0
Friday 1 Apr 2011 15:23

فضل الرحمن پر حملوں میں ریمنڈ نیٹ ورک ملوث ہے، جے یو آئی (ف)، کوئٹہ میں مولانا فضل الرحمن پر حملوں کے خلاف شٹر ڈاوٴن ہڑتال

فضل الرحمن پر حملوں میں ریمنڈ نیٹ ورک ملوث ہے، جے یو آئی (ف)، کوئٹہ میں مولانا فضل الرحمن پر حملوں کے خلاف شٹر ڈاوٴن ہڑتال
اسلام آباد:اسلام ٹائمز- جمعیت علماء اسلام (ف) نے مولانا فضل الرحمن پر حالیہ خودکش حملوں کا تعلق دو افراد کے قاتل ریمنڈ ڈیوس اور پاکستان میں متحرک اس کے نیٹ ورک سے قرار دیا ہے۔ اسی اثناء میں پارٹی نے چیئرمین کشمیر کمیٹی کا قلمدان رکھنے والے جے یو آئی (ف) کے سربراہ کو فراہم کردہ حکومتی سکیورٹی پر مکمل عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ اس کے باوجود کہ 2008ء سے "درخواستیں" کی گئیں۔ جے یو آئی کے عہدیداروں نے بتایا کہ پارٹی کو نہ تو ایجنسیوں کی طرف سے کوئی رپورٹ بھیجی گئی نہ ہی مولانا نے دہشت گردوں کی طرف انہیں براہ راست یا بالواسطہ طور پر ملنے والی کسی قسم کی دھمکی کے متعلق بتایا۔ جے یو آئی (ف) کے ایک عہدیدار نے جمعرات کو دی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مولانا پر دو قاتلانہ حملے ریمنڈ کو رہا کرنے کی حکومتی تابعداری اور امریکا کا حقیقی چہرہ عوام کو دکھانے کا ردعمل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مولانا فضل الرحمن کی سکیورٹی بڑھانے کیلئے حکومتی عہدیداروں کو کئی درخواستیں کی گئیں مگر وزیر داخلہ مزید اقدامات کرنے کیلئے تیار نہیں۔
 جے یو آئی (ف) کے جنرل سیکرٹری عبدالغفور حیدری نے کہا  اگر وزیراعظم کے برابر نہیں تو کم از کم رحمن ملک کے برابر سکیورٹی انتظامات تو مولانا کا حق ہے کیونکہ ان کا (مولانا فضل الرحمن کا) نہ صرف پاکستان بلکہ برصغیر میں ایک قد کاٹھ ہے۔ انہوں نے کہا 2008ء میں عام انتخابات کے دوران ایجنسیوں کی رپورٹس کے تحت حکومتی انتباہ کے بعد سے مولانا فضل الرحمن کو زیادہ تر سکیورٹی جے یو آئی (ف) کے کارکن ہی فراہم کر رہے ہیں۔ حیدری نے دعویٰ کیا کہ جب ہم نے صوبہ خیبر پختونخوا میں امریکا اور اپنی موجودہ حکومت کا حقیقی چہرہ دکھانا شروع کیا تو بلیک واٹر ٹائپ ریمنڈ نیٹ ورک اور ہمارے اپنے حکمران باہر آگئے۔ جے یو آئی کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ یہ قاتلانہ حملے ریمنڈ ڈیوس کی حراست اور اس کی رہائی کے بعد مولانا کے موقف پر ردعمل کے سوا کچھ نہیں۔  
اسکے علاوہ دوسری وجہ پہلے روز سے ہماری طرف سے ڈرون حملوں کی مخالفت ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ڈیوس نیٹ ورک اور اس کا ملک، پاکستان یا قبائل علاقوں سے کرائے کے افراد کے ذریعے ان حملوں کے پیچھے کار فرما ہیں اور ذمہ دار ہماری حکومت ہے کیونکہ اس نے اس کے پیچھے ماسٹر مائند ریمنڈ سے متعلق پوری قوم کی رائے کو ایک طرف رکھ دیا۔ جہاں تک دھمکی کا تعلق ہے تو مولانا فضل الرحمن کے گھر اور کئی بار پارٹی دفاتر پر راکٹ حملے ہو چکے ہیں مگر کسی خودکش حملے کی کوشش کی کوئی تازہ ترین اطلاع نہیں تھی۔حیدری نے کہا کہ حکومت نے مولانا کو سکیورٹی فراہم کرنے سے متعلق کبھی توجہ نہیں دی حالانکہ سیاسی پس منظر نہ رکھنے والے اس کے کئی عام وزراء گاڑیوں کے قافلے لئے پھر رہے ہیں۔ ہاں، ہم اس پر یقین رکھتے ہیں کہ کسی صورتحال سے بچنے کیلئے وزیر داخلہ کے برابر سکیورٹی انتظامات کئے جائیں کیونکہ کئی حملوں کے بعد صورتحال مکمل طور پر تبدیل ہو چکی ہے۔
ادھر کوئٹہ اور ملک کے بہت سے دوسرے شہروں میں جمعیت علمائے اسلام ف کے زیراہتمام قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن پر قاتلانہ حملوں کے خلاف شٹرڈاون ہڑتال کی جا رہی ہے جبکہ صوبے بھر میں احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گئے۔ مولانا فضل الرحمن کے قافلے پر چار سدہ میں ہونے والے خودکش حملے کے خلاف کوئٹہ سمیت صوبے بھر میں شٹرڈاون ہڑتال کی جا رہی ہے کوئٹہ میں لیاقت بازار، قندہاری بازار، عبدالستار روڈ، طوغی روڈ اور اس سے ملحقہ علاقوں میں تمام اہم کاروباری مراکز بند ہیں جبکہ ٹریفک بھی معمول سے کم دکھائی دے رہی ہے، اس سلسلے میں تمام سیاسی، مذہبی جماعتوں اور تاجر برادری نے ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ کوئٹہ کے علاوہ ژوب، کچلاک، پشین، قلعہ عبداللہ، چمن، پشین، موسیخیل، مسلم باغ، زیارت اور دیگر علاقوں میں بھی شٹرڈاون ہڑتال کی جا رہی ہے تاہم کسی ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ملی۔ جمعیت قائد جمیعت مولانا فضل الرحمن پر قاتلانہ حملے کے خلاف احتجاجی ریلیاں اور مظاہرے بھی منعقد کرینگے۔

خبر کا کوڈ : 62514
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب