1
0
Saturday 26 Sep 2015 23:20

قربانی کے جانور۔۔۔ یہ شعائراللہ ہیں یا کوئی تماشا؟

قربانی کے جانور۔۔۔ یہ شعائراللہ ہیں یا کوئی تماشا؟
تحریر: سجاد احمد مستوئی
sajjadahmadmastoi@gmail.com


ہمارے ہاں آج بھی اسلام کے باقی معارف و مفاہیم اور عبادات کی طرح قربانی کا مفہوم  بھی اچھا خاصا مبہم ہے۔ عبادت تو عبادت لوگوں کے لئےخود مفہوم معبود بھی مبہم سی کسی چیز کا نام ہے۔ معبود جسے ہمارے ہاں اللہ تعالٰی کہا جاتا ہے، اس کے نام سے لوگوں کو ڈرایا جاتا ہے۔ مثلاً روزہ رکھو نہیں تو اللہ  عذاب میں ڈالے گا، نماز پڑھو نہیں تو اللہ جہنم کی آگ میں ڈالے گا اور یاد رکھو کہ وہ آگ اس دنیاوی آگ سے ستر گنا زیادہ تیز ہے۔ اللہ کے غضب سے  ڈرو، اللہ سے ڈرتے رہو۔ لوگوں کو اللہ سے اتنا ڈرایا جاتا ہے کہ بہت ساری مسجدیں تو اسی ڈر کی وجہ سے ویران پڑی ہیں۔ روزہ لوگ رکھتے ہیں کہ عذاب سے بچ سکیں، جہنم کی آگ سے بچنے کے لئے نماز پڑھ لیتے ہیں۔ اللہ کا عذاب اور اللہ کا خوف ایک اٹل حقیقت کا نام ہے۔ اس سے کسی مسلمان کو انکار ہی نہیں لیکن ہم نے لوگوں کو اللہ کی اطاعت سمجھانے کے بجائے سارا زور اللہ کا عذاب سمجھانے پر لگایا ہوا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں روزمرّہ کے معاملات اور عبادات انجام دیتے ہوئے دیندار لوگوں کے دماغوں پر اللہ کی اطاعت کے بجائے اس کے عذاب کا خوف چھایا رہتا ہے۔ عذاب وسیلہ تھا اطاعتِ الٰہی تک لانے کے لئے، لیکن ہم نے وسیلے کو ہی ہدف بناکر اس کی تبلیغ کی اور کر رہے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں میڈیا پر بھی جب دینی پروگراموں کو کوریج دی جاتی ہے تو ان میں اللہ کی اطاعت کے بجائے باقی سب کچھ نظر آتا ہے۔ اسی طرح بعض اوقات لوگوں کو معارف دین سمجھانے کے بجائے انہیں خوش گپیوں اور چٹکلوں سے خوش کیا جاتا ہے، ہنسایا جاتا ہے، تاکہ لوگ واہ واہ کریں اور ہمارے پروگراموں کو پسند کریں۔ مثال کے طور پر قربانی اور عید قربان کے پروگراموں کو ہی لیجئے۔ سات ذوالحجہ سے لے کر تیرہ ذوالحجہ تک تمام ٹی وی چینلز کا موضوع بکرا ہوتا ہے۔

بعض اوقات تو قسط وار ڈرامے چلائے جاتے ہیں کہ جن میں بکرا چوری ہو جاتا ہے، پھر خود ہی گھر لوٹ آتا ہے، تو کہیں بچے کی فرمائش پر یا ہمسایئوں سے متاثر ہو کر بکرا منڈی جانا پڑتا ہے، کہیں بکرے کو گلیوں میں گھمایا جاتا ہے، کبھی رشتہ دار بکرا دیکھنے کے لئے گھر آتے ہیں، بکرے کا قد ناپا جاتا ہے، وزن کیا جاتا ہے، فلاں علاقے میں گاموں کے بکرے کا اتنا وزن ہے، رشیدی کا بکرا سب سے زیادہ سفید ہے، کہیں بکرے کے مالک اللہ بخش سے انٹرویو لیا جاتا ہے، بکرا آپ کی اپنی بکری سے ہے یا خریدا ہے، آپ کتنے عرصے سے بکرا شریف کی خدمت کر رہےہو، بکرا کیا کھاتا ہے، چاکلیٹ یا بسکٹ، بکرے کی آخری خواہش کیا ہے؟ بکرے شریف کو اتنا اچھالا جاتا ہے کہ گویا مفہوم قربانی کے ساتھ تمسخر کیا جاتا ہے۔ اسی طرح بات تھوڑی بکرے سے ہٹا کر بیل پر کرتے ہیں۔ قربانی کے لئے لایاگیا بیل تو سکرین کا بے تاج بادشاہ ہوتا ہے۔ اگر  کسی محلے میں بیل چھوٹ جائے تو یہ خبر شہ سرخیوں اور بریکنگ نیوز کی جگہ لے لیتی ہے۔ وقفے وقفے سے بیل کی سروس کی کوریج بھی دی جاتی ہے، پاری خان نے اپنے بیل کو سیف گارڈ صابن اور کلیئر شمپو سے نہلایا، فلاں منڈی میں بیل کی قیمت پانچ لاکھ لگی۔

اب مقامِ فکر یہ ہے کہ یہ قربانی کے جانور ہیں یا مذاق؟ اور یہ شعائراللہ ہیں یا کوئی تماشا؟ اگر ہمارا میڈیا اور ہمارے مبلغین مفہومِ قربانی کو اچھی طرح سمجھاتے تو کیا ہم پھر بھی قربانی کے لئے وقف کئے جانے والے ان جانوروں کے ساتھ یہی کچھ کرتے۔ ہمیں سوچنا چاہیئے کہ آیا اسلام قربانی کے جانوروں کے لئے خاص احترام کا قائل ہے یا نہیں؟ قربانی کے جانوروں کے تقدس و احترام کو بیان کیا ہے یا نہیں؟ مقامِ فکر ہے کہ اللہ تعالٰی ان جانورون کو اپنی نشانی کہتا ہے، یہ اللہ کی نشانیوں اور شعائر میں سے ہیں، جس طرح صفا و مروہ اللہ کے شعائروں میں سے ہیں، جیسے خانہ کعبہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے، اسی طرح قربانی بھی اللہ پر جان نثاری کا نام ہے اور اللہ نے اسے اپنی نشانی قرار دیا ہے۔ جیسے صفا و مروہ یا کعبے میں جا کر کھیلنا ان مقدسات کی توہین ہے،  اسی طرح جو جانور قربانی کے لئے ذبح  کیا جاتا ہے، وہ اللہ کے لئے مختص ہوجاتا ہے، اب وہ مقدس ہے۔ اس کا احترام واجب ہے۔ اس واجب الاحترام اللہ کی نشانی کو ڈھول کی تھاپ پہ لے آنا، گلیوں میں گھمانا، ان کے اردگرد ناچ گانا کرنا یہ سب لغویاتا اور توہین ہے۔

ہمیں سوچنا چاہیے کہ یہ جانور قربانی کے لئے ہے یا ریس کے لئے؟ ہم مسلماں ہیں اور یہ رسم مسلمانی ہے، یہ شعائر اللہ کی عزت ہے یا توہین؟ یہ تمام چیزیں دین اسلام سے ناآشنائی کا نتیجہ ہیں۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ قربانی کا جانور جو حقیقت میں اللہ کی نشانی ہے، ہم اس  کو وہی تقدس و احترام دیں کہ جس کا وہ مستحق ہے۔ قرآن اللہ کی نشانی ہے، کعبہ اللہ کی نشانی ہے، کربلا اللہ کی نشانی ہے، صفا و مروہ اللہ کی نشانی ہیں، مدینہ اللہ کی نشانی ہے، حج اللہ کی نشانی ہے، انبیاء و اولیاء اللہ کی نشانی ہیں، بالکل اسی طرح قربانی کا جانور بھی اللہ کی نشانیوں میں سے ہے، وہ اونٹنی جو کعبے پر قربان کرنے کے لئے مختص ہوجاتی تھی، اللہ نے اسے اپنی نشانی کہا ہے۔ لہذا جس طرح باقی شعائراللہ کا احترام تمام مسلمانوں پر واجب ہے، اسی طرح اس  شعائراللہ یعنی قربانی کے جانور کا احترام بھی ہر مسلمان پر واجب ہے۔ ہمارے معاشرے میں شعائراللہ کا احترام اسی وقت حقیقی معنوں میں ہوسکتا ہے، جب ہم لوگوں کو خواہ مخواہ ڈرانے یا ہنسانے اور واہ واہ کے بجائے ان تک دین کے حقیقی معارف کو واضح اور شفاف طریقے سے پہنچائیں۔
خبر کا کوڈ : 487558
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

سید جہانزیب عابدی
Pakistan
ماشاءاللہ، جزاک اللہ تقبل اللہ