1
0
Tuesday 16 Jul 2013 12:48
قوموں کا تحفظ جذباتی باتوں سے نہیں ہوتا

شیعہ قومی دفاعی پالیسی مرتب کرنیکا مرحلہ آگیا ہے، علامہ ساجد نقوی

شیعہ قومی دفاعی پالیسی مرتب کرنیکا مرحلہ آگیا ہے، علامہ ساجد نقوی
اسلام ٹائمز۔ شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ اب ہم اس مرحلے پر آچکے ہیں کہ ہمیں شیعہ قومی ڈیفنس پالیسی کو مرتب کرنا ہوگا، میں قوم کے تمام دانشوروں، وکلا، تھنک ٹینکس اور اداروں میں سے ریٹائرڈ افراد کو دعوت دیتا ہوں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی میں شہید ڈاکٹر حیدر اور شہید محسن رضا کی برسی کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ شیعہ قومی ڈیفنس پالیسی مرتب کرنے میں ہماری مدد کریں، انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان اور پاکستانی شیعہ بہت مشکل صورتحال سے گزر رہے ہیں، جن کے پاس معلومات نہیں وہ بلا وجہ اپنی رائے مت دیں۔ پاکستان میں شیعہ بہت نازک صورتحال میں ہیں، قوموں کا تحفظ جذباتی باتوں سے نہیں ہوتا، ہر جگہ بولنا ضروری نہیں۔ انہوں نے کہا کہ امام زمانہ (عج) کی عنایات خاص ہے کہ پاکستان میں تشیع کو سربراہی حاصل ہے، جبکہ تمام دینی مکاتب کی تکفیر کا نعرہ لگانے والے گندگی کے ڈھیر پر ہیں۔ ان کے اپنے بھی ان کے ساتھ بیھٹنے کے لئے تیار نہیں۔ 

علامہ ساجد نقوی کا کہنا تھا کہ یہ شہادتیں تشیع کی اس قوت اور عظمت کو روکنے کے لئے ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ وہ ان عظمتوں، ان قوتوں کا مقابلہ نہیں کرسکے۔ جس کا نتیجہ ان شہادتوں کی صورت میں ہمیں مل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بزدل، ناتواں اور عاجز یہ کام کرتا ہے، جو مقابلہ نہیں کرسکتا کسی مکتب کا، اسکی علمی قوت و طاقت کا۔ وہ دشمن اس قوم کے افراد کو نشانہ بناتا ہے اور یہ اسکی کمزوری کی دلیل ہے۔ تقریب سے شیعہ علماء کونسل کے مرکزی رہنماوں علامہ شیخ شبیر حسین میثمی اور علامہ شہر یار رضا عابدی نے بھی خطاب کیا۔ جبکہ علامہ ناظر عبّاس تقوی، علامہ جعفر سبحانی سمیت دیگر علمائے کرام اور عوام نے بھی شرکت کی۔
خبر کا کوڈ : 283600
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

قومی دفاعی امور میں سب سے بڑی رکاوٹ آپ قائدین ہیں، جو صرف اقتدار اور ہوس کی وجہ سے کسی کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں، آپ لوگوں نے قومی امور کو اپنے لیے ایک منافع بخش کاروبار سمجھ رکھا ہے اور یہ ہے بھی۔ قوم کسی دن تنگ آکر آپ کے گھروں تک پہنچیں گے، قبل اس کے عوام کا ہاتھ آپ لوگوں کے گریباں تک پہنچے اس قوم کیلیے کچھ کریں، کیونکہ آپ لیڈراں نے ان کو ہر جگہ بیچا ہوا ہے، خدا کی بہر سے بچنے کیلیے آپ لیڈراں کو حجروں سے اور اخباری بیانات سے نکل کر میداں میں آنا ہوگا، ورنہ مکافات عمل کچھ ہم دیکھ رہے ہیں کچھ اس سے زیادہ آنے کی وقت باشن دے رہا ہے۔شہید حسینی، شہید عباس موسوی کے پیروکار بنو نہ کہ فضل رحمان کے شاگرد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرا یہ احتجاج ایم ڈبلیو ایم، شیعہ علماء کونسل سمیت تمام جماعتوں کے سربراہان سے ہے۔ اسلام ٹایمز سے امید ہے کہ شایع ضرور کریں گے۔
منتخب
متعلقہ خبر