0
Sunday 14 Nov 2010 15:20

اُمت مسلمہ کو لسانی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی سازش

اُمت مسلمہ کو لسانی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی سازش
تحریر:قاضی حسین احمد 
انگریزوں کی آمد سے قبل برصغیر ہندو پاک اور افغانستان کی علمی اور دفتری زبان فارسی تھی۔برصغیر میں بڑے بڑے فارسی شعراء پیدا ہوئے،انگریزوں کی آمد کے بعد بھی مدت تک فارسی کی علمی و ادبی حیثیت برقرار رہی۔اسی نوے سال قبل برصغیر میں علامہ محمداقبال رہ جیسا نابغہ روز گار فلسفی اور شاعر پیدا ہوا،جنہوں نے فارسی زبان کو اپنا پیغام امت مسلمہ تک پہنچانے کا ذریعہ بنایا۔یہ فارسی کی برکت ہے کہ اقبال کے فارسی کلام سے اگرچہ پاکستان کی نئی نسل نا آشنا ہے لیکن افغانستان،ایران اور وسط ایشیا میں ان کا پیغام بیداری کی لہر پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے۔
اُمت مسلمہ کو تقسیم کرنے کے لئے انگریزی استعمار نے ایک طرف تو عربی زبان سے سرکاری اداروں میں پڑھنے والے طلبہ کو محروم کر دیا،جو قرآن کی زبان ہے اور جس کے ذریعے عالم اسلام آپس میں مربوط تھا،تو دوسری طرف فارسی کی جگہ انگریزی زبان کو دفتری زبان بنا کر فارسی لکھنے اور سمجھنے والے وسیع علاقے سے برصغیر کے مسلمانوں کا رابطہ منقطع کر دیا۔انگریزوں کے بعد دوسری زبان کے طور پر اردو یا علاقائی زبانوں نے لے لی۔زبان کے مسئلہ کی وجہ سے مشر قی اور مغربی پاکستان اکٹھے نہ رہ سکے۔اُردو کو بھی جو کسی حد تک رابطے کی زبان کے طور پر مغربی پاکستان کو آپس میں جوڑے ہوئے ہے۔مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے اور تعلیمی اداروں میں اس کی جگہ انگریزی لے رہی ہے۔ 
علیحدگی کی سیکولر علاقائی تحریکوں کے ذریعے اُردو کے بارے میں مسلسل پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے کہ ہم میں سے کسی کی زبان نہیں اور ایک اقلیتی طبقے کی زبان کو ملک کی اکثریت پر ٹھونسا جا رہا ہے۔اس کے نتیجے میں پنجابی،پشتو،سندھی اور بلوچی کی بجائے انگریزی کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔جسے سیکھنے میں ہماری عمریں گزر جاتی ہیںلیکن بہت کم لوگوں کو اس پر عبور حاصل ہو سکتا ہے۔ افغانستان میں بھی زمانہ قدیم سے فارسی علمی و ادبی اور دفتری زبان کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔پشتون اکثریت نے کبھی بھی اس پر اعتراض نہیں کیا تھا بلکہ پشتو کو مقامی بول چال کی زبان کے طور پر اختیار کرنے پر قانع تھے۔خود صوبہ سرحد یا خیبر پختونخوا میں علمی اور درسی زبان ہمیشہ فارسی رہی ہے۔
میں نے خود اپنی ابتدائی تعلیم اپنے گھر سے فارسی میں شروع کی۔میرے والد محترم خط و کتابت کے لئے فارسی زبان استعمال کرتے تھے۔ہمارے خاندان میں صدیوں سے قضا کا منصب چلا آیا ہے اور جتنا بھی پرانا ریکارڈ اس وقت ہمارے خاندان کے پاس موجود ہے وہ فارسی زبان میں ہے۔سید احمد شہید رحمتہ اللہ علیہ کے مجاہدین کا قافلہ جو ہندوستان سے قندھار پہنچا اور قندھاری مجاہدین کو ساتھ ملا کر پشاور پہنچا اور کئی سال تک پشاور میں حکومت کی۔انہوں نے فارسی ہی کو مقامی آبادی کے ساتھ رابطے کا ذریعہ بنایا۔
یورپین استعماری طاقتوں نے عربی کے بعد فارسی زبان کو ہدف بنایا تاکہ اُمت مسلمہ کو چھوٹی چھوٹی اکائیوں میں تقسیم کر دیا جائے،اس مقصد کے لئے افغانستان میں پختون نیشنلزم کی تحریک کو ہوا دے کر پشتو اور فارسی کی لڑائی شروع کر دی گئی،حالانکہ محمد ظاہر شاہ اور ان کے والد گرامی محمد نادر خان نے پشتون ہونے کے باوجود فارسی زبان ہی کو دفتری اور علمی زبان کے طور پر اختیار کیا اور افغانستان کو ایک رکھنے کی خاطر فارسی زبان کو اپنی گھریلو زبان بنا دیا اور اس وقت شاہی خاندان میں سے بہت کم لوگ روانی کے ساتھ پشتو بولنے کے قابل ہیں۔افغانستان کے اکثر پشتون قبائل نے فارسی زبان ہی کو اظہار خیال کا ذریعہ بنایا ہے۔
روسی استعمار سے قبل بخارا اور خیوا کی امارتوں کی دفتری زبان بھی فارسی تھی،خود ترکی میں اکثر لوگ فارسی جانتے تھے،مولانا جلال الدین رومی نے اپنا پیغام فارسی زبان میں اس لئے دیا کہ وسط ایشیا،ایران،افغانستان اور برصغیر ہندو پاک کی علمی زبان فارسی تھی۔روسی استعمار نے بخارا اور خیوا کی امارتوں کو توڑ کر پورے وسط ایشیا کو لہجوں کے تھوڑے بہت اختلاف کو بہانہ بنا کر ازبکستان،قازقستان،ترکمانستان،کرغیستان اور آذربائیجان میں تقسیم کر دیا۔حالانکہ یہ سب لوگ ترکی زبان کے مختلف لہجے بولنے والے لوگ ہیں۔روسیوں نے ان کے رسم الخط کو بھی تبدیل کر کے عربی کی بجائے روسی رسم الخط رائج کر دیا۔اب اس پورے علاقے کی رابطے کی زبان فارسی کی بجائے روسی ہے۔
فارسی اور پشتو تعصب کی بنیاد پر اگرچہ افغانستان تو انشاء اللہ تقسیم نہیں ہو گا،لیکن پوری کوشش ہو رہی ہے کہ افغانستان میں یہ تعصب اس قدر شدت اختیار کر جائے کہ دونوں گروہوں کا محبت اور امن کے ساتھ جینا محال ہو جائے۔بلکہ افغانستان کی ایک پختون نیشنلسٹ سیاسی جماعت ”افغان ملت “ کی تو کوشش یہ ہے کہ پختون نیشنلزم اس حد تک زور پکڑ جائے کہ پاکستان اور افغانستان دونوں لسانی بنیادوں پر تقسیم ہو جائیں۔لسانی بنیادوں پر دونوں ممالک کو تقسیم کرنے کی اس تحریک کا راستہ روکنے کے لئے ہم نے افغانستان کی اسلامی تحریک سے مل کر روسی استعمار اور دونوں ممالک کے علیحدگی پسندوں کے خلاف مل کر تحریک کا آغاز کیا تھا۔پاکستانی حکمرانوں کی بے تدبیری کی وجہ سے اتنی کامیاب تحریک کے بعد اب یہ صورت حال ہے کہ افغانستان کے لوگوں کی اکثریت بھارت کو دوست اور پاکستان کو دشمن کی نظر سے دیکھ رہی ہے۔ 
ہم نے امریکی رضا مندی حاصل کرنے کے لئے افغانستان میں اپنے دوستوں کو بھی ناراض کر دیا۔ضرورت اس بات کی ہے کہ افغانستان کے حالات کا بغور جائزہ لے کر پالیسی میں مناسب تبدیلی کی جائے تاکہ پوری قوم کی سالہا سال کی قربانی رائیگاں نہ جائے اور دونوں ممالک کو لسانی بنیادوں پر تقسیم کرنے کا راستہ روک کر مشترک دین،مشترک تاریخ اور مشترک ثقافت کی بنیاد پر دونوں ممالک کو باہم شیر و شکر اور یک جان دو قالب بنا دیا جائے۔
"روزنامہ جنگ"
خبر کا کوڈ : 44078
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب