1
0
Friday 17 Aug 2012 14:12

گمشدہ قبلہ اوّل

گمشدہ قبلہ اوّل
تحریر:سید رضا نقوی

رمضان المبارک کے آخری جمعہ یعنی جمعۃ الوداع کو ايران اور دنيا بھر کے مسلمان روزہ دار ايک بار پھر ساٹھ سال سے زيادہ عرصے سے جاری اسرائيل کے مجرمانہ اقدامات کی مذمت اور فلسطين کے مظلوم عوام کی حمايت ميں اپنی آواز بلند کریں گے۔ عالمی يوم القدس ايران اور دنيا بھر میں ايسے وقت ميں منايا جائے گا کہ جب امام خمينی (رہ) کی تحريک اور ايران کے اسلامی انقلاب سے پيدا ہونے والی اسلامی بيداری کی موجیں پورے عالم اسلام میں پھیل چکی ہیں اور استکبار کے کئی اہم ستونوں کو زمیں بوس کر چکی ہیں اور حريت پسندی اور فلسطين کے مظلوم لوگوں کی حمايت مسلمانوں کی تحريکوں کا مرکزی عنوان بن گيا ہے۔
 
اسرائيل مردہ باد کے نعرے آج ايسے وقت ميں پوری دنيا کے حريت پسندوں کی زبان پر گونج رہے ہيں کہ جب امام خمينی (رہ) کے جانشين آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے مسلمانان جہاں کی بابصیرت رہنمائی کے ذريعے، بيت المقدس کی رہائی اور اسرائيل کی نابودی کو بہت حد تک قريب کرديا ہے، يہی وجہ ہے کہ یوم القدس کے مظاہروں ميں دنيا بھر کے حريت و آزادی کے متوالوں کی بھرپور شرکت جہاں امام خمينی (رہ) کی آواز پر لبيک کہنا ہے وہيں آيت اللہ العظمی خامنہ ای کی دعوت پر بھی لبيک کہنا ہے جو شروع ہی سے مسئلہ فلسطين کو عالم اسلام کا اولين مسئلہ قرار ديتے چلے آئے ہيں۔

آج فلسطین کی غیور ملت نے مزاحمت اور جہاد و شہادت کے جوہر عظیم کی شناخت کرکے عزت و سعادت کا راستہ اختیار کر لیا ہے۔ ارض فلسطین کی آزادی کیلئے ہزاروں قیمتی لوگ اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر چکے ہیں، ان میں عام لوگ بھی ہیں اور تحریک آزادی کے قائدین اور مجاہدین بھی۔ گذشتہ برسوں میں ڈکٹر فتحی شقاقی، شیخ احمد یٰسین، ڈاکٹر رنتیسی اور حماس و جہاد اسلامی کے قائدین کی عظیم قربانیوں نے شجاعت کی جو داستانیں رقم کی ہیں وہ مشعل راہ کا درجہ رکھتی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جو قومیں اپنے مقصد کے حصول کیلئے قربانیاں پیش کرنے اور جانوں پر کھیلنا سیکھ جاتی ہیں، انہیں زیادہ دیر تک غلام اور زیرنگیں نہیں رکھا جاسکتا۔ ویسے بھی ظلم و طاقت کے زور پر کب تک یہ تاریکی چھائی رہے گی۔ جوان اپنی جوانیاں لٹا کر اور مائیں اپنے بچوں کی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے اس تاریکی کو صبح نو میں تبدیل کر کے چھوڑیں گی۔ 

اہم بات یہ ہے کہ ہمارا مقابلہ ایک ایسے دشمن سے ہے جس کے نظریات شیطانی نظریات سے مطابقت رکھتے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ جیسے شیطان مجسم ہوکر ہم سے مقابلے پر اتر آیا ہو۔ ’’ اے اسرائیلیوں تم پر ضروری ہے کہ اپنے دشمنوں کو قتل کرنے میں کبھی نرم نہ پڑو اور ان پر ترس نہ کھائو تاکہ ہم عربی کلچرنام کی چیز ختم کردیں اور اس کے کھنڈروں پر اپنی تہذیب کھڑی کریں، فلسطینی محض کیڑے ہیں جن کو ختم کر دینا چاہیئے۔‘‘ یہ الفاظ اسرائیل کے سابق وزیراعظم منانم بیگن کی کتاب ’’انقلاب‘‘ میں درج ہیں۔ اس ظالم و ستم گر کے مرید آج پوری دنیا میں جمہوریت اور سیکولرازم کی آڑ لے کر صیہونی صحیفے پروٹوکول اور تلمود کی گردان کررہے ہیں۔ اس کی تمہید پر پہلے پروٹوکول کے اندر کہا گیا ہے کہ ’’دنیا کی حکومت کے لئے بہتر نتائج وہ ہوتے ہیں جو تشدد اور دہشت گردی سے حاصل کئے جاتے ہیں نہ کہ اکیڈمک اور علمی بحثوں سے۔‘‘ 

صیہونی غنڈے اس پر پوری طرح سے عمل پیرا ہیں اور اس تشدد اور دہشت گردی سے جو چاہتے ہیں حاصل کرجاتے ہیں۔ حاصل کرنے کی چاہت میں نہ ان کی نظروں میں حقوق انسانی کی پامالیاں کچھ معنی رکھتی ہیں اور نہ اپنی جمہوریت کی دھجیاں اْڑنے کا خطرہ ہوتا ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں انہیں پوچھنے والا کوئی نہیں۔ ساری دنیا کا کنٹرول ان کے ہاتھوں میں ہے اور ورلڈ آرڈر لاگو کرنے والے یہ خود ہیں۔ ان سے کوئی یہ پوچھنے کی ہمت نہیں کرے گا کہ بتائو تم نے عراق میں تیل پر قبضہ کرنے کے لئے کتنے لاکھ لوگوں کو صفحہ ہستی سے مٹادیا۔ تم نے34دن اور رات لبنان پر جدید ٹیکنالوجی اور انتہائی تباہ کن ہتھیاروں سے قہر برپا کر کے بستیوں کی بستیاں تباہ و برباد کردیں۔ 

ان سے یہ نہیں کہا جاتا کہ تم نے بگرام، ابوغریب اور گوانتاناموبے کو مسلمان مردوں اور عورتوں سے بھردیا ہے اور ان پر تشدد کے نت نئے طریقے ایجاد کئے ہیں۔ کبھی مردوں کی داڑھیوں کو ماچس کی تیلی سے جلایا جاتا ہے، کبھی ان چند مسلمانوں کے سامنے قرآن پاک کی توہین کی جاتی ہے اور کبھی عورتوں پر کتے چھوڑ دیتے ہو۔۔۔۔۔۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ اگر ان کی بلی یا کتا، جس کا یہ باضابطہ جنم دن مناتے ہیں، اچانک کسی کار ایکسیڈنٹ میں مارا جائے تو اقوام متحدہ کی دیواریں ہلائی جاتی ہے کہ جمہوریت خطرے میں ہے کیونکہ ’’دہشت گردوں‘‘نے مغربی کتے کو ماردیا ہے مگر ان کی طرف سے کسی ملک کے سارے انسانوں کا قتل کیا جائے تو سارے مغرب کو سانپ سونگھ جاتا ہے۔ ذرائع ابلاغ خاموش ہو جاتے ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔

اب صورتحال ایسی نہیں جیسی پہلے تھی، تبدیلی آچکی ہے اور مزید آنے والی تبدیلیوں کی آہٹ سنائی دے رہی ہے اور دشمن بھی سمجھ چکا ہے اسی لئے بالکل کھل کر سامنے آچکا ہے، آج کس پر آشکار نہیں کہ مسلمانوں کی تمام تر مصیبتوں کا ذمہ دار امریکہ اور اس کے حواری ہیں۔۔۔۔۔خمینی بت شکن نے جب پہلی دفعہ امریکہ کو مورد الزام ٹھہرایا تھا تو کتنے ہی اپنے تھے جنہوں نے اس بات کو محض مفروضہ قرار دیا تھا لیکن آج وہ بھی قائل ہو چکے ہیں۔ بالکل اسی طرح جب امام خمینی (رہ) نے جمعۃ الوداع کو یوم القدس قرار دیا تھا اور دنیا کے ہر مسلمان پر روز قدس اپنے مظلوم فلسطینی بھائیوں پر ہونے والے مظالم پر آواز اٹھانے کو اور غاصب اسرائیل سے اظہار نفرت کو واجب قرار دیا تھا تو کسی کو اندازہ بھی نہیں تھا کہ 365دنوں میں سے ایک دن ہر سال اسرائیل اور امریکہ پر گرنے والا لاغر اور نحیف آوازوں پر مبنی یہ قطرہ ایک دن امریکہ و اسرائیل کو ذلیل و رسوا کردے گا اور تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کرے گا۔۔۔۔۔۔

امام خمینی (رہ) نے یوم القدس منانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ميں قديم الايام سے مسلمانوں كو غاصب اسرائيل كے خطرے سے آگاہ كررہا ہوں۔ آج كل اس نے ہمارے فلسطينی بهائيوں اور بہنوں پر اپنے وحشيانہ حملوں كو مزيد تيز كرديا ہے اور خاص طور پر لبنان كے جنوبی حصہ ميں فلسطينی مجاہدوں كو نابود كرنے كی غرض سے ان كے گهروں پر پے در پے بموں سے حملہ كررہا ہے۔ ميرا تمام مسلمانان عالم اور اسلامی حكومتوں سے مطالبہ ہے كہ اس غاصب اور اس كے حمايتيوں كے ہاتهوں كو ظلم و بربريت سے روكنے كے لئے ايک ہوجائيں اور تمام مسلمين كو دعوت ديتا ہوں كہ ماہ رمضان المبارك كا آخری جمعہ جو ايام قدر ميں سے بهی ہے اور ممكن ہے كہ وہ فلسطينی عوام كی قسمت كے فيصلہ ميں اہم كردار پيش كرے اسے يوم القدس كے عنوان كے تحت انتخاب اور اس دن تقريبات اور ريليوں كی شكل ميں مسلمانوں كے قانونی حقوق كی حمايت ميں مسلمانوں كے بين الاقوامی اتحاد كا اظہار كريں۔ خدائے متعال سے اسلام كی كفر پر فتح و كاميابی كے لئے دعاگو ہوں۔‘‘ (صحيفہ نور ج۸ صفحہ ۲۲۹ )


ایک اور جگہ مسلمانوں کو جگاتے ہوئے اور ظالم کے خلاف قیام کی ترغیب دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ؛ ’’اے مسلمانو اور دنيا كے ستمديدہ لوگو! قيام كرو اور اپنا فيصلہ خود كرو۔ كب تک اسی طرح بيٹھے رہوگے تاكہ تمهارے بارے ميں واشنگٹن يا ماسكو فيصلہ كريں۔ كب تک تمهارا قدس غاصب اسرائيل و امريكی جوتوں سے روندا جائے گا۔ آخر كب تک فلسطين، قدس اور لبنان كی سرزمين اور وہاں كے مظلوم مسلمان ظالموں كے پنجہ ميں جكڑے رہيں اور تم تماشائی بنے رہوگے اور تمهارے بعض حاكمان وقت آگ لگانے والے بنے رہيں۔‘‘ (امام خميني(رہ) كے بيانات سے صحيفہ ج ۱۵ ص ۷۳ )

امام خمینی (رہ) نے مسلمانوں کی سب سے بڑی مصیبت فلسطین کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’ہماری سب سے بڑی مصيبت فلسطين ہے، اسلامی ممالک جب كہ خداداد ذخائر اور دفينوں اور مال و ثروت سے سرشار ہيں ليكن ان كے غلامانہ كردار كے حامل حكام اپنی قوم سے صہيونزم كے ہاتھ پاؤں باندھ دينے اور اغيار كو مداخلت كرنے سے روكنے كی قوت سلب كئے ہوئے ہيں۔‘‘
خاک فلسطین پہ یہودی کا ہے اگر حق
ہسپانیہ پرحق نہیں کیوں اہل عرب کا
مقصد ہے ملوکیت انگلیس کا کچھ اور
قصہ نہیں تاریخ کا یا شہد ورطب کا


اقبال لاہوری نے بھی اسی بات کی طرف اشارہ کیا کہ یہ معاملہ کچھ اور ہے اور امام خمینی (رہ) نے تمام ماجرہ کھلی کتاب کی مانند مسلمانوں کے سامنے کھول کر رکھ دیا۔ امام خمینی(رہ) نے سوئے ہوئے اور غلامی کی زنجیروں میں جکڑے مسلمانوں میں اس بات کا احساس بیدار کردیا کہ انکا قبلہ اوّل گم ہوچکا ہے اور اگر اسے بچانا ہے تو غلامی کی زنجیروں کو توڑنا ہوگا۔۔۔۔ظالم کا ہاتھ روکنا ہوگا۔۔۔۔۔اور اپنے حقوق کیلئے اور مظلوم کی مدد کیلئے کمر بستہ ہونا ہوگا۔ امام خمینی (رہ) نے جس بیج کو بویا تھا آج وہ ایک تناور سایہ دار اور شجر دار درخت بن چکا ہے اور اسکی آبیاری رہبر معظم سید علی خامنہ ای اپنے خون جگر سے کررہے ہیں۔۔۔۔۔یقیناً وہ دن دور نہیں جب مسلمانوں کا گمشدہ قبلہ اوّل دوبارہ آباد ہوگا۔ ظلم کی یہ سیاہ رات جسے اسرائیل کی صورت میں برطانیہ و امریکہ نے دنیا پر مسلط کیا، ایک دن ختم ہو کر رہے گی۔ آج نہیں تو کل دنیا اس ناجائز صیہونی ریاست کے وجود سے پاک ہوگی اور وہ دن کتنا خوبصورت اور خوشگوار ہوگا جب دنیا کے نقشہ سے اسرائیل کا وجود مٹ جائے گا اور ہم سب مل کر ارض مقدس میں قبلہء اول کے اندر نماز ادا کریں گے اور دنیا میں امن و سلامتی کا راج ہوگا اور عالمی یوم القدس بھی قدس میں ہوگا جہاں شہیدوں کو یاد کرکے آزادی کے نغمے گنگنائے جائیں گے۔ (انشاء اللہ)
خبر کا کوڈ : 188224
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ایک دن ختم ہو کر رہے گی۔ آج نہیں تو کل دنیا اس ناجائز صیہونی ریاست کے وجود سے پاک ہوگی اور وہ دن کتنا خوبصورت اور خوشگوار ہوگا جب دنیا کے نقشہ سے اسرائیل کا وجود مٹ جائے گا اور ہم سب مل کر ارض مقدس میں قبلہء اول کے اندر نماز ادا کریں گے اور دنیا میں امن و سلامتی کا راج ہوگا اور عالمی یوم القدس بھی قدس میں ہوگا جہاں شہیدوں کو یاد کرکے آزادی کے نغمے گنگنائے جائیں گے۔ (انشاء اللہ)
منتخب
متعلقہ خبر
ہماری پیشکش