0
Friday 19 Aug 2011 22:19

قیام امن کی خاطر طالبان کے خلاف لڑ رہے ہیں، حکومت امداد نہیں کر رہی، قومی امن لشکر

قیام امن کی خاطر طالبان کے خلاف لڑ رہے ہیں، حکومت امداد نہیں کر رہی، قومی امن لشکر
پشاور:اسلام ٹائمز۔ قومی امن لشکر ادیزئی کے سربراہ دلاور خان نے صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ایک طرف وہ قومی پرچم کے بنانے پر 65 لاکھ روپے تو خرچ کر سکتی ہے تو دوسری طرف ہمیں امداد دینے سے قاصر ہے حالانکہ ہم گزشتہ چار سالوں سے قیام امن کی خاطر طالبان کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اے این پی کے سنیئر صوبائی وزیر بشیر بلور اور وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین حکومت کے بل بوتے پر امن لشکر کی راہ میں روڑے نہ اٹکائیں، وہ اتنا ظلم کریں کہ کل وہ برداشت کر سکے اور واضح کیا کہ اگر اس کے باوجود بھی مجھے کچھ ہوا تو بشیر بلور اور میاں افتخار حسین کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا۔ وہ جمعرات کے روز پشاور پریس کلب میں اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ دلاور خان نے بتایا کہ چار سالوں سے ہم طالبان کے خلاف لڑ رہے ہیں اس بات کا سب کو بخوبی علم ہے کہ یہ ہماری ذاتی جنگ نہیں بلکہ ہم حکومت کیلئے لڑ رہے ہیں مگر افسوس کا مقام ہے کہ ان چار سالوں میں حکومت نے ہمارے ساتھ تھوڑا بہت امداد کرنے کے علاوہ ہمیں بے یار و مددگار چھوڑا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے جو جائز مطالبات ہیں اُن کو ایک عرصہ سے پورا نہیں کیا جا رہا ہے اور ہم اپنے وسائل استعمال کر رہے ہیں، جبکہ لشکر بناتے وقت ہمیں تمام بنیادی سہولیات دینے کے وعدے کیے گئے تھے جس میں حکومت تاحال ناکام ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ علاقہ میں لشکر کی کاروائیوں کے باعث کافی امن قائم ہو گیا ہے صرف ایک ماہ میں تین خودکش حملہ آوروں کو مارا، جس میں جنگریز کمانڈر بھی شامل تھا۔ ان کی ہلاکت سے بھی بڑی حد تک امن آگیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں دلاور خان نے بتایاکہ مطالبات تسلیم نہ ہونے کے باعث بھی ہم لشکر ختم نہیں کریں گے بلکہ میڈیا میں آکر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنائیں گے۔
خبر کا کوڈ : 93013
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب