3
0
Sunday 19 May 2019 11:53

آئی ایس او ایک روایت شکن تنظیم

(22 مئی یوم تاسیس کے حوالے سے خصوصی تحریر)
آئی ایس او ایک روایت شکن تنظیم
تحریر: سید امتیاز علی رضوی
 
امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کی بنیاد شیعہ طلبہ کے مسائل کے حل اور عظیم تر بھائی چارے کے فروغ پر رکھی گئی، جس میں ملت کے روایتی دینی و فکری جمود کو توڑنے اور قوم میں حقیقی اور عملی دینی اقدار کو زندہ کرنے کا عنصر غالب تھا۔ یہی وجہ تھی کہ آئی ایس او کے نصب العین (ویژن) میں یہ شامل کیا گیا کہ اس تنظیم نے تعلیمات قرآن حکیم اور سیرت محمد و آل محمد علیہم السلام سے قوم کو روشناس کرانا ہے اور ان میں دینی، علمی، اخلاقی اور روحانی اقدار کو فروغ دینا ہے اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی ترویج کرنا ہے۔ ملت کے اس وقت کے گھمبیر حالات کو دیکھتے ہوئے اس قُسم کے نصب العین کا تعین کرنا کوئی معمولی بات نہیں تھی، اسی لئے میں آئی ایس او کو ایک روایت شکن تنظیم کہتا ہوں۔
 
آئی ایس او کی تشکیل کے بعد گذشتہ 47 سال میں ملت میں ایک انقلابی بدلاؤ آیا ہے، نئے رجحانات نے جنم لیا ہے، دین کے حقیقی پہلو نمایاں ہوئے ہیں، مساجد و مدارس کی تعداد بڑھی ہے، علماء کی اہمیت سمجھ میں آنے لگی ہے اور قومی مشترکہ جدوجہد کا احساس بڑھا ہے۔ آئی ایس او نے اس دوران نہ صرف دینی کام میں مصروف علماء و غیر علماء کا ساتھ دیا ہے بلکہ تنظیم سے نکلنے اور تربیت حاصل کرنے والے افراد اب بھی بیرون اور اندرون ملک کئی اداروں اور تنظیموں میں متحرک ہیں اور مثبت پیش رفت کر رہے ہیں۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ آئی ایس او کی وجہ سے ملت نظریاتی اور مکتبی شعور و آگہی کی راہ پر گامزن ہوچکی ہے۔ بقول شاعر (اختر پیامی)
میرے نغمے تو روایات کے پابند نہیں
‎میں روایات کی تخلیق کیا کرتا ہوں
 
گذشتہ 47 سال میں قومی حالات میں جو بنیادی تبدیلیاں آئیں، ان میں روایتی مفاد پرست محدود لیڈرشپ کے بجائے قومی سطح پر متفقہ باتقویٰ دین سے آشناء قیادت کا ظہور ہے، جس کو کامیاب کرنے میں آئی ایس او کا بنیادی کردار ہے۔ 1980ء میں ملت جعفریہ کے قائد کے طور پر مفتی جعفر حسین مرحوم کا منظر عام پر آنا اور پھر ان کی قیادت میں مبینہ زکٰواة آرڈیننس کے زبردستی نفاذ کے خلاف جدوجہد کا کامیاب ہونا ملت جعفریہ کے ملکی و قومی معاملات میں اپنے نکتۂ نظر کو پیش کرنے کے اظہار کا آغاز تھا، یعنی جو ملت چند روایتی مذہبی رسومات کی ادائیگی تک محدود تھی، اس نے اپنے علمی و فکری وجود کا اظہار کیا تھا، جو آئی ایس او کی پشت پناہی ہی سے ممکن ہوا۔ جو افراد 1980ء کے اس کنونشن میں موجود تھے، وہ گواہ ہیں کہ کس انداز سے آئی ایس او اس کنونشن میں نمایاں تھی اور ملت کی نئی عوامی اور دینی قیادت کی پشت پناہ بنی ہوئی تھی۔

اسی روایت شکنی کے نتیجے میں ملت جعفریہ کو شہید عارف حسین حسینی جیسی مخلص اور آگاہ قیادت ملی، جس نے ملت میں ایک نئی روح پھونکی اور اسے ایک قدم اور آگے لے گئی۔ البتہ یہ ایک الگ بات ہے کہ دشمنوں کی سازشوں اور داخلی کمزوریوں کی وجہ سے آج قیادت ایک بحران کا شکار ہے۔ آئی ایس او نے اپنے روایت شکنی کے اصول پر قائم رہتے ہوئے ملت کو روایتی قیادت کے بجائے اصولی قیادت سے نہ صرف متعارف کروایا بلکہ اس کے ہاتھ بھی مضبوط کئے اور علماء اور سول سوسائٹی کے ایک بڑے طبقے کو قومی دھارے میں لے کر آئی اور قومی امور اس کے سپرد کر دیئے، جسے وہ سنبھال نہ سکے، جس کا نتیجہ آج کا قومی انتشار و بگاڑ ہے۔
 
جن قومی فرسودہ روایات کو آئی ایس او نے توڑا، ان میں سے ایک یہ عمومی تاثر تھا کہ اس قوم کا الہیٰ عبادات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ سمجھا جاتا تھا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو نماز، روزہ، حج و دیگر عبادات کو انجام نہیں دیتے۔ اس منفی تاثر سے دوست و دشمن سب متاثر تھے، حتی کہ خود شیعہ عوام بھی اپنی سادگی میں یہی سمجھتی تھی کہ نماز روزہ ہمارا کام نہیں ہے بلکہ ہم عزاداری کے لئے خلق ہوئے ہیں۔ اس منفی موقف کی تقویت اس وجہ سے بھی ہوئی کہ قومی سطح پر ان عبادات کے اجتماعات منعقد کرنے کا رجحان نہ تھا اور کہیں سے بھی یہ اظہار نہیں ہوتا تھا کہ یہ ملت ان مسلمہ عبادات کو اہمیت دیتی ہے، جبکہ روایتی انداز کی رسوماتی اور خانقاہی عزاداری کے کئی حلقے دکھائی دیتے تھے بلکہ ملی عوامی اجتماعات میں تو یہی چھائے ہوئے تھے جس کا اظہار پوسٹرز، بینرز اور عوامی اجتماعات سے ہوتا تھا۔

اگرچہ یہ سلسلے اب بھی اسی طرح یا اس سے بھی شدید تر انداز سے قائم ہیں، لیکن آئی ایس او کی روایت شکنی کے عمل کی وجہ سے اس کے ایک بڑے حصہ میں مقصدیت و معنویت بھی شامل ہوگئی ہے اور عبادت الہیٰ کے مناظر بھی نظر آنے لگے ہیں، خصوصاً جلوس ہائے عزاداری کے دوران نماز کا قیام آئی ایس او کا ایسا کارنامہ ہے، جس کی جتنی تعریف کی جائے وہ کم ہے۔ اس عمل نے روایتی جلوسوں کو معنویت اور مقصدیت کی طرف لانے میں مدد دی۔ آج منبر حسینی سے تبلیغ دین معمول کی بات سمجھی جاتی ہے جبکہ پہلے ایسا ہونا شاذ و نادر ہی ہوا کرتا تھا۔
 
پاکستان کی ملت جعفریہ کو بین الاقوامی سطح پر اس مکتب کے ماننے والوں کے ساتھ متصل و منسلک کرنے میں آئی ایس او کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہی آئی ایس او تھی، جس نے تشیع کی عالمی مرجعیت خصوصاً امام خمینی رضوان اللہ علیہ کو پاکستان میں متعارف کرانے کا نہ صرف چیلنج قبول کیا بلکہ امام خمینی رضوان اللہ علیہ کے پیغامات کو حقیقی روح کے ساتھ نوجوانوں میں عملاً متعارف کرایا۔ میں اس اہم عمل کو دو زاویوں سے روایت شکنی کے باب میں شامل کر رہا ہوں۔ ایک اس جہت سے کہ آئی ایس او کی اس تحریک سے پہلے پاکستان کی ملت تشیع عوامی سطح پر مسئلہ تقلید اور توضیح المسائل سے ناواقف تھی اور کسی بھی گھر میں توضیح المسائل موجود نہ تھی بلکہ تحفۃ العوام  کے ابتدائی ابواب میں درج چند بنیادی مسائل ہی سے کام چلایا جا رہا تھا۔

تحفۃ العوام کو شیعہ گھروں میں دینی مسائل کی کتاب سے زیادہ علم نجوم کے مسائل کی کتاب سمجھا جاتا تھا، جس سے مکتب کی علمی حیثیت ماند پڑ گئی تھی۔ دوسری اس جہت سے کہ اس عمل سے پاکستان کی ملت جعفریہ نے بین الاقوامی سیاسی معاملات میں شعوری طور پر اپنا حصہ ڈالنے کا عمل شروع کیا۔ بین الاقوامی سطح پر ہونے والے ظلم پر آواز بلند کرنا اور مظلوموں کا ساتھ دینا پاکستان کے شیعوں میں آئی ایس او نے ہی شروع کیا۔ اس دعوے کی صداقت تاریخ سے  ثابت ہوتی ہے، کیونکہ آئی ایس او سے پہلے ملت جعفریہ میں  اس قسم کی آواز بلند کرنے کا کوئی ریکارڈ نہیں ملتا۔ اگرچہ آئی ایس او کی روایت شکنی کی متعدد اور مثالیں بھی ہیں، لیکن شاید اس مضمون میں ان سب کا احاطہ کیا جانا مشکل ہو، لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ آئی ایس او کی تشکیل جن حالات میں ہوئی، وہ بڑے مشکل اور پیچییدہ تھے۔

اس وقت پاکستان کی ملت تشیع نہ صرف ایک روایتی انداز اپنائے ہوئے تھی، مزید برآں اس روایتی حیثیت کو توڑنے کے لئے کوئی مضبوط اور موثر آواز بھی نہیں تھی، یعنی ملت صرف رسمی عزاداری اور ظاہری مجلس و ماتم کی حد تک اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے تھی۔ دینی تعلیمات کی گہرائی تک جانا تو کجا ملت دینی فرائض و عبادات سے ہی کوسوں دور تھی، کوئی دینی تبلیغی نظام نہ تھا، دینی کتب مذہبی مناظروں یا جنتریوں تک محدود تھیں۔ جب ملت کا یہ حال ہو تو نوجوان طالب علموں کا سیکولر سوشلسٹ یا نیشنلسٹ ہو جانا باعث حیرت نہیں ہونا چاہیئے۔ اس زمانے میں شیعہ طلبہ کسی بھی محدود اور تنگ نظر متشددانہ اسلامی سوچ رکھنے والی تنظیم کے قریب بھی نہیں بھٹکتے تھے، لہذا حق کی آواز نہ ہونے کی وجہ سے وہ یا تو اجتماعی جدوجہد سے الگ تھلگ رہ کر انفرادی زندگی گذارتے یا کسی غیر حقیقی، غیر فطری عقیدہ و نظریہ کی تنظیموں کا شکار ہوتے اور اسی کے رنگ میں ڈھل جاتے۔
 
معاشروں میں مختلف مقاصد کے لئے گروہوں کا تشکیل پانا کوئی نئی بات نہیں، لیکن ان گروہوں اور تنظیموں کو اپنے بنیادی مقاصد پر باقی رکھنا بہت ہی کٹھن کام ہے۔ ہر تنظیم ابتداء میں خالص ہوتی ہے لیکن وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ معاشرے میں پائے جانے والی آلودگیاں ان تنظیموں کا گھراؤ کر لیتی ہیں اور ان پر اپنے اثرات چھوڑنا شروع کر دیتی ہیں، جس وجہ سے تنظیموں میں مقاصد کے حصول کے لئے پائے جانے والا جوش و جذبہ بھی ماند پڑ جاتا ہے اور تنظیمی کام روزمرہ کے روایتی کاموں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ روایت شکنی ایک ایسا عمل ہے، جو معاشروں کو زندہ رکھتا ہے اور انہیں ایک متحرک اور فعال معاشرہ بناتا ہے۔ اگر کوئی تنظیم معاشرے میں روایت شکنی کے لئے تشکیل دی گئی ہو تو اسے اسی اصول اور طرز عمل پر باقی رکھنا اور ضروری ہو جاتا ہے۔ روایت شکن تنظیم کا روایتی بن جانا ایک عجب کہانی دکھائی دیتی ہے، لیکن اگر شعوری طور پر محنت و جدوجہد نہ کی جائے تو ایسا ممکن بھی ہو سکتا ہے۔ بقول شاعر (اختر پیامی)
تجھ کو ڈر ہے تری تہذیب نہ جل جائے کہیں
‎مجھ کو ڈر ہے یہ روایات نہ جل جائیں کہیں
‎پھر اک دن اسی خاکستر سے
‎اک نئے عہد کی تعمیر تو ہو جائے گی
 
اب آئی ایس او اپنی تشکیل کی نصف صدی مکمل کرنے والی ہے تو اس بات کا جائزہ لیا جانا چاہیئے کہ کیا اب بھی تنظیم اپنے ماضی کے طریقہ کار، حکمت اور ٹیکنیک پر باقی ہے یا اس نے صرف کچھ نئی روایات کو جنم دیا ہے اور اب ایک روائتی انداز میں انہیں باقی رکھنے کے لئے سرگرم عمل ہے؟ کیا ماضی کے چیلنجز کی طرح تنظیم اب بھی اس قابل ہے کہ معاشرتی دباؤ کو برداشت کرکے اس کا مقابلہ کرے اور روایت شکن اقدامات کو اب بھی شعوری طور پر انجام دے؟ کیا آج بھی تنظیم کے ارکان کے سامنے یہ بات ہے کہ وہ کن روایات کے خلاف سینہ سپر ہیں اور قومی سطح پر اصلاح کے لئے ان کا کیا پلان ہے اور انہوں نے یہ اہداف حاصل کرنے کے لئے زمانے اور حالات کے تقاضوں کے مطابق کیا طریقہ کار اور حکمت عملی اپنائی ہوئی ہے۔؟
 
آئی ایس او کو اپنے ابتدائی دور میں عقیدتی، عملی اور سیاسی طور پر غیر پختہ قوم کا سامنا تھا اور اس قوم کی تربیت کی ذمہ داری اس تنظیم نے ایک چیلنج کے طور پر لی تھی اور تقریباً نصف صدی کی جدوجہد کے بعد اسے واضح کامیابی بھی نصیب ہوئی ہے۔ لیکن کیا آج بھی ایسا ہی ہے؟ آج کا چیلنج مختلف ہے کیونکہ آج اسے اجتماعی طور پر ایک منتشر قوم کا سامنا ہے۔ آج کا چیلنج اس قوم کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنا ہے، جس کے لئے ابھی تک تو کوئی راستہ تلاش کرنے کی سبیل ہوتے ہوئے دکھائی نہیں دیتی۔ آج عام عوام کے علاوہ بظاہر نظریاتی و انقلابی افراد بھی جو اپنے آپ کو ولائی کہتے ہیں، تقسیم در تقسیم ہیں، جس سے قومی ترقی کا عمل نہ صرف رک گیا ہے بلکہ اس نے ریورس گیئر بھی لگا لیا ہے، حالانکہ ہر گروہ کی قیادت اور راہنمائی علمائے کرام کے ہاتھوں میں ہے۔

آئی ایس او نے غیر مذہبی قیادت کی روایت کو توڑ کر مذہبی اور با تقویٰ قیادت کا جو انقلابی تصور عملی کیا تھا، وہ آج خود ایک روایت بن چکا ہے۔ کیا آئی ایس او اپنی ہی قائم کردہ اس نئی روایت کی فرسودگی کو دور کرنے کے لئے کوئی اقدام کر رہی ہے۔؟ کیا اپنی ہی قائم کردہ اس روایت کی اصلی روح کو آلودگیوں سے پاک کرنے کے لئے کچھ سوچا جا رہا ہے؟ کیا آج کے نظریاتی اور انقلابی ورکرز کو انتشار اور تذبذب سے نکالنے کے لئے کچھ کیا جا رہا ہے۔ شاید آج کی آئی ایس او یہ سمجھ رہی ہے کہ یہ ہماری ذمہ داری نہیں ہے۔ اگر ایسا ہے تو یاد رکھیئے کہ یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے، جب روایت شکن تنظیمیں، روایتی تنظیموں کا روپ دھار لیتی ہیں اور اپنی ذمہ داری کو دوسروں کے کندھوں پر ڈال کر فرار کا راستہ اختیار کر تی ہیں، تاکہ اپنی قائم کردہ روایات کے جال میں پھنسی رہیں۔

اس سے کوئی انکار نہیں ہے کہ قومی اتحاد و اتفاق ایک پیچیدہ چیلنج ہے، لیکن اس چیلنج کا سامنا کرکے اگر آئی ایس او قوم کو اتحاد و یگانگت کا تحفہ دے سکے تو خود یہ تنظیم اپنی زندگی کو نصف صدی سے ایک صدی تک لے جا سکتی ہے۔ آئی ایس او کو اپنی بقا، حیثیت اور وجود کا چیلنج بھی درپیش ہے کیونکہ آئی ایس او جو ایک آگے بڑھ کر فعال کردار ادا کیا کرتی تھی، آج یا تو وہ اپنے پرانے کاموں کی تکرار میں لگی ہے یا پھر اپنے بڑوں سے ملنے والی کسی ٹاسک اور اسائنمنٹ کے انتظار میں رہتی ہے۔ آئی ایس او کو اب بھی آگے بڑھ کر ہی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور پاکستان کی ملت جعفریہ میں اتحاد و اعتماد کی فضا کو بحال کرنے کے لئے اقدام کرنا ہوگا، تاکہ روایت شکن تنظیم ہونے کا تشخص برقرار رہ سکے، کیونکہ یہی زندگی کی علامت ہے۔
 
بظاہر یوں لگتا ہے کہ آئی ایس او جو ملت جعفریہ کے قومی دھارے میں نظریاتی اور انقلابی گروہوں کا ہراول دستہ تھی، جو دینی نوجوانوں کے جذبات اور امنگوں کی عکاس تھی، جو قومی درد اور خلوص کا مظہر تھی اور جس کی شناخت خود مختاری، خود انحصاری اور استقلال تھی، آج وہ آئی ایس او اپنی خود مختاری اور خود انحصاری کے لیے سرگرداں نظر آتی ہے۔ محسوس یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے محدود دائرے میں خوش ہے اور مطیعِ محض کے غیر فطری نظریہ کو اپنا کر صرف دیئے گئے ٹاسک اور ذمہ داری کو نبھانے کی کوشش کرتی ہے اور اس طرح اپنی ہی بنائی ہوئی روایات کو زندہ رکھنے کو ایک بڑا کارنامہ قرار دے کر دیگر روایتی تنظیموں کی طرح مطمئن ہے۔
خبر کا کوڈ : 795027
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

Pakistan
نظام ولایت سے مربوط آئی ایس او کے الٰہی سفر کو لہو کے آخری قطرے تک جاری رکھیں گے، مقررین

مصنف کے نزدیک آئی ایس او کو فی الفور اس روایت کو توڑنے کی ضرورت ہے۔
متاسفانه یہی سوچ اس تنظیم کی فرسودگی کا سبب بنی که خود کو قائد اور رهبر گر سمجهنے لگی!! قیادت اور رهبر دینا دانشوران اور علماء قوم کا کام ہے، مفتی جعفر حسین یا شهید قائد کو اس تنظیم نے قائد نہیں بنایا تها بلکه جوانوں کا کام قیادت کی پیروی کرنا ہے رهبر بنانا نہیں۔ خود اسلامی انقلاب کی رهبریت کو بهی جوانوں نے انتخاب نہیں کیا تھا بلکه علماء نے روح الله الموسوی کو امام خمینی اور سید علی کو امام خامنه ای بنایا اور جوانوں نے رهبر کی پیروی کی تو آج انقلاب اسلامی، شیطان بزرگ امریکا کو گهٹنے ٹیکنے پر مجبور کر رہا ہے۔ یه سب خصوصیات، مقام اور کارنامے بهی آئی ایس او کے اس دور کے ہیں جب یه تنظیم علامه سید صفدر حسین نجفی، مفتی جعفر حسین شهید حسینی اور جب تک علامه سید ساجد علی نقوی کی راهنمائی کام کرتی تهی، جب سے اس تنظیم کی بیروکریسی پر قائد گری کا بهوت سوار هوا، اس وقت سے یه تنظیم اپنا وجود بچانے کی فکر میں ہے۔
United States
پاکستان کے موجودہ علماء اس قابل نہیں ہیں، عوام میں کوئی اثر نہیں، صرف مدرسوں میں بند ہیں اور قوم کو جعفر جتوئی اور غضنفر تونسوی جیسوں کیلئے چھوڑ کر خود حجروں میں خود ساختہ قید ہیں۔ ایک بزرگ کی بات یاد آگئی کہ اگر پاکستان کے شیعوں سے اللہ نے کوئی کام لینا ہوتا تو شہید قائد علامہ عارف حسینی کبھی شہید نہیں ہوتے۔ ویسے امام خمینی کا شہید حسینی کی شہادت پر پیغام میں بھی علماء کیلئے اہم باتیں ہیں، امید ہے علماء اس پر بھی اپنی کوتاہیوں پر نظر ڈالیں گے۔ علماء اگر انبیاء کے وارث ہیں تو انبیاء رہبری کے ساتھ ساتھ قوم کو ساتھ لے کر چلنے کیلئے آئے تھے، تاکہ قوم انبیاء کی قربت کو محسوس کرتے ہوئے اپنی اصلاح کرے اور اپنی اصلاح کرسکے، لیکن پاکستان میں تو صرف سب کو رہبری کا شوق ہے، عوام کے درمیان جانا یہ لوگ بھیڑ بکریوں کے درمیان جانا تصور کرتے ہیں۔