0
Tuesday 19 Jun 2012 21:04

گریٹر مڈل ایسٹ منصوبے کے احیاء کا سراب

گریٹر مڈل ایسٹ منصوبے کے احیاء کا سراب
اسلام ٹائمز- عراقی وزیراعظم نوری مالکی نے ایک لبنانی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا:
"قطر اور سعودی عرب جو شام کی حکومت کو گرانے کی کوششوں میں مصروف ہیں عراق میں بھی حکمفرما سیاسی نظام کو سرنگون کرنے کی سازشیں کر رہے ہیں"۔
نوری المالکی نے مزید کہا کہ قطر اور سعودی عرب کے حکام کی جانب سے ایسے اقدامات کا مقصد مجھے اقتدار سے ہٹانا نہیں بلکہ عراق کے موجودہ سیاسی نظام کا خاتمہ ہے۔
عراقی وزیراعظم کا یہ بیان بالکل صحیح ہے اور اس منصوبے کے عین مطابق ہے جو مغربی استعماری قوتوں کی جانب سے مشرق وسطی کے خطے کیلئے بنایا گیا ہے۔ یہ منصوبہ اس گریٹر مڈل ایسٹ منصوبے کی ترمیم یافتہ شکل ہے جسے بیٹے بش کے دورہ صدارت میں امریکی حکومت عملی جامہ پہنانا چاہتی تھی لیکن 2006 میں حزب اللہ لبنان کے ہاتھوں اسرائیل کی غاصب صہیونیستی رژیم کی عبرتناک شکست اس منصوبے کی فائل بھی بند ہو گئی۔ اسلامی بیداری کے نتیجے میں مشرق وسطی اور شمالی افریقہ میں گذشتہ ڈیڑھ سال کے دوران رونما ہونے والی سیاسی تبدیلیوں کے بعد امریکہ اور دوسری تسلط پسند عالمی قوتوں نے شدید خطرے کا احساس کرتے ہوئے گریٹر مڈل ایست جیسے ناپاک منصوبے کو دوبارہ احیاء کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس دفعہ امریکہ، برطانیہ، فرانس اور اسرائیل کی غاصب صہیونیستی رژیم خطے میں اپنے کٹھ پتلی حکمرانوں خاص طور پر قطر اور سعودی عرب کے حکمفرما عرب شیوخ کی مدد سے اس کوشش میں مصروف ہیں کہ اس منصوبے کو کسی طرح کامیابی سے ہمکنار کر سکیں۔
عراقی وزیراعظم جناب نوری مالکی کے بیانات میں بعض انتہائی اہم نکات پائے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر انکا یہ کہنا کہ:
"سعودی عرب اور قطر عراق میں عرب اسپرنگ کی بات کرتے ہیں اور اس مقصد کیلئے بہت زیادہ پیسہ بھی خرچ کر رہے ہیں، میٹنگز برگزار کر رہے ہیں اور اچھے خاصے سرگرم نظر آتے ہیں، گھنٹوں وقت صرف کر کے عراق کے بارے میں اظہار نظر کرتے ہیں تاکہ یہ کہ سکیں کہ عراقی معاشرے کا کون سا طبقہ حکومت میں شامل ہونے سے محروم ہو چکا ہے، آپ لوگ بہتر یہ ہے کہ اپنی اقوام کے مسائل پر نظر ڈالیں اور اس سوال کا جواب دیں کہ آیا آپ کے ملک میں معاشرے میں پائے جانے والے مختلف طبقات اسی سطح کی سہولیات رکھتی ہیں جو عراقی قوم کو مہیا کی گئی ہیں یا نہیں؟"۔
جناب نوری مالکی نے مزید کہا:
"ہم پر یہ الزامات اس لئے عائد نہیں کئے جا رہے تاکہ وہ حکومت عراق کے مقابلے یہاں پر رہنے والے اہلسنت افراد کی حمایت کریں بلکہ انکے یہ اقدامات خالصتا سیاسی مقاصد کے حامل ہیں، میں نے ہمیشہ سے اہلسنت افراد کو زیادہ سہولیات فراہم کی ہیں اور اہل تشیع پر سختی کی ہے"۔
مشرق وسطی میں جاری سازشوں میں جو ابھی تک جاری ہیں عرب مرتجع حکمرانوں کا مغربی تسلط پسند قوتوں اور اسرائیل کی غاصب صہیونیستی رژیم کا ساتھ دینے کا راز سمجھنے کیلئے دو نکات پر توجہ ضروری ہے، ایک ان عرب مرتجع حکمرانوں کی اسلامی بیداری کے اس امڈتے ہوئے سیلاب سے نجات حاصل کرنے کی کوشش جو انتہائی تیزی سے انکی جانب رواں دواں ہے اور دوسرا خطے میں عوام کی حمایت یافتہ جمہوری حکومتوں کی تشکیل کو روکنا جس سے مغربی قوتیں بھی اور عرب حکمران بھی شدید وحشت زدہ ہیں اور اسے اپنے مفادات کیلئے بہت بڑا خطرہ تصور کرتے ہیں۔
قطر کے حکمران عرب شیوخ اور آل سعود کے اقتدار کی بنیادیں شدت سے ڈانوا ڈول ہیں اور وہ مغربی طاقتوں اور اسرائیل کی غاصب صہیونیستی رژیم کی مدد سے شام میں ناامنی پھیلانے اور عراق میں بحران پیدا کرنے اور مصر میں رونما ہونے والے انقلاب کو اپنے اصلی راستے سے منحرف کرنے کے ذریعے اس کوشش میں مصروف ہیں کہ اسلامی بیداری کی موج کا رخ تبدیل کرتے ہوئے دوحہ، ریاض اور دوسرے ایسے عرب دارالحکومت جہاں ابھی تک عوامی انقلاب کی چنگاریاں خاموش ہیں کو ہمیشہ کیلئے انقلاب سے دور رکھ سکیں۔ شائد عراقی وزیراعظم بھی "سیاسی مقاصد" کا لفظ استعمال کر کے انہیں نکات کی جانب اشارہ کرنا چاہتے تھے۔
اس وقت شام اور عراق میں بدامنی پھیلانے کے علاوہ مصر کے انقلاب کو اپنے اصلی راستے سے منحرف کرنا بھی امریکہ، یورپی طاقتوں، صہیونیست حکام اور عرب مرتجع حکمرانوں کے ایجنڈے میں شامل ہو چکا ہے۔ مصر کی پارلیمنٹ کا حکمران فوجی کونسل کے ہاتھوں توڑ دیا جانا اور صدارتی انتخابات میں اسلامی اور انقلابی دھڑوں کی جانب سے کھڑے کئے گئے امیدوار کے مقابلے میں سابق صدر حسنی مبارک کے آخری وزیراعظم اور موجودہ صدارتی امیدوار میجر احمد شفیق کی حمایت کا اعلان کیا جانا اسی منصوبے کا حصہ ہیں۔ اب جبکہ مصر میں صدارتی انتخابات مکمل ہو چکے ہیں اور غیررسمی نتائج کے مطابق اخوان المسلمون کی جانب سے نامزد اور انقلابی و اسلامی دھڑوں کے حمایت یافتہ امیدوار جناب محمد مرسی واضح اکثریت سے جیتتے ہوئے نظر آ رہے ہیں، مصر کی حکمران فوجی کونسل نے امریکہ، صہیونیزم اور مرتجع عرب حکمرانوں کی نمائندگی میں میجر احمد شفیق کو جیتے ہوئے امیدوار کے طور پر اعلان کرنے یا ان انتخابات کو کینسل کرنے کیلئے خفیہ سرگرمیوں کا آغاز کر دیا ہے۔
خطے میں اسلامی بیداری کی تحریک کو اپنے اصلی راستے سے منحرف کرنے کی کوششوں کے دوران مصر کا انتخاب اس لئے عمل میں لایا گیا کہ عرب دنیا میں مصر کا کردار انتہائی موثر اور فیصلہ کن ہے۔ اگر مصر کا انقلاب نامکمل رہ جائے اور اپنے مطلوبہ مقاصد کے حصول میں ناکامی کا شکار ہو جائے تو یقینی طور پر اسکے دو اہم نتائج ظاہر ہوں گے، ایک یہ کہ لیبیا، تیونس اور یمن میں رونما ہونے والے انقلابات اپنے آدھے راستے میں ہی بہت زیادہ مشکلات اور مسائل سے دوچار ہو جائیں گے اور دوسرا یہ کہ خطے کے دوسرے ممالک میں انقلاب کا زمینہ ختم ہو جائے گا۔
یہ تلخ حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ ایک انتہائی گہری سازش ہو رہی ہے۔ یہ سازش شام سے شروع ہوتے ہوئے بغداد اور قاہرہ کو بھی اپنی لپیٹ میں لیتی ہوئے نظر آ رہی ہے اور مستقبل میں مشرق وسطی کے دوسرے اہم ممالک کو بھی اپنے نشانے پر لئے ہوئے ہے۔ اس سازش کا بنیادی مقصد اسرائیل کی غاصب صہیونیستی رژیم کے مقابلے میں موجود مزاحمت اور اگلے مورچوں کا مقابلہ کرنا ہے۔ دوسرے الفاظ میں وہ سازش جسکو اس وقت شام میں عملی جامہ پہنائے جانے کی کوششیں ہو رہی ہیں، ایران اور حزب اللہ لبنان کے خلاف فوجی طاقت کا استعمال بھی اسکے ایجنڈے میں شامل ہے جیسا کہ اس سازش کے معماروں نے عراقی حکومت کیلئے بھی منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔
ترکی کے وزیراعظم رجب طیب اردگان جو شام اور عراق کے خلاف اس سازش میں اپنا مکمل تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں، اگرچہ بظاہر اپنے ھم خیال اخوان المسلمین سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ ہماہنگی ایجاد کرنے کی کوشش کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں اور دوسری طرف نیٹو اور امریکہ کے وعدوں پر بھی دل کو خوش کئے ہوئے ہیں لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کے مستقبل کے منصوبوں سے غافل ہیں۔ انہوں نے اگلے مرحلے میں، البتہ اگر موجودہ مراحل کو مطلوبہ طور پر بخوبی انجام دے پائیں، ترکی کیلئے بھی انتہائی خطرناک پلاننگ تیار کر رکھی ہے۔ اگر رجب طیب اردگان جلد از جلد اس راستے کو جس پر وہ عمل پیرا ہیں ترک نہ کر دیں تو عرب دنیا میں امریکہ کے کٹھ پتلی حکمرانوں سے زیادہ بدتر انجام انکا مقدر بن جائے گا، خاص طور پر اب جبکہ ترک عوام انکے مغرب نواز موقف پر شدید غضب ناک اور معترض نظر آ رہے ہیں۔
لیکن وہ چیز جو اجتناب ناپذیر اور اٹل ہے مشرق وسطی کے خطے میں عوامی انقلابات کا تسلسل ہے۔ گریٹر مڈل ایسٹ منصوبے کا احیاء ایک سراب کے علاوہ کچھ نہیں کیونکہ خطے کی اقوام میں آنے والی بیداری اس عظیم انقلابی موومنٹ کو متوقف ہونے کی ہر گز اجازت نہیں دے گی۔ یہ سازش چاہے مصر اور چاہے مشرق وسطی کے کسی دوسرے حصے میں جہاں کہیں بھی اجراء کی جائے شکست سے روبرو ہو گی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ خطے کا مستقبل عوام کے ہاتھ میں ہے کیونکہ اسلامی بیداری کی وہ لہر جو امام خمینی رہ کی جانب سے ایران میں اسلامی انقلاب کی صورت میں معرض وجود میں آئی توقف ناپذیر ہے اور خطے کے مقدر کو تبدیل کر کے رکھ دے گی۔ یہ سیاسی تبدیلیاں ایسے نئے مشرق وسطی کی پیدایش کا باعث بنیں گی جہاں تسلط پسند استعماری قوتوں کیلئے کوئی جگہ نہیں ہو گی۔ اگرچہ اس مرحلے تک پہنچنے میں بہت زیادہ رکاوٹیں حائل ہیں لیکن اس ہدف کا حصول ممکن ہے۔
منبع : روزنامه جمهوری اسلامی
خبر کا کوڈ : 172484
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب