0
Sunday 31 Jan 2010 12:36

تائیوان کو اسلحہ کی فروخت،چین کا شدید احتجاج،امریکا کیساتھ دفاعی تعلقات معطل کر دیئے

تائیوان کو اسلحہ کی فروخت،چین کا شدید احتجاج،امریکا کیساتھ دفاعی تعلقات معطل کر دیئے
بیجنگ،واشنگٹن:چین نے امریکا کی جانب سے تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت کے طے شدہ منصوبے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے امریکا کے ساتھ دو طرفہ فوجی دوروں کو معطل کرنے سمیت متعدد اقدامات کا اعلان کیا ہے اور امریکی سفیر کو متنبہ کیا ہے کہ ہتھیاروں کی فروخت پہلے سے کشیدہ تعلقات کو نقصان پہنچانے کا باعث بننے گی۔دوسری جانب تائیوان نے امریکی ہتھیاروں کے اس سودے کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ تائیوان کو فروخت کئے جانے والے ان امریکی ہتھیاروں سے سیکورٹی اور استحکام میں مدد ملے گی۔چین کی سرکاری خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ہفتے کو چینی وزارت دفاع نے اپنے بیان میں گزشتہ روز واشنگٹن کی جانب سے تائیوان کو امریکی ہتھیاروں کے فروخت کے طے شدہ منصوبے کے اعلان کی شدید مذمت کی ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ تائیوان کو امریکی ہتھیاروں کے فروخت سے سخت نقصان اور اس کے انتہائی نفرت انگیز اثرات مرتب ہوں گے۔
چین نے امریکا کیساتھ دفاعی تعلقات معطل کر دئیے
بیجنگ:چین نے تائیوان سے امریکی فوجی تجارت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امریکا کیساتھ دفاعی تعلقات معطل کر دئیے۔امریکی دفاعی اتاشی کو طلب کر کے شدید احتجاج بھی کیا گیا۔امریکا نے تائیوان کو ساڑھے چھ ارب ڈالر کا جدید دفاعی ساز و سامان فروخت کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔چینی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق چین نے امریکا سے دفاعی تعلقات معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اب دونوں ملکوں میں دفاعی وفود کا تبادلہ نہیں ہو سکے گا۔چینی حکام کا کہنا ہے امریکا کے اقدام سے تائیوان میں آزادی کا غلط تاثر انتہائی منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔چین نے تائیوان کو ہتھیار فروخت کرنے والی امریکی کمپنیوں پر پابندی بھی عائد کر دی ہے اور متنبہ کیا ہے کہ ضرورت پڑی تو بیجنگ مزید سخت اقدامات بھی کرسکتا ہے۔ 
بیجنگ:چین نے امریکہ کے ساتھ دفاعی تعلقات معطل کر دیئے۔چینی میڈیا کے مطابق تعلقات معطل کرنے کی وجہ تائیوان سے امریکی فوجی تجارت ہے۔چین نے تائیوان کو امریکہ کی طرف سے 6.4 بلین ڈالر کے ہتھیار فروخت کرنے پر احتجاج کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ اس سے تعلقات اور باہمی تعاون کو نقصان پہنچے گا۔اس حوالے سے واشنگٹن میں چینی سفارت خانے کے ترجمان وینگ یوڈونگ نے بتایا کہ نائب چینی وزیر خارجہ نے فوری طور پر بیجنگ میں امریکی سفارت کار سے رابطہ کیا ہے۔وینگ کا کہنا تھا کہ تائیوان کو ہتھیار فروخت کرنا چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہے کیونکہ تائیوان چین کا حصہ ہے جس سے چین کی قومی سلامتی اور امن کے قیام کے لئے کوششوں کو نقصان پہنچے گا اور دونوں ملکوں کے تعلقات متاثر ہوں گے۔امریکہ کو ایشو کی اہمیت کو سمجھنا چاہیے اور تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت کو روکے چین نے امریکی فیصلے کے بعد امریکہ سے دفاعی تعلقات معطل کر دیئے ہیں۔اس سے قبل اکتوبر 2008ء میں بھی چین نے امریکہ کے ساتھ عارضی طور پر دفاعی تعلقات ختم کر دیئے تھے۔




خبر کا کوڈ : 19571
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب