0
Sunday 26 Feb 2012 22:51

امریکہ بلوچستان میں مستقل اڈے قائم کر کے ایران، پاکستان اور افغانستان کو کنٹرول کرنا چاہتا ہے، منور حسن

امریکہ بلوچستان میں مستقل اڈے قائم کر کے ایران، پاکستان اور افغانستان کو کنٹرول کرنا چاہتا ہے، منور حسن
اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان سید منور حسن نے کہا ہے کہ پاک امریکہ تعلقات کے بارے میں حکومت نے قوم کو ہمیشہ اندھیرے میں رکھا ہے، وزیراعظم کا گزشتہ روز کا یہ بیان کہ ’’قومی دفاعی کمیٹی نے نیٹو سپلائی صرف زمینی راستے سے بند کی تھی، فضائی راستے سے وہ کبھی بھی بند نہیں کی گئی‘‘ اس کے ساتھ ہی وزیر دفاع کا یہ بیان کہ’’انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فضائی راستے سے نیٹو سپلائی کھول دی گئی ہے‘‘ دونوں متضاد بیانات ہیں، یہ بیانات قومی سلامتی کمیٹی اور پارلیمنٹ کی توہین اور عوام کے ساتھ بہت بڑا بلنڈر اور قابل مذمت ہیں، عوام کو ان خفیہ معاہدوں سے بے خبر رکھا جا رہا ہے جو حکمرانوں نے امریکہ کے ساتھ کر رکھے ہیں، یہ عوام کی نہیں امریکہ کی نمائندہ اور تابع حکومت ہے، امریکہ بلوچستان میں مستقل اڈے قائم کر کے ایران، پاکستان اور افغانستان کو کنٹرول کرنا چاہتا ہے اور اس مقصد کے لیے وہ افغانی، ایرانی و پاکستانی بلوچستان کا شوشہ چھوڑ کر تینوں اسلامی ممالک کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کی مکروہ سازش کر رہا ہے۔

وہ منصورہ میں پانچ روزہ مرکزی تربیت گاہ کے اختتامی سیشن سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ 2014 ء میں افغانستان سے انخلا کی بات کر کے اور ان تینوں ممالک کی عسکری قوتوں کو اندھیرے میں رکھ کر امریکہ خطے میں اپنے قدم جمانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ پاکستانی حکمرانوں اور فوج کو اپنی خودمختاری کا خیال ہوتا تو کبھی امریکہ کے دست و بازو بن کر اپنی سلامتی کو داؤ پر نہ لگاتے، پاکستان کی حمایت کے باوجود امریکہ افغانستان سے اپنی فوج کو زندہ سلامت نہیں نکال پائے گا، امریکی فوجیوں کے لاشے تابوتوں میں بند ہو کر جائیں گے۔

سید منور حسن نے کہا کہ امریکی کانگریس میں بلوچستان پر پاکستان ایران و افغانستان کے درمیان اختلافات پیدا کرنے اور بلوچستان کو تین حصوں میں تقسیم کر کے اس کے بڑے حصے پاکستانی بلوچستان میں مستقل قیام کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، امریکہ دنیا کو دھوکے میں رکھنے کے لیے افغانستان سے 2014 ء میں نکل جانے کے اعلان کر رہا ہے جبکہ ان وعدوں کے ذریعے وہ ایران پاکستان اور افغانستان کی عسکری قوتوں کو اندھیرے میں رکھ کر بلوچستان میں قدم جمانے کی مہلت حاصل کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قوم امریکی غلامی اور اس کے مسلط کردہ حکمرانوں سے نجات چاہتی ہے، بے روزگاری اور غربت کے مارے اور لاقانونیت کے ہاتھوں تنگ کروڑوں عوام حکومت کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔
خبر کا کوڈ : 141057
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے