1
0
Wednesday 3 Jul 2019 23:59
مشرق وسطیٰ کو ایران سے نہیں بلکہ اسرائیل سے خطرہ ہے

امریکا ایران پر جنگ مسلط کرے تو پاکستان کو اپنے برادر اسلامی ملک کا ساتھ دینا چاہیئے، قومی کانفرنس

امریکہ اور نیٹو کی اس خطے میں فوجی موجودگی کو ختم کرنے کیلئے سنجیدہ کردار ادا کرنا ہوگا
امریکا ایران پر جنگ مسلط کرے تو پاکستان کو اپنے برادر اسلامی ملک کا ساتھ دینا چاہیئے، قومی کانفرنس
اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے زیراہتمام اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں قومی کانفرنس بعنوان ’’خطے کی بدلتی صورتحال اور پاکستان کا کردار‘‘ کا انعقاد ہوا، جس میں تحریک انصاف، پیپلز پارٹی، مسلم لیگ نون اور عوامی نیشنل پارٹی سمیت ملک کی مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنماﺅں نے شرکت کی۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ خطے میں تناﺅ کی صورت حال اور ممکنہ جنگ کو ٹالنے کیلئے پاکستان اپنا موثر کردار ادا کرے۔ ایشیائی قیادت کو اس خطے کے امن کو یقینی بنانے کے لیے امریکی نفوذ کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ مسلمہ اُمہ کے تنازعات کے حل کے لئے ایک انٹرنیشنل کانفرنس کا انعقاد ہونا چاہیئے، جس کے تحت روڈ میپ تشکیل دیا جا سکے۔

علامہ ناصر عباس نے کہا کہ ڈیل آف سنچری فلسطین پر قبضے کو قانونی شکل دینے کی ایک مذموم سازش ہے، جسے مسترد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا طاقت کے توازن کی ایشیا کی جانب منتقلی امریکہ کے لیے اضطراب کا باعث بنی ہوئی ہے، جسے امریکا روکنے کی سرتوڑ کوشش کر رہا ہے، مسلم امہ کی طاقت کے ٹوٹنے کے نتیجے میں اسرئیل کا ناپاک وجود سامنے آیا۔ اسرائیل کی توسیع پسندانہ پالیسی نے خطے میں مسائل پیدا کئے۔ اسرائیل کی توسیع اس کی بقا کے لیے ضروری ہے، جس کے لئے اس نے خطے میں جنگ کی، لیکن خجالت اٹھانا پڑی، اب ڈیل آف دی سنیچری کے ذریعے اپنے قبضے کو قانونی شکل دینے کی کوشش ہے، تمام فلسطینیوں نے ملکر اس سازش کو اپنے باہمی اتحاد سے ناکام بنا دیا ہے۔

سربراہ ایم ڈبلیو ایم نے کہا کہ ایران کے ساتھ موجود تناﺅ کا اصل سبب بھی ڈیل آف دی سینچری کے خلاف تہران کے اقدامات تھے، جس کی بدولت ڈیل آف دی سینچری ناکام ہوئی۔ موجودہ صورتحال میں پاکستان کو غیر جانبدار رہنے کی بجائے خطے میں ممکنہ جنگ کے خلاف کردار ادا کرنا ہوگا۔ خطے کو امریکی مداخلت سے پاک کیے بغیر امن کا قیام ممکن نہیں۔ گریٹر اسرائیل کے خلاف پاکستان کو واضح موقف اور عملی اقدامات کرنے چاہیئں۔ عالم اسلام کے برادرانہ تعلقات کے لیے پاکستان کا ذمہ دارانہ کردار ہماری نیک نامی کا باعث ہوگا۔ سی پیک کی کامیابی ڈیل آف سینچری کی مخالفت سے ہی ممکن ہے۔ یمن جنگ ختم کرنے کے علاوہ ایران اور سعودیہ کو قریب لانے کے لئے بھی پاکستان کو اپنی کوششیں تیز کرنا ہوں گی۔

وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی نعیم الحق نے کہا کہ پاکستان نہایت نازک دور سے گزر رہا ہے۔ ہماری حکومت نئے انداز میں خارجہ پالیسی کو مرتب کر رہی ہے۔ ہم کسی بھی ملک کی جنگ کے شریک کار نہیں بنیں گے۔ ہندوستان کے ساتھ بات چیت میں کشمیر کا مسئلہ سرفہرست ہے۔ ہندوستان میں کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کی مذمت کرتے ہیں۔ پاک افغان قائدین نے تعلقات میں موجود غلط فہمی دور کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایران کے خلاف امریکی محاذ کی قطعاََ حمایت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کو ایران سے نہیں بلکہ اسرائیل سے خطرہ ہے۔ جب تک مسئلہ فلسطین حل نہیں ہوتا مشرق وسطیٰ کا امن خطرے میں رہے گا۔ چین کے ساتھ تعلقات میں وقت کے ساتھ ساتھ مزید مضبوطی آئی ہے۔ روس کے ساتھ تعلقات کو اہمیت دیتے ہیں اور اس سال کے آخر میں وزیراعظم کی دعوت پر روسی صدر پاکستان تشریف لائیں گے۔ ہماری ساری کوشش خطے میں امن کے لئے ہے۔

سینٹر رحمان ملک نے کہا کہ پورے یروشلم پر اسرائیل کا قبضہ، شام کے علاقے جولان پر اسرائیلی قبضہ، لبنان کے بعض علاقوں پر قبضہ، مغربی کنارے اور بیت المقدس میں یہودی بستیاں بسائی جا رہی ہیں، جو سب غیر قانونی ہیں۔ مشرق وسطیٰ کے امن کے لئے مسلمان اور عرب ممالک کو مکالمہ کرکے میکنزم تیار کرنا ہوگا، امریکا اور نیٹو کی اس خطے میں فوجی موجودگی کو ختم کرنے کے لئے سنجیدہ کردار ادا کرنا ہوگا، جب تک امت مسلمہ متحد نہیں ہوگی، بیرونی جارحیت ہوتی رہے گی۔ مسلم ممالک کے مابین اختلافات کے خاتمے کے لیے پاکستان کو ایٹمی طاقت ہونے کے ناطے بڑے بھائی کا کردار ادا کرنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ محفوظ افغانستان اور ایران محفوظ پاکستان کے لئے ضروری ہے۔

سابق چیئرمین سینٹ سید نیئر بخاری نے کہا کہ خارجہ پالیسی تب ہی موثر ثابت ہوسکتی ہے، جب اس کی تشکیل منتخب نمائندوں کے ذریعے کی جائے۔ مغرب نے ایشیا کو غیر مستحکم کرنے کے لیے مسائل پیدا کیے ہیں۔ ملک میں استحکام لائے بغیر خطے میں استحکام لایا جانا ممکن نہیں۔ سنی اتحاد کونسل کے مرکزی رہنما صاحبزادہ حامد رضا نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے اداروں کی بگڑتی ہوئی صورتحال دیکھ کر یہ کہنا پڑتا ہے کہ ایک ناکام ریاست میں رہ رہے ہیں۔ ہم نے افغانستان میں جو غلطی کی ہے، اس نے نفرتوں کو جنم دیا ہے۔ اپنی غلطیوں کو تسلیم کر لینا اعلیٰ ظرفی ہے۔ ہمیں بحیثیت قوم امریکہ کو یہ پیغام دینا ہوگا کہ ایران ہمارا برادر مسلم ممالک ہے۔ اس پر جارحیت کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔ ایران پر حملے کی صورت میں پاکستان کو اعلانیہ ایران کا ساتھ دینا چاہیئے۔

اے این پی کے میاں افتخار حسین نے کہا کہ پاکستان مضبوط ہوگا تو عالمی امن کے لیے کردار ادا کرسکتا ہے، ہمیں دو رخی پالیسی کو ترک کرکے واضح خارجہ پالیسی دینا ہوگی۔ ماضی میں خطے میں روس اور امریکہ کے مفادات کی جنگ نے پاکستان کو نقصان پہنچایا۔ مسلم لیگ نون کے رہنما طارق فضل چوہدری نے کہا کہ پاکستان کے اندرونی مسائل کو درست کیے بغیر امت مسلمہ کے مسائل کو حل نہیں کیا جا سکتا۔ مسلم لیگ قاف کے رہنما کامل علی آغا نے قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور پاکستان کے عوام میں مثالی بھائی چارہ ہے۔ حکومتوں کو چاہیئے کہ وہ عوامی جذبات کو مدنظر رکھیں۔ سابق سینٹر صفدر عباسی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی ممالک کے حوالے سے ہر حکومت کی پالیسی غیر جانبدار رہی ہے۔ ایران پر کسی قسم کی جارحیت کی صورت میں پاکستان کو ایران کا ساتھ دینا چاہیئے۔

تحریک انصاف کے رہنما اعجاز چوہدری نے کہا کہ پاکستانی قوم بھارت اور افغانستان سمیت کسی سے بھی جنگ نہیں چاہتی، البتہ مقبوضہ کشمیر کا ایشو حل کرنے کے لئے اقوام متحدہ کو اپنا موثر کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے، کشمیریوں پر بھارتی مظالم اور فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کا سلسلہ ختم کروانے کے لئے کوشش کرنا ہوگی۔ یمن کے معاملے پر پاکستان تحریک انصاف نے واضح موقف اپنایا تھا اور پارلیمنٹ میں قرارداد منظور ہوئی تھی، اس خطے کو جنگ میں نہیں دھکیلنا چاہیئے۔ مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی سیکرٹری سیاسیات سید اسد عباس نقوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں قائداعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال کے رہنما اور سنہرے اصول نمایاں کئے جائیں اور عالم اسلام کے تنازعات کے حل کے لئے پاکستانی حکومت قائدانہ کردار ادا کرے۔ قومی کانفرنس میں جماعت اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ، ایم ڈبلیو ایم کے آغا محمد رضا، اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کے صدر خواجہ مدثر، پاکستان عوامی تحریک کے شفیق قادری سمیت اہم سماجی و سیاسی شخصیات نے شرکت کی۔
خبر کا کوڈ : 802979
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

نورسید
Pakistan
امریکہ پاکستان، ایران، ترکی، دیگر تمام اسلامی ممالک اور مسلمانوں کا دشمن ہے۔
ایت الکرسی میں ہمیں طاغوت سے انکار کا حکم ہے اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے کا بھی اللہ نے حکم دے رکھا ہے۔
اگر صرف یہ تین ممالک آپس میں متحد ہوکر دفاعی معاہدہ کر لیں تو اتفاق میں برکت والی جو کہانی ہم سنتے آئے ہیں، اتفاق پر عمل سے بڑے سے بڑا دشمن بھی کچھ نہ کرسکے گا اور اس طرح تمام مسلمان ممالک محفوظ رہیں گے۔ یہاں تک کہ ہمارے دفاعی اتحاد سے ایک مسلم سپر طاقت کا قیام بھی عمل میں آجائےگا۔