1
0
Friday 10 Apr 2020 23:16
تقویٰ الہیٰ تدبیر ہے جسکے مقابلے میں شیطانی تدبیر ہے

جہاں شخصیات مقدس ہو جائیں وہاں نظام فلاپ ہو جاتے ہیں، علامہ سید جواد نقوی

شرک وہ عدم تحفظ ہے جسکے نتیجے میں ہر خطرہ انسان کیطرف بڑھ سکتا ہے
جہاں شخصیات مقدس ہو جائیں وہاں نظام فلاپ ہو جاتے ہیں، علامہ سید جواد نقوی
اسلام ٹائمز۔ تحریک بیداری امت مصطفیٰ اور جامعہ عروۃ الوثقیٰ کے سربراہ علامہ سید جواد نقوی نے مسجد بیت العتیق میں جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو تقویٰ کی دعوت دیتا ہوں، تقویٰ ہی انسانی زندگی کے تقاضے، لوازمات اور ضروریات کو ملحوظ رکھتا ہے، انسان تقویٰ پر رہے تو ہر طرح کی آفات و بلیات سے محفوظ رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تقویٰ الہیٰ تدبیر ہے، جس کے مقابلے میں شیطانی تدبیر ہے، انسان جب الہیٰ تدبیر سے نکلتا ہے تو شیطانی تدبیر اسے گھیر لیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک نسل اگر تقویٰ سے نکل جائے تو آنیوالی نسل شیطانی تدبیر میں چلی جاتی ہے اور اس کا مستقبل غیر محفوظ ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پوری انسانیت میں ایک مایوسی کی کیفیت ہے، یہ اچانک نہیں آئی بلکہ یہ نسلوں کی کوشش ہے، جنہوں نے وارثت میں ہمیں یہ عطا کیا ہے، یہ ہماری نسل نے خود قبول کیا ہے، یہ مایوسی اسے وراثت میں ملی ہے، انسان کی زندگی عدم تحفظ کا شکار ہے۔

انہوں نے کہا کہ شیطانی تدبیر بندگی خدا سے انسان کو باہر لاتی ہے اور باہر لا کر شیطانی نظاموں اور حکمرانوں کی غلامی میں لاتی ہے، انسان اس بندگی خدا سے باہر آیا ہے تو عدم تحفظ کی وادی میں اس نے قدم رکھا ہے، شرک بھی وہی خطر ہے، جس سے قرآن نے انسان کو سب سے زیادہ روکا ہے، شرک وہ عدم تحفظ ہے، جس کے تنیجے میں ہر خطرہ انسان کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شرک ہوگا تو انسان دوسرے معبودوں کے سامنے جھکے گا، شرک کے نتیجہ میں انسان اللہ کے نظام سے باہر آجائے گا، الہیٰ نظام میں قوت کا مرکز اللہ کی ذات ہے جبکہ الہیٰ تدبیر سے نکل جائیں تو اس کے پاس بہت سے نظام آجاتے ہیں، یہ شرک کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسان الہیٰ تدبیر کا پابند رہتا تو آج اس مشکل جیسی صورتحال کا شکار نہ ہوتا۔ آج ٹیکنالوجی کی مدد سے شیطان نے انسان کیلئے پیچیدہ نظام وضع کیا ہے، آج جو اس کی شکل ہے، وہ سرمایہ دارانہ نظام ہے اور سارے اس پر راضی ہیں، مسلمان بھی رضامند اور اس نظام سرمایہ داری پر خوش ہیں۔

علامہ جواد نقوی نے کہا کہ شرک اور بے دینی کے نظام میں بھی کچھ دینی سہولت رکھی جاتی ہے، جیسے ایک قیدی کیلئے ملاقات رکھی گئی ہے، یہ چند لمحوں کی ملاقات ایک قیدی کیلئے بہت بڑا تحفہ ہوتا ہے، سرمایہ داری نظام میں بھی مذہبی رسم کی اجازت ہے، تو انسان سمجھتا ہے کہ وہ اب جنتی ہوگئے ہیں۔ علامہ جواد نقوی کا کہنا تھا کہ انسان تحرک اور فعالیت کی وجہ سے زندہ ہے، جب کوشش اور تحرک روک دیں گے تو یہ انسانی حیات کا خاتمہ ہے، اللہ کی تدبیر میں تعطیل شامل نہیں، اللہ نے ہر اس چیز سے منع کیا ہے، جو سستی لاتی ہیں، یہ سب کچھ مکروہات میں سے قرار دیا گیا ہے، نظام زندگی حرکت میں رہے تو قائم رہتا ہے، نماز جمعہ بھی اہم رکن ہے، نظام جمعہ قائم رہے گا تو معاشرہ فعال رہے گا، جمعہ صرف ثواب کا نام نہیں بلکہ نماز جمعہ آپ کی موجودہ زندگی کے نظم کی استواری کا نام ہے کہ آپ کو تقویٰ اور حیات انسانی کی حفاظتی تدبیر ملے۔

انہوں نے کہا کہ دین اللہ کا ایک تسلسل ہے، ایک ربط ہے، آج کے زمانے میں فقیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ امت کی رہنمائی کریں، انصاف اور عدل کے قیام کیلئے کردار ادا کریں، دین کی جو تشریح کی جاتی ہے، اس سے تو انصاف و عدل کا تقاضا پورا ہی نہیں ہوتا، علامہ اقبالؒ نے بہت سی ایسی باتوں سے پردہ اُٹھایا، جس میں بہت سے سوالات نے جنم لیا، توحید کے بعد خاتمیت ہے تو سوال یہ ہے خاتمیت کے بعد کیا ہے۔؟ انہوں نے کہا کہ شیعہ مطمئن ہے کہ ہمارے پاس امامت ہے، رسول اللہ کی ہجرت کے اڑھائی سو سال بعد سے امامت غیبت میں ہے، اب کون سا راستہ ہے آپ کے پاس؟؟ انہوں نے کہا کہ اب حلقہ متصلہ کیا ہے؟ تشیع کے پاس امامت ہے، لیکن یہ حبل اللہ ایک بار پھر انسانیت کے ہاتھ چھوٹ جاتی ہے، لاپرواہی کی وجہ سے کھو گئے ہیں۔ سب یہ توقع رکھتے ہیں کہ امام مہدی علیہ السلام آئیں گے تو سب کچھ بہتر کر دیں گے۔ شیعہ اور سنی امامت کے معاملے پر متفق ہیں، امامت کے معنیٰ میں سب متفق ہیں، یہ بھی سب مانتے ہیں کہ امامت کا نظام قائم کرنا واجب ہے۔

انہوں نے کہا کہ جمعہ نہ پڑھو، مسجد سجا لو، یہ کیسی سوچ ہے؟ اس معاملے میں دین کی تلافی رسومات سے کی گئی ہے، ہم نے امامت کی تلافی شخصیات سے کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشرق اور مغرب میں ایک فرق ہے، مغرب میں شخصیات ہیں، مگر وہ شخصیت کی پرستش نہیں کرتے، بلکہ نظام کو دیکھتے ہیں، پاکستان میں آئین سب سے مقدس ہے، مگر اسے آمروں نے توڑ دیا، عدالت نے پرویز مشرف کو سزا دی، انہوں نے عدالت کی ایسی تیسی پھیر دی، اگر کوئی یہاں قائداعظم کی توہین کر دے، وہ یہاں زندہ نہیں رہ سکتا، مودی نے انڈیا میں جمہوریت کے پرخچے اُڑا دیئے، مگر وہاں گاندھی کی کوئی توہین کرے تو دیکھیں، گاندھی آئین سے مقدس ہے، جہاں شخصیات مقدس ہو جائیں، وہاں نظام فلاپ ہو جاتے ہیں۔ یہاں شخصیات نظاموں سے بالا تر ہو جاتی ہیں، تشیع نے بھی شخصیات سے امام کی تلافی کی ہے۔
خبر کا کوڈ : 855873
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

Pakistan
کتاب انسان انسان کی تلاش میں
منتخب
ہماری پیشکش