0
Saturday 20 Sep 2014 22:31

سرکاری ٹی وی پر حملہ کی سازش بےنقاب، پی ٹی وی ملازمین ہی حملہ آور نکلے

سرکاری ٹی وی پر حملہ کی سازش بےنقاب، پی ٹی وی ملازمین ہی حملہ آور نکلے
رپورٹ: ٹی ایچ شہزاد

اسلام آباد میں دھرنے کے شرکاء پر حکومت کی جانب سے الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے پی ٹی وی کی عمارت پر حملہ کر کے وعدہ خلافی کی اور قانون کو ہاتھ میں لیا۔ اس الزام پر دھرنے میں شریک دونوں جماعتوں، پاکستان عوامی تحریک اور پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے اس حملے سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا اور واضح کہا تھا کہ پی ٹی وی کی عمارت پر حملہ کرنے والے ہمارے کارکن نہیں تھے اور نہ ہی ہم نے اپنے کارکنوں کو پی ٹی وی پر حملہ کرنے کی ہدایات دی تھیں۔ دونوں جماعتوں کے قائدین نے پی ٹی وی پر حملے کو حکومتی سازش قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ہمیں بدنام کرنے کی گھناؤنی سازش ہے، اس حملے میں خود حکومتی جماعت مسلم لیگ (ن) شامل ہے اور حملہ کرنے والے مسلم لیگ نون کے ہی گلو بٹ ہیں۔ دونوں جماعتوں کے قائدین نے فوری طور پر موقع پر پہنچنے والی لیگی رہنما ماروی میمن کی آمد کو بھی مشکوک قرار دیا تھا۔

حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی اور پی اے ٹی پر الزامات کا سلسلہ جاری تھا کہ محکمہ داخلہ کیساتھ مشاورت کے بغیر ہی آئی جی اسلام آباد نے پی ٹی وی کے کیمروں سے لی گئی فوٹیج سے حملہ آوروں کی تصاویر لے کر اخبارات میں شائع کروا دیں اور ان کی گرفتاری یا گرفتاری میں مدد دینے والوں کے لئے رقم (انعام) دینے کا اعلان کر دیا گیا۔ آئی جی اسلام آباد سے کہا گیا تھا کہ وہ محکمہ داخلہ کے ساتھ مشاورت کے بعد اخبارات کو اشتہار جاری کریں لیکن آئی جی اسلام آباد نے عجلت میں ہی اشتہار اخبارات کو جاری کر دیا اور محکمہ داخلہ کے ساتھ مشاورت نہیں کی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اخبارات میں شائع ہونے والے ’’ملزمان‘‘ میں اکثریت پی ٹی وی کے ملازمین کی ہے جنہیں یہ ٹاسک دیا گیا تھا کہ کچھ لوگ پی ٹی وی پر حملہ آور ہوں گے تو ان کے ساتھ مل کر آپ نے بھی پی ٹی وی پر حملہ کر کے توڑ پھوڑ کرنی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہی وجہ ہے کہ ’’حملہ آور‘‘ فوراً پی ٹی وی کے حساس کنٹرول رومز تک پہنچ گئے اور پی ٹی وی کی نشریات تک کو بند کر دیا گیا جبکہ حملہ آور اگر پی ٹی آئی یا عوامی تحریک کے ہوتے تو انہیں اس بات کا علم ہی نہیں تھا کہ پی ٹی وی کی نشریات کہاں سے بند ہوتی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی وی کے ملازمین نے ہی وہ سارا ’’کام‘‘ سرانجام دیا جس کا مسلم لیگ نون کی جانب سے انہیں ’’ٹارگٹ‘‘ دیا گیا تھا۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ حملے کے فوری بعد مسلم لیگ نون کے وزراء نے پی ٹی وی پر حملے کو بنیاد بنا کر دھرنوں  کے خلاف بیانات دینا شروع کر دیئے۔ وزراء  کے بیانات میں پائی جانے والے مطابقت نے بھی بھانڈا پھوڑ دیا کہ یہ ایک طے شدہ سکرپٹ کی لائنیں پڑھ رہے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اب محکمہ داخلہ نے اس بات کی انکوائری شروع کر دی ہے کہ آئی جی اسلام آباد نے پی ٹی وی پر حملہ کرنے والوں کی تصاویر شائع کروانے میں عجلت کا مظاہرہ کیوں کیا۔ اس حوالے سے محکمہ داخلہ کے حکام کافی غصے کا شکار ہیں اور پولیس اور محکمہ داخلہ میں اس وقت تناؤ کی کیفیت ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ داخلہ اور مسلم لیگ نون کے کچھ وزراء نے مل کر یہ منصوبہ بندی کی تھی جس کو اب آئی جی اسلام آباد کی جانب سے شائع کروائے جانے والے اشتہارات نے بےنقاب کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق محکمہ داخلہ نے جس مشاورت کا آئی جی اسلام آباد سے کہا تھا اس میں ان تصاویر سے پی ٹی وی کے ملازمین کی تصاویر کو نکال لینا تھا، لیکن حکومت کی بدقسمتی سے وہ تصاویر نہ نکل سکیں اور من و عن اخبارات میں شائع ہو گئیں۔
خبر کا کوڈ : 410727
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے