھپائے رکھنا مشکل ضرور تھا ناممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی حقیقت ہے وہ جلد سامنے آ جائے گی۔ ادھر شمالی وزیرستان کے مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں ایسی کوئی شہادت نہیں مل رہی جس سے واضح ہو کہ حکیم اللہ محسود مارا گیا ہے، جب ان سے عاصم اللہ محسود کی طرف سے حکیم اللہ کے ہلاک نہ ہونے کے بیان کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایسے کسی کمانڈر کا نام نہیں سنا۔ ادھر افغانستان اور کشمیر میں جہادی کارروائیاں کرنے والی کالعدم جماعت الدعوۃ کے ایک رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وہ اپنے ذرائع سے تصدیق کر چکے ہیں کہ حکیم اللہ محسود زندہ ہیں۔
خبر کا کوڈ : 131369
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب