0
Friday 30 May 2014 05:21

آج کل کچھ دوستوں کو خاکی رنگ اچھا لگ رہا ہے، ہمیں کل بھی کالا رنگ اچھا لگتا تھا آج بھی، حافظ حسین احمد

آج کل کچھ دوستوں کو خاکی رنگ اچھا لگ رہا ہے، ہمیں کل بھی کالا رنگ اچھا لگتا تھا آج بھی، حافظ حسین احمد
اسلام ٹائمز۔ ڈپٹی جنرل سیکرٹری جمعیت علماء اسلام (ف) و سابق سنیٹر حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ دنیا میں ممالک ریاستی اداروں کو آئین کے مطابق چلاتے ہیں بدقسمتی سے پاکستان میں آئین کو اپنے مطابق چلانے کی کوشش کی جاتی ہے، مغرب کا ہمیشہ ایجنڈا رہا کہ پاکستان میں ون مین شو برقرار رہے۔ انھوں نے ہمیشہ جمہوریت کی نفی کی، ملک میں متعدد مرتبہ آئین کا قتل ہوا، آئین کے قتل کا تسلسل برقرار رکھنے کے لئے نظریہ ضرورت کے تحت ڈکٹیٹر کو آئینی تحفظ فراہم کیا گیا، یہ آزاد عدلیہ ہی تھی جس نے ایک آمر کو آئین میں تبدیلی کا حق دیا، ملک میں جمہوریت کے نہ پھلنے پھولنے کی بڑی وجہ اداروں کی بجائے شخصیات کو پروان چڑھانے کی پالیسی ہے، قاتلوں، چور، لٹیروں کو جب ادارے اپنی تحویل میں رکھیں گے تو ملک میں قانون کی بالا دستی کیسے قائم ہوگی، ان خیالات کا اظہار انھوں نے ٹیکسلا بار ایسوسی ایشن کی جانب سے منعقدہ تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی اپنے خطاب اور بعد ازاں مقامی صحافیوں سے گفتگو کے دوران کیا انکا کہنا تھا کہ ہر دور میں اقتدار پر قابض شخصیات نے اپنے اختیارات کو وسیع کرنے کے لئے آئین اور دستور کی دھجیاں بکھیریں۔

طالبان مذاکرات پر ایک سوال کے جواب میں انکا کہنا تھا کہ طالبان سے مذاکرات شروع ہی نہیں ہوئے تو ختم کیسے ہونگے، انکا کہنا تھا کہ مذاکرات شروع ہونے سے پہلے تحریک طالبان دو حصوں میں بٹ گئی ہے، اب دیکھا جائے گا کہ دو حصوں میں سے کون سا حصہ کیا کرنا چاہتا ہے اور اسکا حجم اور وزن کیا ہے، مذاکرات اس وقت دھند کی کیفیت سے گذر رہے ہیں جب ابر صاف ہوگا تو پتا چلے گا، وزیر اعظم کے دورہ بھارت پر تبصرہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے مابین اصل تنازعہ کشمیر کا ہے، بھارت جو کہ میزبان تھا نے میزبانی کے تمام اصولوں کو نظر انداز کر کے پاکستان کو نہ صرف دہشتگرد ملک قرار دیا بلکہ دہشتگردی میں پاکستان کو تعاون کرنے پر مجرم قرار دیکر پاکستان کو چارج شیٹ کیا گیا، وزیر اعظم میاں نواز شریف کو اتنا تو کہہ دینا چاہئے تھا کہ کشمیر کا تنازعہ اقوام متحدہ کی قرارادتوں کے مطابق حل کیا جانا چاہئے، انھوں نے اپنے دورہ کے موقع پر بھارت میں کشمیری رہنماؤں سے بھی ملاقات نہیں کی جو کہ انکی آمد کے منتظر تھے۔

پاکستان تحریک انصاف کا انتخابات میں دھاندلی کے حوالے سے واویلا پر انکا کہنا تھا کہ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی لیکن خیبر پختون خواہ میں بھی ایسا ہی ہوا، انکا کہنا تھا کہ جنرل شجاع پاشا نے خیبر پختون خواہ میں جو کانٹے دار پودوں کے بیج بوئے تھے ان کے اثرات کو کے پی کے میں جس انداز میں پروان چڑھایا گیا، جمعیت علماء اسلام نے اس عظیم دھاندلی کو ا سلئے قبول کیا کہ ہم نہیں چاہتے تھے کہ کوئی اور قوت اس سے فائدہ اٹھائے، کے پی کے میں جمعیت علماء اسلام جو کہ تحریک انصاف کے موقف کو صحیح تسلیم کرتی ہے خیبر پختون خواہ میں 80 اور 90 فیصد دھاندلی ہوئی اس لئے تحریک انصاف کو پہلے خیبر پختون خواہ سے مستعفیٰ ہونا چاہئے کیونکہ دھاندلی کا پول انھوں نے خود کھول دیا۔

ٹیکسلا بار سے خطاب کے دوران انکا کہنا تھا کہ ہم من حیث القوم ظالم بھی ہیں اور مظلوم بھی، انکا کہنا تھا کہ آج کل کچھ دوستوں کو خاکی رنگ اچھا لگ رہا ہے پر ہمیں کل بھی کالا رنگ اچھا لگتا تھا آج بھی، انھوں نے کہا کہ کوٹ کا استر اندر سے خاکی ہو جائے تو دکھ ضرور ہوتا ہے، انکا کہنا تھا کہ یہ فطری عمل ہے پہلے خاندان پھر قبیلہ، کنبہ اور پھر قوم اور پھر فوج بنتی ہے مگر ہمارے ہاں ایسا ہوا کہ جب ہم ملک بنا رہے تھے تو یہاں فوج پہلے سے موجود تھی، لیکن اس کے باجود ہم اب تک ایک قوم نہیں بن سکے، ہم نے جن تحریکوں میں بھی حصہ لیا وہ بند گلی کی طرف ہی گئی، پرویز مشرف کے حوالے سے انکا کہنا تھا کہ پرویز مشرف جب علاج کے لئے کراچی پہنچے تو معلوم ہو اکہ انھیں تو کمر میں تکلیف ہے، تب ہمیں معلوم ہو اکہ ہمارے سابق چیف کا دل سینہ کی بجائے کمر میں ہے، تقریب سے صدر ٹیکسلا بار ایسوسی ایشن راجہ غلام رتضیٰ ایڈووکیٹ، جنرل یکرٹری مبشر نقوی نے بھی خطاب کیا، اس موقع پر ٹیکسلا بار ایسوسی ایشن کے مرد خواتین وکلاء کی کثیر تعداد موجود تھی۔
خبر کا کوڈ : 387639
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب