0
Sunday 4 Dec 2016 23:33

امریکہ، ٹرمپ کے بعد

امریکہ، ٹرمپ کے بعد
تحریر: سعداللہ زارعی

ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی امریکہ کے موجودہ سیاسی نظام اور اس کے مستقبل کے بارے میں ایک بڑا سوالیہ نشان قرار دیا جا رہا ہے۔ ٹرمپ ریپبلکن پارٹی سے وابستہ ہیں جو ڈیموکریٹک پارٹی کے 8 سالہ اقتدار کے بعد امریکی صدر کے طور پر کامیابی سے ہمکنار ہوئے ہیں۔ یوں امریکہ کے 45 ویں صدارتی انتخابات بھی گذشتہ 44 صدارتی انتخابات کی مانند ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان سیاسی رقابت اور انہیں کے صدارتی امیدواروں میں سے ایک کی کامیابی پر مشتمل رہے ہیں۔ خود امریکی عوام کا کہنا ہے کہ حالیہ صدارتی انتخابات میں وہ ایک ایسے دوراہے پر کھڑے تھے جس میں انہیں موجودہ ملکی پالیسیوں کے تسلسل یا ان میں اسٹریٹجک تبدیلی میں سے کسی ایک کو انتخاب کرنا تھا۔ امریکی عوام نے آخرکار اسٹریٹجک تبدیلی کے حق میں ووٹ دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کو چن لیا۔ اس بارے میں چند اہم نکات درج ذیل ہیں:

1)۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی صدارتی مہم کے دوران موجودہ امریکی حکومت اور ماضی میں اپنائی جانے والی ملکی پالیسیوں اور ان کے نتائج کو اس قدر شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا کہ خود ان کی اپنی پارٹی کے بعض معروف سیاسی لیڈران جیسے جارج بش نے اعلان کیا کہ وہ انہیں ووٹ نہیں دیں گے۔ وہ اپنی تقاریر کے دوران ایسے جملے استعمال کرتے تھے جن سے عام افراد شدید متاثر ہو جاتے تھے لہذا ان کے ایسے مخالفین جن کے پاس امریکی سیاسی نظام پر ٹرمپ کے اعتراضات کا منطقی جواب نہیں ہوتا تھا وہ انہیں populism پر مبنی سیاست کرنے کا الزام عائد کرتے تھے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی اسٹیبلشمنٹ کے بعض حصوں کی مخالفت کے باوجود صدارتی انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور کامیابی کے بعد اپنی پہلی تقریر میں اپنے سیاسی مخالفین کو اتحاد کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ مجھے ملکی اتحاد کے فروغ میں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا امریکی عوام نے ڈونلڈ ٹرمپ کے جوشیلے نعروں اور تبدیلی کے وعدوں سے متاثر ہو کر انہیں ووٹ دیا ہے۔ لیکن یہاں یہ بنیادی سوال پایا جاتا ہے کہ کیا ٹرمپ اپنے کئے گئے وعدوں پر عمل پیرا ہو سکیں گے؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ کم از کم کچھ مدت تک ان پر اپنے وعدے پورے کرنے کیلئے دباو موجود رہے گا لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے صدارتی مہم کے دوران کئے گئے وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کا امکان بہت کم نظر آتا ہے۔ دوسری طرف امریکی کانگریس اور سینیٹ میں اکثریت کی حامل ریپبلکن پارٹی بھی ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنے وعدے پورے کرنے کی اجازت نہیں دے گی چونکہ ایسی صورت میں امریکہ کے سیاسی نظام میں بڑے پیمانے پر ہلچل پیدا ہونے کا خطرہ پایا جاتا ہے۔ شاید اسی وجہ سے ٹرمپ نے صدارتی انتخابات میں کامیابی کے فورا بعد اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے امریکی معاشرے میں اتحاد اور وحدت کے فروغ پر زور دیا اور انہیں صدارتی مہم کے دوران پیدا ہونے والے اختلافات اور دشمنیوں کو ختم کرنے کا کہا۔ سب کو اچھی طرح یاد ہے کہ 2008ء کے صدارتی انتخابات میں بھی موجودہ امریکی صدر براک اوباما کا نعرہ تبدیلی (Change) تھا اور انہوں نے اپنی صدارتی مہم کے دوران وعدہ کیا تھا کہ دیگر ممالک کے خلاف امریکہ کی فوجی مداخلت کو ختم کر دیں گے اور اسی طرح بدنام زنامہ جیل گوانٹانامو کو بھی بند کر دیں گے لیکن تاریخ نے ثابت کر دیا کہ انہوں نے سابق امریکی صدر جارج بش کے ہی راستے کو آگے بڑھایا۔

2)۔ امریکی عوام کی معیشت گذشتہ دو تین عشروں کی نسبت انتہائی خراب ہو چکی ہے۔ امریکی تحقیقاتی ادارے "پیو" کی ایک سروے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو ووٹ دینے کے خواہاں 81 فیصد افراد کا خیال ہے کہ ان کی معیشت گذشتہ 50 برس سے بھی زیادہ بدتر ہو چکی ہے۔ اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی میں معیشت کو ایک غالب عنصر قرار نہیں دیا جا سکتا لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکی شہری اپنی موجودہ معیشتی صورتحال سے راضی نہیں۔ دوسری طرف ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نسلی تعصب پر مبنی خیالات کا اظہار کئے جانے کے سبب امریکی سیاہ فام شہریوں نے انہیں ووٹ نہیں دیا۔ سیاہ فام امریکی شہری ہمیشہ سے اپوزیشن کا کردار ادا کرتے آئے ہیں لیکن اس بار ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مہاجرین، سیاہ فام شہریوں اور مسلمانوں کے خلاف سخت بیانات دیے جانے کی وجہ سے انہوں نے ہیلری کلنٹن کو ووٹ دیا ہے۔ لہذا بعض سیاسی ماہرین اس خدشے کا اظہار کرتے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے دوران حکومت میں امریکی معاشرے میں تقسیم بندی شدید ہو جائے گی اور مختلف معاشرتی طبقوں میں تنازعات بڑھ جائیں گے۔ وہ سفید فام امریکی شہری جنہوں نے ٹرمپ کو ووٹ دیا ہے زیادہ پڑھے لکھے طبقے سے تعلق نہیں رکھتے لہذا ان میں قومی اقلیتوں سے دست و گریباں ہونے کے رجحانات پائے جاتے ہیں۔ ٹرمپ کی کامیابی کے فورا بعد ان کے حامی نوجوانوں نے ملک کے مختلف حصوں میں سڑکوں پر آ کر شور و غل برپا کیا اور مہاجروں، سیاہ فام شہریوں اور مسلمانوں کے خلاف نعرہ بازی بھی کی۔ امریکہ کے صدارتی انتخابات کے بعد پورے ملک میں ہلچل مچ گئی ہے اور افراتفری کا سماں ہے۔ ٹرمپ کے دورہ صدارت میں نسلی تنازعات مزید شدت اختیار کر جائیں گے۔

3)۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارتی مہم کے دوران مشرق وسطی خطے سے متعلق جو بھی کہا وہ انتہائی مبہم اور بعض اوقات متضاد تھا لہذا اس کی بنیاد پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ اپنے 4 یا 8 سالہ دورہ صدارت میں خطے سے متعلق کس قسم کی پالیسیاں اپنائیں گے۔ ٹرمپ نے ایران سے متعلق بیان دیتے ہوئے ہیلری کلنٹن سے بھی زیادہ سخت الفاط استعمال کئے۔ ایک طرف ٹرمپ کے مشیر مائیک پینس نے کہا کہ ان کی کامیابی کی صورت میں ایران کے خلاف دباو بڑھا دیا جائے گا جبکہ دوسری طرف ڈونلڈ ٹرمپ نے مناظرے کے دوران کہا کہ ہمیں داعش کے خلاف جنگ میں ایران اور شام کا ساتھ دینا چاہئے۔ اس بارے میں یہ کہنا درست ہو گا کہ ٹرمپ کی زیر صدارت امریکہ ہر گز جدید صلاحیتوں کا حامل نیا امریکہ نہیں ہو گا لہذا ایران کے خلاف ٹرمپ کے بیانات کا عمل کے میدان میں کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکی کانگریس اور سینیٹ میں موجود ریپبلکن پارٹی کے اراکین پر مشتمل اکثریت ہر حال میں دنیا کے مختلف حصوں میں جاری امریکی فوجی مداخلت میں کمی لانے کی خواہاں ہے لہذا وہ مشرق وسطی سے متعلق براک اوباما کی جلدبازی اور نمود و نمائش پر مبنی پالیسیوں کو ترک کر دیں گے۔ ڈونلڈ ٹرمپ امریکی کی تھکی ہوئی فوج میں نئی روح پھونکنے کی صلاحیت نہیں رکھتے جبکہ خطے میں بھی ایسی فوجی طاقت موجود نہیں جسے امریکہ اپنے فوجیوں کی جگہ بروئے کار لا سکے۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ وہ تمام جنگیں جو دیگر ممالک نے امریکہ کی نمائندگی میں شروع کر رکھی ہیں ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں ٹھنڈی پڑ جائیں گی۔

4)۔ صدارتی مہم کے دوران ریپبلکن اور ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدواروں کی جانب سے ایکدوسرے کے اخلاقی اور سیاسی اسکینڈلز کو منظرعام پر لانا اور ریپبلکن پارٹی کی جانب سے عام شہریوں پر مشتمل ووٹ بینک کے حصول کی کوششوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ گذشتہ چند عشروں کے دوران امریکہ میں موجود طاقت کے مراکز کے اثرورسوخ میں اچھی خاصی کمی واقع ہوئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ بھی دیگر بہت سے خطوں کی مانند ایک ایسے دور میں داخل ہو چکا ہے کہ رائے عامہ تشکیل دینے والے اہم مراکز اور بڑے بڑے میڈیا چینلز جیسے سی این این وغیرہ ناکارآمد ہوتے جا رہے ہیں۔ حالیہ صدارتی انتخابات میں سی این این، نیویارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ جیسے بڑے بڑے میڈیا ذرائع امریکی عوام کو متاثر کرنے میں ناکام رہے لہذا یہ چینلز صدارتی انتخابات کے نتائج اعلان کرنے میں بھی تاخیر کر رہے تھے جبکہ سوشل میڈیا پر زیادہ تیزی سے نتائج کا اعلان کیا جا رہا تھا۔ آج کا امریکی معاشرہ بہت حد تک دو بڑی سیاسی پارٹیوں کی جانب سے ایجاد کردہ گھٹی ہوئی فضا سے باہر آ چکا ہے جس کا واضح ثبوت ڈونلڈ ٹرمپ کی واضح کامیابی ہے۔ اس امر کے امریکہ کی سماجی و سیکورٹی صورتحال پر انتہائی گہرے اور دوررس نتائج برآمد ہوں گے۔ دوسری طرف امریکہ میں موجود طاقت کے مراکز بھی اس امر پر کافی پریشان دکھائی دیتے ہیں۔ یہ مراکز امریکہ کی موجودہ صورتحال کو "سفید انقلاب" کا نام دے رہے ہیں۔ اگر یہ بات درست ہو تو اس بار امریکی اسٹیبلشمنٹ سفید فام شہریوں کی جانب سے احتجاج اور بغاوت سے روبرو ہو گی جس کے نتیجے میں امریکی معاشرے میں اہم تبدیلیاں رونما ہوں گی۔ امریکی معاشرے میں سیاہ فام شہری، مسلمان اور ہسپان پہلے سے ہی حاکم نطام کے خلاف اعتراض کی حالت میں ہیں جن میں اب سفید فام شہریوں کا بھی اضافہ ہو گیا ہے۔ یہ امر امریکہ کے سیاسی نظام کو شدید دھچکہ پہنچا سکتا ہے۔ آج سوشل میڈیا کی بڑے پیمانے پر موجودگی کے پیش نطر یہ دھچکہ اتنی آسانی سے کنٹرول کرنے کے قابل نہیں ہو گا۔

5)۔ امریکہ کی صدارتی مہم کا ایک انتہائی اہم اور دلچسپ نکتہ روس کو حد درجہ اہمیت دینا ہے۔ سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ روس اور اس کی جنوبی خودمختار ریاستیں 1990ء سے 2000ء تک رنگین انقلابوں کی زد میں تھیں۔ امریکی حکومت نے بورس یلسن اور ان کے بعد آنے والے کئی روسی صدور مملکت کی حمایت کا اعلان کر کے روس کو مکمل طور پر توڑنے کی کوشش کی لیکن جب انہیں اس مقصد میں کامیابی نصیب نہ ہوئی تو انہوں نے روس سے علیحدہ ہونے والی ریاستوں کی بنیادی پالیسیوں کو تبدیل کرنے کی کوششیں شروع کر دیں۔ لہذا مغربی طاقتوں نے روس سے الگ ہونے والی کئی ریاستوں میں مخملی بغاوتوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔ لیکن اب ہم امریکہ کے صدارتی انتخابات کیلئے جاری مہم میں روسی اثرورسوخ کی باتیں سن رہے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ پر روس کا جاسوس اور ایجنٹ ہونے کا الزام عائد کیا جاتا ہے اور وہ نہ صرف اس پر شدید ردعمل ظاہر نہیں کرتے بلکہ یہ اعلان کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ وہ امریکی صدر بننے کے بعد کریمہ کو روس کے حصے کے طور پر تسلیم کر لیں گے۔
خبر کا کوڈ : 588773
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے