0
Tuesday 31 May 2011 16:22
عالمی استکباری نظام کے خلاف امام خمینی رہ کا مسلمانان عالم کے نام اہم پیغام:

اقوام عالم کے گلستان میں بہار آ چکی ہے

اقوام عالم کے گلستان میں بہار آ چکی ہے
امام خمینی رہ کی سوچ اور انکا تفکر خاص جغرافیائی حدود میں محدود نہیں ہو سکتا اور اسے ان حدود سے نکل کر دوسری سرزمینوں میں پرواز کرنے اور مسلمان اقوام کو مخاطب قرار دینے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ امام خمینی رہ عالم اسلام کے بارے میں سوچتے تھے اور مسلمانوں کو استکباری طاقتوں اور انکے پٹھو حکمرانوں سے نجات اور آزادی دلانے پر غور کرتے تھے۔ انہوں نے ہمیشہ مسلمانوں کو متحرک ہونے اور قیام کرنے کی دعوت دی تاکہ امریکہ کے کٹھ پتلی اور صہیونیزم کے ساتھ دوستی رکھنے والے حکمرانوں کے عمل سے پیدا ہونے والی ذلت اور رسوائی کو مسلمان اقوام کی عزت، خودمختاری اور عالمی استعمار اور آمریت سے آزادی میں تبدیل کر دیا جائے۔
حضرت امام خمینی رہ ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی سے پہلے اور اسکے بعد اس اصیل اور جامع تفکر کے ذریعے جسکی بنیاد درحقیقت اسلامی تعلیمات اور قوانین پر استوار ہے، مسلمان نشین خطوں کی خودمختاری اور "امت واحدہ" کی تشکیل کیلئے عملی و فکری زمینہ فراہم کرنا چاہتے تھے۔
انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی کے بعد امام خمینی رہ کا یہ تفکر مزید پروان چڑھا اور اس عظیم الہی پیشوا کی جدوجہد میں بھی اضافہ ہو گیا جسکی وجہ سے انکی جانب سے مسلمانوں کو سیاسی آگاہی دینے اور عالمی کفر کے مقابلے میں اٹھ کھڑے ہونے کی پکار سنائی دی۔
ذیل میں امام خمینی رہ کا دنیا کے مسلمانوں کے نام وہ تاریخی پیغام ہے جو 20 جولائی 1988 کو آپکی جانب سے صادر کیا گیا ہے۔ اس پیغام میں بآسانی مشاہدہ کیا جا سکتا ہے کہ امام خمینی رہ کس طرح مسلمانان عالم کو مسلم ممالک کے پٹھو حکمرانوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے اور قیام کرنے کی دعوت دیتے ہیں اور کس طرح انکے بے جان بدن میں بیرونی استعمار اور اندروانی آمریت کے خلاف جہاد اور مبارزے کی روح پھونکتے ہیں اور انہیں فتح کی بلند چوٹیوں کو سر کرنے کی امید دلاتے ہیں۔
ہم آج مسلم ممالک میں امریکہ کے پٹھو حکمرانوں کے خلاف جن تحریکوں کا مشاہدہ کر رہے ہیں وہ درحقیقت وہی بیداری اور آزادی کی تحریکیں ہیں جنکی پیش بینی امام خمینی رہ نے کئی سال قبل انتہائی خوبصورت اور دلنشین انداز میں کر دی تھی۔
امام خمینی رہ کا پیغام:
باسم اللہ الرحمن الرحیم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حقیقت یہ ہے کہ مشرقی اور مغربی استکباری حکومتوں خاص طور پر امریکہ اور روس نے دنیا کو دو حصوں میں تقسیم کر رکھا ہے، ایک حصہ سیاسی طور پر آزاد اور دوسرا سیاسی اعتبار سے محدود۔ یہ استعماری قوتیں ہیں جو آزاد حصے میں کسی قانون کی پابند نہیں اور دوسروں کے مفادات کے خلاف اقدامات انجام دینے اور دوسری اقوام کو اپنا غلام بنانے کو ضروری سمجھتی ہیں اور اس عمل کو مکمل طور پر منطقی اور اپنے بنائے ہوئے بین الاقوامی قوانین کے ساتھ منطبق خیال کرتی ہیں۔ لیکن دوسرے حصے میں، جہاں بدقسمتی سے اکثر کمزور اقوام اور خاص طور پر مسلمان قیدی بنے ہوئے ہیں، کسی قسم کا حق حیات اور اظہار وجود نہیں ہے۔ وہاں پر تمام قوانین اور فارمولے استکباری نظام کی جانب سے ڈکٹیشن پر مبنی ہیں جنکا مقصد اپنے مفادات کا حصول اور انکا تحفظ ہے۔ مزید یہ کہ ان پالیسیوں اور قوانین کا اجراء کرنے والے افراد وہی کٹھ پتلی حکمران ہیں جنہیں ان اقوام پر مسلط کر دیا گیا ہے اور جو اس زندان میں درد سے چلانے کو بھی جرم اور ناقابل بخشش گناہ تصور کرتے ہیں۔ عالمی استعماری قوتوں کے مفادات کا تقاضا یہ ہے کہ وہ کسی کو ایسا ایک لفظ بھی بولنے کی اجازت نہ دیں جس سے انکی کوئی کمزوری ظاہر ہوتی ہو یا انکی نیندیں حرام ہوتی ہوں۔ اب جبکہ مسلمانان عالم ان قوتوں کی جانب سے دباو، قید اور سزائے موت کے باعث مسلط کردہ حکمرانوں کی جانب سے نازل ہونے والی مصیبتوں کو بیان کرنے کی طاقت بھی نہیں رکھتے تو ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ پرامن حرم الہی [حرمین شریفین] میں مکمل آزادی کے ساتھ اپنی مصیبتوں اور دکھ درد کو بیان کر سکیں اور تمام مسلمانوں کی آزادی کیلئے دعا کر سکیں۔ لہذا ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مسلمانان عالم کم از کم حرمین شریفین میں خود کو ظالموں کے ہر قسم کے قید و بند سے آزاد محسوس کر سکیں اور جس چیز سے وہ نفرت کرتے ہیں اسکے خلاف اعلان برائت کر سکیں اور اپنی آزادی کیلئے ہر وسیلہ بروئے کار لا سکیں۔
ہم مشرکین سے اعلان برائت کے ذریعے عالم اسلام کی تمامتر توانائیوں کو بروئے کار لانا چاہتے ہیں اور انشاءاللہ خداوند عالم کی
مدد سے وہ دن ضرور آئے گا جب فرزندان قرآن کے ہاتھوں یہ کام ہو کر رہے گا۔ اور انشاءاللہ ایک دن تمام مسلمانان عالم اور مظلوم افراد دنیا کے ظالموں کے خلاف آواز بلند کریں گے اور یہ ثابت کر دیں گے کہ عالمی استعماری قوتیں اور انکے پٹھو اور نوکر حکمران دنیا کی منفورترین موجودات ہیں۔
زائرین خانہ خدا کی قتل و غارت اپنی استکباری پالیسیوں کے تحفظ اور حقیقی اسلام محمدی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اثر و رسوخ کو روکنے کی ناپاک سازش ہے۔ مسلم ممالک کے بے حس حکمرانوں کا سیاہ اور شرم آور نامہ اعمال اسلام اور مسلمین جہان کے خستہ حال بدن کے بڑھتے ہوئے دردوں کو ظاہر کرتا ہے۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو عالی شان مسجدوں اور خوبصورت میناروں کی کوئی ضرورت نہیں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے پیروکاروں کی عظمت اور شان و شوکت کے خواہاں تھے جو بدقسمتی سے مسلم حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے مٹی میں مل چکی ہے۔ آیا مسلمانان عالم آل سعود کی ذلت آمیز زندگی کے دوران مسلم فرقوں سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں علماء اور ہزاروں خواتین کے قتل عام اور خانہ کعبہ کے زائرین کی قتل و غارت جیسے سانحے کو فراموش کر دیں گے؟، کیا مسلمان نہیں دیکھ رہے کہ آج دنیا کے مختلف مقامات پر وہابیت کے مراکز فتنہ گری اور جاسوسی کے اڈے بن چکے ہیں؟ جو ایک طرف تو شاہانہ اسلام، ابوسفیان کا اسلام، درباری ملاوں کا اسلام، بے شعور متحجر افراد کا اسلام، ذلت اور بدبختی والا اسلام، دولت اور طاقت والا اسلام، فریبکاری، سازش اور غلامی والا اسلام، مظلوم اور پابرہنہ عوام پر سرمایہ داروں کی حاکمیت والا اسلام یا دوسرے الفاظ میں "امریکی اسلام" کی ترویج میں لگے ہوئے ہیں اور دوسری طرف اپنے آقا اور سرور امریکہ کی چوکھٹ پر سر تسلیم خم کئے ہوئے ہیں۔
مسلمان نہیں جانتے اس درد کو کہاں لے جائیں کہ آل سعود اور "خادم حرمین شریفین" اسرائیل کو اطمینان دلاتا ہے کہ ہمارا اسلحہ کبھی بھی تمہارے خلاف استعمال نہیں ہو گا! اور اپنی بات کو درست ثابت کرنے کیلئے ایران سے اپنے تعلقات کو ختم کر لیتا ہے۔ مسلم ممالک کے حکمرانوں کے صہیونیستوں کے ساتھ کس قدر دوستانہ تعلقات ہونے چاہئیں جسکی بنا پر اسرائیل کے ساتھ حتی الفاظ کی حد تک اختلاف بھی انکی کانفرنس کے ایجنڈے سے حذف ہو جائے۔ اگر ان حکمرانوں میں ذرہ بھر اسلامی اور عربی غیرت ہوتی تو وہ اس گھٹیا سیاسی ساز باز اور خود فروشی اور وطن فروشی پر راضی نہ ہوتے۔
آیا یہ اقدامات عالم اسلام کیلئے شرم آور نہیں؟ اور ان پر خاموش تماشائی بنے رہنا گناہ اور جرم نہیں؟۔ آیا مسلمانوں میں کوئی ہے جو اٹھ کھڑا ہو اور اس قدر ذلت اور رسوائی کو برداشت نہ کرے؟۔ کیا ہمیں ایسے ہی بیٹھے رہنا چاہئے تاکہ مسلمان حکمران ایک ارب مسلمانوں کے احساسات کو مجروح کرتے رہیں اور صہیونیستوں کے ظلم و ستم کو جائز قرار دیتے رہیں اور مصر اور دوسرے ممالک کو سامنے لاتے رہیں؟۔ کیا مسلمان اس بات پر یقین کر لیں گے کہ ایرانی زائرین خانہ کعبہ اور حرم پیغمبر اکرم ص پر قبضہ کرنا چاہتے تھے یا چاہتے تھے کہ کعبہ کو اٹھا کر قم لا آئیں؟!۔ اگر مسلمانان عالم نے مان لیا ہے کہ انکے حکمران امریکہ، روس اور اسرائیل کے حقیقی دشمن ہیں تو پھر وہ ہمارے خلاف انکے پروپیگنڈے کو بھی مان لیں گے۔
البتہ ہم اپنی خارجہ اور بین الاقوامی اسلامی پالیسی میں بارہا اس حقیقت کا اعلان کر چکے ہیں کہ دنیا میں اسلام کے اثر و رسوخ کو بڑھانے اور عالمی استعماری قوتوں کے قبضے کو کم کرنے کے درپے ہیں۔ اب اگر امریکہ کے نوکر اس پالیسی کو توسعہ طلبی یا ایک سپر پاور بننے کی سوچ کا نام دیتے ہیں تو دیتے رہیں، ہمیں اسکا کوئی خوف نہیں۔ ہم دنیا سے صہیونیزم کی فاسد جڑوں، سرمایہ دارانہ نظام اور کمیونیزم کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔ ہم فیصلہ کر چکے ہیں کہ خداوند عالم کی مدد اور عنایت سے ایسے نظاموں کو جو ان تین بنیادوں پر قائم ہیں ختم کر دیں اور انکی جگہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا اسلامی نظام رائج کریں۔ دیر یا زود اقوام عالم ایسے نظام کا مشاہدہ کریں گی۔ ہم پوری طاقت کے ساتھ امریکیوں کے تحفظ اور انکی جانب سے بھتہ لینے کا مقابلہ کریں گے چاہے ہمیں طاقت کا استعمال ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔ ہم انشاءاللہ اجازت نہیں دیں گے کہ خانہ کعبہ اور حج سے، جسے انسانیت کی بلندیوں پر دنیا بھر میں مظلوموں
کی آواز کو پنچانا چاہئے، امریکہ اور روس کے ساتھ ہمکاری کی کفرآمیز اور شرک آلود صدائیں سنائی دیں۔
مسلمانان عالم اور مستصعفین جہان کو انقلاب اسلامی ایران پر فخر کرنا چاہئے جس نے عالمی استکباری قوتوں کے سامنے دیوار کھڑی کر دی ہے، وہ اپنی زندگی میں آزادی اور خوشی کی لہر دوڑائیں کیونکہ ناامیدی، شکست اور کفرآمیز ماحول میں سانس لینے کا دور ختم ہو چکا ہے اور اقوام عالم کے گلستان میں بہار آ چکی ہے۔ مجھے امید ہے کہ تمام مسلمان آزادی کے پھولوں اور نسیم بہاری کی خوشبو اور محبت و عشق کے پھولوں کی تروتازگی کو محسوس کریں اور اپنے ارادوں کے پھوٹنے والے چشموں کو دیکھیں۔ ہم سب کو چاہئے کہ خاموشی اور جمود کی اس دلدل سے باہر آ جائیں جو امریکہ اور روس کے کٹھ پتلی حکمرانوں نے ہمارے لئے بنا رکھی ہے اور ایسے سمندر کی جانب روانہ ہوں جہاں سے زمزم پھوٹتا ہے اور خانہ کعبہ کے غلاف کو جو امریکہ اور امریکہ زادوں کے نجس ہاتھوں سے آلودہ ہو چکا ہے اپنے آنسووں سے دھو ڈالیں۔
اے دنیا کے مسلمانو، اب جبکہ آپ لوگ غیروں کے تسلط میں تدریجی موت کا شکار ہو چکے ہیں تو موت کے خوف پر غالب آ جائیں، اپنے ایسے جوانوں کو استعمال کریں جو شہادت کے جذبے سے سرشار ہیں اور کفر سے ٹکرا جانے کی جرات رکھتے ہیں۔ موجود صورتحال کو حفظ کرنے کی نہ سوچیں بلکہ غلامی سے نجات، قید سے آزادی اور اسلام کے دشمنوں پر حملہ ور ہونے کا سوچیں، کیونکہ زندگی اور عزت جہاد میں پوشیدہ ہے۔ اور جہاد کا پہلا قدم ارادہ ہے، اور اسکے بعد خود پر عالمی کفر اور شرک خاص طور پر امریکہ کی حکومت کو ختم کرنے کا فیصلہ ہے۔ ہم چاہے مکہ مکرمہ میں ہوں یا نہ ہوں ہمارا دل اور ہماری روح ابراہیم علیہ السلام اور مکہ کے ساتھ ہیں۔ مدینۃ الرسول ص کے دروازے چاہے ہم پر کھلے ہوں یا بند ہوں، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ہمارا محبت کا رشتہ و ناطہ ہر گز کمزور یا ختم نہیں ہو سکتا۔ ہم خانہ کعبہ کی جانب رخ کر کے نماز ادا کرتے ہیں اور اس پر جان بھی نچھاور کرنے کیلئے تیار ہیں۔ ہم خدا کے شکرگزار ہیں کہ اسکے ساتھ کئے گئے وعدے پر ثابت قدم ہیں اور مشرکین سے اظہار برائت میں ہزاروں شہداء کا خون ھدیہ کر چکے ہیں۔ ہم نے اس بات کا انتظار بھی نہیں کیا کہ بعض مسلم اور غیرمسلم ممالک کے بے شخصیت حکمران ہماری حمایت کا اعلان کریں۔ ہم تاریخ کے ہمیشہ مظلوم، محروم اور پابرہنہ افراد ہیں۔ خدا کے علاوہ ہمارا کوئی نہیں۔ اگر ہزار بار بھی ہمارے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے جائیں تب بھی ہم ظلم کا مقابلہ کرنا نہیں چھوڑیں گے۔
اسلامی جمہوریہ ایران دنیا کے ایسے آزاد اندیش مسلمانوں کا شکریہ ادا کرتا ہے جنہوں نے اپنے اوپر حکمفرما سیاسی دباو اور گھٹن کے باوجود کانفرسز، انٹرویوز اور تقریروں کے ذریعے امریکہ اور آل سعود کے جرم و جنایتوں کو آشکار کیا اور دنیا والوں کو ہماری مظلومیت سے آگاہ کیا ہے۔ مسلمانوں کو جان لینا چاہئے کہ جب تک دنیا میں موجود طاقت کا توازن انکے حق میں قائم نہیں ہو جاتا ہمیشہ غیروں کے مفادات کو انکے مفادات پر ترجیح دی جائے گی اور ہر روز شیطان بزرگ یا روس اپنے مفادات کے تحفظ کے بہانے نیا حادثہ جنم دیں گے۔ آیا ممکن ہے مسلمان اپنے مسائل کو سنجیدگی سے حل کئے بغیر اور ایک عالمی طاقت بنے بغیر سکون کا سانس لے سکیں؟۔ آج اگر امریکہ اپنے مفادات کے تحفظ کے بہانے ایک اسلامی ملک کی اینٹ سے اینٹ بجا دے تو کون اس کو روک سکتا ہے؟۔ پس جہاد کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا، عالمی سپر پاورز خاص طور پر امریکہ کے دانت توڑ دینے چاہئیں۔ ہمارے پاس دو راستوں کے علاوہ کوئی راستہ نہیں، یا شہادت اور یا فتح۔ اور ہمارے مکتب میں یہ دونوں راستے فتح اور کامیابی کے راستے ہیں۔
ہم خداوند عالم سے دعاگو ہیں کہ وہ مسلمانان عالم کو یہ توفیق عطا کرے کہ وہ عالمی طاقتوں کے بنائے ہوے ظالمانہ نظام کو نابود کر ڈالیں اور انسانی احترام پر مبنی نیا نظام قائم کر سکیں اور ہم سب کو ذلت سے نکل کر عزت کی زندگی گزارنے میں مدد فراہم کرے۔
بعض افراد گذشتہ سال حج کے تلخ اور شیرین واقعے سے پہلے اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے حج کے موقع پر مشرکین سے برائت کی خاطر مظاہرہ کرنے کے فلسفے کو سمجھنے سے قاصر تھے۔ وہ خود اور دوسروں سے یہ سوال کرتے تھے کہ حج کے موقع پر اتنی گرمی میں مظاہرہ کرنے اور نعرے لگانے کی کیا ضرورت ہے؟۔ اور اس مظاہرہ سے عالمی استکبار
کو کیا نقصان پہنچے گا؟۔ ممکن ہے سادہ لوح افراد یہ سمجھتے ہوں کہ آج کی متمدن دنیا میں عالمی استکباری قوتیں نہ صرف ایسے اعتراضات کو برداشت کرنے کی طاقت رکھتے ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ شدید اعتراض کی اجازت بھی فراہم کر سکتے ہیں۔ اور اس مدعا پر آزاد تصور کئے جانے والے مغربی ممالک میں مظاہروں کی آزادی کو دلیل بنا کر پیش کریں۔ لیکن میں یہ بات واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ اس قسم کے مظاہرے عالمی سپر پاورز کیلئے کوئی خطرہ تصور نہیں کئے جاتے۔
یہ مکہ اور مدینہ میں ہونے والے مظاہرے ہیں جنکا نتیجہ سعودی عرب سے مغربی دنیا کو ارسال ہونے والی تیل کی سپلائی کا معطل ہونا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آزاد اندیش مرد اور خواتین کے قتل عام کے ذریعے ان مظاہروں کا سلسلہ روکا جاتا ہے۔ مشرکین سے اعلان برائت ہی وہ اقدام ہے جو سادہ لوح افراد کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ امریکہ اور روس کی چوکھٹ پر سجدہ کرنا درست نہیں۔
اے ایران کی بہادر اور باعزت قوم، یقین رکھیں کہ مکہ کا حادثہ اسلامی دنیا میں عظیم تبدیلیوں کا پیش خیمہ ثابت ہو گا اور مسلم ممالک میں حکمفرما فاسد حکومتی نظاموں اور درباری ملاوں کی نابودی کا زمینہ فراہم کرے گا۔ اگرچہ سانحہ مکہ کو ایک سال سے زیادہ کا عرصہ نہیں گزرا لیکن ہمارے پاکیزہ شہداء کے خون کی خوشبو تمام دنیا میں پھیل چکی ہے اور دنیا کے اکثر حصوں میں اسکے اثرات دکھائی دے رہے ہیں۔ فلسطینی عوام کی جدوجہد محض اتفاق نہیں ہے، دنیا کیا سمجھتی ہے کہ یہ انقلاب کون لایا ہے اور فلسطینی عوام کن اھداف کے حصول کیلئے خالی ہاتھ اسرائیل کے وحشیانہ حملوں کا مقابلہ کر رہے ہیں؟۔ کیا وہ صرف اور صرف وطن کی خاطر اس قدر شجاع اور دلیر ہو گئے ہیں؟، کیا یہ بکے ہوئے سیاستدانوں کی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ فلسطینی عوام کے دامن میں ثابت قدمی جیسے پھل اور امید و روشنی کے زیتون گر رہے ہیں؟۔ اگر ایسا ہوتا تو کیسے ممکن تھا کہ یہ سیاستدان کئی سالوں سے فلسطین اور فلسطینی قوم کے نام پر اپنا پیٹ پال رہے ہوتے؟۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ "اللہ اکبر" کے نعرے ہیں، یہ ہماری قوم کا وہی نعرہ ہے جس نے ایران میں شاہ اور بیت المقدس میں غاصب صہیونیستوں کو ناامید کر دیا ہے۔ یہ مشرکین سے برائت کے اعلان کا تحقق ہے جس میں فلسطینی قوم نے حج کے موقع پر اپنے ایرانی بھائیوں اور بہنوں کے شانہ بشانہ قدس کی آزادی کیلئے نعرے لگائے اور "امریکہ مردہ باد"، "روس مردہ باد" اور "اسرائیل مردہ باد" کی صدائیں بلند کیں۔ اور اسی مقصد کیلئے اپنا خون بہایا جس کیلئے ہمارے پیاروں نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ جی ہاں، فلسطینیوں نے ہمارے مشرکین سے اعلان برائت کے ذریعے اپنا کھویا ہوا راستہ پا لیا۔ ہم نے دیکھا کہ اس جدوجہد میں کس طرح فولادی دیواریں گر گئیں اور کس طرح خون تلوار پر اور ایمان کفر پر اور صدائے حق گولی پر فتح سے ہمکنار ہوئی۔ اور کس طرح نیل سے فرات تک کے علاقے پر قبضہ کرنے کا بنی اسرائیل کا خواب ادھورا رہ گیا۔ اور کس طرح فلسطین کا "کوکب دریۃ" [چمکتا ہوا ستارہ] "لا شرقیہ و لا غربیہ" کے شجرہ طیبہ سے دوبارہ طلوع ہوا۔ جس طرح سے آج پوری دنیا میں ہمیں کفر و شرک کے ساتھ مذاکرات پر مجبور کرنے کی سازشیں ہو رہی ہیں اسی طرح فلسطین کی مسلمان قوم کے غیض و غضب کے شعلوں کو خاموش کرنے کیلئے بھی کوششیں جاری ہیں۔ یہ انقلاب اسلامی ایران کی ترقی کا ایک نمونہ ہے۔
اب جبکہ دنیا بھر میں ہمارے اسلامی انقلاب کے حامیوں کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے اور ہم انہیں اپنے انقلاب کا سرمایہ سمجھتے ہیں اور اسی طرح وہ افراد جنہوں نے اپنا خون دے کر ہماری حمایت کا اظہار کیا ہے اور وہ جنہون نے دل کی گہرائیوں سے انقلاب کی دعوت پر لبیک کہی ہے۔ انشاءاللہ خدا کی مدد سے پوری دنیا کا کنٹرول سنبھال لیں گے۔
آج حق و باطل کی جنگ، غربت اور امیری کی جنگ، کمزوری اور استکبار کی جنگ اور ننگے پیر افراد اور بے حس سرمایہ داروں کی جنگ شروع ہو چکی ہے۔ میں ان تمام مجاہدوں کے ہاتھ چومتا ہوں جنہوں نے خدا کے راستے میں جہاد اور مسلمانان عالم کی عزت واپس لوٹانے کا عہد کر رکھا ہے۔ اور آزادی و کمال کی خاطر قربان ہونے والے تمام افراد پر مخلصانہ سلام اور درود بھیجتا ہوں۔
ملت عزیز اور دلاور ایران سے عرض کرتا ہوں: خداوند نے آپ کے اثرات اور برکتوں کو دنیا بھر میں پھیلا دیا ہے، اور آپ کے قلوب اور
آنکھیں دنیا بھر کے محروموں کیلئے حمایت کا مرکز بن گئی ہیں، اور آپ کے غیض و غضب کے شعلوں نے عالمی استکباری قوتوں کو ہر طرف سے اپنی لپیٹ میں لے کر انہیں وحشت زدہ کر دیا ہے۔ البتہ سب جانتے ہیں کہ ہمارے ملک نے جنگ اور انقلاب کے دوران شدید مشکلات کا سامنا کیا ہے اور کوئی ایسا دعوا نہیں کر رہا کہ محروم اور کم آمدنی والا طبقہ خاص طور پر دفتری کام کرنے والے افراد معاشی مسائل کا شکار نہیں ہیں۔ لیکن وہ چیز جو ہماری عوام کی توجہ کا مرکز ہے اسلام اور انقلابی اصولوں کی حفاظت ہے۔ ایرانی عوام نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ بھوک اور پیاس تو برداشت کر سکتے ہیں لیکن انقلاب کی ناکامی اور اسکے اصولوں کی پامالی کو ہر گز برداشت نہیں کر سکتے۔ ایران کی عظیم قوم نے ہمیشہ عالم کفر کی جانب سے انقلابی اصولوں پر شدید ترین حملوں کا مقابلہ کیا ہے جنکے تمام موارد کا ذکر کرنا ضروری نہیں۔ کیا ایران کی شجاع قوم نے خلیج فارس میں امریکہ کے کئی مجرمانہ اقدامات جیسے ایران کے تیل کے کنووں اور کشتیوں پر حملہ کرنے میں عراق کو فوجی اور انٹیلی جنس تعاون کی فراہمی یا ایران کے مسافر بردار ہوائی جہاز کو مار گرانے کا مقابلہ نہیں کیا؟۔ کیا ملت ایران نے شرق و غرب کی ایران کے خلاف سفارتی جنگ اور بین الاقوامی حلقوں کی سازشوں کا مقابلہ نہیں کیا؟۔ کیا ایران کی بہادر قوم نے اقتصادی، میڈیا اور نفسیاتی جنگ اور شہری آبادیوں پر عراق کے وحشیانہ حملوں اور میزائل داغے جانے اور کیمیکل ہتھیاروں کے بارہا استعمال کا مقابلہ نہیں کیا؟۔ کیا ملت عزیز ایران نے منافقین اور لبرلسٹ افراد کی سازشوں اور ذخیرہ اندوزوں اور مقدس مآب افراد کے مکر و فریب کا مقابلہ نہیں کیا؟۔ کیا یہ تمام حوادث اور اتفاقات انقلاب کے اصولوں کو نقصان پنچانے کیلئے انجام نہیں پائے؟۔ اگر عوام میدان میں نہ ہوتے تو ان میں سے ہر اقدام نظام کے اصولوں کو نابود کر دینے کیلئے کافی تھا۔ ہم خدا کے شکرگزار ہیں کہ اس نے ملت ایران کو یہ توفیق دی کہ وہ ثابت قدمی کے ساتھ اپنے وظیفے پر عمل کر سکے اور میدان کو خالی نہ چھوڑے۔
ہماری قوم کے افراد جو حقیقی طور پر اسلامی اقدار کے سچے مجاہد ہیں جان چکے ہیں کہ جہاد اور جدوجہد کا راحت طلبی سے کوئی جوڑ نہیں۔ وہ افراد جو یہ سمجھتے ہیں کہ محرومین و مستضعفین جہان کی آزادی اور خودمختاری کی راہ میں جدوجہد سرمایہ داری اور راحت طلبی کے ساتھ متنافی نہیں ہے جہاد کی الف بے سے ناواقف ہیں۔ اسی طرح وہ افراد جو یہ خیال کرتے ہیں کہ بے حس سرمایہ دار اور راحت طلب اشخاص فقط نصیحت سے صحیح ہو جائیں گے اور آزادی کی جدوجہد میں شامل ہو جائیں گے یا اس راستے میں انکی مدد کریں گے غلطی کا شکار ہیں۔ جدوجہد اور آسایش، قیام اور راحت طلبی، دنیا خواہی اور آخرت طلبی کبھی بھی ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتیں۔ صرف وہ افراد ہی آخر تک ہمارا ساتھ دے سکتے ہیں جنہوں نے غربت، محرومیت اور کمزوری کا مزہ چکھا ہو۔ غریب اور ناتوان دیندار افراد حقیقی انقلاب برپا کرنے والے ہیں۔ ہمیں اپنی پوری کوشش کرنی چاہئے کہ جہاں تک ممکن ہو مستضعفین کے دفاع کی اصولی پالیسی ترک نہ کریں۔ ایران کے انقلابی نظام کے عہدیدار جان لیں کہ کچھ خدا سے غافل افراد ایسے ہیں جو غریب اور ناتوان افراد کیلئے کام کرنے والے اشخاص پر "کمیونیسٹ" ہونے کا لیبل لگائیں گے۔ ان الزامات سے نہ ڈریں۔ خدا کو مدنظر رکھیں اور خدا کی خوشنودی اور غریب افراد کی مدد کیلئے اپنی تمامتر توانائیاں صرف کر دیں۔ امریکہ اور استکباری قوتیں انقلاب کو شکست دینے کیلئے ہر قسم کے لوگوں سے کام لیتے ہیں۔ دینی مدارس اور یونیورسٹیز میں مقدس مآب افراد سے بھی جنکے خطرے سے میں آپ کو بارہا آگاہ کر چکا ہوں۔ یہ افراد فریبکاری کے ذریعے انقلاب اور اسلام کو اندر سے نقصان پہنچانے کے درپے ہیں۔ یہ افراد حق نما چہروں اور دین اور ولایت کی طرفداری ظاہر کر کے باقی سب لوگوں کو بے دین ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے شر سے بچنے کیلئے خدا کی پناہ مانگنی چاہئے۔ اسی طرح کچھ افراد ایسے ہیں جو تمام علماء کو اپنے حملوں کا نشانہ بناتے ہیں اور انکے اسلام کو امریکی اسلام کہتے ہیں، یہ افراد انتہائی خطرناک راستے پر گامزن ہیں جو خدانخواستہ حقیقی محمدی اسلام کی شکست کا باعث بن سکتا ہے۔ ہم اپنے خون کے آخری قطرے تک انسانی معاشروں میں غریب افراد کے حقوق کا دفاع جاری رکھیں گے۔
خبر کا کوڈ : 75873
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب