0
Sunday 17 Aug 2014 15:03
33 روزہ جنگ کا مقصد اسلامی مزاحمت کا مکمل خاتمہ تھا

غاصب صہیونی رژیم کو اپنی سرزمین سے باہر بھگانے کا واحد رستہ جہاد اور مسلح جدوجہد ہے، سید حسن نصراللہ

اسرائیل اور تکفیریت خطے کے وجود کیلئے دو بڑے خطرے ہیں، اتحاد کے ذریعے داعش کو شکست دی جاسکتی ہے
غاصب صہیونی رژیم کو اپنی سرزمین سے باہر بھگانے کا واحد رستہ جہاد اور مسلح جدوجہد ہے، سید حسن نصراللہ
اسلام ٹائمز۔ حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے 2006ء میں اسرائیل کے خلاف 33 روزہ جنگ (جنگ تموز) میں عظیم کامیابی کی آٹھویں سالگرہ کی مناسبت سے تقریر کرتے ہوئے انتہائی اہم موضوعات پر روشنی ڈالی ہے۔ انہوں نے اسرائیل اور تکفیریت کو خطے کیلئے دو بڑے خطرے قرار دیا اور کہا کہ ان کا مقابلہ کرنے کیلئے خطے کے ممالک اور اقوام کے درمیان اتحاد اشد ضروری ہے۔ اسی طرح انہوں نے 2006ء میں اسرائیل کی جانب سے لبنان پر مسلط گئی 33 روزہ جنگ کو ایک بڑی اور حقیقی جنگ قرار دیا اور کہا کہ اس جنگ کا مقصد صرف حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا نہ تھا بلکہ اسرائیل خطے میں موجود اسلامی مزاحمت کا مکمل خاتمہ کرنا چاہتا تھا۔ اسلام ٹائمز اردو اس تقریر کے بعض اہم نکات کا ترجمہ قارئین کی خدمت میں پیش کر رہا ہے۔

ایران اور شام کا شکریہ:
سید حسن نصراللہ نے اپنی تقریر کے آغاز میں 33 روزہ جنگ میں کامیابی کی سالگرہ کو استقامت، ثابت قدمی اور تاریخی کارنامے کی سالگرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم اس جنگ میں شہید ہونے والے افراد کی روح پر سلام بھیجتے ہیں اور اسرائیل کے خلاف مقابلے میں شریک تمام قوتوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ہم ان تمام افراد کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے اسرائیل کے خلاف ہماری مدد کی اور ہماری حمایت کرنے میں خطرات کو مول لیا، خاص طور پر ایران اور شام کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

33 روزہ جنگ کا ایک مقصد خطے میں موجود گیس اور تیل کے ذخائر پر امریکی قبضہ تھا:
حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ اس جنگ کا ایک اہم مقصد امریکہ کی جانب سے خطے میں موجود تیل اور گیس کے قدرتی ذخائر پر قبضہ کرنا تھا۔ اسی طرح ان کا دوسرا مقصد مسئلہ فلسطین کے بارے میں اسرائیل کا مطلوبہ راہ حل فلسطینی مسلمانوں پر ٹھونسنا تھا۔ عراق پر امریکی فوجی قبضہ اور خطے میں اسلامی مزاحمت کے خاتمے کیلئے اسرائیلی جنگ انہیں مقاصد کے حصول کا پیش خیمہ تھیں، لیکن حزب اللہ لبنان نے اپنی مثالی پائیداری اور استقامت کے ذریعے اسرائیل کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا اور وہ جنگ بندی کیلئے امریکہ کا سہارا لینے پر مجبور ہوگیا۔ سید حسن نصراللہ نے کہا کہ اس استقامت اور پائیداری کے نتیجے میں اسلامی مزاحمت کا وجود باقی رہا اور اس کے عزت و وقار میں بھی اضافہ ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ اس جنگ میں حزب اللہ لبنان کی کامیابی کے دیگر اثرات یہ ہوئے کہ شام پر حملے کی نوبت نہ آئی اور اسی طرح غزہ پر اسرائیلی حملہ بھی دو سال تک کیلئے ٹل گیا۔ دوسری جانب عراق میں امریکی فوجی قبضے کے خلاف مزاحمت میں بھی شدت آ گئی جس کی وجہ سے امریکی فوجی عراق سے نکلنے پر مجبور ہوگئے اور امریکہ کے انتخابات میں نیوکنزرویٹوز کو شدید شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ امریکہ خطے میں اپنے منحوس اہداف سے پیچھے ہٹ گیا ہے بلکہ اس نے اپنے مطلوبہ اہداف کے حصول کیلئے ایک ہی وقت کئی منصوبے شروع کر رکھے ہیں۔

غزہ پر حالیہ اسرائیلی جارحیت خطے میں نئی سازش کا حصہ ہے:
حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل نے غزہ پر اسرائیل کی حالیہ فوجی جارحیت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ درحقیقت اس نئی سازش اور منصوبے کا حصہ ہے جس کا اجرا غزہ پر اسرائیلی جارحیت سے پہلے ہی شروع ہوچکا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے تحت اسرائیل خطے میں موجود تیل و گیس کے وسیع ذخائر پر قبضہ کرتے ہوئے اپنی برتری کو برقرار رکھنے کے درپے ہے۔ یہ منصوبہ ماضی کے منصوبوں کے برخلاف جن میں صرف ایک رکن پایا جاتا تھا، دو بنیادی ارکان پر مشتمل ہے، یہ دو رکن امریکی تسلط اور اسرائیلی جارحیت ہیں۔

نئی سازش کی بنیاد خطے کی اقوام اور حکومتوں کی نابودی اور انہیں ٹکڑے ٹکڑے کرنے پر استوار ہے:
سید حسن نصراللہ نے تاکید کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کا یہ نیا منصوبہ ماضی کے منصوبوں سے کہیں زیادہ خطرناک اور تباہ کن ہے، کیونکہ اس کی بنیاد ماضی کی طرح خطے کے موجودہ سیاسی نظاموں کے خاتمے اور ان کی جگہ نئے نظام متعارف کروانے پر استوار نہیں بلکہ اس نئے منصوبے میں خطے میں موجود حکومتوں، فوجوں، اقوام اور سیاسی نظاموں کا مکمل خاتمہ اور نابودی شامل ہے۔ لہذا اس نئے منصوبے کا مقصد خطے کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کرنا ہے۔ حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ اسرائیل اس نئے منصوبے کے تحت صرف خطے کو ہی ٹکڑے ٹکڑے نہیں کرنا چاہتا بلکہ خطے میں موجود اقوام اور حکومتوں کو بھی ٹکڑے ٹکڑے کر دینا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل پورے خطے کو ایسے شدید بحران کا شکار کر دینا چاہتے ہیں جس سے نکلنے کیلئے خطے کے لوگ ان کا ہر حکم ماننے کو تیار نظر آئیں، لہذا خطے کے حقیقی دشمن کو ایک نجات دہندہ کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں۔ اس نئے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کیلئے اسرائیل نے خطے میں اسلامی مزاحمت کو نشانہ بنایا ہے۔ اسی طرح اس منصوبے کا ایک اور اہم رکن تکفیریت اور تکفیری گروہ ہیں، جن کا واضح ترین مصداق "داعش" کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔

سید حسن نصراللہ نے کہا کہ ماضی کی طرح اس بار بھی امریکہ اور اسرائیل کے منصوبے کو ناکام بنایا جاسکتا ہے لیکن اس کام کیلئے موثر عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ ہم سب اس حقیقی خطرے کے وجود کو درک کریں اور خود کو اس کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار کریں۔ جو بھی یہ سمجھتا ہے کہ اسے کوئی خطرہ درپیش نہیں، حقیقت سے بہت دور ہے۔ ہمیں کسی قسم کی کمزوری یا خوف کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے۔ ہمیں چاہیئے کہ خطرے کی وسعت کو سمجھتے ہوئے اس کا مقابلہ کرنے کیلئے منصوبہ بندی کریں۔ ہمیں ماضی کے تجربات کی روشنی میں ایسا راستہ اختیار کرنا چاہیئے جس میں کامیابی کا زیادہ امکان پایا جاتا ہے اور شکست خوردہ طریقوں کو ترک کر دینا چاہئے۔ اس خطے میں بیسویں صدی کے آغاز سے اسرائیل جیسی غاصب صہیونیستی رژیم کے قیام سے شدید بحران پایا جاتا ہے۔ ہجرت کرنے والے فلسطینی مسلمانوں نے بھی اس خطرے کو حقیقی معنوں میں درک نہ کیا، لیکن جب 1948ء میں باقاعدہ اسرائیلی ریاست کا اعلان کیا گیا تو بعض اس خطرے کی جانب متوجہ ہوئے لیکن اس کے باوجود 1967ء تک عرب مسلمانوں کی جانب سے کوئی موثر اقدام انجام نہ پایا۔ اس سال کے بعد عرب ممالک نے بچاو کی جنگ کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا۔

حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ یہاں ماضی کے ناکام تجربات کی جانب اشارہ کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں۔ ماضی میں اختیار کئے جانے والے غلط راستوں کا سب سے بڑا نمونہ فلسطینی مسلمانوں کی جانب سے اپنے حقوق کے حصول کیلئے بین الاقوامی برادری پر انحصار کرنا تھا۔ وہ بین الاقوامی اداروں سے یہ امید لگا کر بیٹھ گئے کہ وہ ظالم صہیونیستی رژیم سے انہیں ان کے حقوق دلوائیں گے۔ اسی طرح ان کی ایک اور غلطی عرب لیگ، مشترکہ عربی راہ حل اور او آئی سی جیسی تنظیموں پر انحصار کرنا تھا۔ ہم آج 70 برس سے انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی اداروں سے یہ آس لگائے بیٹھے ہیں کہ وہ ہماری مشکلات حل کروائیں۔ وہ واحد راستہ جسے اسرائیل کا مقابلہ کرنے کیلئے صحیح اور درست قرار دیا جاسکتا ہے مسلح جدوجہد کا راستہ ہے۔ غاصب صہیونیستی رژیم کو اپنی سرزمین سے باہر بھگانے کا واحد طریقہ جہاد اور مسلح جدوجہد ہے۔ یہ وہ کامیاب راستہ ہے جو ہمیں ماضی کے تجربات کی روشنی میں حاصل ہوا ہے اور آج غزہ کے مجاہدین کا انحصار بھی اسی راستے، اپنی قوم اور اپنی طاقت پر ہے۔ غزہ کے غیور فلسطینی مسلمان صہیونیستی دشمن کے سامنے سرتسلیم خم کرنے پر تیار نہیں اور ہم سب دیکھ رہے ہیں کہ یہی صحیح راستہ ہے۔

داعش ایک حکومت میں تبدیل ہوچکی ہے، انکی نظر میں اہلسنت بھی کافر ہیں:
حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے کہا کہ آج تکفیری دہشت گرد گروہ داعش ایک حکومت میں تبدیل ہوچکا ہے اور شام اور عراق کی سرزمین کے وسیع حصے پر قابض ہے، جس کا رقبہ خطے میں پائے جانے والے بعض ممالک سے بھی زیادہ ہے۔ اسی طرح اس گروہ کا قبضہ تیل اور گیس کے وسیع ذخائر پر بھی ہوچکا ہے اور خطے کے بڑے دریا کو بھی اپنے کنٹرول میں لے چکا ہے۔ یہ گروہ پوری طرح مسلح ہوچکا ہے اور بین الاقوامی برادری کی نظروں کے سامنے کھلم کھلا خام تیل بیچنے میں مصروف ہے۔ انہوں نے یہ سوال پیش کیا کہ تکفیری دہشت گرد گروہ داعش خام تیل کن ممالک کو بیچ رہا ہے؟ انہوں نے کہا کہ داعش کے پاس موجود افرادی قوت دنیا کے مختلف حصوں سے آئی ہے۔ یہ گروہ حتی اپنے اتحادیوں کے ساتھ بھی انتہائی ناروا سلوک روا رکھے ہوئے ہے اور مجرمانہ اقدامات انجام دے رہا ہے۔ تکفیری دہشت گرد میڈیا کے سامنے بیگناہ انسانوں کو قتل کرتے ہیں اور ان کے گلے کاٹتے ہیں۔ یہ وحشیانہ اقدامات ان کی جانب سے شروع کی گئی نفسیاتی جنگ کا حصہ ہیں۔ اس تکفیری دہشت گرد گروہ کی زد سے اہلسنت مسلمان بھی محفوظ نہیں اور وہ سنی مسلمانوں کو بھی کافر قرار دیتے ہیں۔

فلسطین سے لے کر خلیج فارس تک تمام مسلمان مذہبی تعصب سے بالاتر ہو کر تکفیریوں کے مقابلے میں متحد ہوجائیں:
سید حسن نصراللہ نے کہا کہ ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ خطے کے بعض ممالک تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کی حمایت میں مصروف ہیں۔ امریکہ بھی اس دہشت گرد گروہ کے ذریعے اپنے سیاسی مفادات حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ میں تمام لبنانی، فلسطینی، عراقی، شامی مسلمانوں اور خلیج عرب ریاستوں کے مسلمان باشندوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ہر قسم کے مذہبی تعصب سے بالاتر ہو کر آپس میں متحد ہوجائیں، تاکہ اس عظیم خطرے کا مقابلہ کیا جاسکے۔ اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ اسے کوئی خطرہ درپیش نہیں تو وہ احمقوں کی جنت میں رہتا ہے اور حتی اپنے گھر والوں کا دفاع کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ کیا تکفیریت اور اسرائیل کا خطرہ صرف حزب اللہ کو ہے یا سب کو ہے؟ کیا یہ خطرہ صرف شیعوں، علویوں، عیسائیوں اور دروزیوں کو درپیش ہے؟ یہ سب کیلئے خطرہ ہیں اور سب سے زیادہ اہلسنت بھائیوں کیلئے خطرہ ہیں۔

خطے میں جاری جنگ، مذہبی جنگ نہیں بلکہ "داعش" کا مقابلہ سب سے ہے:
سیکرٹری جنرل حزب اللہ لبنان نے کہا کہ خطے میں جاری جنگ ایک مذہبی جنگ نہیں بلکہ داعش اور تکفیریت کا نشانہ وہ سب ہیں جو ان کی مخالفت کرتے ہیں۔ یہ دہشت گرد گروہ خطے کی تاریخ کو نابود کرنے کے درپے ہے، لہذا سب کیلئے برابر کا خطرہ ہے۔ ہم سب کو چاہیئے کہ درپیش خطرات کی شدت کو بھانپتے ہوئے مل کر اس کا مقابلہ کرنے کیلئے چارہ جوئی کریں۔ آیا ہمیں اسرائیل کے مقابلے میں حاصل ہونے والے تجربات سے استفادہ کرنا چاہیئے؟ یا بین الاقوامی برادری اور اداروں سے رجوع کرنا چاہیئے؟ جب داعش نے موصل اور بقیہ عراقی شہروں پر قبضہ کیا تو بین الاقوامی برادری کیوں خاموش تماشائی بنی رہی۔؟ جب داعش نے بیگناہ عراقی عیسائیوں کا قتل عام کیا تو بین الاقوامی برادری چپ کیوں رہی؟ میں لبنانی عیسائیوں کو کہوں گا کہ اگر وہ داعش کے مقابلے کیلئے امریکی اور مغربی حکام سے آس لگائے بیٹھے ہیں تو شدید غلطی کا شکار ہیں۔ سید حسن نصراللہ نے کہا کہ جب داعش کے تکفیری دہشت گردوں نے اربیل کی جانب رخ کیا اور امریکی اور مغربی حکام کو اپنے مفادات کیلئے خطرہ محسوس ہوا تو فوراً میدان میں کود پڑے اور اس کے خلاف حملے شروع کر دیئے۔ انہوں نے عراق میں بیگناہ شیعہ، سنی اور عیسائی شہریوں کے قتل عام پر آنکھیں بند رکھیں اور جونہی تکفیری دہشت گرد اربیل کی جانب جانے لگے تو متحرک ہوگئے۔

سید حسن نصراللہ نے کہا کہ خطے میں اتحاد کی تحریک کا آغاز ہوجانا چاہیئے اور خطے کے تمام باشندوں کو چاہئے کہ وہ آپس میں متحد ہو جائیں۔ خطے کو درپیش خطرات سے مقابلہ کرنے کا یہی واحد طریقہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ تکفیری دہشت گروہ داعش قابل شکست ہے لیکن اس کو شکست دینے کا راز اتحاد اور وحدت میں مضمر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس راستے میں اپنی جان تک قربان کرنے کو تیار ہیں۔ بعض افراد ہم سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ شام سے باہر نکل آئیں، میں ان سے کہوں گا کہ کیا شام سے ہمارا انخلاء لبنان کو درپیش خطرات کو ختم کر دے گا؟ بعض کا یہ عقیدہ ہے کہ ہم اپنے ملک میں محصور ہوجائیں تو تمام خطرات ٹل جائیں گے، ایسا ہرگز نہیں۔ اگر داعش شام پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو کیا لبنان کی سرحدیں محفوظ رہیں گی؟ ہم اس وقت بھی دیکھ رہے ہیں کہ تکفیری دہشت گرد لبنانی فوجیوں کو اغوا کرنے کے بعد انہیں ذبح کر رہے ہیں۔ لہذا شام کا دفاع درحقیقت لبنان کا ہی دفاع ہے۔
خبر کا کوڈ : 405249
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب