0
Monday 9 Dec 2013 21:30

جنیوا معاہدہ ایران کے ساتھ تعلقات میں بہتری کا سنہری موقع ہے، امریکہ مشرق وسطی سے متعلق اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرے، نیویارک ٹائمز

جنیوا معاہدہ ایران کے ساتھ تعلقات میں بہتری کا سنہری موقع ہے، امریکہ مشرق وسطی سے متعلق اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرے، نیویارک ٹائمز
اسلام ٹائمز- فارس نیوز ایجنسی کے مطابق معروف امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے ایران اور مغربی طاقتوں کے درمیان انجام پانے والے جوہری مذاکرات کے نتیجے میں طے پانے والے جنیوا سمجھوتے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اگرچہ یہ معاہدہ مشرق وسطی میں موجود شدت پسند اور جنگ طلب عناصر کی ناراضگی اور غصے کا باعث بنا ہے لیکن اس معاہدے نے امریکہ اور مغربی دنیا کو ایران کے ساتھ تعلقات میں بہتری اور مختلف عالمی مسائل کے بارے میں اسٹریٹجک تعاون کا سنہری موقع فراہم کر دیا ہے۔ 
 
نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ 30 سال کے دوران امریکہ اور مغربی ممالک کے ایران کے ساتھ تعلقات بدگمانی، بے اعتمادی اور بحران کا شکار رہے ہیں جس کا نقصان دونوں کو ہوا ہے۔ امریکہ کو چاہئے کہ وہ اب مشرق وسطی سے متعلق اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرے اور ایسی پالیسیاں اپنائے جن کا مقصد ایران کے ساتھ تعلقات میں بہتری اور ایک دشمن کو اتحادی میں تبدیل کرنا ہو۔ اخبار نیویارک ٹائمز مزید لکھتا ہے کہ یہ کوئی آسان کام نہیں بلکہ لیکن ایران کے ساتھ بہتر تعلقات بلند مدت میں امریکی اور اسرائیلی عوام کیلئے بہتر ہیں اور اس میں ان کا بہت فائدہ ہے۔ ایران جو خلیج فارس اور بحیرہ کیسپیئن کے درمیان واقع ہے چین کی جانب سے انرجی کے ذخائر تک دسترسی کو کنٹرول کر سکتا ہے اور اسی طرح روس کے خلاف ایک مانع کا کردار بھی ادا کر سکتا ہے۔ اسی طرح امریکہ اور مغربی دنیا کے ایران سے بہتر تعلقات لبنان کی سیاسی صورتحال اور اسرائیل اور فلسطین میں بھی موثر ثابت ہو سکتے ہیں۔ شام میں جاری خانہ جنگی کا راہ حل بھی ایران کے بغیر ممکن نہیں۔ 
 
امریکی اخبار لکھتا ہے کہ اس وقت ان تمام ایشوز پر ایران امریکہ کا مخالف ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان کئی مشترکہ مفادات بھی موجود ہیں مثال کے طور پر دونوں ملک طالبان کے مخالف ہیں، اس کے علاوہ ماضی میں ایران اور امریکہ کے درمیان تعاون بھی پایا جاتا تھا اور دونوں ممالک القاعدہ کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔ ایران خطے میں مضبوط انٹیلی جنس طاقت ہونے کے ناطے ان گروہوں سے مقابلے میں بہت زیادہ مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ کے مطابق امریکہ کے ساتھ بہتر تعلقات ایران کیلئے بھی مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر 1980 سے 1988 کے دوران عراق کے ساتھ جنگ اور اب تک اپنے خلاف اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے ایران کو بہت زیادہ نقصان برداشت کرنا پڑا ہے جس کی وجہ سے آج ایران کو اقتصادی ترقی کیلئے پٹرولیم انڈسٹری اور دوسرے شعبوں میں بیرونی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ لیکن یہ امور امریکہ کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے بغیر ممکن نہیں۔ 
 
نیویارک ٹائمز لکھتا ہے کہ امریکہ کیلئے ایران کے ساتھ بہتر تعلقات کا قیام انتہائی مشکل اور پیچیدہ امر ہے کیونکہ کچھ سال پہلے ہی امریکہ ایران کو بدی کا محور قرار دے چکا ہے۔ دوسری طرف ایران کے ساتھ تعلقات کی بہتری میں امریکہ کیلئے سب سے بڑی رکاوٹ خطے میں اس کا اتحادی ملک سعودی عرب ہے۔ سعودی عرب اس بارے میں امریکہ کا شدید مخالف ہے لیکن موجودہ حالات میں سعودی عرب کی مخالفت کی کوئی اہمیت نہیں۔ امریکہ نے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات تیل کی ضرورت کے مدنظر استوار کر رکھے تھے۔ اور اب مزید امریکہ کو سعودی عرب کی زیادہ ضرورت نہیں رہی۔ سعودی عرب کے ساتھ امریکہ کے تعلقات مصنوعی اور غلط ہیں۔ اس امریکی اخبار کے مطابق سعودی عرب اب بھی تیل کی عالمی منڈی پر گہرا اثرورسوخ رکھتا ہے لیکن اب وہ اس پوزیشن میں نہیں کہ 1973ء کی مانند تیل کی سپلائی بند کر کے عالمی سیاست میں ہلچل مچا دے۔ ایران کے برعکس سعودی عرب کے پاس تیل کے علاوہ کوئی آپشن نہیں۔ سعودی عرب میں جمہوریت نام کی کوئی چیز نہیں اور یہ ملک عالمی سطح پر وہابی گروہوں کی مالی مدد کرنے میں مصروف ہے جس کی وجہ سے امریکہ شدید قسم کے خطرات سے دوچار ہو گیا ہے۔ 
 
نیویارک ٹائمز اس بارے میں مزید لکھتا ہے کہ اسرائیل بھی سعودی عرب کی طرح ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کا شدید مخالف ہے لیکن اس کا یہ رویہ تنگ نظری پر مبنی ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان دوستانہ تعلقات دراز مدت میں اسرائیل کیلئے بھی نفع بخش ہیں۔ معروف امریکی اخبار نے اس بات پر تاکید کی ہے کہ ایران کے ساتھ دوستی ایک رات کی بات نہیں لیکن دونوں ممالک کے حکام نے ثابت کیا ہے کہ ایسا ممکن ہے۔ اکیسویں صدی کا مشرق وسطی این نیا اور انتہائی خطرناک خطہ ہے۔ اس خطے کو بہتر مستقبل کی جانب رواں دواں کرنے کیلئے واشنگٹن کو اپنی پالیسیوں میں نرمی کرنا پڑے گی اور پرانی دشمنیوں کو بھلانا پڑے گا۔ 
 
ایران کے معروف تجزیہ نگار جناب حسین توسلی اس ضمن میں لکھتے ہیں کہ اسرائیل اور سعودی عرب ایران اور مغربی طاقتوں کے درمیان طے پانے والے جنیوا سمجھوتے کے دو بڑے مخالفین کے طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ اسرائیل کو سب سے بڑی پریشانی یہ ہے کہ اگر ایران کے ساتھ مغربی دنیا اور امریکہ کے جوہری تنازعات پرامن طریقے سے حل ہو جاتے ہیں تو عالمی سطح پر ایران کے اثرورسوخ میں بے پناہ اضافہ ہو جائے گا جسے اسرائیل اپنے لئے ایک بڑا خطرہ تصور کرتا ہے۔ ایران کے ساتھ جوہری تنازعہ حل ہونے کی صورت میں مغربی ممالک اسرائیل پر دباو ڈالیں گے کہ وہ ایران کے خلاف اپنی شدت پسندانہ پالیسیاں ترک کر دے اور ان میں نرمی ایجاد کرے۔ دوسری طرف ایران کی جوہری سرگرمیوں سے متعلق تنازعات حل ہونے کی صورت میں بین الاقوامی سطح پر ایران کے اعتبار میں اضافہ ہو جائے گا اور مسئلہ فسلطین سے متعلق ریفرنڈم کی برگزاری پر مبنی اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے پیش کردہ پرامن حل دنیا والوں کی توجہ کا مرکز بن جائے گا اور یہ امر اسرائیل کے وجود کیلئے ایک بڑا خطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔ 
 
اسلامی جمہوریہ ایران مغربی ایشیا کے خطے میں گہرا اثرورسوخ رکھنے کے ناطے دنیا میں ایک ممتاز حیثیت کا مالک ملک جانا جاتا ہے۔ یہ حیثیت خطے کے بعض ممالک کی جانب سے اپنے اندر اسلامی انقلاب کے اثرات ظاہر ہونے کی نسبت شدید خوف و ہراس کا شکار ہونے کا باعث بنی ہے۔ اس ضمن میں ایران کا روایتی حریف ہونے کے ناطے سعودی عرب کا نام سرفہرست ہے۔ سعودی عرب اور اسلامی جمہوریہ ایران میں نظریاتی اور آئیڈیالوجیکل اختلافات پائے جاتے ہیں۔ ان اختلافات کی وجہ سے خطے میں جاری سیاسی مسائل کے بارے میں دونوں ممالک کی پالیسیوں میں تصاد پایا جاتا ہے۔ شام کا بحران، اسرائیل اعراب مذاکرات، بحرین اور یمن میں جاری انقلابی تحریک اور افغانستان اور عراق سے متعلق مسائل اس نظریاتی تضاد کی بعض واضح مثالیں ہیں۔ یہ نظریاتی اختلافات سیاست کے میدان میں دونوں ممالک کے درمیان رقابت ایجاد ہونے کا باعث بنے ہیں۔
 
سعودی عرب خطے میں امریکہ کا اتحادی ہونے کے ناطے اسلامی جمہوریہ ایران پر دباو بڑھائے جانے کا حامی ہے۔ لہذا امریکہ کی جانب سے شام کے خلاف فوجی کاروائی انجام دے سے پیچھے ہٹ جانا اور ایران کے ساتھ جنیوا معاہدہ منعقد کرنا خطے میں امریکہ کے اس قدیمی اتحادی یعنی سعودی عرب کی ناراضگی کا باعث بنے ہیں۔ سعودی عرب دو بنیادی وجوہات کی بنا پر جنیوا معاہدے کی مخالفت کر رہا ہے۔ یہ وجوہات اقتصادی اور سیاسی ہیں۔ اقتصادی اعتبار سے دیکھا جائے تو ایران کے خلاف موجودہ اقتصادی پابندیاں خطے میں تیل برآمد کرنے والے ممالک خاص طور پر سعودی عرب کے فائدے میں ہیں۔ ایران کے خلاف یہ پابندیاں سعودی عرب کی جانب سے تیل کی پیداوار میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔ سعودی عرب نے ایران اور عراق کے درمیان 8 سالہ جنگ کے دوران بھی اپنی تیل کی پیداوار بڑھا کر ایران کی معیشت کو دھچکہ پہنچانے کی کوشش کی تھی۔ سعودی عرب کی جانب سے تیل کی پیداوار میں اضافہ عالمی سطح پر تیل کی قیمت نیچے آنے کا باعث بنی جس کا نقصان ایران کو پہنچا کیونکہ اس وقت ایران کی معیشت سو فیصد تیل کی آمدن پر مبنی تھی۔ امریکہ اور مغربی دنیا کی جانب سے ایران کے خلاف اقتصادی پابندیاں لگنے کے بعد سعودی عرب کو ایک نیا ٹاسک دیا گیا۔ یہ ٹاسک تیل کی پیداوار بڑھانا تھا تاکہ ایران پر تیل کی فروخت پر پابندی کی وجہ سے عالمی منڈی میں رونما ہونے والی تیل کی کمی کو پورا کیا جا سکے۔ تیل کی برآمد میں اضافہ سعودی عرب کی تیل سے حاصل شدہ درآمد میں اضافے کا باعث بنی۔ 
 
سعودی عرب کی جانب سے جنیوا معاہدے کی مخالفت کی دوسری بڑی وجہ سیاسی پہلو ہیں۔ سعودی عرب کی اصل پریشانی یہ ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ منفی فضا ختم ہو جانے کی صورت میں خطے میں ایران کا سیاسی اور ثقافتی اثرورسوخ بڑھ جائے گا۔ اگر ایران کے خلاف موجودہ اقتصادی پابندیاں ختم ہوتی ہیں تو خطے میں ایران کی سیاسی سرگرمیوں میں بھی خاطرخواہ اضافہ دیکھنے میں آئے گا۔ علاقائی سطح پر سعودی عرب افغانستان، لبنان، فلسطین اور خاص طور پر عراق میں ایران کے سیاسی اثرورسوخ سے شدید پریشان نظر آتا ہے۔ گذشتہ چند سالوں کے دوران خطے میں جنم لینے والی اسلامی بیداری کی تحریک نے سعودی حکمرانوں کو مزید وحشت زدہ کر دیا ہے اور وہ احساس کر رہے ہیں کہ ان انقلابی تحریکوں کے نتیجے میں خطے میں ان کا اثرورسوخ تیزی سے ختم ہوتا جا رہا ہے۔ اسلامی بیداری کی تحریک خطے میں ایران اور شیعہ قوتوں کے اثرورسوخ میں اضافے کا باعث بنی ہے۔ اگر ایسی صورتحال میں ایران کے خلاف اقتصادی پابندیوں میں نرمی عمل میں لائی جاتی ہے تو خطے میں ایران کا سیاسی اثرورسوخ اور بھی زیادہ ہو جائے گا جبکہ سعودی عرب جو ایران کی طاقت کو محدود دیکھنا چاہتا ہے اس بات پر راضی نہیں۔ 
 
مزید یہ کہ اگر ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق تنازعات مذاکرات کے ذریعے حل ہو جاتے ہیں تو سعودی عرب اور مغربی ممالک کی جانب سے ایران فوبیا پر مبنی مہم اور پروپیگنڈہ بری طرح فلاپ ہو جاتا ہے۔ اس وقت ایران کے دشمنوں نے خطے کے عرب ممالک کو ایران سے شدید ڈرا دھمکا رکھا ہے۔ لیکن اگر یہ ثابت ہو جائے کہ ایران جوہری ہتھیار تیار کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا تو اس خوف کی کوئی وجہ باقی نہیں رہتی۔ ایسی صورت میں ایران خطے کی عرب ریاستوں سے اپنے تعلقات کو مزید بہتر بنا سکتا ہے جس کا منطقی نتیجہ خطے میں ایران کے سیاسی اثرورسوخ میں مزید اضافے کی صورت میں ظاہر ہو گا۔ ایران اور خطے کے عرب ممالک میں بہتر تعلقات کے قیام کی صورت میں سعودی عرب بھی اپنی ایران دشمن پالیسیوں میں دوسرے عرب ممالک کو اپنے ساتھ ملانے میں ناکام رہے گا۔ لہذا ان تمام حقائق کی روشنی میں سعودی عرب نہیں چاہتا کہ ایران اور مغربی دنیا کے درمیان جوہری سرگرمیوں سے متعلق کوئی حتمی معاہدہ طے پا سکے۔
خبر کا کوڈ : 328991
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب