0
Sunday 5 May 2013 12:19

افغانستان، بم حملے اور فائرنگ کے نتیجے میں 7 نیٹو فوجی ہلاک

افغانستان، بم حملے اور فائرنگ کے نتیجے میں 7 نیٹو فوجی ہلاک

اسلام ٹائمز۔ افغانستان کے جنوبی صوبہ قندھار کے ضلع مائیونڈ میں سڑک کنارے نصب ریموٹ کنٹرول بم دھماکے کے نتیجے میں 5 امریکی فوجی ہلاک ہوگئے۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ بکتر بند ٹرک میں بیٹھے فوجی بھی محفوظ نہ رہ سکے۔ جائے وقوعہ پر کئی فٹ گہرا گڑھا پڑ گیا اور گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔ نیٹو حکام نے ہلاکتوں کی تصدیق کر دی ہے۔ طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ طالبان کے ترجمان قاری یوسف احمدی نے خبرنگاروں کی ایک ای میل ارسال کی ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ طالبان مجاہدین نے افغانستان کے صوبے فرح میں فوجی بیس پر امریکی فوجیوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ طالبان ترجمان کے مطابق ایک افغان فوجی نے اس بیس پر چار افراد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا، جبکہ بعد میں اس افغان فوجی کو بھی گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ 

ایک انگلش ویب سائٹ کے مطابق اکتوبر 2001ء میں امریکی سربراہی میں اتحادی فوجوں کے افغانستان پر حملے کے بعد سے اب تک افغانستان میں 3299 غیر ملکی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔
افغانستان میں بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کی وجہ سے امریکہ سمیت نیٹو کے دیگر رکن ممالک کے عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے ان ممالک کے عوام کی طرف سے اس طویل جنگ کی حمایت میں شدید کمی واقع ہو رہی ہے۔ واضح رہے کہ اکتوبر 2001ء کے حملوں کے بعد امریکہ اور اتحادی افواج نے طالبان کی حکومت کو ختم کر دیا تھا، لیکن ایک لاکھ سے زیادہ غیر ملکی فوجیوں کے باوجود پورے افغانستان میں ناامنی کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ رواں برس نیٹو فورسز پر ہونے والا یہ بدترین حملہ ہے۔ قندھار پولیس چیف جنرل عبدالرزاق نے بتایا کہ ہفتے کی دوپہر امریکی فوجیوں کو لے جانے والی بکتر بند گاڑی کو ضلع مائیونڈ کے قریب نشانہ بنایا گیا، جس میں 5 امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔ بم سڑک کے کنارے نصب تھا جسے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے دھماکے سے اڑایا گیا۔ 

یاد رہے کہ 4روز قبل صوبہ ہلمند میں اسی طرح کے ایک بم حملے میں تین برطانوی فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔ طالبان مزاحت کاروں نے گذشتہ اتوار کو غیر ملکی فوجوں اور افغان سکیورٹی فورسز پر حملوں کا نیا سیزن شروع کیا تھا اور غیر ملکی فوجی اڈوں اور سفارتی مشنز کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا تھا۔ یاد رہے کہ امریکا پر 9/11حملوں کے بعد افغانستان میں تقریباً ایک لاکھ اتحادی فوجیوں کو تعینات کیا گیا تھا، جن کا انخلاء شروع ہوچکا ہے۔ 11سالہ طویل جنگ کے بعد اتحادی افواج اپنا مشن ختم کرکے واپسی کی تیاریاں کر رہی ہیں ۔واضح رہے کہ طالبان حامد کرزئی کی حکومت کی جانب سے امن مذاکرات کی متعدد پیشکشوں کو ٹھکرا چکے ہیں، طالبان کا موقف ہے کہ حامد کرزئی امریکہ کے ہاتھوں کٹھ پتلی بنے ہوئے ہیں۔

دیگر ذرائع کے مطابق جنوبی افغانستان میں بم دھماکے میں 5 امریکی فوجی اور ”فرینڈلی فائرنگ“ سے 2 نیٹو اہلکار ہلاک ہوگئے۔ نیٹو ترجمان کے مطابق 5 امریکی فوجی دھماکے میں ہلاک ہوگئے ان پر طالبان نے حملہ نہیں کیا۔ ضلع میاں وند ضلع میں امریکی فوجیوں کی گاڑی بم سے ٹکرا کر تباہ ہوگئی۔ یاد رہے طالبان نے نیٹو اور امریکی فوجیوں پر حملوں کی دھمکی کے بعد ملک گیر کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ جن میں غیر ملکی افواج کے اڈوں اور سفارتکاروں کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ ادھر جنوبی افغانستان میں ایک بیس پر افغان فوجی نے فائرنگ کرکے 2 نیٹو فوجیوں کو ڈھیر کر دیا۔ نیٹو نے ہلاک ہونیوالے فوجیوں کی شہریت نہیں بتائی، لیکن حملے میں انکی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

خبر کا کوڈ : 260881
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش