0
Saturday 30 Jul 2016 16:18

ترکی کی خارجہ پالیسی میں اچانک تبدیلی کے پس پردہ عوامل

ترکی کی خارجہ پالیسی میں اچانک تبدیلی کے پس پردہ عوامل
تحریر: علی مصطفوی

ترکی اسرائیل سے کشیدگی کے 6 سال بعد اور روس سے کشیدگی کے 1 سال بعد ان ممالک سے تعلقات کو معمول پر لانے میں کامیاب ہو گیا۔ ترکی کی جانب سے اپنی خارجہ پالیسی میں 180 درجے یو ٹرن لینے کی کیا وجوہات ہیں؟ آیا اس اچانک تبدیل میں اندرونی عوامل کارفرما ہیں یا بیرونی عوامل موثر واقع ہو رہے ہیں؟ ان سوالات کا جواب دینے اور نئی صورتحال کو جانچنے کیلئے اس تبدیلی کی حقیقی وجوہات کو جاننا ضروری ہے۔ یہ تبدیلی اس قدر سادہ بھی نہیں کہ کوئی یہ خیال کرے کہ رجب طیب اردگان نے ولادیمیر پیوٹن کو خط لکھ کر اور ان سے معذرت خواہی کر کے روس کے ساتھ اپنے تعلقات بحال کرنے کا زمینہ فراہم کیا یا ترکی اور اسرائیل کے درمیان معاہدہ انجام پانے کے نتیجے میں ان دونوں ممالک کے تعلقات میں بہبودی حاصل ہو گئی۔

گذشتہ کئی سالوں کے دوران خطے میں عرب اسپرنگ رونما ہونے کے بعد ترکی اپنی خارجہ پالیسی میں بے شمار غلطیوں کا مرتکب ہوا ہے۔ ان غلطیوں کی اصل وجہ ترکی کے سابق وزیراعظم احمد داود اوگلو کے غلط نظریاتی نقطہ نظرات تھے۔ مختلف عرب ممالک میں شدید حالات پیدا ہو جانے اور سلسلہ وار واقعات رونما ہونے خاص طور پر مصر میں اخوان المسلمین کی حکومت تشکیل پا جانے کے بعد ترکی کے سیاسی تھنک ٹینک نے عرب اسپرنگ پر خاص توجہ دینا شروع کر دی۔ لیکن اس توجہ کی بنیاد عارضی واقعات اور سطحی نظر پر استوار تھی۔ اگر خطے میں رونما ہونے والے واقعات کو صحیح انداز میں پرکھا جاتا اور جذبات کی عینک سے حقائق کو نہ دیکھا جاتا تو ترکی کبھی بھی عرب ممالک خاص طور پر اپنے جنوبی ہمسایہ ممالک عراق اور شام سے متعلق اپنی خارجہ پالیسی میں مختصر مدت کی منصوبہ بندی جیسی بڑی غلطی کا مرتکب نہ ہوتا۔ اسی بڑی غلطی کا نتیجہ 27 لاکھ شامی مہاجرین کی وجہ سے پیدا ہونے والے معاشرتی بحران کی صورت میں نکلا ہے۔ اسی طرح ترکی اپنی مسلسل غلطیوں کے باعث شدید معیشتی نقصان، خارجہ پالیسی میں ناکامی اور خطے میں سنہری مواقع ہاتھ سے نکل جانے کا شکار ہوا ہے۔ ترکی نے شام میں صدر بشار اسد کی حکومت ختم کرنے کیلئے داعش، النصرہ فرنٹ، احرار الشام وغیرہ جیسے شدت پسند تکفیری گروہوں کی حمایت جاری رکھی ہوئی ہے۔ ترک حکام شام کے ٹوٹ جانے کے بعد اس کے شمالی علاقوں حلب اور ادلب کا ترکی سے ممکنہ الحاق کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔ اسی طرح ترکی عراق کے شمالی حصے میں ترکمن جنگجووں کی مدد کیلئے اپنی فوج تعینات کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ لہذا ان اقدامات کے باعث ترکی کے مفادات اور شام، عراق اور خطے کے دیگر ممالک کے مفادات میں شدید ٹکراو پیدا ہو گیا ہے جس کے نتیجے میں موجودہ سیاسی صورتحال تبدیل ہو گئی ہیں۔

دوسری طرف دیگر اقوام خاص طور پر کرد قوم کو صحیح انداز میں نہ سمجھنے کے باعث ترکی نے شمالی عراق سے فرات تک ایک کرد ریاست کے قیام کا خطرہ محسوس کیا اور یوں مختلف ممالک پر مبنی محاذ کے علاوہ مختلف اقوام پر مبنی ایک نیا محاذ معرض وجود میں آ گیا۔ ایسے میں شام اور عراق میں غیرملکی دہشت گردوں کی موجودگی اور پراکسی وار کے آغاز اور دیگر عوامل نے خطے میں شدید بحرانی کیفیت پیدا کر رکھی تھی۔ داعش کے تشکیل پانے اور سرگرم عمل ہو جانے کے بعد ترکی نے اس گروہ کو اپنے مالی مفادات اور خام تیل کی اسمگلنگ کیلئے سنہری موقع سمجھا۔ داعش سے مقابلے کیلئے شام میں روسی مسلح افواج کی موجودگی نے ترکی کے تمام منصوبوں پر پانی پھیر دیا۔ اسی دوران 24 نومبر 2015ء کو ترک ایئرفورس کی جانب سے روسی جنگی طیارہ مار گرائے جانے کے باعث روس اور ترکی میں شدید سیاسی تناو پیدا ہو گیا۔ اس واقعے کے بعد روس نے ردعمل کے طور پر ترکی کی معیشت پر دباو ڈالنے کی خاطر اس سے تمام اقتصادی تعلقات منقطع کر لئے۔ روس نے سیاحوں پر ترکی جانے کی پابندی لگانے، روس سے ترک تاجروں کو نکال باہر کرنے اور ترکی سے آنے والی ہر قسم کی درآمدات کو روکنے کے ذریعے ترکی کو شدید اقتصادی دباو کا شکار کر دیا۔ روس کے ان اقدامات کے نتیجے میں ترکی کی سیاحت کی صنعت شدید نقصان کا شکار ہو گئی جبکہ دوسری طرف روس جانے والی برآمدات میں کمی کے باعث زرمبادلہ کم ہو گیا اور قومی فی کس آمدنی 9 ہزار ڈالر سالانہ تک گر گئی۔ اسی طرح ترکی پر بیرونی قرضوں کی مقدار 500 ارب ڈالر سے بھی زیادہ ہو گئی جبکہ یورپی یونین نے بھی ترکی سے خاص تعاون نہیں کیا۔ ان تمام نتائج کی روشنی میں ترکی نے شدید خطرہ محسوس کیا اور روس سے متعلق اپنی خارجہ پالیسی پر نظرثانی کی۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ یورپی ممالک کی جانب سے اقتصادی پابندیوں اور یوکرائن کے بحران کے باعث ترکی سے تعلقات ختم کرنے کا روس کو بھی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ دونوں ممالک ایکدوسرے سے تعلقات کی بحالی چاہتے تھے لیکن صدر ولادیمیر پیوٹن ترکی کی جانب سے روسی جنگی طیارہ گرائے جانے پر معذرت خواہی اور ہلاک ہونے والے پائلٹس کے اہلخانہ کو معاوضہ ادا کئے جانے کے مطالبے پر ڈٹے ہوئے تھے۔ ترک صدر رجب طیب اردگان کی جانب سے روسی صدر کو لکھے گئے خط اور اس میں ہلاک شدہ پائلٹس کے اہلخانہ سے ہمدردی کے اظہار اور انہیں معاوضہ ادا کرنے کے وعدے کے بعد دونوں صدور مملکت میں ٹیلیفونک بات چیت ہوئی اور اس طرح دونوں ممالک میں تعلقات کی بحالی انجام پائی۔ اب یہ طے پایا ہے کہ جولائی کے آخر میں دونوں ممالک کے صدور مملکت ایکدوسرے سے ملاقات بھی کریں گے۔ لیکن یہاں ایک انتہائی اہم نکتے کی طرف توجہ ضروری ہے۔ وہ نکتہ یہ ہے کہ ترکی اور روس کے درمیان تعلقات عین اس وقت بحال ہوئے ہیں جب ترکی اور اسرائیل کے درمیان بھی کشیدہ صورتحال ختم ہوئی ہے اور تعلقات معمول پر آئے ہیں۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے متعلق اپنے مخالفین اور ملک میں موجود اسرائیل مخالف دھڑوں کی تنقید سے بچنے کیلئے فورا ہی روس سے بھی تعلقات بحال کئے ہیں تاکہ اس طرح رائے عامہ کی توجہ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے ہٹا کر روس سے تعلقات کی بحالی کے نتیجے میں ملکی معیشت پر پڑنے والے مثبت نتائج کی طرف مبذول کی جا سکے۔

ترکی اور اسرائیل کے درمیان تعلقات میں کشیدگی 2009ء میں شروع ہوئی۔ گذشتہ 6 سال کے دوران رجب طیب اردگان نے ہمیشہ اسرائیلی حکام کو قاتل کا خطاب دیا۔ ڈیووس کانفرنس میں رجب طیب اردگان اور اسرائیلی صدر شیمون پرز کے درمیان تلخ کلامی اور اسی طرح مرمرہ فلوٹیلا پر اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں 9 ترک شہریوں سمیت دس افراد کی شہادت کے بعد ترک صدر رجب طیب اردگان نے اسرائیل سے تعلقات محدود کر دیے اور تعلقات کی بحالی کیلئے تین بنیادی شرائط پیش کر دیں۔ ایک اسرائیل مرمرہ کشتی پر حملے پر معذرت خواہی کرے، دوسرا اس واقعے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے اہلخانہ کو معاوضہ دے اور تیسرا یہ کہ غزہ کے گرد محاصرہ ختم کیا جائے۔ لیکن گذشتہ تین سالوں کے دوران ترکی اور اسرائیل کے درمیان براہ راست اور بالواسطہ مذاکرات اور امریکی صدر براک اوباما کی جانب سے اسرائیلی حکام پر ترکی سے تعاون کرنے پر زور دینے کے باوجود غزہ کا محاصرہ ختم نہ ہو سکا۔ البتہ امریکی صدر کے اصرار پر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو ترکی سے معذرت خواہی پر تیار ہو گیا۔ دوسری طرف مرمرہ فلوٹیلا پر حملے میں ملوث تمام اسرائیلی فوجی باعزت بری کر دیے گئے۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسرائیل اور ترکی کے درمیان تعلقات کی بحالی کی اصل وجوہات کیا ہیں؟ کیا اسرائیل نے اپنا موقف تبدیل کر لیا ہے یا خطے اور عالمی سطح پر ایسی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں جو ترکی اور اسرائیل کے آپس میں قریب آنے کا باعث بنی ہیں؟ 30 جون 2016ء کے دن ترک وزیراعظم بن علی یلدرم ایک پریس کانفرنس کے ذریعے اعلان کیا کہ اسرائیل کے ساتھ ان کے تعلقات بحال ہو گئے ہیں۔ اسی طرح دونوں ممالک کے درمیان ایک معاہدے پر بھی دستخط کئے گئے ہیں اور اسرائیل نے ترکی سے معذرت خواہی کرتے ہوئے مرمرہ فلوٹیلا واقعے میں جاں بحق افراد کے اہلخانہ کیلئے 21 ملین ڈالر کی رقم بھی مختص کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کا محاصرہ ختم نہیں ہوا اور اس ضمن میں ترک حکومت کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ غزہ میں 200 بیڈ پر مشتمل ایک اسپتال تعمیر کرے اور غزہ میں پانی اور سیویج نظام کی تعمیر کا کام کرے۔ اس کے علاوہ اشدود بندرگاہ کے ذریعے اسرائیلی سیکورٹی اداروں کی زیر نگرانی امدادی سامان غزہ منتقل کیا جائے گا۔ 4 جولائی 2016ء کو امدادی سامان کی پہلی کھیپ اشدود بندرگاہ پر اتاری گئی جس کا وزن 10 ہزار ٹن تھا۔ بظاہر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ بین الاقوامی قانون کی رو سے ترکی سے اسرائیل کی معذرت خواہی کا مطلب یہ ہے کہ اسرائیل نے اپنی غلطیوں کا اعتراف کر لیا ہے لیکن ترکی اور اسرائیل کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے باعث فلسطینی عوام، ان کے اعلی اہداف اور حق کے راستے میں ان کی جدوجہد نظرانداز کر دی گئی ہے۔ ہمیں نہیں بھولنا چاہئے کہ ترکی نیٹو کا رکن ملک ہے جبکہ اسرائیل بھی اقوام متحدہ کا رکن ہے۔ ترکی اور اسرائیل کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے دونوں ممالک میں انٹیلی جنس اور سیکورٹی تعاون تعطل کا شکار ہو گیا تھا جس کے باعث شدت پسند اسلامی گروہوں پر ان کی گرفت کمزور پڑ چکی تھی۔ دوسری طرف کچھ عرصہ قبل ترکی میں ہنگاموں کے تناظر میں اسرائیل کا تصور تھا کہ رجب طیب اردگان کی حکومت زیادہ دیر باقی نہیں رہے گی اور بہت جلد ختم ہو جائے گی۔ لہذا اسرائیل اس انتظار میں تھا کہ نئی حکومت برسراقتدار آنے کے بعد ترکی سے تعلقات بحال کرنے کی کوششوں کا آغاز کرے۔

اگرچہ اسرائیل کی جانب سے ترکی میں بدامنی پھیلانے اور دہشت گرد گروہوں کی حمایت کرنے سے متعلق خبریں میڈیا پر نہیں آتیں لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ ترکی میں پیدا ہونے والے بحرانوں میں اسرائیل براہ راست یا بالواسطہ طور پر ملوث ہے۔ ان تمام حقائق کے پیش نظر اور داعش اور پی کے کے جیسے گروہوں کی جانب سے دہشت گردی کو مدنظر رکھتے ہوئے ترکی نے درپیش بحرانوں پر قابو پانے کا فیصلہ کر لیا لہذا اس مقصد کیلئے روس اور اسرائیل سے کشیدگی ختم کرنے کی ٹھان لی۔ دوسری طرف یورپی ممالک سے تعلقات سرد ہونے اور یورپی یونین میں شمولیت سے مایوسی بھی اس بات کا باعث بنی کہ ترک حکام اپنے ملک کی اسٹریٹجک پوزیشن بہتر بنانے کی کوشش کریں۔ اسی طرح انقرہ کی نظر میں کردوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں بھی ملک کی قومی سلامتی اور خطے کی سیکورٹی کیلئے اہم قرار دی جاتی ہیں۔ ترکی کی نظر میں خطے میں سرگرم شدت پسند اسلامی گروہوں اور کردوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے اور انہیں کنٹرول کرنے میں اسرائیل کا انٹیلی جنس اور سیکورٹی تعاون انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ دوسری طرف خطے میں ایران کا بڑھتا ہوا اثرورسوخ اور تہران اور ماسکو میں بڑھتا ہوا تعاون اور اتحاد بھی اس بات کا باعث بنا کہ ترکی اسرائیل اور روس کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کرے۔ یہاں یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ اسرائیل اور ترکی میں طے پانے والے معاہدہ زیادہ تر فوجی – انٹیلی جنس – سیکورٹی امور پر مشتمل ہے اور سب سے زیادہ اہم یہ کہ ترکی کے راستے اسرائیل سے یورپ تک گیس پائپ لائن بچھانے کے بارے میں بات چیت کا بھی آغاز کر دیا گیا ہے۔

واضح ہے کہ ترکی اور اسرائیل کے درمیان فوجی اور انٹیلی جنس امور میں قریبی تعاون ایران سے متعلق مسائل پر توجہ کے بغیر ممکن نہیں۔ جیسا کہ اسرائیلی وزیر فلاح و بہبود یوآو گالانت نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ ترکی سے سیاسی تعاون پہلے مرحلے پر تل ابیب کیلئے سیکورٹی اور اقتصادی مفادات کا ضامن ہے۔ گالانت نے کہا کہ انقرہ اور تل ابیب کے درمیان معاہدے کا انعقاد ایران کی دہشت گردی کی محدودیت کا باعث بنے گا اور ایران میں مداخلت کیلئے علاقائی اتحاد تشکیل دینے کا زمینہ فراہم کرے گا! دوسری طرف اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے بھی کہا ہے کہ ترکی اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کے اہداف اسٹریٹجک نوعیت ہے ہیں۔ اگر ہم دوسرے پہلو یعنی روس کے ساتھ ترکی کے تعلقات کی بحالی پر بھی توجہ کریں تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ترکی خطے کے مسائل خاص طور پر شام کے مسئلے میں ایران کے اتحادی ملک روس کے ساتھ کیا پالیسی اپنائے گا؟ ترکی کس طرح عمل کرے گا کہ ماسکو – انقرہ – تہران دوستی خدشہ دار نہ ہو؟ ان حالات میں ترکی کیسی پالیسی اپنائے گا کہ اسرائیل بھی اس سے ناراض نہ ہو؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ روس شام کے صدر بشار اسد کا حامی ہے اور داعش کے خلاف جنگ میں شام آرمی کا مکمل ساتھ دے گا۔ دوسری طرف روس اور شام کے درمیان تعاون کو ایران کی حمایت بھی حاصل ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ ترکی جو ابتدا سے ہی صدر بشار اسد کی اقتدار سے علیحدگی پر اصرار کرتا آیا ہے، مستقبل قریب میں اس کے موقف میں تبدیلی نظر آئے گی۔ اس تبدیلی کی ابتدائی علامات عید فطر کی مناسبت سے ترک صدر رجب طیب اردگان کے پیغام میں قابل مشاہدہ ہیں۔ ترکی کے ڈیلی جمہوریت نے 4 جولائی کے ایڈیشن میں ترک صدر کے اس بیان کو شائع کیا کہ: "ہم اسرائیل اور روس کے ساتھ اپنے تعلقات کو فروغ دیں گے۔ گذشتہ ہفتے دونوں جانب سے مثبت اقدامات عمل میں لائے گئے ہیں جس کے باعث تعلقات کا مستقبل روشن ہو گیا ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ مسئلہ شام، دہشت گردی اور خطے میں ایسے بیہودہ بحرانوں کے بارے میں نظرثانی کریں جن کی وجہ سے ہمارے تعلقات منقطع ہو گئے تھے اور ان تعلقات کو دوبارہ بحال کریں"۔

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے ولادیمیر پیوٹن اور رجب طیب اردگان کے درمیان ٹیلیفونک بات چیت کے بعد کہا تھا کہ دونوں ممالک شام کا بحران حل کرنے کیلئے ایکدوسرے سے تعاون کریں گے۔ اسی طرح 3 جولائی کو ترک حکومت نے اعلان کیا کہ روس کے جنگی طیارے داعش کے ٹھکانوں پر ہوائی حملوں کیلئے انجرلیک ہوائی اڈہ استعمال کر سکتے ہیں۔ اس درمیان سب سے زیادہ اہم ایشو ترکی کے راستے اسرائیل سے یورپ گیس و تیل کی ترسیل ہے۔ اس بارے میں ترکی اور اسرائیل کے درمیان تعاون اسرائیل، یونان، ترکی اور حتی مصر کے باہمی تعاون کا زمینہ فراہم کرے گا۔
خبر کا کوڈ : 553460
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب