0
Monday 17 Nov 2014 22:27
آج کی دنیا حقیقی اسلام کے پیغام حریت کی تشنہ ہے

استعماری طاقتیں اپنے تمام تر وسائل کے ذریعے حقیقی اسلام کی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہی ہیں، رہبر انقلاب اسلامی

استعماری طاقتیں اپنے تمام تر وسائل کے ذریعے حقیقی اسلام کی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہی ہیں، رہبر انقلاب اسلامی
اسلام ٹائمز۔ رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ مسلح افواج کی حقیقی طاقت کا لازمہ، جدید ترین ٹریننگ اور ہتھیاروں کا حامل ہونے کے ساتھ ساتھ ایمان، بصیرت، عزم راسخ اور حقیقی معنٰی میں ذمہ داری کے احساس کا حامل ہونا ہے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تہران میں امام علی کیڈٹ کالج میں پاسنگ آوٹ پریڈ سے خطاب میں کہا کہ مسلح افواج کی طاقت کے مسئلے کا نہایت گہرائی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ملک کی مسلح افواج بڑی تعداد، جدید ٹریننگ نیز انہیں پیشرفتہ ہتھیاروں سے مسلح کرنے سے وہ طاقتور نہیں ہوتیں بلکہ ان کے کردار اور سمت و سو پر محرکات، معنویت، عزم نیز ذمہ داری کا ادراک حکفرما ہونا چاہیئے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے آٹھ سالہ دفاع مقدس کے دوران اسلامی جمہوری ایران کی مسلح افواج کی معنوی توانائيوں، علمی اور جدت عمل کی صلاحیتوں اور انکے عزم راسخ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دنیا اسلامی جمہوری ایران کی مسلح افواج پر بھروسہ کرتی ہے اور انہیں سنجیدگی سے لیتی ہے کیونکہ دنیا جانتی ہے کہ جہاں بھی ذمہ داری اور دلاوری کی ضرورت پڑی، وہاں ایران کی مسلح افواج اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں کوئي کسر نہيں چھوڑتیں۔
 
رہبر انقلاب اسلامی کا مزید کہنا تھا کہ آج کی دنیا حقیقی اسلام کے حریت پسند پیغام کی تشنہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمن اور تسلط پسند طاقتیں ہنر، سیاست، فوجی طریقوں اور دیگر تمام تر وسائل و ذرائع سے استفادہ کرکے حقیقی اسلام کی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہی ہیں، لیکن اس کی آواز سنائی دیتی ہے اور اس کی علامت سامراجی طاقتوں کا روزافزون ہراس ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب کے دوسرے حصے میں کہا کہ انسانیت کو ہر زمانے سے زیادہ آج ملت ایران کے اسلامی پیغام کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ تسلط پسند اور توسیع پسند طاقتوں نے، جنہیں حقیقی اسلام کے پیغام کی جاذبیت اور نجات بخشی سے تشویش لاحق ہوچکی ہے وہ دنیا کو اسلام سے ڈرانے کے لئے ہر وسیلے کو استعمال کر رہی ہیں۔ آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے اسلام اور اسلامی حکومت کے نام پر مسلح گروہوں کی تشکیل اور ان گروہوں کے ہاتھوں بے گناہ انسانوں کے قتل عام کو دشمنان اسلام کی اسلاموفوبیا کا ایک نمونہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ انسانیت کے لئے حقیقی اسلام کا پیغام، امن و سکون، سربلندی اور امن و امان کا پیغام ہے اور دشمن یہ نہیں چاہتا کہ قومیں اس پیغام سے آشنا ہوں۔  

دیگر ذرائع کے مطابق اسلامی جمہوری ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے تہران میں امام علی کیڈٹ کالج کی پاسنگ آوٹ تقریب سے خطاب میں مسلح افواج کو کسی بھی ملک کے اقتدار کا بنیادی ستون قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلح افواج کے حقیقی اقتدار کے لئے ایمان، بصیرت، پختہ عزم اور حقیقی ذمہ داری کے احساس کے ساتھ پیشرفتہ ہتھیاروں سے مسلح ہونا اور تربیت یافتہ افراد کی ضرورت ہے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے آج کی دنیا کو حقیقی اسلام کے پیغام حریت کا تشنہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی سامراجی اور منہ زور طاقتیں اپنی فوجی طاقت، ہنر، سیاست اور اپنے دیگر تمام وسائل کے ذریعے حقیقی اسلام کی آواز کو روکنے اور دبانے کی تلاش و کوشش کر رہی ہیں اور سامراجی طاقتوں کا روزافزوں خوف و ہراس اس بات کا واضح ثبوت ہے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے مسلح افواج کے اقتدار کے بارے میں گہری اور غیر سطحی رفتار پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ملک کی مسلح افواج کے اقتدار کا سبب صرف پیشرفتہ ہتھیار، تربیت یافتہ جوان اور فوجیوں کی زیادہ تعداد نہیں ہوتی ہے بلکہ معنوی جذبہ، ذمہ داری کا حقیقی ادراک اور مختلف جہتوں پر گہری نظر حکمفرما ہونی چاہیئے۔

رہبر انقلاب اسلامی اور جمہوری اسلامی ایران کی مسلح افواج کے کمانڈر انچیف نے آٹھ سالہ دفاع مقدس کے دوران ملک کی مسلح افواج کے پختہ عزم، خلاقیت، قدرت، علمی اور معنوی توانائیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج پر دنیا کی گہری نظر ہے اور دنیا ایرانی مسلح افواج کو سنجيدگی سے لے رہی ہے کیونکہ دنیا جانتی ہے کہ جہاں بھی رزم و پیکار اور ذمہ داری کی بات ہوگی، وہاں ایرانی مسلح افواج اپنی تمام توانائیوں کو بروی کار لائے گی۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب کے دوسرے حصہ میں ہر دور سے زیادہ بشریت کے لئے ایرانی قوم کے اسلامی پیغام کی نیاز و ضرورت پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سامراجی اور منہ زور طاقتیں اسلام کے حریت پسند پیغام کو اپنے مفادات کے لئے خطرہ تصور کرتے ہوئے شدید نگراں ہیں اور وہ اسلام کی آواز کو دبانے کے لئے اپنے تمام تر وسائل، سیاست اور ہنر سے استفادہ کر رہی ہیں اور دنیا کو اسلام سے خوفزدہ اور ہراساں کر رہی ہیں۔ آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے اسلام کے نام پر دہشتگرد گروہوں اور نام نہاد اسلامی حکومت کی تشکیل اور ان دہشتگرد گروہوں کے ذریعے بے گناہ افراد کے قتل عام کو اسلام سے ڈرانے اور خوفزدہ کرنے کا دشمنوں کا ایک نیا طریقہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انسایت کے لئے اسلام کا پیغام امن و صلح، عزت اور سربلندی پر مبنی ہے لیکن اسلام کے دشمن نہیں چاہتے کہ قومیں اس پیغام سے آشنا ہوسکیں۔
خبر کا کوڈ : 420077
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب