2
1
Monday 27 Jan 2020 21:53

چودہ سو سال میں دعائے عرفہ کی سائنسی تشریحات لکھنے والا پہلا شخص

چودہ سو سال میں دعائے عرفہ کی سائنسی تشریحات لکھنے والا پہلا شخص
تحریر: آغا مجتبیٰ زمانی

18 جنوری 2020ء کی شب برادر محترم دانشمند ڈاکٹر انصارالدین مدنی کے ہمراہ چودہ سو سال میں پہلی بار حضرت امام حسینؑ (دعائے عرفہ) کے 34 کلمات کی سائنسی تشریحات لکھنے والے نامور دانشور و محقق محترم جناب محمد علی سید کے دولت کدے پر حاضر ہونے کا موقع نصیب ہوا۔ جناب سید صاحب نے بہت محبت سے ہمارا استقبال کیا اور اپنی تازہ شائع ہونے والی کتاب "عرفانِ دعائے عرفہ" ہمیں عنایت کی۔ جتنی دیر سید صاحب کے پاس رہے، موضوع قرآن، اہلبیتؑ اور سائنس ہی رہے۔ بہت سیر حاصل گفتگو فرماتے رہے۔ گھر واپس آنے کے بعد کتاب ہاتھ میں لی تو اس کتاب کا ایک ایک لفظ علم اور معلومات کے خزانے بکھیرنے لگا۔ دل تو چاہ رہا تھا کہ اس کا ایک ایک لفظ قارئین کو پہنچا دوں مگر یہ ممکن نہ تھا، لیکن اس کے اہم موضوعات اور اس کتاب کی اہمیت کے پیشِ نظر اس کتاب کے چند مطالب قارئین کی خدمت میں پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ امید ہے کہ کتب بین افراد اسے پسند فرمائیں گے۔

اس کتاب کو پڑھنے کے بعد ہم یہ محسوس کرینگے کہ سید صاحب کا مقصد بھی وہی ہے، جو قرآن کا ہدف ہے، جو ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاءؑ کا مقصد ہے، جو محمد و آلِ محمدؑ کا ہدف تھا۔ سید صاحب پڑھے لکھے دماغوں کو توحید کی جانب متوجہ کرنا چاہتے ہیں۔ محمد علی سید صاحب کو اللہ تعالیٰ نے تحقیقی و تخلیقی صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ ان کا موضوع قرآن، اہلبیتؑ اور سائنس ہے۔ اس موضوع کے حوالے سے ان کی گیارہ کتابیں شایع ہوچکی ہیں۔ "عرفان دعائے عرفہ" ان کی بارہویں کتاب ہے۔ ہر کتاب کا ذیلی موضوع کچھ بھی ہو، لیکن ان کا بنیادی موضوع ایک ہی ہے، یعنی خود شناسی اور اس کے نتیجے میں خدا شناسی۔

دعائے عرفہ، دعائیہ ادب کا ایک عظیم شاہکار ہے۔ یہ دعا نو ذی الحج اٹھاون ہجری کو میدانِ عرفات میں نواسہ رسول حضرت امام حسین علیہ السلام کی لسانِ صدق سے ظاہر ہوئی۔ اس دعا میں اثباتِ وجودِ باری تعالیٰ کے عقلی دلائل کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے بےپایاں احسانات و انعامات کا ایک بےکراں اور بےکنار سمندر موجزن ہے۔ اس سمندر کی وسعت و گہرائی کو خالقِ کائنات سمجھ سکتا ہے یا وہ ہستیاں جنہیں اللہ نے اپنے اور اپنی مخلوق کے درمیان واسطہ بنایا ہے۔ ہم دعائے عرفہ کو پڑھتے رہے لیکن آج تک کسی فورم سے دعائے عرفہ کے اس پہلو کے بارے میں کہیں بھی کچھ بیان نہیں کیا گیا۔ امام حسین علیہ السلام نے کچھ ایسی باتیں بیان کی ہیں، جو اس شخص کے سوا کوئی اور بیان نہیں کرسکتا، جسے ان چیزوں کا پیشگی علم نہ ہو، جو اس کے اس دنیا سے رخصت ہونے کے سینکڑوں سال بعد دریافت ہوئیں۔

محمد علی سید صاحب نے میڈیکل سائنس کے انتہائی پیچیدہ حصے جینیات (Genetics) کو موضوع بناتے ہوئے اس کی پیچیدہ معلومات کو بہت آسانی سے سمجھ میں آنے والی زبان میں واضح کیا ہے۔ محمد علی سید صاحب کی اس تحریر کی خوبصورتی یہ ہے کہ یہ جدید اور معتبر ترین تحقیقی معلومات پر مشتمل ہے۔ ایک ماہر ڈاکٹر جناب محمد رضا زیدی(سنگاپور) بیان کرتے ہیں کہ "میں ڈاکٹر ہونے اور زندگی کا بیشتر حصہ میڈیکل کی دنیا میں گزارنے اور ان معلومات کو بخوبی جاننے کے باوجود ان حقائق کو ایسے بیان نہیں کرسکتا، جیسے سید صاحب نے اس کتاب میں بیان کیا ہے۔"

جب محمد علی سید صاحب سے یہ پوچھا گیا کہ انہوں نے دعائے عرفہ کے صرف چونتیس کلمات ہی کو سائنسی تشریح کے لیے کیوں منتخب کیا؟ تو سید صاحب نے فرمایا کہ اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ میرا علم ہی اتنا تھا، تفصیلی جواب یہ ہے کہ مجھے ان کلمات میں وہ سائنسی علوم نظر آئے، جن کے بارے میں امام حسین علیہ السلام کے عہد سے ہزار سال پہلے اور ہزار سال بعد بھی کرہ ارض پر کسی کو اس سطح کی معلومات حاصل نہیں تھیں، جن کی طرف امامؑ نے ایک خاص زاویے اور مخصوص الفاظ کے ذریعے ہمیں متوجہ فرمایا ہے۔

مثلاً آپؑ نے اعضائے جسمانی میں سے بیشتر اعضاء کے صرف نام ہی نہیں لیے بلکہ ان اعضا کی اندرونی حالت کو بھی بیان فرمایا۔ آپؑ نے جگر نہیں کہا بلکہ "جگر اور اطراف کے خزانے" کہا۔ کان نہیں کہا بلکہ "کان کی جھلیاں" کہا۔ زبان نہیں کہا بلکہ زبان اور کھانے کے ذائقوں کی طرف اشارہ فرمایا۔ دل نہیں کہا بلکہ "دل کے پردے" کہا۔ آنکھیں نہیں کہا بلکہ "نور کے پیوستہ راستے" کہا۔ سانس کی نالی نہیں کہا بلکہ "نفس کے راستے" ارشاد فرمایا۔ علم حیاتیات، علم تشریح الاعضاء، علم فعلیات، حتیٰ کہ علم جینیات (جینیٹکس) کے حوالے سے یہ وہ چشم کشا حقائق تھے کہ امامؑ کے بیان سے ہزار سال پہلے اور ہزار سال بعد بھی کرہ ارض پر موجود انسانوں کو ان کا سرسری سا بھی علم نہیں تھا۔

پندرہ سو چالیس عیسوی میں اٹلی کے ایک بیدار مغز ماہرِ حیاتیات نے انسانی لاشوں کا پوسٹ مارٹم کرکے اندرونی اعضاء کا معائنہ کیا اور نامور ماہر فلکیات اور مصور لیونارڈو ڈےونچی (Leonardo DaVinci) نے موم بتی کی روشنی میں ان اعضاء کی تصویریں بنائیں۔(یہ تصویریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں) علم تشریح الاعضا کے حوالے سے جو کچھ امام عالی مقامؑ نے فرمایا، اس کی مشاہداتی تصدیق کے لئے ریڈیولوجی اور مائکروبیالوجی جیسے سائنسی علوم کی ضرورت تھی اور یہ علوم انیسویں صدی عیسوی سے پہلے وجود ہی نہیں رکھتے تھے۔ کتاب "عرفانِ دعائے عرفہ" کے چوتھے باب میں سید صاحب نے بڑی خوبصورتی کے ساتھ نومولود بچوں کی خوراک (دودھ) ماؤں کے سینوں میں تشکیل کے ایک پیچیدہ عمل کو واضح کیا ہے اور جس طرح اس کی تفصیلات بیان کی ہیں وہ ماہر ڈاکٹروں کے لیے بھی حیران کن ہیں۔

اسی طرح چھٹے باب میں مصنف نے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ بصارت کی صلاحیت کے انتہائی پیچیدہ طریقہ کار کو جس عام فہم زبان میں بیان کیا ہے، ایسا اسلوب عام طور پر اسلامی کتب ہی نہیں سائنسی کتب میں بھی استعمال نہیں کیا جاتا۔ کتاب کے چونتیسویں باب میں حضرت امام حسین نے نوزائیدہ بچوں کے شیر خواری کے ایام میں انسانی اعضاء کی نشوونما کو جن لفظوں میں بیان کیا، اس کے پیچھے آج موجود سائنسی معلومات کو سید صاحب نے بڑی خوش اسلوبی سے بیان کیا ہے۔ سید صاحب نے لحمیات (Protein) کی بناوٹ کا سائنسی پس منظر پیش کیا ہے اور بتایا کہ امینو ایسڈز کی زنجیر کس طرح لحمیات کی تشکیل کرتی ہے اور یہ سارا عمل قالین بافی (Carpet Knitting) سے کس حد تک مشابہہ ہے۔

دعا، عبد و معبود کے درمیان رابطے کا سب سے مستحکم و معتبر اور نتیجہ خیز ذریعہ ہے۔ قرآن و حدیث معصومین علیہم السلام میں اس موضوع کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی۔ پیغمبر اکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں: "دعا مومن کا اسلحہ، دین کا ستون اور آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔"(کافی، ج٢، ص۴٦٨)
چیئرمین زہراء اکیڈمی پاکستان جناب شیخ شبیر حسن میثمی لکھتے ہیں: "محمد علی سید صاحب چودہ سو سال میں وہ پہلے شخص ہیں، جنہیں دعائے عرفہ کے حوالے سے اس جدید سائنسی انداز سے کام کرنے کی توفیق حاصل ہوئی اور فرزندِ رسول حضرت امام حسینؑ کے علمِ لدنی کا یہ رُخ پہلی بار دنیا کے سامنے آیا۔ جسمِ انسانی کی خلقت اور اعضائے جسمانی کی کارکردگی کے بارے میں امام عالی مقامؑ نے اس وقت آگاہی عطا کی، جب سائنس کی اصطلاح بھی ایجاد نہیں ہوئی تھی۔"

قراقرم یونیورسٹی گلگت کے جناب ڈاکٹر انصارالدین مدنی لکھتے ہیں: "محمد علی سید کو اللہ تعالیٰ نے شہد کی مکھی جیسی آنکھیں دی ہیں۔ شہد کی مکھی کی دو آنکھوں میں ہزاروں عدسے ہوتے ہیں، جن کے سبب وہ پھولوں کے رنگوں اور ڈیزائن میں قدرت کے ان اشاروں کو بہ آسانی دیکھ لیتی ہےم جو انسانوں کو دکھائی نہیں دیتے۔ محمد علی سید صاحب کے ساتھ کچھ ایسا ہی معاملہ ہے، وہ عقل کی آنکھ سے وہ کچھ دیکھتے ہیں جو ظاہری آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتا۔" معروف عالم دین علامہ طالب جوہری صاحب فرماتے ہیں: "محمد علی سید اپنی نوجوانی سے ہی علم دوست اور ادب شناس ہیں۔ انہیں شعر و شاعری اور تحریر و تدوین سے ہمیشہ عملی دلچسپی رہی ہے۔ اس کا ثبوت ان کی وہ کتابیں ہیں، جو آج قارئین کی دسترسی میں ہیں اور بڑی حد تک چونکا دینے والی انتہائی قابل قدر اور ستائش کے لائق ہیں۔"

البصیرہ کے صدر نشین جناب ثاقب اکبر بیان کرتے ہیں: "محمد علی سید مولوی تو نہیں لیکن ان کے اندر ایک مولوی ضرور موجود ہے۔ دعائے عرفہ کی تشریح دیکھ کر لگتا ہے کہ اللہ نے کچھ کام محمد علی سید ہی کے حصے میں لکھ دیئے ہیں۔" جامعہ اسلامیہ منہاج القرآن کراچی کے مفتی محمد مکرم خان قادری لکھتے ہیں: "امام عالی مقام سیدنا امام حسینؑ کی اس دعا کی تشریح ایک معجزہ ہے، جسے ہم نے 2018ء میں اپنی آنکھوں سے رونما ہوتے دیکھا۔" ڈاکٹر نعیم انور نعمانی کے مطابق: "پیش نظر کتاب کو اگر مطالب کے لحاظ سے اعجازِ امامت قرار دیا جائے تو اس کی حیرت انگیز اور ماہرانہ سائنسی تشریح اس نسلِ پاک کے ایک لائق فرزند کی کرامت ہی قرار پائے گی۔"

محمد علی سید صاحب کا اصل کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے امام حسین علیہ السلام کے ان منتخب کلمات کا بغور مطالعہ کیا اور اس غور و فکر کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے امام عالی مقامؑ کے الفاظ میں چھپے ہوئے گہرے علمی رازوں کو محمد علی سید کے لیے آشکار کر دیا اور محمد علی سید صاحب نے ان علمی خزانوں کو "عرفانِ دعائے عرفہ" کی شکل میں اپنے قارئین تک پہنچا دیا۔ اللہ تعالیٰ محمد علی سید صاحب کو مزید ہمت و توانائی عطاء فرمائے۔ الہیٰ آمین
خبر کا کوڈ : 841098
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

نثار علی ترمذی
Pakistan
ماشاءاللہ
آپ نے بہت اچھا تبصرہ کیا۔ محمد علی سید جیسے لکھاری کو سراہا جانا چاہیئے۔ سید موصوف اپنی علیحدہ شناخت بنانے میں کامیاب رہے ہیں۔
Australia
جزاک اللہ محترم بزرگوار
اللہ آپ سمیت تمام بزرگانِ قوم کو سلامت رکھے۔ الہیٰ آمین
ہماری پیشکش