0
Sunday 25 Mar 2012 21:19

امریکہ نے پاکستانی حکمرانوں کو بلیک میل کرنا شروع کر دیا؟

امریکہ نے پاکستانی حکمرانوں کو بلیک میل کرنا شروع کر دیا؟
تحریر: تصور حسین شہزاد 

حکومت پاکستان نے جب سے پاکستان کی خارجہ پالیسی کو قومی تقاضوں اور عوامی امنگوں کے مطابق ڈھالنے کا عزم کیا ہے اور ہماری وزیر خارجہ اعلٰی امریکی عہدیداروں سے برابری کی بنیاد پر پاک امریکہ تعلقات کی بات کر رہی ہیں۔ اس سلسلے میں جوابی ردعمل کے طور پر وائٹ ہاؤس نے پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے لیے ایک نیا وطیرہ اپنا لیا ہے۔ امریکہ کو پاکستان سے یہ بھی شکایت ہے کہ اس نے ابھی تک نیٹو سپلائی بحال نہیں کی، جس سے مایوس ہو کر اس نے جنوبی وزیرستان میں ایک بار پھر ڈرون حملے شروع کر دیئے ہیں، تاہم امریکہ پاکستان سے زیادہ ناراض اس وجہ سے بھی ہے کہ اس نے پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ ترک نہیں کیا، بلکہ پاکستان نے یہاں تک اعلان کر دیا ہے کہ اگر چین اور بھارت نے اس سلسلے میں فنڈز نہ بھی فراہم کیے تو پھر بھی یہ منصوبہ ضرور پایہ تکمیل کو پہنچے گا۔

امریکہ کو اس وجہ سے بھی پریشانی ہے کہ پاکستان کے عوام خصوصاً مذہبی جماعتوں کا بھی اپنی حکومت پر دباؤ ہے کہ اگر حکومت نے نیٹو سپلائی بحال کی تو یہ جماعتیں براہ راست مزاحمت کریں گی اور سب سے اہم بات یہ کہ امریکہ کے حوالے سے اب خارجہ پالیسی بنانے کا اختیار ارکان پارلیمنٹ کو دے دیا گیا ہے، جس کا مشترکہ اجلاس جاری ہے اور امریکہ کو خدشہ ہے کہ پاک امریکہ تعلقات کے حوالے سے پاکستان کی پارلیمنٹ جو پالیسی بنائے گی وہ امریکہ کے لیے قابل قبول نہیں ہو گی۔ پاکستان سے امریکہ جانے والی یہی وہ گرم ہوائیں ہیں جن کی لو سے امریکی حکمران جھلسے جا رہے ہیں اور ردعمل کے طور پر اعلٰی امریکی عہدیداروں اور عسکری قیادت نے پاکستان کو دبی زبان میں دھمکیوں کے ساتھ ساتھ ڈو مور کا مطالبہ بھی شروع کر دیا ہے۔

اس سلسلے میں تازہ ترین بیان افغانستان میں نیٹو اتحادی افواج کے امریکی کمانڈر جنرل جان ایلن کی طرف سے آیا ہے، جس میں جنرل جان ایلن نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے ساتھ تعلقات برقرار ہیں۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے اجلاس میں جب سینیٹر جان مکین نے جنرل جان ایلن سے پوچھا کیا آپ نے آئی ایس آئی کے طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے کوئی تبدیلی محسوس کی ہے تو انہوں نے نفی میں جواب دیا، جس کا مطلب یہ ہے کہ آئی ایس آئی کے نئے چیف کی طرف سے ذمہ داریاں سنبھالے جانے کے باوجود آئی ایس آئی کا طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے ساتھ تعلقات کا پرانا تسلسل موجود ہے۔

ادھر امریکی محکمہ خارجہ کے اسسٹنٹ سیکرٹری مائیک ہیمر نے کہا ہے کہ امریکہ پاکستان میں حکومتی کرپشن سے لاتعلق نہیں اور اگر پاکستان میں کرپشن ختم ہوتی ہے تو یہ خود امریکہ کے مفاد میں ہے۔ موصوف نے یہاں تک الزام لگایا کہ حکومتی کرپشن کے باعث پاکستان میں امن و امان تباہ ہو چکا ہے اور ملک عدم استحکام کی صورتحال سے دو چار ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاک ایران گیس پائپ لائن کے حوالے سے امریکی موقف اور خدشات سے پاکستان کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔ پاک امریکہ تعلقات کی موجودہ نوعیت اور اعلٰی امریکی عہدیداروں کے بیانات اس امر کی طرف واضح اشارہ ہیں کہ آنے والے دنوں میں پاک امریکہ تعلقات کوئی بھی نیا رخ اختیار کر سکتے ہیں، جیسا کہ امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نولینڈ نے بھی کہا ہے کہ اب امریکی حکومت کو پاک امریکہ تعلقات کے حوالے سے صرف پاکستانی پارلیمنٹ کی سفارشات کا انتظار ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ پاک امریکہ تعلقات کی موجودہ فضاء تسلی بخش نہیں اور آنے والے دنوں میں حالات کوئی بھی رخ اختیار کر سکتے ہیں۔ امریکہ نے پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے لیے ایک طرف جنوبی وزیرستان میں ڈرون حملوں کی تعداد میں اضافہ کر دیا ہے۔ دوسری طرف وہ براہ راست بلوچستان کے معاملات میں بھی مداخلت کر رہا ہے۔ گزشتہ دنوں امریکی کانگریس کی کمیٹی نے بلوچستان کے بارے میں قرارداد بھی پیش کی تھی مگر جب حکومت پاکستان نے اس پر احتجاج کیا تو امریکہ نے انتہائی مکاری سے کام لیتے ہوئے اس قرار داد سے اپنی لاتعلقی کا اعلان کیا، تاہم بلوچستان میں امریکی مداخلت کے شواہد موجود ہیں، اس سلسلے میں مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف نے بھی اس مسئلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان کے معاملے پر امریکی مداخلت درست نہیں اور حکومت کو اس کا سخت نوٹس لینا چاہیے۔

بہرطور اس وقت امریکہ کی نظر ان سفارشات پر ہے جو پاکستان کی مشترکہ پارلیمنٹ میں پاک امریکہ تعلقات کے بارے میں پیش کی گئی ہیں، جن میں پہلے دن کے اجلاس میں جو بحث مباحثہ ہوا اس میں واضح طور پر یہ اشارہ موجود ہے کہ اب پاک امریکہ تعلقات کی پالیسی کوئی فرد واحد نہیں بلکہ 18 کروڑ عوام کی منتخب پارلیمنٹ بنائے گی اور پارلیمنٹ وہی کچھ کرے گی جو عوام کے دل کی آواز ہے، تاہم جان مکین کا یہ بیان کہ آئی ایس آئی کے طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے ساتھ تعلقات برقرار ہیں، پاکستان کے اندرونی تعلقات میں مداخلت کے مترادف ہے۔ احمد شجاع پاشا کے دور میں بھی امریکی عہدیدار اسی طرح کی باتیں کرتے رہے ہیں اور اب آئی ایس آئی کے نئے سربراہ کی تقرری کے بعد بھی ویسے ہی بیانات دیئے جا رہے ہیں، جس کا حکومت پاکستان کی طرف سے نوٹس لیا جانا چاہیے۔ دوسری جانب پاکستانی حکمرانوں کی کرپشن کی ’’بے نقابی‘‘ کی دھمکی دے کر بھی حکمرانوں کو رام کرنے کی ایک بھونڈی کوشش کی گئی کہ اگر انہوں نے امریکی ’’حکم عدولی‘‘ کی تو عوام میں یہ تحریک ابھاری جا سکتی ہے کہ کرپٹ حکومت کو مزید اقتدار میں رہنے کا کوئی حق نہیں۔ 

امریکہ کو یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ پاکستان کے عوام امریکہ کی ہر حرکت کو اچھی طرح جانتے ہیں اور اس طرح حکومت کو بلیک میل کرنے کی پالیسی سے بھی آگاہ ہیں، عوام امریکہ کے جھانسے میں بالکل نہیں آئیں گے، بلکہ وہ حقائق سے آگاہ ہیں اور دیکھ رہے ہیں کہ پاکستانی حکمران کس ڈگر پر چل رہے ہیں، کہاں کرپشن ہو رہی ہے اور کہاں پر میرٹ کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں؟ کن منصوبوں میں ہیرا پھیری کی جا رہی ہے اور کن لوگوں کو نوازا جا رہا ہے، عوام اچھی طرح جانتے ہیں اس کے لئے امریکہ کو ’’انکشاف ‘‘ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ہاں حکمران اب امریکہ کی بجائے عوامی اور ملکی مفاد کو ملحوظ رکھیں گے تو اقتدار میں رہیں گے اگر ملکی مفاد داؤ پر لگا دیا تو انہیں امریکہ بچا سکے گا نہ کوئی اور نام نہاد سپر پاؤر انہیں تحفظ دے سکے گی۔
خبر کا کوڈ : 148135
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب