2
1
Friday 24 May 2019 08:36

یوم تاسیس تشکر و محاسبہ

یوم تاسیس تشکر و محاسبہ
تحریر: حیدر علی
 
گھونسلے سے پیار اور انسیت کس پرندے کو نہیں ہوتی؟ اور آخر کیوں نہ ہو! سب سے پہلی پناہ، سب سے پہلا گھر، سب سے پہلا گہوراہ، پہلا ٹھکانہ اگر نہ ہو تو ماں بھی اپنی نرم آغوش میں بچوں کو سنبھال نہیں سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ گھونسلہ آدھی ماں ہوتا ہے۔ نوزائیدہ پرندوں کی پرورش گاہ کے ساتھ تربیت گاہ بھی ہوتا ہے۔ لہذا یہ گھونسلہ ماں کے ساتھ برابر کا شریک ہوتا ہے۔ اس کے اندر بیٹھ کر تربیت حاصل کرنا بہت شریں لگتا ہے۔ اس گہوارے سے انس و الفت ایک فطری عمل ہے۔ اس پناہ گاہ میں نوزائیدہ بچے ان حالات و مشکلات سے لڑنے کی تربیت حاصل کرتے ہیں، جو ان کو پرواز کے دوران پیش آسکتے ہیں، بچوں کو اسی پناہ گاہ میں تعلیم دی جاتی ہے کہ وہ کون سے امور ہیں، جن سے ان کی پرواز میں کوتاہی آسکتی ہے، لیکن یہ سارا تربیتی عمل ایک معینہ مدت تک ہوتا ہے، جب تک بچے کے بال و پر نہ نکل آئیں۔ اس مدت کے بعد بھی اگر کوئی گھونسلے میں بیٹھا رہے، پرواز نہ کرے تو اس کے دو ہی مطلب نکلتے ہیں یا تو یہ حوصلہ پرواز نہیں رکھتا اور معاشرے  کے نشیب و فراز اور تلخیوں سے ڈر گیا ہے یا یہ بیمار ہوگیا ہے، جو ابھی تک گھونسلے میں براجمان ہے۔ امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی مثال بھی اسی گھونسلے کی سی ہے، جس میں بچے تربیت حاصل کرتے ہیں کہ کیسے پرواز کے دوران "خط" پر باقی رہنا ہے، کیسے حالات کے حوصلہ شکن تھپیڑوں میں اس "خط" کی حفاظت کرنا ہے، جس کا تعین اس عظیم "انسان ساز تربیت گاہ" کے بانی شہداء کرگئے ہیں۔
 
اس عظیم الہیٰ نعمت و شجرہ طیبہ کی بے شمار خوبیاں ہیں، جن کا معترف ایک زمانہ ہے، جن کا تذکرہ کسی نہ کسی صورت سے ہوتا آیا ہے، لیکن کچھ خصوصیات ایسی ہیں، جو آئی ایس او کو ممتاز بناتی ہیں۔ جن میں سرفہرست خصوصیت "نظام کی طرف دعوت اور عوام کو نظام کا مطیع بنانا ہے۔" یہ وہ خوبی ہے، جو شاذ ہی دیکھنے کو ملتی ہے بلکہ عموماً دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ نظام یا ولی امر مسلمین سے پہلے لوگوں کو اپنا مطیع بنایا جاتا ہے اور پھر ولی امر مسلمین کی طرف رہنمائی کی جاتی ہے، جس کا نقصان یہ ہو رہا ہے کہ سادہ عوام اس وقت تک ولی امر مسلمین کی بات کو نہیں مانتی، جب تک کہ درمیان میں شخصیات اس کی تشریح و توثیق نہ کر دیں۔ یہ انتہائی باطل روش رائج ہوچکی ہے، جس کا تدارک ناگزیر ہے، جبکہ اس کے برعکس نہضت امامیہ کے جوانوں نے براہ راست لوگوں کو انقلاب اسلامی سے متعارف کروایا ہے، انقلاب و قائد انقلاب اسلامی حضرت امام خامنہ ای حفظ اللہ کا مطیع بنایا ہے، جس کی مثال اوائل انقلاب میں جب شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کی مسئولیت میں برادران امامیہ کا ایک وفد امام خمینی رضوان اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا اور ملاقات کی تھی، جس میں امام خمینی رضوان اللہ تعالیٰ نے براہ راست برادران امامیہ کے لیے خطاب کیا تھا۔ بزرگان کو چاہیئے اس خطاب کے مندرجات بیان کریں۔
 
دوسری خصوصیت اس شجرہ طیبہ کی تعلیمی و تربیتی روش ہے، جس کے تحت سکول کے چھوٹے بچے سے لے کر کالج اور یونیورسٹیز کے جوان تک کے لیے ایک مکمل نصاب تربیت، جو جوان نسل کو عصر جدید کے جدید فتنوں سے محفوط رکھنے میں معاون ہوتا ہے۔ اس تربیتی روش کا ثمرہ یہ ہے کہ نوجوان نہ صرف خود سازی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں بلکہ اس سے بڑھ کر معاشرے میں وقوع  پذیر ہونے والے حالات و واقعات سے بھی لاتعلق نہیں رہتے، بلکہ اپنے نظریات کی بنیاد پر حالات و واقعات کو بدلنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔ جس کی بڑی مثال چند ماہ قبل آل سعود کے مجرم اور قاتل خاندان کا سرغنہ بن سلمان پاک سرزمین پر اترا تو پورے پاکستان میں ہر شعبہ زندگی اور ہر سطح پر ایک حکومتی کرفیو کا سماں تھا، بڑے بڑے ادارے اور شخصیات حکومتی و فوجی پریشر پر تسلیم ہوچکے تھے، اس حالت میں آئی ایس او کے مرکزی صدر برادر سید قاسم نے اس حبس اور خوف کی فضاء کو توڑتے ہوئے احتجاج کا اعلان اور خائن حرمین شریفین کے خلاف ایک آگاہی مہم کا آغاز کیا۔ اس مبارزے میں چند بزرگ علماء نے بچوں کا ساتھ دیا۔

یہ وہ وقت تھا، جب زبانوں پر تالے پڑ چکے تھے، قلم ساقط تھے، کوئی بات کرنے کو تیار نہیں تھا، اس وقت برادران امامیہ کراچی، لاہور، اسلام آباد، سرگودھا اور پشاور میں میدان میں نکلے اور ظلم ستیزی کا الہیٰ فریضہ انجام دیا، جس کی بھاری قیمت  بھی زندان و اسیری کی صورت میں چکائی۔ یہ استقامت اس درس شجاعت کا نتیجہ ہے، جو آئی ایس او کے تربیتی نصاب میں پڑھایا جاتا ہے۔ ورنہ ایسے لمبے دروس جو مصلحت پسندی کا شکار کر دیں، وہ درس سے زیادہ لوریاں بن جاتے ہیں، جن کو سن کر قوم مدہوش تو ہوسکتی ہے مگر انقلابی نہیں بن سکتی۔ امام خمینی رضوان اللہ تعالیٰ نے ایک بار علماء سے گفتگو میں فرمایا تھا کہ "اس انتظار میں مت رہو کہ طاقت ملے گی پھر آواز بلند کرو گے بلکہ بولو، آواز اٹھاو تاکہ طاقت ملے ۔" امام راحل کے یہ جملے برادران امامیہ کی تربیتی روش کی تائید کرتے ہیں کہ تربیت کے ساتھ ساتھ مبارزہ لازم ہے۔
 
ان دنوں جبکہ 47 واں یوم تاسیس منایا جا رہا ہے، آئی ایس او کی گراں قدر خدمات کو خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے، وہیں پر تجدید عہد کے ساتھ ساتھ محاسبہ کی بھی ضرورت ہے کہ ان پانچ دہاہیوں پر محیط طولانی سفر میں کیا کھویا اور کیا پایا۔ جیسے کہ امیر المومنین علی ابن ابی طالب ؑ نہج البلاغہ میں ارشاد فرماتے ہیں "فَحاسِب نَفْسَك‌َ لِنَفْسِك‌،"اپنے آپ کو اپنے لئے پرکھ لو اور محاسبہ کرو" ہمیں دیکھنا ہوگا کہ ہمارا آج گزرے ہوئے دن سے بہتر ہے یا نہیں؟ کیونکہ بدلتے وقت کے ساتھ چیلنجز بھی مختلف طریقوں سے سامنے آرہے ہیں، جس طرح سے آج کل تعلیمی اداروں میں لادینیت، لبرل ازم اور سیکولرازم کی یلغار ہے، یہ یلغار اُس یلغار سے کہیں زیادہ طاقتور ہے، جس سے ملت تشیع کے جوانوں کو بچانے کے لیے 70 کی دہائی میں اس الہیٰ تنظیم کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ آج سیکولرازم اچھے خاصے دین دار جوانوں کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے، لہذا آج اس کے خلاف زیادہ طاقتور دلائل و برہان اور جدید تقاضوں کے مطابق تیاری کی ضرورت ہے۔

اس مسئلے کے حل کے لیے بھی شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کی زندگی قریبی ترین اسوہ کے طور پر موثر ہے، کیونکہ یہ فطری عمل ہے کہ انسان اپنے قریبی اسوہ سے جلد سیکھتا اور سمجھتا ہے۔ 1986ء میں فاطمید بلڈ ٹرسٹ جو کہ اسماعیلوں  کا ایک فلاحی ادارہ تھا، جس میں ڈاکٹر شہید عہدے دار تھے اور ان کے ساتھ فلاحی کام کرتے تھے۔ اسی دوران انڈیا کے معروف اداکار دلیپ کمار پاکستان آیا تو فاطمید ٹرسٹ والوں نے الحمراء آرٹس کونسل میں اس کے اعزاز میں پروگرام رکھا اور ڈاکٹر شہید کے ذمہ لگایا کہ آپ اس محفل میں اسٹیج سیکرٹری کی ذمہ داریاں ادا کریں گے، جس پر ڈاکٹر شہید بہت ناراض ہوئے اور کہا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ میں دلیپ کمار کے لیے اسٹیج سیکرٹری بنوں!!! شہید ڈاکٹر نقوی نے اسی وقت استعفیٰ دیا اور اس ادارے کو خیر باد کہہ دیا۔ یہ وہ اسوہ ہے، جو تعلیمی اداروں اور دیگر شعبہ ہائے زندگی میں نوجوانوں کے لیے مشعل راہ ہے کہ کیسے ایک سیکولر سوسائٹی میں رہا جاسکتا ہے۔
 
گذشتہ چند سالوں سے آئی ایس او کے اندر شعبہ جات سے ادارہ جات کی طرف  بہت مثبت کوششیں ہو رہی ہیں، یہ بھی اپنی نوعیت کارنامہ ہے، کیونکہ ہم اپنے اردگرد جب دیکھتے ہیں کہ چند شخصیات ہوتی ہیں، وہی ادارہ ہوتی ہیں، وہ ہی فیصلہ ساز ہوتی ہیں، جس سے ادارے کے بجائے شخصیات طاقتور ہوتی ہیں۔ مگر برادران امامیہ اس ناقص روایت سے بھی دور رہتے ہوئے ادارہ سازی اور پھر استقلال پر کاربند ہیں، جس کا نتیجہ گذشتہ چند ماہ میں ہونے والے پروگرامات میں واضح بہتری نظر آئی ہے، لیکن کچھ چیزوں پر بالخصوص دو امور میں ہنگامی سطح پر کام کی گنجائش ہے، جس میں سرفہرست ایک امامیہ کمپلیکس کا قیام ہے۔ ایک ایسی جگہ جہاں پر مرکزی کنونشن کا انعقاد کیا جاسکے، ایسی جگہ جہاں پر پانچ ہزار افراد کی کم از کم گنجائش ہو، کیونکہ جب سے مرکزی کنونشن دوسری جگہ منتقل ہوا ہے، ایک احساس محرومی ہے، جس کا تدارک ضروری ہے۔ بیشک ایک طلبہ تنظیم کے لیے یہ آسان نہیں، وسائل کی قلت درپیش ہے، مگر یہ  ناممکن نہیں۔

اسی طرح ادارہ تربیت ہے، جس میں توسیع ناگزیر ہے، اسے ڈویژن لیول تک مرحلہ وار توسیع دینے کی ضرورت ہے، تاکہ جب ایک یونٹ مرکز سے عالم دین یا مبلغ کے لیے کہے تو اسے سسٹم سے وابستہ ہم فکر علماء میسر آئیں۔ ادارے میں پہلے سے موجود علماء پورے ملک کا احاطہ نہیں کرسکتے۔ مذکورہ دو امور ایسے ہیں، جن میں کامیابی سسٹم کی رفتار کو کئی گنا بڑھا سکتی ہے، کیونکہ تربیت کی حیثیت آئی ایس او کے وجود میں خون کی طرح ہے، جس کے بغیر اسٹرکچر زندہ نہیں رہ پائے گا۔ ان شاء اللہ خدا سے دعا ہے کہ جیسے پہلے درپیش سخت چیلنجز پر کاروان امامیہ نے عبور حاصل کیا، اس طرح آگے بھی کامیابیوں کا یہ سلسلہ جاری رہے گا اور خدا حق کی اس راہ میں اس الہیٰ نہضت کو مزید استقامت اور پرثمر بنائے نیز اسیران امامیہ کو رہائی نصیب ہو۔
نظر کے ساتھ قدم بھی بڑھا سوئے منزل
کہ تیرا مقام ذرا آسماں سے آگے ہے
خبر کا کوڈ : 796111
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

سید کمیل رضوی
Pakistan
ما شاء اللہ اچھی تحریر اور اچھی تجاویز ہیں، مسئولین کو غور کرنا چاہیئے ۔
Syed Muqdas
Pakistan
Bout kubsort tehreer hai Mashllaha Dr saheed k waqye ne hmy apna wqt yad dila dia
منتخب