?>?> عدالت عظمیٰ کا فیصلہ - اسلام ٹائمز
1
0
Sunday 18 Apr 2021 14:40

عدالت عظمیٰ کا فیصلہ

عدالت عظمیٰ کا فیصلہ
تحریر: سید شکیل بخاری ایڈووکیٹ

راولپنڈی اور اسلام آباد کے سنگم فیض آباد چوک پر سال 2017ء میں تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے دھرنا دیا گیا، جس میں توہین رسالت کے قانون میں ترمیم کے خلاف مطالبات رکھے گئے، اس وقت ملک میں مسلم لیگ نون کی حکومت تھی، 
دھرنا مظاہرین نے مکمل طور پر ٹریفک معطل کر دی اور مطالبات کی منظوری تک اسے ختم نہ کرنے کا اعلان  کر دیا تھا، البتہ اس دھرنا کا اختتام وزیر قانون زاہد حامد کے استعفیٰ کے بعد ہوا تھا۔ اس کے بعد ملک کے اندر مختلف اوقات کے دوران ٹی ایل پی کی جانب سے دھرنے اور احتجاج کیے جاتے رہے۔ فیض آباد دھرنا کے حوالے سے عدالت عظمیٰ کے دو رکنی بینچ جس میں قاضی فائز عیسیٰ اور اس کی سربراہی جسٹس مشیر عالم کر رہے تھے، انہوں نے اٹارنی جنرل، الیکشن کمیشن آف پاکستان اور چیئرمین پیمیرا کو سننے کے بعد 22 نومبر 2018ء کو فیصلہ دیا، یہ ٹی ایل پی کے مستقبل کے حوالے سے مکمل ہدایت نامہ تھا، جس پر حکومتوں نے کوئی توجہ نہ دی۔

اس ججمنٹ میں 12 مئی 2012ء کراچی واقعہ کا حوالہ بھی  دیا گیا، اس فیصلے میں کہا گیا کہ اگر کوئی شخص دوسروں کو نقصان پہنچانے کا فتویٰ دے اور دوسروں کے حقوق غصب کرے تو اس کے خلاف Pakistan penal code اور Anti Terrorism Act کے تحت کاروائی ہونی چاہیئے۔ اسی طرح Electronic Crimes act کے تحت کاروائی کی جانی چاہیئے۔ اس فیصلے میں پیمیرا کو مناسب ہدایات بھی دی گئیں، اس فیصلے میں تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کو کہا گیا۔ اسی طرح پولیس کو ہدایات دی گئی کہ دھرنوں اور جلوسوں کو مینج کرنے کے حوالے سے موثر پلان مرتب کریں۔ اس فیصلے میں قابل ذکر نقطہ اس سیاسی جماعت یعنی تحریک لبیک کے خلاف قانونی کاروائی کرتے ہوئے ذرائع آمدن معلوم کیے جائیں اور اس کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان اپنا فیصلہ سنائے اور اسے اگر مناسب سمجھے تو بین کرے۔

اس فیصلے میں تمام ایجنسیز، ادارے اور افواج پاکستان کو مخاطب کیا گیا اور حکم دیا گیا کہ آئین پاکستان مسلح افواج اور اداروں کو سیاسی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دیتا۔ کہا گیا کہ وزارت دفاع اور افواج کے متعلقہ سربراہان ان افراد کے خلاف قانونی کارروائی کریں، جنہوں نے اپنے حلف کی خلاف ورزی کی ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے میں یہ بھی کہا کہا گیا ہے کہ "تمام خفیہ اداروں بشمول (آئی ایس آئی، آئی بی اور ایم آئی) اور پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کو اپنے مینڈیٹ سے تجاوز نہیں کرنا چاہیئے اور نہ ہی وہ اظہار رائے کی آزادی کو سلب کرسکتے ہیں اور نہ ہی انھیں (چینلز اور اخبارات) کی نشر و اشاعت اور ترسیل میں مداخلت کا اختیار ہے۔" فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حکومت یا کوئی بھی خفیہ ادارہ اظہار رائے کی آزادی پر قدغن نہیں لگا سکتا۔

فروری میں سنائے گئے فیصلے میں پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے 2014ء میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دیئے گئے دھرنے کے علاوہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں کراچی میں اس وقت کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی آمد کے موقع پر فائرنگ سے درجن سے زائد وکلا کی ہلاکت کے واقعے میں ایم کیو ایم کا بھی ذکر کیا گیا تھا۔ میرے خیال سے حکومت پاکستان کو اسی فیصلے کے تناظر میں مذہبی سیاسی جماعت کے خلاف کارروائی کرنا تھی، جو کہ درست اور قانون کے مطابق تھا۔ اگر احتجاج کی بنیاد پر سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو کالعدم قرار دیا جانے لگا تو وطن عزیز کی کوئی ایسی جماعت نہیں ہے، جس نے جلاؤ گھراؤ نہ کیا ہو، سوائے ان فرزندان علی ابن ابی طالب کے جنہوں نے سرزمین پاکستان پر 100 سے زائد جنازوں کو رکھ کر بھی پرامن احتجاج کیے ہیں اور آج سینکڑوں جوانوں کے جبری لاپتہ ہونے کے باوجود پرامن طریقے سے آواز حق بلند کر رہے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 927895
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

Pakistan
سلام
ہمیں اپنے شیعہ مِسنگ برادران کی بازیابی پر توجہ مرکوز کرنا چاہیئے، اس کا کوئی راہ حل تلاش کرنا چاہیئے۔ یہ تحریک لبیک وغیرہ اسٹیبلشمنٹ کی بنائی ہوئی تنظیمیں ہیں، ان کے مقاصد کم و بیش ہونے کے ساتھ ان کے عروج و زوال کا سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ کیا ان کالعدم تنظیموں کے مقاصد اور لیڈروں پر بھی پابندی لگتی ہے، یہ لیڈرز اگلے دن اپنے مخصوص مقاصد کے لئے نئی تنظیم بنا لیں گے، یہ سب طاغوت و استعمار کے ایجنٹس ہیں، ان کا یہی پروفیشنل ہے۔
ہماری پیشکش