1
0
Monday 5 Dec 2022 21:07

کیا جمہوری اسلامی ایران تبدیل ہونے جا رہا ہے؟

کیا جمہوری اسلامی ایران تبدیل ہونے جا رہا ہے؟
تحریر: سید انجم رضا

اسلامی جمہوری ایران میں 16 ستمبر سے شروع ہونے والے حالیہ پرتشدد مظاہرے دشمنوں کی چال اور سازش ہیں، جس کا مقصد ایران کی تقسیم، اسلامی نظام کا خاتمہ اور فرقہ وارانہ جنگ کا آغاز تھا، مگر ایرانی حکام کی بصیرت اور مدبرانہ سوچ سے ایران میں تمام مغربی لیبرل اقدار کو اپنے منہ کی کھانی پڑی۔ مہسا امینی کی موت کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال کو امریکی اور مغربی میڈیا نے ایک بڑے "قومی انقلاب" کی شکل میں پیش کرنے کی مذموم کوشش کی۔ اس بار امریکہ کے ساتھ وہ ایران بدر اشرافیہ بھی شامل تھی، جو رضا شاہ پہلوی کے دور میں اپنے مفادات کے بچاؤ کی خاطر مغرب میں بس گئی تھی۔ اس بار ایران میں تبدیلی کے لیے انسانی حقوق اور عورتوں کے حقوق کو استعمال کیا جا رہا ہے، مگر امریکہ کی جانب سے "انسانی حقوق" کی آڑ میں دوسرے ملکوں پر دباؤ ڈالنا اور ان سے جنگ کرنا اقوام عالم کے لیے کوئی نئی بات نہیں ہے۔

مختلف ذرائع ابلاغ پہ شائع ہونے والی خبروں کے مطابق
٭ ایران کی پارلیمان اور عدلیہ اُس قانون پر نظرثانی کر رہی ہیں، جس کے تحت خواتین کے لیے سر ڈھانپنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
٭ ایران کے اٹارنی جنرل جعفر منتظری سے منسوب بیان کہ ملکی عدلیہ اور پارلیمان "حجاب قانون" کا ازسرنو جائزہ لے رہے ہیں۔ محمد جعفر منتظری کا قُم المقدس میں ایک بیان  کہنا تھا: ''پارلیمان اور عدلیہ دونوں ہی مل کر اس مسئلے پر کام کر رہے ہیں کہ آیا اس میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔‘‘ تاہم اسنا نیوز ایجنسی نے یہ نہیں بتایا کہ اس قانون میں کیا تبدیلی کی جا رہی ہے۔
٭ ایران کے سرکاری ٹی وی کا کہنا ہے کہ ایرانی حکومت کی جانب سے اب تک گشت ارشاد کو ختم کیے جانے کی کوئی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی ہے، ان خبروں کی بنیادی وجہ اٹارنی جنرل کا بیان ہے جبکہ اخلاقیات پر عملدرآمد کرنے والی فورس کا عدلیہ سے کوئی تعلق نہیں۔

 مندرجہ بالا خبروں کے بعد ایک عام تاثر قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ شاید جمہوری اسلامی ایران میں احتجاجی مظاہرین نے کوئی بڑی کامیابی حاصل کرلی ہے اور حکومتِ اسلامی نے فسادیوں کے سامنے گھُٹنے ٹیک دیئے ہیں۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔ ذرا اس سارے معاملے پر ہم اگر عادلانہ نظر ڈالیں تو یہ کوئی شکست و فتح کا معاملہ نہیں، بلکہ ایک ریاستی فریم ورک میں غیر مطمئن عناصر کے احتجاجی مظاہرے تھے، جن سے فسادی عناصر نے فائدہ اُٹھانے کی کوشش کی اور منہ کی کھائی اور اب اگر حکومت نے اپنے عوام کی آراء کی روشنی میں ایشوز کو حل کرنے کی سعی کرنا شروع کی ہے تو اسے ایسے دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ایک مذہبی ریاست نے عوامی رائے کو اپنے نظریاتی فریم ورک میں ایڈجسٹ کیا، وہ اس لئے کہ عوام دوست نظریئے اور ریاستیں “عوامی جمہوری معاشرے“ کا مظہر ہوتی ہیں۔

اگر ہم ماضی میں بھی حقیقی جدوجہد کے بعد اپنے نظریئے کی بنیاد پر ریاستی اور حکومتی نظام قائم کرنے والی قوموں کی تاریخ دیکھیں تو معاشرہ سازی کا عمل ارتقائی سفر ہوتا ہے۔
٭ جدوجہد کرنے والی نسل۔
٭ جدوجہد کی کامیابی کے بعد حکومت سازی اور معاشرہ سازی کرنے والی نسل۔
٭ اس نظام کے تحت زندگی بسر کرنے والی تیسری یا چوتھی نسل۔
ہمیشہ تیسری یا چوتھی نسل انقلاب کے اندر ایک نیا انقلاب ہوتی ہے، کیونکہ اُس کا اپنا زمانہ اور حالات ہوتے ہیں، جو جدوجہد کرنے والی نسل سے مختلف ہوتے ہیں۔ ایسے میں فقط معاملہ فہم اور نئی نسل کے تقاضوں کو سمجھنے والی قیادت اور نظریاتی طور پر پختہ قوم ہی اپنے اندر اٹھنے والے ایشوز کو ریسپانس اور حل کرسکتی ہے۔ اسلامی مکتبہ ہائے فکر میں اجتہاد ہی ایک ایسی روشن خیال اپروچ ہے، جو دین کو الہیٰ حکم کے تابع وقت کے بدلتے ہوئے تقاضوں میں ڈھال سکتی ہے۔ جمہوری اسلامی ایران میں نظام ولایت فقیہ نے اسی اجتہادی منہج پر عمل کرتے ہوئے نظام کو محفوظ کیا ہے۔
خبر کا کوڈ : 1028697
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

سید سہیل عابدی
Pakistan
حقائق پر مبنی بہت اعلیٰ تحریر ہے۔ ماشاءاللہ
منتخب
ہماری پیشکش