0
Monday 11 Oct 2010 15:46

پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے اسرائیل کا کردار؟

پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے اسرائیل کا کردار؟
تحریر:کرنل (ر) اکرام اللہ
قومی اور بین الاقوامی مختلف اداروں کے سروے کے مطابق 2010ء کے گزشتہ 9 ماہ خودکش دھماکوں اور دہشت گردی کے مختلف واقعات میں پاکستانی شہریوں کی ہلاکتوں کا بدترین دورانیہ ہے۔ ذرائع ابلاغ نے اسے خونی سال کا نام دیا ہے کیونکہ 1200 سے اوپر معصوم شہری ہلاک اور 20 ہزار سے اوپر زخمی ہونے کے علاوہ معیشت کو اربوں روپے کا نقصان ہونے کے علاوہ دہشت گردی نے 18 کروڑ پاکستانی آبادی کا سکون اور نیندیں حرام کر رکھی ہیں۔سب سے بڑھ کر حکومت اپنا اول ترین فرض یعنی شہریوں کی جان کے مال کے تحفظ میں عوام کا اعتماد کھو چکی ہے۔
عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی قیادت میں ایک جنگ جاری ہے لیکن 9/11 میں نیویارک میں ٹوِن ٹاورز کی خوفناک تباہی کے اسباب کا ابھی تک پورا احاطہ نہیں کیا جا سکا،لیکن مجموعی طور پر اس کی ذمہ داری القاعدہ اور افغانستان کے طالبان پر تھوپ دی گئی اور عراق پر امریکہ کے حملہ کے بعد افغانستان کو تختہ مشق بنایا گیا۔القاعدہ کے قائد اسامہ بن لادن اور طالبان کی قیادت ملاعمر ابھی تک گرفتار نہیں ہو سکے اور امریکہ اپنے تمام وسائل کے باوجود ان دونوں دہشت گردی کے عالمی نیٹ ورک کے مرکزی کرداروں کو زندہ یا مردہ پکڑنا تو درکنار ان کو Locate تک کرنے میں ناکام رہا ہے،اور اپنی یہ ذمہ داری پاکستان پر ڈالتے ہوئے امریکہ کی اعلٰی ترین قیادت اس حد تک الزام تراشی کرتی رہی ہے کہ اس نیٹ ورک کے سربراہ پاکستان افغانستان سرحد کے کسی نہ کسی کونے میں چھپے ہوئے ہیں،لیکن ان کی خفیہ ایجنسیاں اور ڈرون حملے ان کی تلاش میں ابھی تک ناکام ہیں۔ 
دہشت گردی کی ایک نئی تحریک ’’تحریک طالبان پاکستان‘‘ کے نام سے فاٹا کے علاقوں میں تربیت پانے کے بعد پاکستان میں سرگرم عمل بتائی جاتی ہے اور عالمی سطح پر ان کو ملاعمر کے افغانستان میں سرگرم عمل طالبان سے علیحدہ گروپ قرار دیا جاتا ہے۔القاعدہ،افغان طالبان اور تحریک طالبان پاکستان کے پیچھے ماسٹر مائنڈ،ٹریننگ،مالی وسائل کون مہیا کرتا ہے اس بارے میں امریکہ اور اس کے اتحادی بشمول نان نیٹو فرنٹ لائن پاکستان کے تمام خفیہ ادارے کسی متفقہ فیصلے پر پہنچ کر اپنے تمام وسائل کے باوجود ان تینوں نیٹ ورک کو ختم کرنے میں کامیابی حاصل نہیں کر سکے۔ایسا کیوں ہے اور عالمی ذرائع ابلاغ سرگرمی کے ساتھ اس کا کھوج لگانے میں کیوں سردمہری کا رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں۔اس کے باوجود کہ اسامہ بن لادن کی موت کے بارے میں کئی دفعہ سوال اٹھائے گئے ہیں،لیکن عالمی طاقتیں واضح جواب نہیں دیتیں،جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا زندہ رکھنا ہی دہشت گردی کے خلاف جنگ کو جاری رکھنے کیلئے ضروری ہے۔اگر اس کو مردہ قرار دے دیا جائے تو پاکستان پر یہ دبائو کیسے جاری رکھا جا سکے گا کہ اسلام آباد اس کو زندہ یا مردہ پکڑنے میں Do More کا مجرم ہے۔
اس حوالے سے امریکہ کے ایک اخبار Veterans Today نے اپنی ستمبر کی اشاعت میں سینئر ایڈیٹر Gordon Duff کے حوالے سے ایک نہایت دلچسپ انکشاف کیا ہے کہ القاعدہ اور تحریک پاکستان طالبان کے پیچھے درحقیقت اسرائیل کی خفیہ ایجنسی Mossad کا گھنائونا کردار ہے،اور موساد کو بھارت کی خفیہ ایجنسی"را" اور امریکہ کی سی آئی اے کی آشیرباد حاصل ہے۔نیوکلیئر پاکستان اسرائیل کیلئے ایک سنگین خطرہ ہے۔ہر وہ طاقت جو فلسطین کی آزادی کی حمایت کرتی ہے اسرائیل کیلئے ناقابل قبول ہے۔اسلئے پاکستان کو کمزور کرنے کیلئے ہر پاکستان دشمن طاقت کو اسرائیل کی حمایت حاصل ہے،جس میں افغانستان کے کرزئی برادران بھی شامل ہیں۔ 
Mr. Gordon Duff کا کہنا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات کی شدت کے پیچھے بھی مندرجہ بالا تمام ایجنسیوں کا براہ راست یا پوشیدہ ہاتھ ہے۔Veterans Today کے مطابق افغانستان میں منشیات کا ایک وسیع نیٹ ورک صدر کرزئی کے بھائی کے کنٹرول میں ہے،جو ان منشیات کو افغانستان سے خفیہ راستوں کے ذریعے بلوچستان میں قائم شدہ مختلف چھوٹی چھوٹی Air Strips تک پہنچایا جاتا ہے۔جہاں سے چھوٹے ہوائی جہازوں کے ذریعے اور بلوچستان کے ساحل سے سٹیم بوٹس کے ذریعے مختلف عالمی منڈیوں تک منشیات کو رسائی حاصل ہے اور اس مذموم کاروبار سے حاصل دولت کو تحریک طالبان پاکستان کے مختلف دہشت گردی کے آپریشن کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔
چنانچہ پاکستان کے مختلف شہروں میں خودکش حملوں اور دہشت گردی کے واقعات میں حالیہ تیزی کے پیچھے اسرائیلی ایجنسی موساد کو ملوث ثابت کرنے کیلئے پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کو زیادہ مستعدی سے کھوج لگانے کا آپریشن کرنا چاہئے۔اس اسرائیلی منصوبے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل کا نہ ہی اسامہ بن لادن یا ملا عمر یا تحریک طالبان پاکستان سے کوئی تعلق ہے اور نہ ان کی دوستی یا دشمنی سے اسرائیل کوئی خطرہ محسوس کرتا ہے،اسرائیل کا اصل ٹارگٹ ہمیشہ سے پاکستان ہے،جس نے روز اول سے فلسطین کی بھرپور حمایت کی ہے اور نیوکلیئر طاقت بن جانے کے بعد پاکستان ہی اسرائیل کی مشرق وسطیٰ میں مرکزی طاقت بن کر ابھرنے کے راستے میں اس کے اردگرد کی عرب طاقتوں ترکی اور ایران کی پشت پناہ بن کر اسرائیل کے مستقبل کے منصوبوں کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔جس کو راستے سے ہٹانا گریٹر اسرائیل کیلئے ضروری ہے۔ 
"روزنامہ نوائے وقت"
خبر کا کوڈ : 39937
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب