0
Friday 21 Jun 2013 16:59

پشاور دھماکہ، کرم ایجنسی کے علماء، عمائدین اور تنظیموں کی جانب سے شدید مذمت

پشاور دھماکہ، کرم ایجنسی کے علماء، عمائدین اور تنظیموں کی جانب سے شدید مذمت
اسلام ٹائمز۔ پاراچنار کے سیاسی اور مذہبی حلقوں نے پشاور میں واقع جامعۃ الشہید عارف الحسینی میں ہونے والے دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پشاور میں واقع تمام شیعہ مراکز کی سکیورٹی کا فائول پروف بندوبست کیا جائے۔ اس دوران نئی قائم ہونے والی انجمن نے اپنے دفتر سے ایک احتجاجی جلوس نکالا جو مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا پاراچنار پریس کلب پہنچ گیا، جہاں انہوں نے ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران انجمن کے قائدین کیپٹن ریٹائرڈ علی اکبر، قاضی سید نعیم حسین اور حاجی اصغر حسین و دیگر نے پشاور میں ہونے والے دھماکے کی شدید مذمت کی اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ اہل تشیع کے مراکز کی سکیورٹی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اگر اہل تشیع کی حفاظت نہیں کرسکتی، تو ہم مجبور ہیں، ہمارے پاس ایسے طریقے ہیں جو حکومت کے لئے درد سر بنے گے۔ پریس کانفرنس میں نئی انجمن کے ہمراہ تحریک حسینی کے صدر مولانا منیر حسین طوری اور تحریک کے دیگر رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔ 

دراین اثناء پاراچنار کی متعدد تنظیموں، جن میں تحریک حسینی، انجمن حسینیہ، انصار الحسین اور آئی او قابل ذکر ہیں، نے بھی پشاور واقعے کی شدید مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پشاور میں ہونے والا دھماکہ نئی قائم ہونے والی حکومت کی رٹ پر سوالیہ نشان ہے۔ نئی حکومت نے اپنے منشور میں عوام سے امن و امان کے قیام کا وعدہ کیا تھا، جس میں وہ تاحال ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اگر امن قائم نہیں کرسکتی تو اسے مستعفی ہو جانا چاہیئے۔ 
انجمن حسینیہ کے سیکرٹری حاجی حامد حسین نے ایک پریس ریلیز جاری کی ہے، جس میں انہوں نے صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے، انہوں نے پشاور میں جامعۃ الشہید عارف الحسینی میں ہونے والے خودکش دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے پہلے حکومت کے متعلق کہا جا رہا تھا کہ پی پی کی حکومت کمزور ہے، جبکہ اس وقت تو حکومت کمزور نہیں، بلکہ عوام کی بھاری حمایت سے قائم ہوئی ہے، اسکے باوجود بھی دھماکوں کا سلسلہ نہیں رکتا، لہذا حکومت یا تو اہل تشیع کا تحفظ یقینی بنائے یا پھر مستعقی ہوجائے۔ 

انصار الحسین کے نئے صدر ماسٹر منصب علی نے واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شرپسند ان دھماکوں کے ذریعے اہل تشیع کو ڈرا نہیں سکتے، بلکہ مومنین ملک کی بقا اور استحکام کی کوششوں میں اسی طرح کوشاں رہیں گے۔ علامہ سید عابد حسین الحسینی اور علامہ جواد ھادی نے بھی اپنے الگ الگ بیانات میں واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
خبر کا کوڈ : 275544
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے