0
Monday 8 Jul 2013 14:11

اسلامک گریٹر مڈل ایسٹ، درپیش چیلنجز اور ان کا حل

اسلامک گریٹر مڈل ایسٹ، درپیش چیلنجز اور ان کا حل
تحریر: ڈاکٹر زہرا صادقی

اسلام ٹائمز- "گریٹر مڈل ایسٹ" کا تصور پہلی بار 12 ستمبر 2002ء کو کولن پاول کی جانب سے پیش کیا گیا جس کا مقصد اقتصادی، سیاسی اور معاشرتی میدان میں اصلاحات انجام دینے میں عرب ممالک کی مدد کرنا تھا۔ اگرچہ عرب ممالک اس منصوبے کے شدید مخالف تھے اور یورپی ممالک بھی اس منصوبے پر اپنے تحفظات لئے ہوئے تھے لیکن نائن الیون کے دہشت گردانہ اقدامات کے بعد امریکہ نے اس منصوبے پر سنجیدگی سے عمل کرنا شروع کر دیا۔ 

اس منصوبے کے تناظر میں یورپی یونین اور امریکہ کے درمیان پائے جانے والے اختلافات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دونوں خطے میں اپنے اپنے سیاسی مفادات کے حصول کیلئے کوشاں ہیں۔ دوسری طرف امریکہ کی جانب سے اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کیلئے اپنائی گئی روش جس میں خطے کے مقامی باشندوں کو بالکل نظرانداز کرتے ہوئے یکطرفہ فوجی اقدامات کا سہارا لیا جا رہا ہے، باعث بنی ہے کہ خطے میں جمہوری عمل کا آغاز معینہ مدت کیلئے تاخیر کا شکار ہو جائے۔

"اسلامی مشرق وسطی" کی اصطلاح پہلی بار 2006ء میں حزب اللہ لبنان کے خلاف 33 روزہ جنگ میں اسرائیل کی عبرت ناک شکست کے بعد استعمال میں لائی گئی۔ اس اصطلاح کا استعمال درواقع اس وقت کی امریکی وزیر خارجہ کی جانب سے "نیو مڈل ایسٹ" کی اصطلاح کے مقابلے میں عمل میں آیا۔ ہم نے اس مقالے میں یہ جائزہ لینے کی کوشش کی ہے کہ آیا "اسلامک گریٹر مڈل ایسٹ" امریکی تصور "گریٹر مڈل ایسٹ" کے مقابلے میں قابل تحقق ہے؟ اور اس منصوبے کو درپیش چیلنجز کیا ہیں اور انکا مقابلہ کیوں کر کیا جا سکتا ہے؟

مقدمہ:
اسلامی مشرق وسطی کے قیام کی صورت میں خطے پر نئی سیاسی فضا حکمفرما ہو جائے گی۔ ایسی صورت میں معاشرے کی تشکیل اور اس کی مدیریت اور انسانی معاشروں میں عدالت، احترام اور آزادی کے قیام کیلئے مکمل طور پر اسلام کا سہارا لیا جائے گا۔ اسلامک مڈل ایسٹ خطے میں موجود آمرانہ حکومتوں کو چیلنج کرنے کے علاوہ خودمختار اسلام پسند حکومتوں کے قیام کا زمینہ فراہم کرے گا اور مغربی جمہوریت کے نسخے پر بھی خط بطلان کھینچ دے گا۔ 

اسی طرح امریکہ سے نفرت اور بیزاری کی شدت میں اضافہ ہو گا اور تسلط پسندی اور جاہ طلبی پر مبنی اس کا حقیقی چہرہ آشکار ہو جائے گا جس کی پوری کوشش ہے کہ خطے کو ایک فوجی بیرک میں تبدیل کر کے اس میں موجود تمام قدرتی وسایل کے ذخائر کو اپنے قبضے میں لے لے۔ 

گریٹر اسلامک مڈل ایسٹ کے قیام کی صورت میں اسرائیل کا جعلی پن بھی کھل کر سامنے آ جائے گا اور خطے کی کوئی حکومت اسے قبول کرنے پر تیار نہیں ہو گی۔ دوسری طرف امریکہ کی جانب سے پیش کردہ "گریٹر مڈل ایسٹ" کا منصوبہ خطے میں امریکی مفادات کے تحفظ کیلئے بنایا گیا ہے جس کا مقصد امریکی مفادات کو درپیش خطرات کا مقابلہ کرنا ہے۔ 
اسلامی مشرق وسطی کا قیام خطے میں ایران کی طاقت میں اضافے اور اس کا عالم اسلام کیلئے ام القری میں تبدیل ہو جانے کا باعث بنے گا جو عالمی استعماری نظام کے مفادات کا نقطہ مقابل تصور کیا جاتا ہے۔ ایسے حالات میں خطے کے ممالک خام تیل کو عالمی استکباری قوتوں کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں اور یہ وہ چیز ہے جو عالمی استعماری نظام کیلئے ایک شدید اسٹریٹجک خطرہ تصور کیا جاتا ہے۔ اسلامک مڈل ایسٹ کے تحقق کی صورت میں ایک طاقتور اسلامی بلاک امریکی من مانی پر مبنی موجودہ ورلڈ آرڈر کو بری طرح دھچکا پہنچانے کی پوزیشن میں آ جائے گا۔ 

دین مبین اسلام کا وسیع ہونا، مشرق وسطی کے خطے کا آئیڈیالوجیک ہونا، مڈل ایسٹ کی جیو اسٹریٹجک پوزیشن، دنیا کے قدرتی وسائل کے 60 فیصد حصے کی اس خطے میں موجودگی، عظیم انسانی قوت، جدید ٹیکنولوجی سے لیس ہونا اور ایسی ہی دوسری خصوصیات اسلامی مشرق وسطی پر مشتمل اسلامی بلاک کو ایک طاقتور بین الاقوامی کھلاڑی میں تبدیل کرنے کیلئے کافی ہیں۔

جدید اسلامی مشرق وسطی کی خصوصیات:
حال حاضر میں خطے کی مسلمان اقوام کی مرکزیت میں اسلامی مزاحمت اور اسلامی بیداری پر مشتمل سوچ تیزی سے زور پکڑ رہی ہے۔ عرب نیشنلزم اور سوشلزم کی بنیاد پر بننے والے منصوبوں کی واضح ناکامی کے بعد خطے میں ایک نظریاتی خلاء وجود میں آ چکا ہے جس کی وجہ سے اسلامی مزاحمت کی سوچ اور تفکر انتہائی تیزی سے پروان چڑھ رہی ہے۔ موجودہ حالات میں خطے کی اقوام اپنی محافظہ کار اور سازباز کی طرف متمایل حکومتوں کی نسبت زیادہ تیزی سے اسلامی تفکر کی جانب گامزن نظر آتی ہیں۔ 

امریکہ اپنے "نیو مڈل ایسٹ" میں اسلامی تفکر کے خاتمے کے منصوبے بنا رہا تھا لیکن خطے میں رونما ہونے والی سیاسی تبدیلیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلمان اقوام کے اتحاد اور مفاہمت کی روشنی میں اسلامی بیداری کی امواج بلند سے بلندتر ہوتی جا رہی ہیں جس کی وجہ سے اسلام پسندی کو ختم کرنے والی سازشیں دم توڑتی نظر آ رہی ہیں۔ 

جدید اسلامی مشرق وسطی کی ایک اور اہم خصوصیت امریکہ کی مخالفت اور اس سے دوری ہے۔ اگرچہ امریکہ کی پوری کوشش تھی کہ ایک ایسا جدید مشرق وسطی معرض وجود میں لائے جو مکمل طور پر اس کے پنجوں میں ہو لیکن حقیقت یہ ہے کہ خطے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ بہت جلد امریکی مداخلت کے خلاف ایک بڑا محاذ وجود میں آنے والا ہے۔ اس بات کا اندازہ امریکی رہنماوں کے دوروں کے دوران برپا ہونے والے عوامی مظاہروں سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ 

اعراب اور اسرائیل کے درمیان جاری امن مذاکرات میں ثالثی کا کردار نبھاتے ہوئے امریکہ کا غیرصادقانہ رویہ اور اسرائیل کی جانب واضح جھکاو اور اس کی بے چون و چرا حمایت اور جمہوریت اور انسانی حقوق سے متعلق دوگانہ معیار اپنائے جانا جس کی ایک واضح مثال حماس کی جمہوری حکومت کو تسلیم نہ کرنا ہے، جیسے اقدامات خطے کے عوام میں امریکہ کی نسبت بدبینی اور عدم اعتماد پیدا ہونے کا باعث بنے ہیں۔ 

دوسری طرف خطے میں اسلام پسند مزاحمتی گروہوں کی طاقت میں اضافہ اور عوام کے دلوں میں ان کی روز بروز بڑھتی ہوئی محبوبیت جدید اسلامی مشرق وسطی کی ایک اور اہم خصوصیت جانی جاتی ہے۔ درحقیقت مشرق وسطی میں جاری سیاسی تبدیلیاں نت نئے سیاسی کھلاڑیوں کے میدان سیاست میں نمودار ہونے کا باعث بنی ہیں جن کی وجہ سے ماضی کی سیاست میں انتہائی بنیادی تبدیلیاں رونما ہوتی نظر آ رہی ہیں۔ وہ ایسے مشرق وسطی کی تلاش میں ہیں جو بیرونی قوتوں کی مداخلت سے آزاد ہو۔ یہ نئے سیاسی کھلاڑی اسلامی تشخص اور مزاحمت کو اپنی شناخت قرار دیتے ہیں اور اسی بنیاد پر اپنے مفادات کا تعین کرتے ہیں۔ 

اسلامک مڈل ایسٹ درحقیقت نیو گریٹر مڈل ایسٹ نامی امریکی اور مغربی منصوبے کا نقطہ مقابل ہے۔ اسلامی مشرق وسطی کی بنیاد "خودمختاری اور استقلال" پر ہے جبکہ گریٹر مڈل ایسٹ پر مبنی امریکی اور مغربی منصوبہ تسلط پسندی اور استعماری اہداف پر مبنی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی مشرق وسطی کے قیام نے مغربی طاقتوں اور خطے میں موجود ان کے کٹھ پتلی حکمرانوں اور رہنماوں کو شدت سے پریشان کر رکھا ہے۔ وہ چیز جس کے مشرق وسطی میں تحقق سے مغربی دنیا انتہائی خوفزدہ ہے یہ ہے کہ خطے کے ممالک اور اقوام مغربی وابستگی سے نکل کر خودمختاری اور آزادی کی جانب گامزن ہو جائیں۔ اور اگر یہ آزادی خواھی اور خودمختاری کی طرف جھکاو اسلامی تشخص کی چاشنی سے بھی ہمراہ ہو تو اس میں مغرب کے ساتھ عالم اسلام کی سالہا سال وابستگی کو ختم کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہو گی۔ عالم اسلام جو بے پناہ اقتصادی اور سیاسی صلاحیتوں اور قابلیتوں سے سرشار ہے دنیا کے تمام دوسرے مکاتب فکر اور مادی نظاموں کو آسانی سے پچھاڑ سکتی ہے۔ 

اسلامی مشرق وسطی کی ایک اور خصوصیت اس خطے میں بسنے والے افراد کی جانب سے مشترکہ مذہبی تشخص جیسے عظیم پوٹینشل کو بروئے کار لانے پر تاکید ہے۔ اس خصوصیت کی بنیاد پر خطے کے ممالک واحد اسلامی تشخص کو اپنا محور بناتے ہوئے گذشتہ تین عشروں سے درپیش چیلنجز اور مغربی استعماری سازشوں کے مقابلے کیلئے آپس میں متحد ہو جائیں گے اور اس طرح خطے کو درپیش جدید ضروریات کو پورا کرنے کیلئے ایک جدید شناخت اور ڈھانچہ منظرعام پر آئے گا۔ 

آج مشرق وسطی کی سرزمین اسلامی تشخص اور اسلامی مزاحمت کی برکت سے ہر دور سے زیادہ طاقتور اور استعماری قوتوں کی مذموم سازشوں کے مقابلے میں کامیابی سے ہمکنار نظر آتی ہے۔ ایران، لبنان، عراق، ترکی، شام، سوڈان، مصر، فلسطین، افغانستان اور پاکستان میں رونما ہونے والی سیاسی تبدیلیوں پر ایک نظر ڈالئے اور اسے گذشتہ صدی کی ستر یا اسی کی دہائی سے موازنہ کر کے دیکھیں۔ ہم واضح طور پر ان قوموں کی جانب سے خودمختاری اور خودکفائی کی جانب حرکت کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔ مشرق وسطی میں اسلامی مزاحمت کے مرکز اور محور نے اسلامی تفکر کی بنیاد پر گریٹر مڈل ایسٹ کے مورچوں کو یکے بعد از دیگرے فتح کر لیا ہے اور اب خطے کی عوام کی مشترکہ ثقافتی اقدار کی بنیاد پر خودمختاری اور آزادی کی طرف گامزن ایک نئے "اسلامی مشرق وسطی" کے قیام کا وقت آن پہنچا ہے۔ 

اسلامی مشرق وسطی کی تشکیل میں درپیش چیلنجز:
1.    امریکی اہداف و مفادات اور مشرق وسطی میں موجود تشخص و اقدار کے درمیان تضاد:
جدید اسلامک مڈل ایسٹ کے قیام میں درپیش چیلنجز کا بڑا حصہ دراصل وہ اہداف ہیں جن کی خاطر امریکہ اور مغربی قوتوں نے گریٹر مڈل ایسٹ کا ناپاک منصوبہ پیش کیا ہے۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ مغربی طاقتوں کی تمام تر موجودہ سازشوں اور منصوبوں کا واحد مقصد خطے میں پیدا ہونے والی اس لہر کو نابود کرنا ہے جو خطے کی مسلمان عوام
کی جانب سے روحانی اور الہی اقدار کے احیاء کی خاطر معرض وجود میں آئی ہے۔ گریٹر مڈل ایسٹ نامی امریکی منصوبے کا اصلی مقصد خطے میں واقع تیل کے ذخائر تک پہنچنا یا یورپی یونین، چین اور روس کو کنٹرول کرنا نہیں بلکہ اس کا حقیقی ہدف خطے کے اسلامی معاشروں کے دینی اعتقادات، اسلامی رویوں اور عادات کو تبدیل کرنا ہے یا دوسرے الفاظ میں یوں کہ سکتے ہیں کہ امریکہ اور مغربی دنیا کی جانب سے بنائی جانے والی ان تمام شیطانی سازشوں کا مقصد دین مبین اسلام کی نابودی ہے۔ 

لہذا امریکی خارجہ سیاست میں "حکومت سازی"، "قوم سازی"، "ثقافت سازی"، اور "مذہب سازی" سے متعلق پائے جانے والے نظریات کو اس ملک کے اصلی ہدف یعنی اسلام جیسے آفاقی دین کو محو کرنا کے تناظر میں دیکھے جانے کی ضرورت ہے۔ 

2.    اسلامی مشرق وسطی کے قیام کو روکنے کیلئے نرم جنگ پر مبنی شیطانی حکمت عملی:
امریکہ، برطانیہ اور صہیونیزم کی منحوس مثلث نے اسلامی مشرق وسطی کے قیام کو روکنے کیلئے پہلے مرحلے میں نرم جنگ پر مبنی شیطانی حکمت عملی تیار کر رکھی تھی۔ اس حکمت عملی کی روشنی میں ان شیطانی قوتوں نے اپنی ساری توجہ خطے میں موجود تمام اسلامی تحریکوں پر دباو ڈالنے اور انہیں دیوار سے لگانے پر مرکوز کر رکھی تھی۔ اس شیطانی مثلث کی کوشش تھی کہ کم از کم وقت میں خطے میں موجود موثر اسلامی گروہوں اور جماعتوں کو شکست سے مواجہ کرتے ہوئے اسلامی مشرق وسطی کے تحقق میں رکاوٹ پیدا کرے۔ فلسطین میں حماس کی جانب سے بھرپور عوامی مینڈیٹ حاصل کرنے کے باوجود اس کو حکومت تشکیل دینے کی اجازت نہ دینا اور حماس حکومت کی راہ میں روڑے اٹکانا اسی شیطانی حکمت عملی کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ 

امریکہ، برطانیہ اور صہیونیزم کی اس شیطانی حکمت عملی کے بری طرح ناکام ہو جانے کے بعد اس شیطانی مثلث نے اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے حماس کی فلسطینی حکومت پر شدید اقتصادی اور سیاسی دباو کا سلسلہ شروع کر دیا تاکہ اسے اسرائیل کی غاصب صہیونیستی رژیم کو تسلیم کرنے پر مجبور کر سکے۔ اس دباو کا مقصد یہ تھا کہ حماس اپنے نعروں اور عوام سے کئے گئے وعدوں کے برخلاف اسرائیل کو تسلیم کرتے ہوئے اس سے مذاکرات کا سلسلہ شروع کر دے تاکہ اس طرح ایک طرف تو حماس اور دوسرے فلسطینی مجاہد گروہوں کے درمیان اختلافات پیدا ہو جائیں اور دوسری طرف جہادی گروہوں کے حوصلے پست کرتے ہوئے حماس حکومت کی سرنگونی کا زمینہ فراہم کر سکیں۔

لبنان میں بھی اس منحوس مثلث کا ایجنڈا اسلامی مزاحمت کی تنظیم حزب اللہ لبنان کو ملک کے اندر گوشہ نشین کرنا تھا۔ اس ایجنڈے کی شروعات 5 دسمبر نامی اس منصوبے کے تحت سابق لبنانی وزیراعظم جناب رفیق حریری کے قتل سے آغاز ہوئیں جس کی منصوبہ بندی اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسی "موساد" نے کی۔ امریکہ نے مرحوم رفیق حریری کے قتل کیس کو دو سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے استعمال کیا۔ ایک طرف شام پر اس قتل میں ملوث ہونے کا الزام لگا کر لبنان سے شامی فوج کے انخلاء کا زمینہ فراہم کیا اور دوسری طرف اس دعوے کی بنیاد پر کہ حزب اللہ لبنان شام سے وابستہ مسلح گروہ ہے، لبنان میں حزب اللہ کی پوزیشن کو کمزور کرنے اور اس ملک میں فرقہ وارانہ تناو اور تصادم ایجاد کرنے کی بھرپور کوششوں میں مصروف ہو گیا۔ اس کے علاوہ لبنان میں حزب اللہ کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ شروع کروا کر حزب اللہ کے غیرمسلح ہو جانے کا مطالبہ سامنے لایا گیا۔ دوسری طرف اسرائیل کی غاصب صہیونیستی رژیم نے بھی اپنی جاسوسی سرگرمیوں میں بے سابقہ اضافہ کرتے ہوئے حزب اللہ کے اعلی عہدیداران کو قتل کرنے کے دہشت گردانہ منصوبوں پر کام کرنا شروع کر دیا۔ 

شام کے بارے میں اس امریکی، برطانوی اور صہیونیستی شیطانی مثلث کا ایجنڈا کچھ یوں تھا کہ لبنان سے شامی فوج کو انخلاء پر مجبور کرنے کے بعد پہلے مرحلے میں ان کی کوشش یہ تھی کہ عبدالحلیم خدام کی مدد کی جائے جو شام میں موجود اپوزیشن اور خفیہ نیٹ ورکس کے ذریعے صدر بشار اسد کی حکومت کا تختہ الٹنے کے منصوبے بنا رہا تھا۔ لیکن پرامن اور سیاسی طریقے سے شام میں بغاوت کے منصوبوں کی ناکامی کے بعد امریکہ اور اس کی حامی قوتوں نے دوسرے مرحلے میں بین الاقوامی سطح پر شام کے خلاف سیاسی دباو بڑھانے اور شام حکومت پر عراق اور لبنان کے اندرونی مسائل میں مداخلت جیسے الزامات لگا کر یہ کوشش کی کہ شام کی خارجہ پالیسیوں میں خاطرخواہ تبدیلیاں لا سکیں۔ 

امریکہ نے عراق میں بھی مذہبی اور قومی فرقہ واریت کو ہوا دینے کی کوشش کی اور وسیع پیمانے پر ملک گیر دہشت گردانہ اقدامات کے ذریعے کوشش کی کہ جہاں تک ہو سکے عراق میں مخلوط حکومت تشکیل نہ پا سکے۔ 

امریکہ، برطانیہ اور صہیونیزم کی اس شیطانی مثلث کی سازشوں کا ایک بڑا اور سب سے اہم حصہ ایران سے متعلق تھا۔ اس شیطانی اتحاد نے اسلامی مشرق وسطی کے قیام کو روکنے کیلئے اپنی توانائیوں کا بڑا حصہ اسلامی جمہوریہ ایران کے سامنے رکاوٹیں کھڑی کرنے میں صرف کیا ہے۔ ان شیطانی سازشوں کی انتہائی واضح مثال ایران کے ایٹمی پروگرام کو متنازعہ بنا کر اسے ایک بین الاقوامی خطرے کے طور پر پیش کرنے کی کوشش ہے۔ امریکہ اور اس کے حواریوں نے دنیا بھر میں اپنے میڈیا نیٹ ورک کے ذریعے ایران کے خلاف یہ زہریلا پروپیگنڈہ شروع کر دیا کہ وہ جوہری ہتھیار تیار کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ لہذا اسی بے بنیاد الزام کے تحت ایران کے جوہری پروگرام کو رول بیک کرنے کی کوشش کی گئی اور ایران کے مسئلے کو اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں بھیج کر اس کے خلاف شدیدترین اقتصادی پابندیاں عائد کر دی گئیں۔ 

3.    اسلامک مڈل ایسٹ کے قیام کو روکنے کیلئے فوجی اقدامات:
امریکہ نے جب دیکھا کہ اس کی تمام شیطانی سازشیں بری طرح ناکامی کا شکار ہوئی ہیں اور وہ گریٹر اسلامک مڈل ایسٹ کی تشکیل کو روکنے میں ناکام ہو رہا ہے تو آخری ہتھکنڈے کے طور پر فوجی اقدامات کا راستہ اپنانے کا فیصلہ کر لیا۔ لہذا اسرائیل کے صہیونیستی رہنماوں کی موجودگی میں وائٹ ہاوس میں برگزار ہونے والی ایک اہم میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ مشرق وسطی میں اپنے سیاسی مفادات کے حصول کیلئے فوج کا استعمال کیا جائے۔ اس میٹنگ کے بعد امریکہ نے ایک عرب ملک میں اپنے کٹھ پتلی عرب حکمرانوں کے ساتھ ایک اہم اجلاس منعقد کیا جس میں انہیں خطے میں ایران اور شیعہ قوتوں کے روز بروز طاقت ور ہونے کے بارے میں بریفنگ پیش کی گئی۔ لہذا اس اجلاس میں امریکہ نے اردن، مصر اور دوسرے ہمسو عرب ممالک کو حماس، حزب اللہ لبنان اور شام کے خلاف فیصلہ کن فوجی کاروائی کرنے کے حوالے سے اعتماد میں لیا۔ 

اس ناپاک منصوبے کا پہلا مرحلہ غزہ پر اسرائیل کے وحشیانہ فوجی حملے کی صورت میں ظاہر ہوا جس کا واحد مقصد غزہ میں حماس حکومت کا خاتمہ اور مجاہدین کو نابود کرتے ہوئے فلسطینی انتفاضہ کو کنٹرول کرنا تھا۔ دوسرے مرحلے میں اسرائیل نے جنوبی لبنان پر دھاوا بول ڈالا جس کا مقصد لبنان حکومت کو مرعوب کرنا، حزب اللہ لبنان کے خلاف مذہبی فرقہ وارانہ اور سیاسی گروہوں کا قیام اور ان کی تقویت اور اسی طرح حزب اللہ لبنان کو غیرمسلح کرنے کیلئے لبنان میں رائے عامہ ہموار کرنا تھا۔ 

غزہ اور لبنان میں کامیابی اس امریکی، برطانوی اور صہیونیستی شیطانی مثلث کو یہ جرات فراہم کر سکتی تھی کہ وہ اپنے ناپاک  منصوبے کے تیسرے مرحلے کو بھی عملی جامہ پہنانے کی کوشش کریں جس کا مقصد شام کو اپنی خارجہ پالیسیوں پر تجدیدنظر کرنے پر مجبور کرنا تھا۔ امریکہ اور اس کی حامی قوتیں شام کو مجبور کرنا چاہتی تھیں کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ شروع کرے۔ اس کے علاوہ تیسرے مرحلے کا مقصد ضرورت پڑنے پر شام کے سیاسی نظام کو تبدیل کرنا تھا۔ 

اس ناپاک منصوبے کا چوتھا مرحلہ عراق سے متعلق تھا۔ امریکہ اور مغربی طاقتوں نے عراق میں زرقاوی کو حذف کرنے کے بعد القاعدہ کا ایک زیادہ شدت پسند دھڑا وہاں فعال کر دیا تاکہ بڑے پیمانے پر دہشت گردانہ اقدامات کے ذریعے عراقی حکومت کی ناکامی کے اسباب فراہم ہو سکیں اور اس طرح عراق جیسے اسلامی ملک کو سیاسی عدم استحکام کا شکار کیا جا سکے۔ 

4. اعتدال پسند اسلام کے تصور کی ترویج:
اسلامی مزاحمت کے حامی گروہوں میں گھسنے کیلئے امریکہ کا ایک اہم اور خطرناک ہتھکنڈہ ترکی جیسا اسلام کا معتدل ماڈل پیش کرنا ہے۔ امریکہ کا یہ ہتھکنڈہ اس کی تمام دوسری سازشوں سے زیادہ موثر ثابت ہوا ہے۔ درحقیقت موجودہ حالات میں امریکہ اور ترکی کا اصلی ہدف مشرق وسطی میں جدید نظم (نیو آرڈر) کے قیام کیلئے اپنی مدنظر اور مطلوبہ جمہوریت کو ایجاد کرنے کی کوشش ہے۔ مشرق وسطی میں اس مطلوبہ اور دلخواہ جمہوریت کا قیام جس کی امریکیوں اور ترک رہنماوں کے نزدیک بہترین مثال وہی ترکی کا ماڈل ہے، نہ فقط خطے میں امریکہ کے دراز مدت مفادات کو یقینی بناتا ہے بلکہ ترکی کو بھی یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ خطے اور دنیا میں اپنا اثرورسوخ بڑھاتے ہوئے زیادہ بہتر سیاسی کردار ادا کر سکے۔ 

امریکہ بھی یہی چاہتا ہے کہ خطے میں ترکی طرز کی جمہوریت نشوونما پائے کیونکہ یہ جمہوریت کا وہ ماڈل ہے جس میں مذہب اور دین کو اہمیت دینے کے ساتھ ساتھ امریکہ کے مطلوبہ سیکولر تفکر کو تحقق پانے میں مدد ملتی ہے۔ اس کے علاوہ سیکولر جمہوریت کا فروغ خطے میں ریڈیکل اور امریکی مفادات کی مخالف سیاسی قوتوں کو بھی ابھرنے سے روکنے میں انتہائی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ 

ترکی سے مربوط ایک اور اہم موضوع خطے میں نیٹو کی موجودگی اور اس ضمن میں ترکی کا مرکزی کردار
ہے۔ ترکی کے نیٹو کے ساتھ انتہائی خوشگوار تعلقات استوار ہیں اور اس نے اب تک خطے اور خاص طور پر افغانستان میں انجام پانے والے نیٹو آپریشنز کی حمایت کی ہے۔ امریکہ نے بھی نیٹو کا ایک اہم رکن ہونے کے ناطے ہمیشہ سے ترکی کے اس رویے کو پسند کیا ہے اور اس کی تعریف کی ہے۔ امریکہ اور ترکی عراق کے بارے میں بھی مشترکہ پالیسیاں رکھتے ہیں۔ ترکی خاص طور پر کردستان کے علاقے میں سیاسی استحکام کا خواہاں ہے۔ 

عرب دنیا میں جنم لینے والی سیاسی تبدیلیوں سے متعلق امریکہ اور ترکی کی پالیسیوں میں بہت حد تک مشابہت اور یکسانی پائی جاتی ہے۔ صرف ایک جگہ پر امریکہ اور ترکی کے درمیان کچھ اختلافات پیدا ہوئے اور وہ جگہ لیبیا تھا۔ ترکی لیبیا میں اپنے اقتصادی مفادات کے پیش نظر اور شمالی افریقہ میں اپنا سیاسی اثرورسوخ بڑھانے کی خاطر لیبیا کے ڈکٹیٹر معمر قذافی کی حمایت میں لگا ہوا تھا لہذا اس نے شروع میں امریکہ اور نیٹو کی جانب سے صدر قذافی کے خلاف کاروائی کی بھرپور مخالفت کی۔ ترکی اور امریکہ کے درمیان اختلافات اس وقت زیادہ شدت اختیار کر گئے جب سیکورٹی کونسل نے 1973ء میں لیبیا کی فضا کو نو فلائی زون قرار دیا اور اس کا مقصد لیبیا کے نہتے عوام کی حفاظت کرنا پیان کیا۔ 

جب مذکورہ بالا قرارداد کی روشنی میں نیٹو فورسز نے لیبیا میں فوجی آپریشن کی کمانڈ سنبھالی تو ترکی نے خود کو ایک دوراہے پر پایا۔ ایک طرف نیٹو کا رکن ملک ہونے کے ناطے اس فوجی آپریشن کی حمایت کے علاوہ ترکی کے پاس کوئی چارہ نہ تھا اور دوسری طرف صدر معمر قذافی کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید بہتر بنانا چاہتا تھا۔ لیکن ترکی آخرکار مارچ 2011ء میں لندن میں منعقدہ نیٹو کانفرنس میں اس فوجی آپریشن کی حمایت کا اعلان کرنے پر مجبور ہو گیا۔ خطے کے باقی ممالک جیسے مصر، تیونس، یمن اور خاص طور پر شام اور بحرین میں جنم لینے والے سیاسی بحران سے متعلق امریکہ اور ترکی میں مکمل یکسوئی اور ہماہنگی پائی جاتی ہے۔ لیکن گذشتہ کچھ عرصے سے ترکی میں جاری ہنگاموں نے رجب طیب اردگان کی حکومت کو شک اور تردید میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ان کی پارٹی انصاف اور ترقی کے نعروں سے برسراقتدار آئی تھی اور اب ان کی حکومت خطے میں پائے جانے والے تمام اہم ایشوز پر امریکہ کی مکمل حمایت کرتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ یہ امر ترک عوام میں شدید غصے اور ناراضگی پیدا ہو جانے کا باعث بنا ہے اور وہ سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ 

5. خطے کے ممالک کو توڑنے کی کوششیں:
اسلامک گریٹر مڈل ایسٹ کے قیام میں درپیش ایک اور بڑا چیلنج جغرافیائی حدود کا تغیر و تبدل ہے۔ اگر امریکہ خطے میں اپنے تمام سیاسی اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو بالکل پہلی عالمی جنگ کے بعد والی صورتحال پیدا ہو جائے گی جب سلطنت عثمانیہ سرنگون ہوئی اور فاتح عالمی قوتوں نے اپنے سیاسی مفادات کے پیش نظر مشرق وسطی کے خطے کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا۔ اس اقدام کا ایک مقصد یہ تھا کہ مستقبل میں سلطنت عثمانیہ جیسی عظیم مسلمان قوت اس خطے میں ابھر کر سامنے نہ آ سکے۔ اسی وجہ سے امریکی اور صہیونیستی "گریٹر مڈل ایسٹ" منصوبے کا ایک اہم حصہ قومی اور مذہبی تعصبات کو ہوا دے کر مشرق وسطی کے بڑے عرب ممالک کو مزید چھوٹے چھوٹے ممالک میں تقسیم کرنا ہے۔ 

درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کیلئے چند راہ حل:
1. اتحاد کے محور کے طور پر توحید کا پرچار۔ اس زمرے میں ضروری ہے کہ اسلامی ممالک کی جانب سے ہر قسم کی ڈپلومیٹک سرگرمیوں کا اصلی مقصد امت واحدہ مسلمہ کا قیام ہو اور ان کی خارجہ پالیسیوں کا مرکز عالمی سطح پر اسلامی اقدار کا احیاء اور اصلاح ہونا چاہئے۔ 

2. مسلم اقوام اور حکمرانوں کی جانب سے دین مبین اسلام کی حقیقی پابندی اور شریعت اسلامی کے تمام پہلووں کو عملی جامہ پہنانے کیلئے سنجیدہ اور موثر کوشش۔

3. مختلف اسلامی فرقوں کے درمیان اتحاد اور وحدت کی فضا قائم کرنے کی کوشش اور دینی، حکومتی اور سیاسی سطح پر گفتگو اور تبادل نظر کے مواقع فراہم کرنا۔

4. امت مسلمہ اور مسلمان اقوام کا دوسرے توحیدی ادیان کے پیروکاروں کے ساتھ ایسے تعاون کا زمینہ فراہم کرنا جس کی بنیاد ظلم و ستم اور شرک کی مختلف شکلوں کا مقابلہ کرنا اور توحیدی عقائد کو دنیا میں پھیلانے پر استوار ہو۔ 

5. مکتب توحید کی روشنی میں امت مسلمہ میں تفرقہ اور فرقہ واریت پیدا کرنے والے ہر عنصر کا مقابلہ کرنا اور اتحاد امت جیسے عظیم ہدف کے راستے میں مختلف رکاوٹوں کو دور کرنا۔ 

6. حقیقی اسلام کی طرف پلٹنے کیلئے عظیم تحریک کا آغاز اور امت اسلامی کو اہلبیت علیھم السلام کے حیات بخش مکتب اور انقلاب اسلامی ایران کے عظیم اہداف سے متعارف کروانا، اسی طرح خرافات اور انحرافات کو دور کرتے ہوئے دین کی حقیقی تعلیمات کو اجاگر کرنا اور دین کی صحیح سمجھ بوجھ کیلئے اجتہادی سوچ اور دینی احکام کے استباط کے طریقہ کار کو واضح کرنا۔ 

7. ہر قسم کے قومی اور نسلی تعصب کا مقابلہ کرنا اور شدت پسندانہ نیشنلزم افکار کو کنٹرول کرتے ہوئے مغربی اقدار کی طرف جھکاو اور رجحانات کا مقابلہ کرنا۔ 

نتیجہ گیری:
"نیو مڈل ایسٹ" کا منصوبہ جو درحقیقت اسی "گریٹر مڈل ایسٹ" منصوبے کی اصلاح شدہ شکل ہے، اسلامی مشرق وسطی کا نقطہ مقابل تصور کیا جاتا ہے۔ نیو مڈل ایسٹ میں مرکزی کردار خطے میں امریکہ کے انتہائی اہم اور اسٹریٹجک اتحادی یعنی اسرائیل کی غاصب صہیونیستی رژیم کو حاصل ہو گا۔ اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کیلئے پہلے مرحلے میں اسرائیل کو ہر ممکن سیکورٹی فراہم کرنا اور خطے میں موجود ایسے ہر قسم کے اسلحے کی نابودی جو اسرائیل کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہو جیسے اہداف چنے گئے ہیں۔ اسی طرح اس منصوبے کے تحت خطے میں موجود تمام ممالک کو مجبور کیا جائے گا کہ وہ اسرائیل کو ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کرتے ہوئے اسرائیل مفادات پر مبنی روڈ میپ کے تحقق کی ضمانت فراہم کریں۔ 

اس منصوبے کی رو سے امریکہ وقتی طور پر مجبور ہے کہ حکومت سازی پر مبنی اپنی پالیسی کو ترک کر دے کیونکہ ایک طرف خطے میں امریکہ کی جانب سے مغربی طرز کی جمہوریت کے قیام کی تمام تر کوششیں اسلام پسند عناصر کے برسراقتدار آ جانے کی وجہ سے بے نتیجہ ثابت ہوئی ہیں اور دوسری طرف مشرق وسطی کے بعض کنزرویٹو عرب ممالک اس خطے میں جمہوریت کے فروغ کو اپنے مفادات کیلئے بڑا خطرہ تصور کرتے ہیں۔ علاوہ ازایں، امریکہ بھی اسی نتیجہ پر پہنچا ہے کہ خطے میں اپنی حامی کنزرویٹو حکومتوں کی تقویت ہی اس کی رفتہ شان و شوکت اور سیاسی اثرورسوخ کو واپس پلٹانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ بالخصوص یہ کہ اردن، سعودی عرب اور مصر پر مشتمل عربی مثلث بھی اسلامی مشرق وسطی کی تشکیل کو خطے میں اپنے مفادات کے خلاف تصور کرتی ہے۔ 

نیو مڈل ایسٹ منصوبے کے ذریعے امریکہ کی کوشش ہو گی کہ وہ خطے میں اسرائیل مخالف قوتوں کو ختم کر دے بالخصوص یہ کہ اس منصوبے کے اہم اہداف میں سے ایک یہ ہے کہ ایران اور اس کے حامی ممالک کو اس حد تک کمزور کر دیا جائے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مرکزیت میں اسلامی مشرق وسطی کا قیام اپنا معنا و مفہوم کھو بیٹھے۔ اس منصوبے کے تحقق کے بعد امریکہ کیلئے خطے میں جدید ٹیکنولوجی کے فروغ اور اٹامک ایران جیسے جدید چیلنجز سے مقابلہ زیادہ مشکل ثابت نہیں ہو گا۔ امریکہ کے مطلوبہ جدید مشرق وسطی کے قیام کی صورت میں خام تیل کی برآمدات اور اس کی قیمت پوری طرح امریکہ کے کنٹرول میں ہو گی تاکہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف خام تیل کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا امکان ہمیشہ کیلئے ختم ہو جائے۔ یاد رہے کہ خام تیل کی قیمت میں ہر ایک ڈالر اضافہ باعث بنتا ہے کہ امریکہ کو اپنی ضرورت پوری کرنے کیلئے سالانہ 4 ارب ڈالر زیادہ خرچ کرنا پڑیں۔ 

نیو مڈل ایسٹ پر مبنی امریکی منصوبے کے تحت عالمی سطح پر دین مبین اسلام کی جانب روز بروز بڑھتی ہوئے رجحان کو کنٹرول کرنے کیلئے دو بڑے ہتھکنڈے پیش کئے گئے ہیں۔ پہلا ہتھکنڈہ "سیکولر اسلام" کی ترویج ہے جس کے ذریعے یہ القاء کیا جا رہا ہے کہ اسلام اور سیاست میں کوئی تعلق نہیں۔ دین ہر انسان کا شخصی معاملہ ہے اور اسے اجتماعی امور میں مداخلت کا کوئی حق نہیں۔ جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ یہ بات قرآن و سنت سے واضح تضاد رکھتی ہے۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مکہ سے مدینہ ہجرت کے بعد پہلی فرصت میں ایک اسلامی حکومت کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے یہودیوں سے معاہدے کئے اور مشرکین مکہ سے جنگ لڑی۔ اگر اسلام کا اجتماعی امور سے کوئی تعلق نہیں اور صرف مسلمانوں کے دلوں میں محدود ہے تو پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دنیا بھر میں اسلامی تعلیمات کے پھیلاو اور اسلام کی حاکمیت کو برقرار کرنے کیلئے خود کو انتی زحمت میں کیوں ڈالا؟

دین مبین اسلام سے مقابلے کا دوسری ہتھکنڈہ امریکہ اور اس کی حامی شیطانی قوتوں بالخصوص برطانیہ کی جانب سے جعلی اور انحرافی فرقوں کی ایجاد ہے جن کی واضح مثالیں برطانوی جاسوسی اداروں کی جانب سے ایران میں بھائیت اور عرب دنیا میں وھابیت جیسے فرقوں کی تشکیل ہے۔ امریکہ نے اب تک گریٹر اسلامک مڈل ایسٹ کے قیام کو روکنے کیلئے ہر ممکنہ ہتھکنڈہ استعمال کیا ہے اور اپنی پوری کوشش کی ہے خطے میں ایک رقیب اسلامی طاقت ابھر کر سامنے نہ آ سکے۔ لیکن خداوند کریم کا ارشاد ہے:

"مکروا و مکر اللہ و اللہ خیر الماکرین" [سورہ آل عمران، آیہ 54]۔
خدا کے دشمن چالیں چلتے ہیں اور خدا بھی ان کے خلاف چالیں چلتا ہے اور خدا بہترین چالیں چلنے والا ہے۔

 
خبر کا کوڈ : 280833
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے