0
Tuesday 23 Feb 2010 11:02

جنرل پیٹریاس کی صدر زرداری اور وزیراعظم گیلانی سے ملاقاتیں

جنرل پیٹریاس کی صدر زرداری اور وزیراعظم گیلانی سے ملاقاتیں
اسلام آباد،واشنگٹن:اسلام ٹائمز-روزنامہ نوائے وقت کے مطابق امریکی سنٹرل کمان کے سربراہ جنرل ڈیوڈ پیٹریاس گذشتہ رات اسلام آباد پہنچ گئے جس کے بعد انہوں نے صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔ان دونوں ملاقاتوں میں آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی،سیکرٹری دفاع اور سیکرٹری خارجہ بھی موجود تھے۔ملاقاتوں میں دو طرفہ امور،سکیورٹی کی صورتحال اور دہشت گردی کے خلاف جنگ پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔
  صدر آصف زرداری نے امریکا سے کہا ہے کہ کولیشن سپورٹ فنڈ میں واجب الادا 1.5ارب ڈالر کی رقم فوری ادا کی جائے۔یہ بات انہوں نے ایوان صدر میں امریکی سینٹرل  کمانڈ کے سربراہ جنرل ڈیوڈ پیٹریاس سے ملاقات کے دوران کہی۔صدر آصف زرداری نے مزید کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے خاتمے کیلئے جمہوریت کا استحکام نہایت ضروری ہے اور جمہوری ڈھانچے کا استحکام بہتر معاشی ترقیاتی ایجنڈے پر عمل کر کے ممکن بنایا جا سکتا ہے۔صدر نے امریکا پر ایک بار پھر واضح کیا کہ ڈرون حملے پاکستان کی خودمختاری کے خلاف ہیں اور ان حملوں کی وجہ سے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں میں مشکلات پیش آتی ہیں۔
جنرل پیٹریاس سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ عسکریت پسندی سے متاثرہ علاقوں میں آپریشنز کی تکمیل اور تعمیرنو کے درمیان فرق کو لوگوں کا اعتماد حاصل کرنے کے ذریعے پورا کیا جائے۔امریکہ اور پاکستان کے درمیان طویل المدتی سٹرٹیجک تعلقات کو زیادہ بامقصد اور نتیجہ خیز بنانے کی ضرورت ہے،پاکستان افغانستان میں امن و استحکام چاہتا ہے،وہ افغان آرمی و سکیورٹی فورسز کو تربیت دینے کیلئے تیار ہے۔پاکستان مغربی سرحدوں پر توجہ دینا چاہتا ہے،جنرل پیٹریاس نے دہشت گردی اور عسکریت پسندی کے خلاف پاکستان کے عوام،مسلح افواج اور سکیورٹی فورسز کے عزم اور قربانیوں کو سراہا۔انہوں نے کولیشن سپورٹ فنڈ کی جلد ادائیگی کیلئے پاکستان کے مطالبے کی حمایت کا یقین دلایا۔انہوں نے اعتراف کیا کہ جن علاقہ میں فوجی آپریشنز مکمل ہو چکے ہیں وہاں تعمیرنو کا عمل تیز کرنے کی ضرورت ہے۔جس کیلئے مختلف ممالک کو اپنے وعدوں کی تکمیل میں تاخیر نہیں کرنی چاہئے۔اطلاعات کے مطابق جنرل پیٹریاس پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت سے حال ہی میں گرفتار ہونے والے ملا عبدالغنی برادر اور دوسرے طالبان لیڈروں کے حوالے سے اہم گفت و شنید بھی کریں گے۔ نوائے وقت کو معتبر ذرائع نے بتایا کہ جنرل پیٹریاس ملاعبدالغنی برادر کو امریکہ کے حوالے کرنے پر بھی تبادلہ خیال کرینگے۔ وہ ہلمند میں جاری امریکہ اور نیٹو فورسز کے مشترکہ آپریشن پر بھی عسکری قیادت سے تبادلہ خیال کریں گے۔ وہ اس آپریشن کی کامیابی کے لئے پاکستان سے معاونت طلب کریں گے۔دہشت گردی کے خلاف پاکستان امریکہ تعاون اور افغانستان کی تازہ ترین صورتحال پر صلاح مشورے کرینگے۔
 واشنگٹن سے نمائندہ خصوصی کے مطابق این بی سی کے میٹ دی پریس پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے جنرل پیٹریاس نے کہا ہے کہ امریکی فوج کو افغانستان میں ہونے والی لڑائی میں آئندہ بارہ سے 18 ماہ تک بہت زیادہ ہلاکتوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔افغانستان کے جنوبی قصبہ مرجاہ کا معرکہ دوسرے ہفتے میں داخل ہو گیا ہے اور یہ معرکہ بہت مشکل ہو گا۔عراق میں بھی ایسی مشکل صورتحال پیش آئی تھی اس علاقے پر کنٹرول کےلئے 4500 سے 30 ہزار اضافی فوجی میدان جنگ میں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں حقیقت پسند ہوں اور حقیقت یہی ہے کہ وہاں مشکل صورتحال ہے۔ یہ لڑائی 12 سے 18 ماہ تک رہ سکتی ہے۔انہوں نے ملا عبدالغنی برادر یا ایسے گرفتار لوگوں پر انفارمیشن حاصل کرنے کےلئے تشدد کی سخت مخالفت کی،تہران کے نیوکلیئر پروگرام کے حوالے سے انہوں نے وہائٹ ہاﺅس کے اقدامات کی حمایت کی۔تاہم کہا کہ اگر اس نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کی تو اس کے خلاف کارروائی خارج از امکان نہیں۔
خبر کا کوڈ : 20848
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب