0
Friday 24 Feb 2012 15:59

سعودی عرب کی یمن میں فرقہ وارانہ فسادات شروع کروانے کی سازش

سعودی عرب کی یمن میں فرقہ وارانہ فسادات شروع کروانے کی سازش
اسلام ٹائمز- یمن کے شمال میں سعودی عرب کی مدد سے علی عبداللہ صالح کی تھکی ہوئی فورسز کو اکسا کر ایک نئی فرقہ وارانہ جنگ شروع ہو چکی ہے۔ اس مذہبی جنگ نے صعدہ، حجہ اور الجوف کے علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور یہ وہی مناطق ہیں جہاں سے انقلاب کے آغاز میں الحوثی گروپ کی فورسز نے اپنی جدوجہد کو شروع کیا تھا۔
الحوثی گروپ کے مجاہدین کا شمالی یمن میں عوام کی جانب سے عظیم استقبال کیا گیا تھا جسکی بنیادی وجہ انقلاب میں انکا بڑھ چڑھ کر حصہ لینا تھا۔ الحوثی گروپ قومی خودمختاری کو ملت یمن کے اصلی مطالبے کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
سعودی عرب شمالی یمن کے قبائل کو الحوثی گروپ کے مجاہدین کے خلاف جنگ پر اکسا رہا ہے۔ اسی وجہ سے یمن کے عوام انکی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ سعودی عرب نے بھاری اخراجات کے ذریعے بعض قبائل کی مالی اور لجسٹیک سپورٹ کر کے انہیں صنعا سمیت کئی شہروں میں الحوثی گروپ کے مجاہدین کا مقابلہ کرنے کی ترغیب دلائی تھی۔
یمن میں عوامی انقلاب کے آغاز سے اس ملک کے اندرونی معاملات میں سعودی عرب کی مداخلت انتہائی شدت اختیار کر چکی ہے۔ اگرچہ اس سے قبل بھی یمن کے شمالی حصے خاص طور پر صعدہ میں سعودی عرب کی مداخلت جاری تھی۔ جو چیز واضح ہے وہ یہ کہ سعودی عرب یمن میں رونما ہونے والے انقلاب سے سوء استفادہ کرتے ہوئے الحوثی گروپ کو نشانہ بنانا چاہتا ہے تاکہ اس طرح ان سے اپنی ماضی کی ناکامیوں کا بدلہ لے سکے۔ بعض قوتیں سعودی عرب کی حمایت سے یمن کے شمالی حصے خاص طور پر سنی اکثریت والے شہر دوماج میں الحوثی گروپ کے خلاف اپنی کاروائیوں کا آغاز کر چکی ہیں۔
یمن میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کئی سالوں سے انتہائی پرامن انداز میں اکٹھے زندگی گزار رہے ہیں۔ لیکن اس وقت سعودی عرب کے حمایت یافتہ بعض قبائل کے افراد یمن میں فرقہ وارانہ فسادات شروع کروانا چاہتے ہیں۔
الحوثی گروپ اور حکمران جماعت الاصلاح کے درمیان کئی معاہدے بھی طے پا چکے ہیں لیکن یہ معاہدے جنگ رکوانے میں موثر ثابت نہیں ہو سکے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ الاصلاح پارٹی بھی سعودی عرب کے ہاتھوں بکی ہوئی ہے اور اس کی ایماء پر معاہدوں کو بھی نظرانداز کر رہی ہے۔ حکمران جماعت الحوثی گروپ کے خلاف لڑنے والے قبائل کی حمایت بھی کرتی ہے جسکی تازہ ترین مثال صعدہ کے خطے میں جنگ بندی کو توڑنا ہے۔
الحوثی گروپ نے تاکید کی ہے کہ الاصلاح پارٹی شمالی یمن میں شروع ہونے والے فسادات میں بنیادی کردار کی حامل ہے اور اسی طرح تھام اور کناف کے علاقوں میں انجام پانے والی جھڑپوں میں بھی شریک رہی ہے۔ اسکے علاوہ اس پارٹی کے بعض کٹھ پتلی افراد ملک کے کئی حصوں میں الحوثی گروپ کے خلاف لڑائی شروع کروانے میں مرکزی کردار کے حامل ہیں۔
الحوثی گروپ کے افراد کا دعوی ہے کہ حال ہی میں طے پانے والے معاہدے امریکہ اور سعودی عرب کو پسند نہیں لہذا یہ جنگ کے تاجر اپنے افراد کے ذریعے ان معاہدوں کو ختم کرنے کیلئے سرگرم عمل ہو گئے ہیں۔ ان کٹھ پتلی عناصر نے انہیں اہداف و مقاصد کی خاطر سعودی عرب سے بڑی مقدار میں مالی امداد اور اسلحہ بھی دریافت کیا ہے۔
سید الحوثی کا میڈیا آفس انہیں حقائق سے متعلق ایسے اسناد و مدارک بھی منظر عام پر لایا ہے جن سے ثابت ہوتا ہے کہ سعودی حکومت یمن میں جنگ اور فرقہ وارانہ فسادات کی آگ بھڑکانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ اس سے قبل بھی اس بارے میں تصاویر اور مدارک منظر عام پر لائے گئے تھے جنکی سعودی حکومت نے تردید کی تھی۔
یہ اسناد و مدارک ظاہر کرتے ہیں کہ سعودی عرب یمن میں فرقہ وارانہ فسادات میں ملوث افراد کو اسلحہ، پیسے اور امریکی ہاوون میزائل فراہم کرتا رہا ہے۔
الحوثی گروپ کے سیاسی دفتر کے ایک اہلکار مالک الغیشی نے فارس نیوز ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا:
منظر عام پر آنے والے اسناد و مدارک ظاہر کرتے ہیں کہ سعودی عرب گذشتہ کئی سالوں کے دوران واضح طور پر یمن کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرتا چلا آ رہا ہے اور بعض قبائل کے سربراہان پر اپنا اثر و رسوخ پیدا کر کے انہیں اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے استعمال کرتا رہا ہے۔ یہی مداخلت یمن میں انجام پانے والے تمام حوادث کی اصلی وجہ ہے"۔
مالک الغیشی نے مزید کہا کہ یہ دراصل امریکہ کی ایک بڑی سازش ہے جسکے تحت سعودی عرب صعدہ میں مداخلت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم یمن قوم کا حصہ ہیں اور پہلے دن سے ہی اپنے ملک میں بیرونی مداخلت خاص طور پر امریکہ اور سعودی عرب کی مداخلت کے خلاف صدائے احتجاج بلند کر رہے ہیں۔
الحوثی گروپ کے سیاسی دفتر کے اہلکار کا کہنا تھا کہ امریکہ اور سعودی عرب کی مداخلت کی مخالفت ہی ملک میں استحکام اور پایداری کی ضمانت فراہم کر سکتی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ملت یمن اس حقیقت کو بخوبی درک کر چکی ہے کہ امریکہ اور سعودی عرب کی مداخلت کے خلاف احتجاج ہی ہماری آزادی، خودمختاری اور قومی عزت و وقار کی حفاظت کر سکتا ہے۔
مالک الغیشی نے کہا کہ یمن کے قبائل کے درمیان موجود مسائل کا راہ حل اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہم بیرونی مداخلت سے آزادی حاصل کریں جو درحقیقت ملک کیلئے ایک حقیقی اور دائمی خطرے کی مانند ہے۔ انہوں نے تاکید کرتے ہوئے کہا کہ آج جو چیز یمن میں بدامنی کا باعث بنی ہے وہ اصل میں سعودی عرب کی سیاسی سرگرمیوں کا نتیجہ ہے، ملت یمن نے اگرچہ اب تک ان تمام سازشوں کو ناکام بنا دیا ہے لیکن سعودی عرب اپنی کوششوں کو جاری رکھے ہوئے ہے۔
یمن میں بیت المقدس کے خلاف اسرائیلی اقدامات کے خلاف گذشتہ ہفتے انجام پانے والے عظیم مظاہروں نے ثابت کر دیا ہے کہ وہاں وحدت اسلامی پائی جاتی ہے۔ مسئلہ فلسطین ایسا ہدف ہے جو دنیا کے تمام مسلمانوں اور آزاد اندیش انسانوں کا ایک پلیٹ فارم پر متحد ہونے کا باعث بنا ہے۔
صعدہ میں انجام پانے والے مظاہروں نے ثابت کر دیا ہے کہ یمن کے مسلمان عوام کی ہمدردیاں فلسطین کے مظلوم عوام کے ساتھ ہیں اور وہ اسرائیلی اقدامات اور مسئلہ فلسطین اور قدس شریف سے متعلق عرب حکام کی مجرمانہ خاموشی کی شدید مذمت کرتے ہیں۔

خبر کا کوڈ : 138970
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب