1
1
Monday 6 May 2019 00:11

بدنام زمانہ امریکی کمپنی بلیک واٹر عراق اور شام میں داعش کے احیا کیلئے کوشاں

بدنام زمانہ امریکی کمپنی بلیک واٹر عراق اور شام میں داعش کے احیا کیلئے کوشاں
تحریر: علی احمدی

عراق پارلیمنٹ کی سکیورٹی و دفاع کمیٹی نے گذشتہ ہفتے بدھ (یکم اپریل) کے دن اعلان کیا ہے کہ امریکہ کی بدنام زمانہ پرائیویٹ سکیورٹی کمپنی بلیک واٹر اپنا نام تبدیل کر کے امریکہ کی تیل کی کمپنیوں کی آڑ میں بصرہ شہر میں داخل ہو چکی ہے۔ عراق میں امریکی سفارتخانے کے کارکن جوڈی ہوڈ کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ بلیک واٹر کمپنی جسے عراق میں اچھے نام سے یاد نہیں کیا جاتا، چند دیگر سکیورٹی فوجی کمپنیوں کے ہمراہ گذشتہ برس عراقی حکومت کی جانب سے ورک پرمٹ ملنے کے بعد اس ملک میں واپس لوٹ آئی ہیں اور عراق کے صوبے الانبار میں عین الاسد نامی امریکی فوجی اڈے میں پڑاو ڈال کر اپنی سرگرمیوں کا آغاز کر چکی ہیں۔ ان ذرائع نے عربی روزنامے "الاخبار" کو بتایا کہ بلیک واٹر کو سونپا گیا پہلا مشن اردن سے امریکی فوجی سازوسامان عراق کے صوبہ الابنار کے مغربی حصے میں منتقل کرنے پر مشتمل تھا۔ بلیک واٹر نے یہ مشن عین الاسد فوجی اڈے میں موجود امریکی فوجیوں کے مکمل تعاون سے انجام دیا تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بلیک واٹر اس وقت اسی فوجی اڈے میں داعش سے وابستہ دہشت گرد عناصر کو ٹریننگ دینے میں مصروف ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق چند دن پہلے بلیک واٹر نے داعش سے وابستہ ایک ہزار دہشت گردوں کو فوجی تربیت دینے کی نئی ذمہ داری سنبھالی ہے۔
 
جن دنوں شام کے مشرقی صوبے دیرالزور میں تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کے خلاف فوجی آپریشن عروج پر تھا بعض باخبر ذرائع نے اس حقیقت کا انکشاف کیا تھا کہ امریکہ فوجی بکتر بند گاڑیوں کے ذریعے شام کے شہر الباغوز سے داعش کمانڈرز اور دہشت گردوں کو عراق کے علاقے عین الاسد منتقل کرنے میں مصروف ہیں۔ بلیک واٹر دس سال دوری کے بعد ایک بار پھر عراق میں لوٹ آئی ہے۔ بلیک واٹر امریکہ کی ایک پرائیویٹ سکیورٹی کمپنی ہے جو مختلف حکومتوں کی درخواست پر اپنے جنگجو بھیجتی ہے۔ عراق اور افغانستان میں ماضی میں بلیک واٹر کے مسلح جنگجووں نے بڑے پیمانے پر عام شہریوں کو نشانہ بنایا تھا جس کی وجہ سے ان ممالک میں یہ کمپنی انتہائی بدنام ہو چکی ہے۔ مثال کے طور پر 2007ء میں بلیک واٹر کے چار افراد نے عراق میں 14 عام شہریوں کو قتل کر دیا تھا جس پر انہیں قید کی سزا بھی سنائی گئی تھی۔ اس ہولناک واقعے کے بعد اس کمپنی کے افراد کو عراق سے باہر نکال دیا گیا۔ بلیک واٹر سیکورٹی کمپنی کا بانی ایک کروڑ پتی امریکی شہری ایریک پرنس ہے۔ جرج بش سینیئر کے دور میں یہ کمپنی امریکی فوجیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہی تھی اور اسی بہانے عراق میں داخل ہوئی تھی۔
 
موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اسی پالیسی کو آگے بڑھاتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ "کم ترین اخراجات کے ذریعے زیادہ سے زیادہ منافع حاصل کرنے" کے اصول کی روشنی میں پرائیویٹ سیکٹر کو دوبارہ فعال کریں گے۔ اس امریکی پالیسی کے اثرات خاص طور پر عراق میں دکھائی دیں گے جہاں ڈونلڈ ٹرمپ کے بقول امریکہ کروڑوں ڈالر خرچ کر چکا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں اسے کچھ حاصل نہیں ہوا۔ امریکی نیوز ویب سائٹ Buzzfeed نے دعوی کیا ہے کہ کچھ دن پہلے اسے عراق کی وزارت تجارت سے ایک ایسی دستاویز ملی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پرنس کی کمپنی Frontier service ان کمپنیوں میں سے ایک تھی جو 28 فروری 2018ء کے اس وزارت خانے میں رجسٹر ہوئی تھیں۔ یہ درحقیقت وہی بلیک واٹر کمپنی ہے جس نے اپنا نام تبدیل کر لیا ہے اور اس وقت اس کا ہیڈکوارٹر ہانگ کانگ میں ہے جبکہ متحدہ عرب امارات میں بھی اس کا ایک دفتر قائم ہو چکا ہے۔ بز فیڈ نیوز ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق پرنس نے 2014ء میں ہانگ کانگ میں ایک لاجسٹک کمپنی کی بنیاد رکھی اور اس وقت کے بعد اس کمپنی کی سرگرمیاں خاص طور پر افریقہ میں بہت زیادہ پھیل چکی ہیں۔
 
متحدہ عرب امارات نے بھی بلیک واٹر کمپنی سے مدد کی درخواست کی تھی تاکہ اس کے تجربات کو یمن کی جنگ میں بروئے کار لا سکے اور کولمبیا سے یمن کی جنگ میں حصہ لینے کیلئے کرائے کے فوجی بھرتی کر سکے۔ اس سکیورٹی کمپنی نے اپنی حالیہ سالانہ رپورٹ میں اعلان کیا ہے کہ وہ عراق میں موجود نہیں جبکہ مشرق وسطی کے دیگر حصوں میں اپنے دفاتر کی موجودگی کا اعتراف کیا ہے۔ لیکن جن ممالک میں یہ دفاتر قائم ہیں انہوں نے ان کی موجودگی کا باقاعدہ اعلان نہیں کیا۔ بز فیڈ ویب سائٹ کی رپورٹ نے بہت سوں کو پریشان کر ڈالا ہے۔ امریکی کانگریس کے ایک ڈیموکریٹک پارٹی سے وابستہ رکن جینیس شاکوفسکی اس بارے میں کہتے ہیں کہ یہ دستاویز عراق حکومت کیلئے خطرے کی گھنٹی ہونی چاہئے جس نے مجرمانہ اقدامات کی وجہ سے بلیک واٹر کو اپنے ملک سے نکال باہر کیا تھا۔ دوسری طرف روزنامہ الاخبار اپنی رپورٹ میں لکھتا ہے کہ عراق ایسا واحد ملک نہیں ہے جہاں بلیک واٹر واپس آ چکی ہے بلکہ بظاہر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ شام بھی اس کمپنی کی فہرست میں شامل ہے۔
 
جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 6 جنوری کے دن شام سے امریکی فوجیوں کے انخلا کا اعلان کیا تو پرنس نے کہا تھا: "امریکہ نے طویل المیعاد عہد نہیں کر رکھا کہ شام میں موجود رہے کیونکہ یہ جنگ ختم ہونے والی نہیں ہے۔" پرنس نے مشورہ دیا کہ امریکی فوجیوں کی جگہ اسپشل فوجی ماہرین شام بھیجے جائیں۔ اس نے مزید کہا کہ میری شرکت کے ماہرین امریکی اتحادیوں کی حمایت کریں گے اور شام سے امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد وہاں ایران کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کا مقابلہ کریں گے۔" عراق کی پارلیمنٹ کی سکیورٹی و دفاع کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ بلیک واٹر دوبارہ واپس لوٹ چکی ہے تاکہ امریکہ کی حمایت سے ملک میں عوامی سطح پر احتجاجی مہم کے ذریعے عبدالمہدی کی حکومت سرنگون کر سکے۔ یہ مظاہرے بصرہ میں بجلی کی صورتحال اور شہری سہولیات کے فقدان کے خلاف کئے جائیں گے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ عراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف حالیہ پابندیوں کے حق میں نہیں ہیں۔
 
 
خبر کا کوڈ : 792417
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

یوسف
Pakistan
یہ کوئی انہونی بات نہیں، اپنے پیش رو کے نقش قدم چل رہا ہے. یہاں تک کہ پاکستانی میڈیا میں دکھانے کے بعد بھی نہ ان سے نفرت نہ بیزاری بلکہ ہمدردی ملک عزیز میں بکثرت پائی جاتی ہے۔ انہیں بےنقاب کرتے جانا ہے. بیداری کے ساتھ مثبت حکمت عملی شرط ہے۔
منتخب