0
Wednesday 22 Sep 2010 10:33

بریگیڈیئر (ر) امتیاز اور عدنان خواجہ کمرہ عدالت سے گرفتار،اڈیالہ جیل منتقل

بریگیڈیئر (ر) امتیاز اور عدنان خواجہ کمرہ عدالت سے گرفتار،اڈیالہ جیل منتقل
 اسلام آباد:اسلام ٹائمز-روزنامہ جسارت کے مطابق سپریم کورٹ نے این آر او کے خلاف فیصلے پر عملدرآمد کیس میں آئی بی کے سابق سربراہ بریگیڈیئر (ر) امتیاز احمد اور سابق چیئرمین نیوٹیک و ایم ڈی او جی ڈی سی ایل عدنان اے خواجہ کو کمرہ عدالت سے گرفتار کروا کر اڈیالہ جیل بھجوا دیا۔ دوران سماعت عدالت نے قرار دیا کہ سپریم کورٹ نے اپنے 16 دسمبر کے فیصلے میں این آر او کو کالعدم قرار دیا تھا،اس فیصلے کی روشنی میں ناجائز اثاثوں کے مقدمات میں دونوں ملزمان کی سزائیں بحال ہو چکی ہیں اور ان کی بریت خود بخود ختم ہو گئی،جبکہ ضمانت کیلئے داخل مچلکے واپس اور جائدادوں کو ریلیز کرنے کے بعد ضمانتوں کی کوئی حیثیت نہیں رہی،تاہم ملزمان نئی ضمانتوں کے لیے 3 روز کے اندر نئے شورٹی بانڈ داخل کرا سکتے ہیں۔
 منگل کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں جسٹس طارق پرویز اور جسٹس غلام ربانی پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے این آر او کے خلاف فیصلے پر عملدرآمد کیس کی سماعت کی، عدالت کے روبرو ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب راجا عامر عباس نے بتایا کہ ناجائز اثاثوں کے کیس میں احتساب عدالت نے بریگیڈیئر (ر) امتیاز کو 8 سال قید اور 70 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی،جبکہ عدنان اے خواجہ کو 2 سال کی سزا اور 2 لاکھ روپے جرمانہ ہوا تھا اور عدالت نے انہیں 10 سال کیلئے کسی بھی سرکاری عہدے کے لیے نااہل قرار دیا تھا۔بریگیڈیئر (ر) امتیاز کی 3 سال اور 16 دن جبکہ عدنان اے خواجہ کی 10 ماہ 22 دن کی سزا باقی ہے۔عدالت نے عدنان اے خواجہ کی جانب سے فوری ضمانت کی استدعا کو مسترد کر دیا،جبکہ ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نے عدالت کو مزید بتایا کہ نیب کے اعلیٰ حکام نے بریگیڈیئر (ر) امتیاز اور عدنان اے خواجہ کے حوالے سے ریکارڈ لے لیا ہے۔ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے بتایا کہ اسٹیبلشمنٹ نے عدنان اے خواجہ کا بطور ایم ڈی او جی ڈی سی ایل نوٹیفکیشن جاری کیا تھا،تاہم اس بارے میں انہیں علم نہیں تھا کہ عدنان خواجہ کسی بھی سرکاری عہدے کے لیے نااہل ہیں اور نیب سے سزا یافتہ ہیں اور ان کے نوٹیفکیشن کے لیے اوپر سے احکامات آئے تھے۔
 چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے این آر او کو کالعدم قرار دیے جانے کے باوجود عدنان اے خواجہ نے بطور چیئرمین نیوٹیک کام جاری رکھا اور بعد میں احتساب عدالت کے فیصلے کے بعد ان کی بطور ایم ڈی او جی ڈی سی ایل تعیناتی ہوئی،جبکہ عدالت نے انہیں 10 سال کیلئے نااہل قرار دیا تھا اور ان کی سزا ختم ہی نہیں ہوئی تھی،عدنان اے خواجہ کو گرفتار نہ کرنا سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل نہ کرنے کے مترادف ہے،ڈپٹی چیئرمین نیب نے بھی عدالتی حکم کے بعد غیر قانونی چارج سنبھالا ہوا ہے۔چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل مولوی انوار الحق کو ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالتی فیصلہ کے تحت آپ کے پاس صرف 10 دن باقی ہیں کہ مستقل چیئرمین کا تقرر عمل میں لایا جائے۔اس موقع پر نیب کے پراسیکیوٹر جنرل نے دونوں ملزمان کی سزاﺅں کے حوالے سے سینٹرل جیل راولپنڈی کا ریکارڈ بھی پیش کیا اور بتایا کہ بریگیڈیئر (ر) امتیاز کی اسلام آباد میں قیمتی جائداد موجود ہے،جبکہ اس حوالے سے ہائی کورٹ نے مقدمہ کی سماعت کی تاریخ 23 ستمبر مقرر کر رکھی ہے۔ 
عدالت نے قرار دیا کہ نئے مچلکے جمع کرانے تک ان کی ضمانت میں توسیع نہیں ہو سکتی،مچلکوں پر قانون کے مطابق فیصلہ ہو گا۔چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ بریگیڈیئر صاحب اب تو آپ کو جیل جانا چاہیے،بریگیڈیئر امتیاز نے جواب دیا کہ 2 دن کی مہلت دی جائے،وہ ہائی کورٹ میں اپنے مچلکے جمع کرا دیں گے،اگر یہاں پر مچلکے جمع ہو سکتے ہیں تو میں جمع کراسکتا ہوں۔چیف جسٹس نے سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ آپ مچلکے متعلقہ عدالت میں ہی جمع کرائیں۔عدالت نے کمرہ عدالت کے احاطے میں ان کی گرفتاری کے احکامات دیتے ہوئے سماعت 24 ستمبر تک ملتوی کر دی۔



خبر کا کوڈ : 37848
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے